مضامین و مقالاتاسلامیات،افسانہ و غزلیات

خودکشی: اسباب، انجام اور اسلامی علاج

چاہت محمد قریشی قاسمی

انسان کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے اور اسی نے انسان کو بے شمار ظاہری و باطنی نعمتوں سے نوازا ہے، ناک، کان، زبان، آنکھیں، بازو اور پاؤں، پھیپھڑے دل اور گردے وغیرہ اسی کی عطا ہیں حتی کہ پورا جسم اسی نے بنایا ہے نیز جسم میں روح کو بھی اسی نے پھونکا ہے تو رب کریم ہی وہ حقیقی مالک ہے جس کو انسانی جسم اور اس کی روح کا پورا اختیار ہے، اسی نے زندگی دی ہے اور وہی جب چاہے گا روح کو جسم سے جدا کردے گا۔

اور چونکہ جسم اور روح کا مالک حقیقی رب کائنات ہی ہے تو انسان کو نہ تو جسم میں تبدیلی کا کوئی اختیار ہے اور نہ ہی انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کے ذریعہ جسم سے روح کو جدا کرکے خود کو ہلاک کردے۔

یہی وجہ ہے کہ انسان کے لیے خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے اور قرآن میں صاف بیان کردیا گیا ہے کہ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (النساء: 29)
اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: 195)
اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
ان آیات سے واضح ہے کہ خودکشی کرنا اسلام میں ناجائز اور حرام ہے۔

خود کشی ایسا عمل ہے کہ جس کے بعد خودکشی کرنے والے انسان کو پچھتانے اور اس کو صحیح کرنے کا بھی موقع نہیں ملتا ہے، نیز وہ اپنے والدین، بھائیوں، بہنوں، رشتہ داروں اور تعلق داروں کو ناختم ہونے والا غم دے جاتا ہے، ہر عزیز کو ناگاہانی اور حرام موت سے بڑا صدمہ پہنچتا ہے، سبھی لوگ اس کو برا کہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ایسا شخص اپنے آخری وقت میں بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا بار اپنے سر ڈال کر رخصت ہو جاتا ہے۔
یعنی اکثر و بیشتر ایسے لوگوں کی زندگی تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی میں گذر ہی رہی ہوتی ہے، موت بھی اللہ تعالیٰ کی غیر پسندیدہ اختیار کرکے رب کریم کی ناراضگی کا مستحق بن جاتا ہے۔

شاعر کہتا ہے:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

خودکشی کرنے والا دنیا کی پریشانیوں سے گھبرا کر اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے مایوس ہوکر خود کشی کرتا ہے لیکن شاید وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی پریشانیاں اس موت سے ختم نہیں ہوتی ہیں بلکہ اس طرح کی موت سے اس کے لیے مزید پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ اور یہ اختیاری موت اس کو سخت عذاب اور شدید وعید کا مستحق ٹھہرا دیتی ہے ۔

نیز اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خودکشی جس طرح اور جس چیز سے بھی کی جائے گی مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اس کو ہمیشہ کے لیے اسی موت کے اختیار کرنے پر بغیر کسی وقفہ کے تسلسل کے ساتھ مجبور کردیں گے لہذا خودکشی کرنے والا جہنم کی دہکتی آگ میں اسی چیز سے حسب سابق خودکشی کرے گا اور پھر اس کو زندہ کیا جائے گا، وہ پھر خود کشی کرے گا اور وہ پھر بھی زندہ کیا جائے گا اور اسی موت سے مارا جاتا رہے گا یہی سلسلہ بار بار دوہرایا جاتا رہے گا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خودکشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہو گا اور اس میں ہمیشہ پڑا رہے گا اور جس نے زہر پی کر خودکشی کر لی وہ زہر اس کے ساتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں وہ اسے اسی طرح ہمیشہ پیتا رہے گا اور جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خودکشی کر لی تو اس کا ہتھیار اس کے ساتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے وہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔
(صحيح البخاری 5778)

خودکشی کرنے والے شخص کے محبوب اور پسندیدہ اعمال بھی اس کی خود کشی کی وجہ سے اس کے کام نہیں آسکیں گے حتی کہ وہ شخص اپنی خودکشی کی وجہ سے جہنم میں داخل کردیا جائے گا جیسا کہ
حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ روایت کرتے ہیں کہ جنگِ خیبر میں ایک شخص نہایت بہادری سے لڑ رہا تھا۔ وہ مشرکین پر مسلسل حملے کر رہا تھا۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا:
آج اس شخص سے بڑھ کر کسی نے جہاد نہیں کیا۔
لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ۔۔۔ لیکن وہ جہنم والوں میں سے ہے۔
صحابہؓ حیران رہ گئے۔ بعد میں وہ شخص شدید زخمی ہوا، زخموں کی تکلیف برداشت نہ کر سکا، اس نے اپنی تلوار زمین پر گاڑی اور اس پر جھک کر خودکشی کر لی۔ جب یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: بعض اوقات کوئی شخص لوگوں کی نظر میں جنتیوں والے اعمال کرتا ہے، حالانکہ وہ جہنم والوں میں سے ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری)
اسی طرح ایک حدیث میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کشی کرنے والے پر جنت کے حرام ہونے کا تذکرہ فرمایا ہے:
حضرت جندب بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلی امتوں میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ وہ زخم کی تکلیف برداشت نہ کر سکا، اس نے چھری سے اپنی کلائی کاٹ لی۔ خون مسلسل بہتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میرے بندے نے اپنی جان لینے میں مجھ سے جلدی کی، اس لیے میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔ (صحیح البخاری 3463)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجے گیے تھے اور آپ کا کرم ہر خاص و عام کے لیے تھا لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ کے پاس ایک ایسے شخص کا جنازہ لایا گیا جس نے تیر کی دھار سے خودکشی کر لی تھی، تو آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی۔ (صحیح مسلم 978)
آپ ﷺ کے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کردینا یہ اشارہ ہے اس بات کی جانب کہ اللہ اور رسول اللہ اس شخص سے ناراض ہوتے ہیں جس نے اپنے ہاتھوں اپنی جان لی ہو اور اسی لیے ایک بڑے عالم دین اور محدث کبیر حضرت امام احمدؒ کا خیال ہے کہ خودکشی کرنے والے شخص پر عام لوگ تو نمازِ جنازہ پڑھیں گے؛ لیکن امام المسلمین نماز جنازہ نہیں پڑھے گا۔ (سنن ترمذی، حدیث نمبر : 1048 کے ذیل میں)
نیز یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ جس شخص کی نماز جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھانے سے منع فرما دیا ہو تو پھر کل قیامت کے دن ایسے شخص کے لیے بارگاہ رب ذوالجلال میں شفیع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے سفارش سے محروم رہ جانے کا بھی اندیشہ ہے جب کہ قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی امید ہی بخشش اور نجات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
خود کشی تو دور کی بات ہے؟ اسلام تو کسی شخص کو مصائب، تنگیوں اور پریشانیوں سے گھبرا کر موت کی تمنا کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں تم میں سے کوئی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اور اگر ناگزیر ہو تو یہ دعا کرے: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي
اے اللہ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو مجھے زندہ رکھ، اور جب وفات میرے لیے بہتر ہو تو مجھے وفات دے۔ (صحیح البخاری :5671)

انسانی زندگی کی قدر اللہ تعالیٰ کی نظر میں اور شریعت اسلامیہ کی روشنی میں بہت زیادہ ہے اس لیے کسی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایا گیا ہے اور انسانی صحت کا خاص خیال بھی رکھا گیا ہے جیسا کہ اس کی متعدد عملی مثالیں احادیثِ نبویہ اور فقہی احکام میں ملتی ہیں کہ
اگر پانی کے استعمال سے کسی انسان کے ہلاک ہو جانے یا کسی مریض کی بیماری کے بڑھ جانے کا خدشہ ہو تو اس کو چاہیے کہ غسل اور وضو کی بجائے تیمم کرکے کام چلائے اسی طرح مسجد میں جاکر نماز پڑھنے اور کھڑے ہوکر نماز ادا کرنے کے مسائل بھی بدل جاتے ہیں، نیز اسی طرح شریعت نے انسان کو سخت سردی میں موزے اور بیماری میں زخم اور پٹی یا پلاستر پر مسح کرنے کی رخصت بھی مرحمت فرمائی ہے، نیز یہ بھی واضح رہے کہ یہی رخصتیں جو حالت مجبوری میں دی گئی ہیں حق سبحانہ و تعالی کے یہاں زیادہ پسندیدہ اور باعث ثواب ہیں چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اس کی دی ہوئی رخصتوں پر بھی اسی طرح عمل کیا جائے جیسے اس کے اصل احکام پر عمل کیا جاتا ہے۔ (مسند أحمد 5832)
ان سب چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات جیسے اہم امور میں بھی حد سے تجاوز کرکے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور جب اسلام نے انسان کو عبادات میں بھی گنجائش دیتے ہوئے اس کی جان کی حفاظت کو ترجیح دی ہے تو پھر انسان اپنے آپ کو جان بوجھ کر ہلاک کیسے کر سکتا ہے؟ اور خود کشی جیسے برے فعل کو کیسے انجام دے سکتا ہے؟

