تازہ ترین خبریں

ان شخصیات کا شکریہ جنہوں نے منگلور – خلیجی ممالک براہ راست  پرواز کے لئے محنت, کوششیں کی

 

۔       نقاش نائطی
۔  +966562677707

کوسٹل ڈائیجسٹ ڈاٹ کام  اپریل 2011 پر پوسٹ ہوا مضمون
https://www.coastaldigest.com/column/50816-thanking-hands-that-toiled-for-mangalore-saudi-flight-

ساحلی کرناٹک کو عرب ممالک سے براہ راست جوڑنے کے لئے, اپنے تین سالہ کامیاب کیمپنگ کے ساتھ  جو پروجیکٹ ایک سنگ میل تک پہنچ گیا ہے۔  اب ایئرانڈیا ایکسپریس 3,اپریل 2011 کو منگلور سے دمام کے لئے اپنی پہلی براہ راست پرواز شروع ہونے جارہی  ہے۔ اس اعلان کے بعد، اظہار تشکر کے طور پر، ہم نے (کوسٹل ڈایجسٹ) مملکت کے مشرقی صوبے میں منگلور کے کچھ لوگوں سے ملنے کا فیصلہ کیا، جنہوں نے شروع سے ہی اس مقصد کے لئے کام کیا تھا۔

ہم ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم کی کوشش کو نہیں بھول سکتے، جو 2005 میں منگلور کو سعودی عرب سے براہ راست جوڑنے کے واحد مقصد کے ساتھ وجود میں لایاگیا تھا۔

فورم کے بانی صدر محمد فاروق شاہ بندری کے مطابق، یہ سعودی عرب میں منگلور کے باشندے تھے جنہوں نے اپنے وطن کے لئے براہ راست پرواز کے خیال کو اس وقت پروان چڑھایا، جب منگلور ایئرپورٹ کسٹم ایئرپورٹ  نہیں بنا تھا۔  درحقیقت، فورم نے ابتدائی دنوں سے ہی اس وقت کے ڈومیسٹک ایئرپورٹ کو کسٹم ایئرپورٹ میں اپ گریڈ کرنے کے معاملے کی کوشش کی تھی۔

"جب فورم کے ممبران نے شروع میں منگلور ہوائی اڈے کے اس وقت کے ڈائریکٹر ایم آر واسودیوا کے ساتھ اس معاملے پر بات کی، تو بعد میں اس نے اس خیال کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ آپسی ملاقاتی نشستوں میں دیکھے گئے خیالی خواب کو, حقیقت کا رنگ بھرنے,عرب ممالک یا سعودیہ  سے مینگلور ایرپورٹ پر براہ راست اترتے خواب کو پورا کرنے کے ساتھ بین الاقوامی پروازوں کو مینگلور ہوائی اڈے پر خوش آمدید  کہنے, اس مسئلے کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جانا چاہئے۔  اس سمت مسٹر محمد فاروق  شاہ بندری نے یاد کیا۔
"متعلقہ حکام کو میمورنڈم،” حکام کو اس سلسلے میں میمورنڈم پہنچانے,انکے ساتھ ویسٹ کوسٹ این آرآئی فورم کے ذمہ دار  وشواناتھ کامتھ، جو ان دنوں بہت سی میٹنگوں میں مسٹر محمد فاروق شاہ بندری کے ساتھ رہے تھے، ابتدائی مرحلے میں مسٹر شاہ بندری اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی ستائش کرتے ہیں۔  تاہم، جب منگلور ہوائی اڈے پر بین الاقوامی پروازوں کو خوش آمدید  کرنا شروع کر دیا گیااور متحدہ عرب امارات براہ راست بندرگاہی شہر منگلور سے منسلک ہو گیا، تو انہیں واجب الادا کریڈٹ نہیں دیا گیا اور چند لوگوں نے اپنے فائدے کے لئے پورے معاملے کو ہی ہائی جیک کر لیا تھا

محمد علی، فورم کے کوآرڈینیٹر مینگلور ہوائی اڈے کو اپ گریڈ کرنے اور منگلور اور خلیجی ممالک کے درمیان براہ راست فلائٹ آپریشن شروع کرنے کے لئے ان کی ٹیم کی طرف سے کی گئی بات چیت اور فالو اپ کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
اس سے پہلے، 2009 میں بھی، AIE نے منگلور دمام براہ راست پرواز کے لئے ایک شیڈول تجویز کیا تھا، لیکن، بعد میں اسے کچھ مفاد پرستوں کی لابنگ کی وجہ سے رد کر دیا گیا۔  وہاں کے بعد سے معاملات سست ہو گئے اور تباہ کن منگلور ہوائی حادثہ، جس نے 2010 میں جہاز میں 158 لوگوں کی جانیں لے لیں، چیزوں کو مزید مشکل بنا دیا۔  تاہم، Coastaldigest.com ابتدائی مرحلے میں فورم کی کوششوں کو سراہتا ہے۔
کوسٹل ڈائجسٹ ڈاٹ کام
Coastaldigest.com
کے نمائندے نے الجبیل کے ایک مشہور ومعروف  ریسٹورنٹ "تندوری نائٹ” میں ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم کے عہدیداروں سے ملاقات کی تاکہ نئی پیشرفت کے بعد فیڈ بیک اور ان کے پیغامات اکٹھے کئے جائیں

