
جامعۃ المصطفیٰ یونیورسٹی ایران کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید کمال حسینی سے دہلی کے معزز علماء کے وفد کی ملاقات
فروغِ تعلیم پر زور، ایران میں پی ایچ ڈی تک مفت تعلیم کا اعلان
نئی دہلی13 مئی 2026 پریس ریلیز
جامعۃ المصطفیٰ یونیورسٹی ایران کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید کمال حسینی سے دہلی کے ممتاز علماء کرام اور دینی و سماجی شخصیات کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملت اسلامیہ کے تعلیمی مستقبل، عصری و دینی علوم کے فروغ اور ہندوستانی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ڈاکٹر سید کمال حسینی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ جامعۃ المصطفیٰ یونیورسٹی ایران میں ہندوستانی طلبہ کے لیے پی ایچ ڈی تک مفت تعلیم، رہائش اور دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات بہتر ہونے کے بعد ہندوستانی طلبہ کو ایران میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ وہ دینی و عصری علوم میں مہارت حاصل کرکے ملت و معاشرہ کی خدمت انجام دے سکیں۔
وفد میں شامل علماء کرام نے تعلیم کے فروغ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے نوجوان نسل کو علم، اخلاق اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھانے پر زور دیا۔
حضرت مولانا قاسم نوری قاسمی صاحب
صدر جمعیت علماء صوبہ دہلی
نے فرمایا کہ:
“تعلیم ہی قوموں کی ترقی کی بنیاد ہے۔ اگر ہماری نئی نسل علم سے آراستہ ہوگی تو وہ دین، ملت اور ملک کی بہترین خدمت انجام دے سکے گی۔ ایسے تعلیمی مواقع سے طلبہ کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
حضرت مولانا مفتی عبدالواحد قاسمی صاحب
مہتمم جامعہ شاہ ولی اللہ وصدر مفتی دارالافتاء و آن لائن فتویٰ دہلی
نے کہا:
“دینی اور عصری تعلیم کا امتزاج وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہندوستانی طلبہ کے لیے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھلنا ایک خوش آئند قدم ہے۔ اس سے علمی و تحقیقی میدان میں نئی راہیں ہموار ہوں گی۔
پروگرام کے کنوینر
قاری یاسین صاحب
نے اپنے خطاب میں فرمایا:
“قوم کی کامیابی علم اور تربیت سے وابستہ ہے۔ ہمیں نوجوانوں میں مطالعہ، تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کا ذوق پیدا کرنا ہوگا تاکہ وہ معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں۔
ڈاکٹر سید شاداب حسین رضوی صاحب خانقاہ ضیفیہ کاظمیہ علامہ خاکی امروہہ
نے کہا:
“اولیاء کرام نے ہمیشہ علم و عرفان کے چراغ روشن کیے۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل کو بہترین تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اخلاق اور کردار کے ساتھ معاشرہ کی تعمیر میں حصہ لے سکیں۔
حضرت قاری ہارون رشیدی صاحب
مہتمم جامعہ بنات مہرولی
نے فرمایا:
“تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ وقت کا اہم تقاضا ہے۔ جب معاشرہ تعلیم یافتہ ہوگا تو فکری و اخلاقی اعتبار سے مضبوط ہوگا۔
حضرت قاری محمد شبیر صاحب
مہتمم جامعہ اشرف العلوم دھوج ہریانہ
نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا:
“علماء اور تعلیمی اداروں کو مل کر نئی نسل کی صحیح رہنمائی کرنی ہوگی۔ اعلیٰ تعلیم کے مواقع نوجوانوں کے مستقبل کو روشن بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مولانا مختار اشرف
امام و خطیب و پی آر او درگاہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ
نے کہا:
تعلیم انسان کو شعور، برداشت اور خدمتِ خلق کا جذبہ عطا کرتی ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی ماحول کو فروغ دینا چاہیے جہاں دین اور انسانیت دونوں کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔
آخر میں وفد نے جامعۃ المصطفیٰ یونیورسٹی ایران کی اس تعلیمی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے ہندوستانی طلبہ کو عالمی سطح پر علمی و تحقیقی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔



