
دستار دراصل ایک ذمہ داری اور انبیاء کے ورثہ کی علامت ۔ مفتی عبدالواحد قاسمی ۔
نئی دہلی میں ولی اللہی دارالافتاء والقضاء کے زیرِ اہتمام “دستارِ تکمیلِ افتاء و مفتیانِ ہند کانفرنس” ایک باوقار اور روح پرور ماحول میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ممتاز علماء کرام، مفتیانِ عظام، ائمۂ مساجد اور دینی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ اس علمی اجتماع کا مقصد نہ صرف افتاء کی تکمیل کرنے والے نئے مفتیان کی حوصلہ افزائی تھا بلکہ امتِ مسلمہ کو درپیش عصری چیلنجز کے تناظر میں شرعی رہنمائی کے تقاضوں کو بھی اجاگر کرنا تھا۔
قبل ازیں اس کانفرنس میں افتاء کے شعبے سے فارغ ہونے والے پانچ نو منتخب مفتیانِ کرام کی دستار بندی عمل میں آئی، جن میں مفتی وکیل الرحمن قاسمی، مفتی دانش قاسمی، مفتی خالد حسینی، مفتی عادل امینی، مفتی محمد ساحل حسینی اور مفتی ڈاکٹر عبدالخالق قاسمی شامل ہیں، جبکہ شعبۂ حفظ سے حافظ محمد حماد اور شعبۂ تجوید سے قاری سمیر (گروگرام، ہریانہ) کی بھی دستار بندی کی گئی، جس سے محفل میں روحانی اور ایمانی فضا مزید گہری ہو گئی۔ علاوہ ازیں علمی خدمات کے اعتراف میں بیس ممتاز مفتیانِ کرام کو اعزازی انعامات سے بھی نوازا گیا۔
کانفرنس کی صدارت صدرِ محترم اختر الواسع نے کی جنہوں نے ادارے کی علمی و تربیتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خود ولی اللہی دارالافتاء والقضاء کی سرگرمیوں کے عینی شاہد ہیں اور یہ ادارہ ملک میں اعتدال، علمی دیانت اور فقہی توازن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے حنفی، شافعی اور مالکی فقہی مذاہب کے بعض فروعی اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک کامیاب مفتی اور فقیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالاتِ حاضرہ اور جغرافیائی تقاضوں سے باخبر ہو تاکہ بدلتے ہوئے معاشرتی پس منظر میں درست اور مؤثر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
علاوہ ازیں مولانا جاوید صدیقی قاسمی نے افتاء کی تربیت کو ایک بڑی دینی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہمارے اسلافِ کرام نے دین و ملت کی تعمیر کے لیے تن، من اور دھن کی قربانیاں پیش کیں، اسی طرح یہ نو تربیت یافتہ مفتیان بھی مسلمانوں کی شرعی رہبری کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی اور اس کی سالمیت کے لیے ہمیشہ سرگرم رہیں گے۔ قبل ازیں محکمہ صحت کے سینیئر ذمہ دار عمیل احمد نے سائنسی پیش رفت کے تناظر فقہ اسلامی کی خوبصورتی اور اس کے عملی نمونوں کا حوالہ دیتے ہوئے پروگرام میں شرکت پر مسرت کا اظہار کیا اور مفتیان کو مبارکباد پیش کی،
دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے استاد ڈاکٹر مفتی آصف اقبال نے نئے مفتیان کو مشورہ دیا کہ وہ فقہی امور میں تجدیدی وژن کو بیدار کریں تاکہ زمانے کی بدلتی دھارا کے ساتھ جڑے رہیں اور امت کو عصری مسائل میں باوقار اور عملی رہنمائی فراہم کر سکیں۔
اسی تسلسل میں مولانا ضیاء الرحمن قاسمی نے فقہ و فتاویٰ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ افتاء دراصل شریعتِ اسلامیہ کی زندہ تعبیر ہے، جبکہ مفتی ممتاز احمد قاسمی نے فتویٰ نویسی کو صحابۂ کرامؓ کی روایت سے جوڑتے ہوئے دارالافتاء کی اداراتی خدمت کو نہایت قیمتی قرار دیا۔ اس موقع پر مفتی عبد الواحد قاسمی نے بطورِ ذمہ دار تمام مہمانانِ گرامی اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور دارالافتاء کے آئندہ لائحۂ عمل سے حاضرین کو آگاہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ آئندہ بھی امت کی شرعی رہنمائی اور علمی تربیت کے مشن کو پوری قوت سے جاری رکھے گا۔ اس موقع پر بیس مفتیان ودانشوارن کو انکی خدمات پر شیخ الھند ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
آخر میں اجتماعی دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ولی اللہی دارالافتاء والقضاء کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے مزید ترقی نصیب کرے اور نو منتخب مفتیانِ کرام کو دینِ اسلام کی صحیح اور مخلصانہ خدمت کی توفیق بخشے۔
کانفرنس میں شریک ہونے والی شخصیات میں مفتی عاقل قاسمی، مفتی عادل قاسمی، مفتی اسلم قاسمی، مفتی گوہر مصعب قاسمی، مفتی شفاعت قاسمی، قاری یاسین، مولانا قاسم نوی قاسمی (صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی)، مفتی خبیب قاسمی، مولانا عبدالرازق قاسمی، مولانا نظام قاسمی، مفتی ممتاز احمد قاسمی،مولانا نجیبل ، قاری عبدالمنان مفتی سید عبدالشکور، مفتی غلام رسول قاسمی، ماسٹر احسان، عبدالخالق (صدر ایک مینار جامع مسجد، للیتا پارک)، ابو محمد صاحب، قاری عبدالسمیع اور سرفراز صاحب شامل تھے۔