یہ بات بھی واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت اور بندگی کے لیے پیدا کیا ہے، اور قرآن کریم میں بھی انسان کی تخلیق کا مقصد عبادت کو قرار دیا گیا ہے، چنانچہ عبادت ہی وہ ذریعہ ہے جس میں مشغول ہوکر بندہ اپنے رب کا قرب اور رضا حاصل کرتا ہے، اور جس کی وجہ سے رب بندے سے خوش ہوکر اس کو بندگی کے بلند مقام پر پہنچاتا ہے، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کو یہ بھی منظور نہیں ہے کہ بندہ عبادت میں غلو کرکے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالے، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ کرام نے عبادت میں غلو اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، کسی نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو کسی نے عبادت کے لیے راتوں میں نہ سونے کا اظہار کیا اور بعض نے تسلسل کے ساتھ روزے رکھنے کا عزم بھی کیا لیکن جب اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے ایسے سبھی صحابہ کرام کے لیے راہ اعتدال کی رہنمائی فرمائی اور اپنی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لینے کی جانب رغبت دلائی اور ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں طاقت سے زیادہ مشغول ہوکر بھی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا اللہ تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ نہیں ہے (بخاری 5063) اور جب اللہ تعالیٰ کے یہاں عبادت میں بھی ایسی مشقت پسندیدہ نہیں جس سے بندہ ہلاک ہو جائے تو خودکشی کرنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ اس لیے خودکشی سے بچو اور اس طرح کی حرام موت بالکل اختیار نہ کرو۔۔

انسان کو مشکلوں، پریشانیوں اور مصائب میں اس لیے مبتلا کیا جاتا ہے کہ اس کے گناہ معاف کیے جاسکیں، نیکیوں میں اضافہ کیا جاسکے اور درجات بلند کیے جاسکیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: ایک مومن کو کانٹا چبھنے یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف پہنچنے پر اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرماتا ہے یا اس کے گناہوں میں سے ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ (صحيح مسلم 6562)
ایک دوسری جگہ ارشاد نبوی ہے: مومن کو جو بھی بیماری، تھکن، تکلیف، غم، پریشانی یا رنج پہنچتا ہے، یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ (صحیح البخاری 5641)
لہذا انسان کو مصائب، تنگیوں اور پریشانیوں سے نہ گھبرانا چاہیے اور نہ ہی کوئی ایسا غلط قدم اٹھانا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنے بلکہ صبر، استقامت اور ہمت سے کام لینا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ضرور آتی ہے، پریشانی کے بعد سہولت بھی میسر آتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾
بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے، یقیناً ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
اس کی تفسیر معارف القرآن میں مذکور ہے کہ یہاں دونوں عسر یعنی تنگی سے مراد صرف ایک ہی عسر ہے اور دونوں یسر یعنی آسانی سے مراد الگ الگ دو یا زائد آسانیاں ہیں لہذا اس آیت میں ان مع العسر یسراً کے تکرار سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک ہی عسر و مشکل کے لئے دو آسانیوں کا وعدہ ہے اور دو سے مراد بھی خاص دو کا عدد نہیں بلکہ متعدد ہونا مراد ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک عسر یعنی تنگی اور مشکل جو آپ کو پیش آئے گی۔ اس کے ساتھ بہت سی آسانیاں آپ کو دی جائیں گی۔
کتنی افسوس ناک بات ہے کہ ان واضح قرآنی بشارتوں اور نبوی تعلیمات کے باوجود انسان صبر، استقامت اور ہمت سے کام نہ لے کر اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لے اور خود کشی جیسے گھناؤنے جرم کا مرتکب ہو کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے لے، اور شدید عذاب کا مستحق بنے۔
لہذا ہر ایک انسان کو چاہیے کہ دنیوی عارضی مشکلات اور مصائب سے نہ گھبرائے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھے، اور رب کی رضا میں راضی رہے۔ جو بھی پریشانیاں اور مشکلیں دامن گیر ہوں گی ان شاءاللہ وہ سب ختم ہو جائیں گی اور بہت جلد ان شاءاللہ رب کریم کی رحمتیں اور نعمتیں شامل حال ہو جائیں گی۔ نیز پھر سے بہت سی خوشیاں اور مسرتیں نچھاور ہوں گی۔ یاد رکھیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ) (الطلاق: 3)
اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح ایک دوسری جگہ ہے
(إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ) (البقرة: 153)
بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اس لیے کوئی بھی غلط قدم نہ اٹھائیں اور خودکشی سے اپنے آپ کی حفاظت کریں۔

اللہ تعالیٰ ہر ایک انسان کی مشکلوں اور پریشانیوں کو دور فرمائے اور خودکشی جیسی بری موت سے سب کی حفاظت فرمائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button