میٹنگ میں محمدفاروق شاہ بندری، وشوناتھ کامتھ، محمد علی، فاروق پورٹ فولیو، نارائنا بھٹ، شیورام اور تندوری نائٹ جناب فاروق شاہ بندری کے شریک تجارت حبیب الدین شیخ  بھی موجود تھے۔
ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم کے صدر محمد فاروق شاہ بندری کے مطابق  منگلور  ایرپورٹ کو انٹرنیشنل کسٹم ایرپورٹ کے طور ترقی پزیر بنانے والا یہ پروجیکٹ آسان نہ تھا۔ اس کے لئے سب سےزیادہ تعاون اس وقت کے مینگلور ڈومیسٹک ایرپورٹ کے ڈائرکٹر  ایم آر واسو دیوا کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ دراصل بمبئی سے مینگلور ڈومیسٹک پرواز کے دوران ایرپورٹ پرخاص ملاقات میں سب سے پہلے  ڈومیسٹک مینگلور ایرپورٹ, اس کی تاسیس پر پچاس سال گزرنے کے باوجود اسے عالمی اڑان لائق ترقی پزیر نہ کئے جانے  اور کیرالہ میں پہلے سے تین عالمی معیار ایرپورٹ رہتے کنور میں چوتھے عالمی معیار ایرپورٹ تعمیر کئے جانے والی کیرالہ عوام کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے, تازہ ترکاری فروٹ سمیت  بہت ساری اشیاء مینگلور سے بیروں ممالک  ایکسپورٹ کئےجانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے, شہری ہوا بازی منسٹر, حکومت ھند کے سامنے رکھنے کی ضرورت کو سب سے پہلے کوسٹل علاقے کے مصروف معاش خلیجی ممالک ہم تارکین وطن کے اذہان میں ڈالی گئی تھی۔  اس سلسلے میں سعودیہ کے سب سے بڑے صنعتی شہر  الجبیل  میں مختلف مصانع میں مختلف بڑے عہدوں پر مصروف معاش ہم تارکین وطن کوسٹل کرناٹکا کو 2005 سال کے درمیانی حصے میں فاروق شاہ بندری نے اپنے ہوٹل,سی اینڈ شورمیں تفکراتی نشست  دعوت پر بلائے,انکے سامنے مینگلور ڈومیسٹک ایرپورٹ کو ترقی پزیرکئےجاتے, اسےعالمی کسٹم ایرپورٹ میں تبدیل کئے جانے کی ضرورت محسوس کروائی تو  تمام حاضرین نے بیک آواز مینگلور ایرپوٹ اپ گریٹ کئے جاتے اسے عالمی کسٹم ایرپورٹ میں منتقل کئے جانے کی ضرورت تسلیم کرتے ہوئے, ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم  کی بنیاد رکھی گئی تھی اور چونکہ اپنے مقصد حصول اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے   اور احقر کےذاتی تجارت منسلک رہتےمسلسل سفر ھند کے پیش نظر اس نومولود ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم کی صدارت ہمارے ہی ناتواں کندھوں پر رکھی گئی تھی۔ چونکہ یہ دستخطی مہم عرب کھاڑی کے تمام عرب ممالک میں مصروف معاش کوسٹل کنڈیگاس ہم تاریک وطن کو شامل کرنا تھا اور ان ایام واٹس آپ سہولیات عدم دستیابی والے پس منظر میں, ایک فورمیٹ ترتیب دئیے,ای میل پراسے تمام  کوسٹل کنڈیگاس تک پہنچاتے ہوئے, اپنے ترتیب دئیے حکومتی میمورنڈم کے لئےدستخطی مہم شروع کی گئی۔ مینگلور ایرپورٹ اپگریڈیشن منصوبے کو پائے تکمیل پہنچانے میں امارات دوبئی میں مصروف معاش مشہور ڈائجی ورلڈ ڈاٹ کام کے ذمہ دارراجیش سیکویرا کے تعاون کو ہم فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔
الغرض خلیج کے کھاڑی ملکوں کے کوسٹل کرناٹکا ہم تارکین وطن کےنام و پتہ خلیج و ھند و پاسپورٹ  نمبر مع دستخط شدہ فارم پر مشتمل تمام صفحات کو ایک کتابی شکل دئیے, ہمارے  میمورنڈم  کو لئے ہم جب مینگلور ایرپورٹ ابتدا میں اترے تھے تو مینگلور ایرپورٹ کے اس وقت کے ڈائرکٹر واسودیوا نے ایرپورٹ پر نہ صرف ہمارا پرتپاک خیر مقدم کیا تھا بالکہ ہمارے تصورات سے اوپر مینگلور ہماری رہائش پذیر ہوٹل پر ہم سے مسلسل رابطہ قائم رکھے مینگلور  میڈیا منسلک افراد سے ہمارا غائبانہ تعارف کروائے ایرپورٹ اپگریڈیشن پروجیکٹ کو عوام تک پہنچائے عوامی ساتھ حاصل کرنے کے لئے ان ایام ہمارا انٹرویو لینے کا خاطر خواہ انتظام بھی کیا تھا جو ہماری  غیر شستہ کنڑا ھندی مکس زبان لئے گئے  انٹرویو  کو ان ایام مسلسل کئی روز تک متعدد دفعہ مقامی کنڑا چینل پر براڈکاسٹ بھی کیا گیا تھا اور واسو دیوا ہی کی کوششوں سے چیمبر آف کامرس مینگلور کے ذمہ داروں سے  ہماری ایک نشست رکھے مینگلور ایرپورٹ ترقی پزیری کو عوامی مہم میں تبدیل کرنے کی سعی کی گئی تھی۔ گو ان ایام چیمبر آف کامرس مینگلور کے ذمہ دار مینگلور ایرپورٹ ترقی پزیر کئے جاتے عالمی معیار ایرپورٹ بنانے جانے والے پروجیکٹ کو ناممکنات نصور کرتے تھے۔ انہی ایام مینگلور سائیبین کمپلیکس کے سامنے کارپوریشن بلڈنگ میں ہمارے ہردلعزیز دوست محترم عبدالرحمن جان کی موجودگی میں ہوئی, پریس میٹ میں,مینگلور ایرپورٹ اپگریڈیشن پروجیکٹ کو جس بہتر انداز عوامی ضرورت کے طور پیش کرتے ہوئے اس منصوبے کو عوامی رنگ دینے میں کامیابی حاصل کی تھی اس کے شاہد عبدالرحمن جان ہمارے درمیان موجود ہیں۔اللہ انکو صحت کاملہ والی زندگانی عطا کرے یہی ہم انکے لئے دعا کرسکتے ہیں۔
2005 جولائی اگست شہر بھٹکل میں تعلیمی ترقی پزیری کے لئے منعقد کئے جانے والے سب سے بڑے عوامی پروگرام رابطہ تعلیمی ایوارڈ میں مہمان خصوصی کی حیثیت شریک جلسہ ہونے  ڈسٹرکٹ منسٹر دیش پانڈے بھٹکل آرہے تھے۔ اس موقع کو غنیمت جانے اس وقت کے خلیجی ممالک بھٹکل کی بااثر شخصیت متوفی محترم خلیل الرحمن سے اے صاحب سے مل کر ہمیں دو چار منٹ ڈسٹرکٹ منسٹر سے تبادلہ خیال کے لئے وقت دینے کے درخواست کی تھی لیکن اس وقت انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ منگلور ایرپورت عالمی معیار کا بنایا ہی نہیں جاسکتا ہمیں منسٹر سے ملنے وقت دینے سے معذرت کرلی تھی لیکن اللہ بھلا کرے المحترم متوفی ڈاکٹر بدرلحسن معلم صاحب کا جنہوں نے ڈسٹرکٹ منسٹر سے اپنا مدعا رکھنے چند منٹ کا وقت نکلواکے دیا تھا۔اس وقت اس لحاظ سے خوشی ہوئی جب ڈسٹرکٹ منسٹر نے  یہ کہتے ہوئے کہ اس وقت کے مرکزی ہوا بازی منسٹر پرفل پٹیل سے چونکہ انکی رشتہ داری ہونے جارہی ہے اسلئے وہ  ہمارے مینگلور ایرپورٹ اپگریُیشن پروجیکٹ کو پرفل پٹیل کے سامنے موثر انداز رکھ سکتے ہیں ۔
بھٹکل سیاسی افق پر تیزی سے اپنے اثر رسوخ چھوڑتے آج کے خادم قوم عنایت اللہ شاہ بندری کے ساتھ اپنے میمورنڈم کو لئے ہم بنگلور گئے تھے دیوے گوڈا سے ہماری مفصل  ملاقات ہوئی اور اس وقت دیوے گوڈا ہی نےجنتا دل سے ملکر مخلوط  چلائی جاری  ایس ایم کرشنا والی کرناٹک حکومت کے وزیر خزانہ سے اپوائنمنٹ  نکلوا کردیا دیا تھا تاکہ اگر وہ قائل ہوجائیں توایرپورٹ اپگریڈیشن کے لئے, رن وے توسیعی منصوبہ مقامی رہایشی لوگوں کو کہیں اور بسانے, ریاستی سرکاری بجٹ سے رقم تفویض کرسکیں۔ الحمد للہ بنگلور پریس کلپ ہماری پریس میٹ اور مختلف وزیروں سے ملاقات نے منگلور ایرپورٹ اپگریُیشن پروجیکٹ کو تقویت پہنچائی تھی۔ بنگلور پریس کلپ پریس میڈ ہمارے برملا اظہار خیال  بعد کہ پڑوسی چھوٹا ساصوبہ کیرالہ پہلے ہی تین عالمی معیار ایرپورٹ موجودگی باوجود کنور چوتھے ایرپورٹ افتتاح کی تیاریوں میں مصروف ہے اور قدرتی وسائل سے مالا مال اتنا بڑا صوبہ کرناٹک ابھی تک ایک بھی انٹرنیشنل ایرپورٹ سے محروم ہے( 2005 تک بنگلور ایرپورٹ بھی انٹرنیشنل ایرپورٹ نہ ہوتے فقط عالمی معیار کا  ایرپورٹ تھا)  ہمیں یاد پڑتا ہے اس بنگلور پریس میٹ کی خبر دوسرے دن کے مقامی کنٹرا انگلش اخبارات کی زینت بننے کے بعد  دوسرے یا تیسرے دن کے مقامی اخبار میں شہری ہوابازی منسٹر پرفل پٹیل  کی طرف سے مینگلور ایرپورٹ عنقریب  افتتاح کئے جانے کا اعلان کیا تھا اس وقت کے  اخبارات تراشےہماری  بات تصدیق کے لئے ہمارے پاس موجود ہیں۔ اور یوں فرزند بھٹکل کے اپنے مینگلور, برادران وطن ساتھیوں کے باہمی تعاون سے مینگلور ڈومیسٹک ایرپورٹ اپگریٹ کئے جاتے خلیجی پروازوں کے لئے کھول دئیے جانے کےلئے بڑا اہم کرداررہا ہے۔ بالآخر 3 اکتوبر 2006 دوبئی سے پہلی ایر انڈیا ایکسپریس فلائیٹ مینگلور رن وے پر اترتے ہوئے, مینگلور ایرپورٹ کو انٹرنیشنل کسٹم ایرپورٹ ڈکلیر کیا گیا تھا۔
22 مئی 2010  دوبئی سے مینگلور رن وے پر اتر رہے ہوائی جہاز کے حادثہ کا شکار ہوئے بھٹکل کے کئی مسافروں کے ساتھ 158 مسافروں کے دم توڑتے  پس منظر میں, مینگور دمام سعودیہ مجوزہ اڑان تاخیر کا شکار ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود غالبا”  سال 2011  ابتدائی مہینوں میں  مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر متوفی ڈاکٹر بدرالحسن  معلم  اور جماعت المسلمین صدر عبدالرحمن جان کے ساتھ احقر بھی بھٹکل ہائی وے توسیعی منصوبے کے سلسلے میں ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا سے ملاقات کئے بھٹکل شاہراہ پر فلائی اوؤر کا متجوزہ منصوبہ پہلی دفعہ ہم ہی نے  منظر عام پر لایا تھا۔جسے 25 دسمبر 2014 اس وقت اختتامی فنکشن کے مہمان خصوصی چیف منسٹر کرناٹک شری سرارامیا کے کھانے دوران انکے سامنے رکھتے ہوئے, عوامی اجلاس ان کے خطاب دوران, انہوں نے بھٹکل کے لئے فلائی اوؤر دینے کا بیسیوں ہزار عوام کے سامنے وعدہ بھی کیا تھا یہ اور بات ہے کہ صدا کروڑوں کے پروجیکٹ کے سہانے خواب قوم کو دکھلانے والے ہمارے اہل تدبر و تفکر خلیجی رہبران نے, چیف منسٹر سے براہ راست ملتے رہے بھٹکل کے لئے فلائی اوؤر حاصل کرنے ناکام رہے ہیں اب حالیہ دنوں متعدد ہوتے ہائی وے حادثات قومی نوجوانوں کی مکرر ہوتی اموات, چیف منسٹر سدارامیا کے بھٹکل والوں کو  بھٹکل ہائی وے پر فلائی اوؤر تعمیر کئے جانے کے انکے وعدے کو یاد دلاتا رہتا ہے۔ اسی دہلی سفر دوران ہم نے شہری ہوابازی منسٹری میں گئے حکام سے ملاقاتیں کئےانہیں دمام سعودی براہ راست ہوائی پرواز شروع کرنے کی درخواست کی تھیں اور یوں 31 مارچ 2013  دمام سے براہ راست مینگلور پہلی پرواز سے ویسٹ کوسٹ این آر آئی فورم نامی این جی او قائم کرنے کے اپنے منصوبے کو پورا کرتے ہوئے خلیجی ممالک سے بغیر ممبئی رکے مینگلور براہ راست اترنے کی سہولیات فراہم کرنے کامیاب ریے ہیں۔الحمدللہ۔ہماری ان کاوشوں کی پوری تفصیل مینگلور سے نشر ہونے والے عالمی معیار کنڑا انگلش نیوز ویپ  پورٹل ڈائجی ورلڈ ڈاٹ کام اور کوسٹل نیوز داٹ کام  پر موجود ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button