
کیسے ایک ہنستا کھیلتا گھر برباد ہوگیا؟
چاہت محمد قریشی قاسمی
شادی کو تقریبا بیس سال گذر چکے تھے، ہنسی خوشی زندگی بسر ہورہی تھی، زوجین میں خوب پیار تھا، بڑی محبت تھی، ایک دوسرے سے لگاؤ بھی زیادہ تھا، اللہ تعالی نے تین بچے بھی عطا فرمائے تھے، ایک بیٹی اور دو بیٹے آنگن کی زینت بنے ہوئے تھے، اپنا گھر اور اپنا کام تھا، سب کچھ بہتر چل رہا تھا، البتہ کبھی کبھی معمولی اختلافات اور لڑائی جھگڑے بھی ہو جایا کرتے تھے، جیسا کہ سبھی میاں بیوی میں باہم ہو جاتے ہیں، بعد ازاں زوجین میں صلح ہوجاتی تھی لیکن اس مرتبہ اختلاف ایسا بڑھا کہ یہ آخری اختلاف ثابت ہوا، چنانچہ میاں بیوی کا یہ جھگڑا خوب بڑھا اور بڑھتا ہی چلا گیا، لڑائی زیادہ ہوئی تو پھر کم نہ ہوئی اور یہ لڑائی باہمی ضد، ہٹ دھرمی اور انانیت کی جنگ میں تبدیل ہو گئی، دن بدن اور پل پل اس اختلاف اور لڑائی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا، حتی کہ حالات سدھرنے کی بجائے مزید خراب ہوتے چلے گئے۔
*افسوس آج اچانک خبر آئی کہ بیوی نے زہر پی لیا، جس کا تریاق گاؤں میں موجود نہیں تھا، فورا گنگوہ کے ہاسپٹل کی جانب لیکر بھاگے، خوب دوڑ لگائی لیکن زندگی اتنی ہی لکھی تھی لہذا سانس کا رشتہ ختم ہوگیا، زندہ وجود نعش میں تبدیل ہوگیا، اور اس عورت نے اپنی ہی زندگی اپنے ہی ہاتھوں ختم کرلی، خودکشی جیسی موت اس کا مقدر ٹھہری۔*
*اس طرح ایک ہنستا کھیلتا گھر برباد ہوگیا، بچے ماں کی شفقت سے محروم ہوگئے، اور باہمی اختلافات کے نتیجے میں ایک لمحے کی جذباتی غلطی نے پورے خاندان کی خوشیاں چھین لیں۔*
یہاں یہ انجام بیوی کی خود کشی کی صورت میں سامنے آیا، لیکن ہر جگہ یہی انجام نہیں ہوتا ہے بلکہ کبھی باہمی جھگڑے کے بعد ایسی موت شوہر کا مقدر بن جاتی ہے، تو کبھی ہنستا کھیلتا خاندان طلاق سے بکھر جاتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہے، اچھی صحبت اختیار کرے، نیکیوں کی جانب رغبت رکھے، ضد اور ہٹ دھرمی میں اپنی لڑائی اور جھگڑے کو نہ بڑھائے۔ بیوی شوہر کے حقوق ادا کرے، اور شوہر بیوی کے ساتھ محبت سے پیش آئے، خودکشی جیسی موت کو برا سمجھے اور کبھی اس کا خیال ذہن میں نہ آنے دے۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کے لئے بیوی کے ساتھ حسن سلوک، بیوی کے لئے شوہر کے حقوق کی ادائیگی اور خودکشی کی کراہت، ان تینوں میں ہر ایک پر صرف ایک ایک حدیث ذکر کردی جائے، کیوں کہ حدیث کے الفاظ میں اثر بھی زیادہ ہوتا ہے، اور اس پر عمل کرتے ہوئے خوشی اور دلی سکون بھی میسر آتا ہے۔
*شوہر کو بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی رغبت دلاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں۔”*
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3895]
* بیوی کو شوہر کے حقوق ادا کرنے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اس لیے کہ اس پر شوہر کا حق بہت عظیم ہے۔*
[سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1159]
*خودکشی کے متعلق ارشاد نبوی ہے:
جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خودکشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہو گا اور اس میں ہمیشہ پڑا رہے گا اور جس نے زہر پی کر خودکشی کر لی وہ زہر اس کے ساتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں وہ اسے اسی طرح ہمیشہ پیتا رہے گا اور جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خودکشی کر لی تو اس کا ہتھیار اس کے ساتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے وہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔*
[صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5778]
*مذکورہ سچا واقعہ قصبہ گنگوہ کے پاس ایک گاؤں کا ہے جہاں بندہ کل بعد نماز عصر تعزیت کے لیے پہنچا تھا، اجڑا گھر، پچھتاتا ہوا چہرا، خاموش لب اور شرمندہ سی اشکبار آنکھیں دیکھی نہیں گئی تو اس واقعہ کو اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں سپرد قرطاس کردیا کہ شاید کوئی نصیحت حاصل کرے اور کسی کا گھر اجڑنے سے بچ جائے۔
اس لئے توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ معمولی باہمی اختلافات کو ضد، ہٹ دھرمی، اور انانیت کی جنگ نہ بنائیں کہ کہیں خدا ناخواستہ ہنستا کھیلتا گھرانہ برباد نہ ہو جائے، معصوم بچوں کی زندگی خراب نہ ہوجائے اور پھر پچھتانے کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے۔*
اللہ تعالیٰ ہم سب کے گھر کو آباد رکھے اور خودکشی جیسی بری موت سے ہماری حفاظت فرمائے۔
2026/07/11۔



