مضامین و مقالات

شیطانی شر سے حفاظت کے لئے قرآنی اور نبوی نسخے

چاہت محمد قریشی قاسمی

حقیقی افضلیت اسی کو حاصل ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے افضلیت عطا فرمائی ہو لیکن شیطان نے افضلیت کی بنیاد مادۂ تخلیق کو قرار دیا اور اس نے اسی باطل قیاس کی بنیاد پر آگ کو مٹی سے افضل سمجھا، جس کی وجہ سے تکبر میں مبتلا ہوگیا اور مالک حقیقی سے کہنے لگا آپ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ہے اور مجھے آگ سے، اور آگ مٹی سے افضل ہوتی ہے۔ چنانچہ اسی باطل قیاس اور تکبر کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہیں کی اور حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا، جس کی پاداش میں ہمیشہ کے لیے مردود و ملعون قرار دے دیا گیا، اور ذلیل و خوار کرکے جنت سے نکال کر زمین پر پھینک دیا گیا۔
اس کے بعد شیطان نے اپنی ذلت و رسوائی کا ذمہ دار انسان کو ٹھہرایا اور اللہ تعالیٰ کی عزت کی قسم کھا کر انسان کو بہکانے، ورغلانے اور گمراہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا:
فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَ (82) اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (83)
تیری عزت کی قسم ضرور بالضرور میں ان سب (انسانوں) کو گمراہ کردوں گا،مگر جو ان میں تیرے مخلص بندے ہیں(وہ گمراہ نہیں ہوں گے)

شیطان رب ذوالجلال کی عزت کی قسم کھا کر انسانوں کی دشمنی پر کمر بستہ ہوگیا اور ان کو گمراہ کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنے کا عزم کیا لہذا آج بھی شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے جو قیامت رہے گا اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کرکے جہنم میں جانے کا سبب بنے گا، جس کو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّاؕ-اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ۔
بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو، وہ تو اپنے گروہ کو اسی لیے بلاتا ہے تاکہ وہ بھی دوزخیوں میں سے ہوجائیں۔

اور چونکہ شیطان اللہ تعالی کی اطاعت سے ہر ایک انسان کو دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی گمراہی کے لئے کوئی دقیقہ بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے لہذا اسی خطرے کے پیش نظر  اللہ تبارک وتعالی نے ہم سب کو شیطان کی پیروی اور اس کی اطاعت سے منع فرمایا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے
’’وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔
اور شیطان کے راستوں  پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہ تمہیں صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دے گا اور یہ (حکم دے گا) کہ تم اللہ کے بارے میں وہ کچھ کہو جو خود تمہیں معلوم نہیں ۔

شیطان جس طرح انسان کے ایمان کا کھلا دشمن ہے اسی طرح شیطان انسان کو کبھی کبھی جسمانی اور ذہنی اذیتیں اور تکلیفیں بھی پہنچاتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے:
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ
وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں، کھڑے نہیں ہوں گے مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر خبطی بنا دیا ہو۔
اس آیت میں شیطان کے چھونے سے جوخبطی بنانے کا ذکر ہے وہ جسمانی اور ذہنی اذیت اور تکلیف ہی مراد ہے جو شیطان سے انسان کو پہنچتی ہے۔

حدیث شریف سے یہ بھی ثابت ہے کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ صلاحیت بخوبی عطا فرمائی ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے (صحیح البخاری)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیطان جب انسان کے جسم میں دوڑ کر اس کو اذیتیں اور تکلیفیں پہنچاتا ہے تو پھر اس کے شرور و فتن سے بچنے کی کیا شکل ہونی چاہیے تو سب سے پہلے ہم قرآن کریم کی وہ آیتِ شریفہ پیش کرتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم سے پہلے تعوذ پڑھ کر شیطان سے اللہ کی پناہ چاہنے کا حکم فرمایا ہے
فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو (یعنی اَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّیطٰنِ الَّرجِیمِ پڑھ لیا کرو)
من جانب اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے تعوذ کا حکم کرنا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ایسی اہم جگہوں پر جہاں سے اللہ تعالی کی رضا جوئی حاصل ہورہی ہو وہاں شیطان وسوسے ضرور ڈالتا ہے لہذا ایسی عبادت و اطاعت اور رضا جوئی والی اہم جگہوں پر شیطان کے شرور و فتن سے اللہ تعالیٰ کی پناہ ضرور مانگ لینی چاہیے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو شیطانی وسوسے سے بچنے کے لیے درج ذیل الفاظ ادا کرنے کا حکم بھی فرمایا ہے
رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِۙ(﴾ وَ اَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحْضُرُوۡنِ ﴿﴾ (المومنون:۹۷۔ ۹۸)
اے پروردگار! میں شیطان کے بہکانے سے تیری پناہ میں آتا ہوں بلکہ اے میرے پروردگار! میں اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب پھٹکے۔
مذکورہ آیات میں شیطان مردود کے وسوسوں اور فتنوں سے بچنے کے لیے اللہ رب العزت نے اپنے نبی کو بہترین کلمات سکھائیں ہیں اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے ان دونوں آیات کو صبح و شام پڑھ لیا کرے۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نےبہت سی احادیث میں شیطان مردود کے خطرے سے آگاہ بھی کیا ہے اور بچنے کے لئے بہت سی دعائیں اور ترکیبیں بھی بیان فرمائیں ہیں، مثال کے طور پر ایک حدیث ہے،جس میں آپ ﷺ نے فرمایا
جب رات ہو جائے تو اپنے بچوں کو (گھروں میں) روک لیا کرو، کیونکہ اس وقت شیاطین زمین پر پھیل جاتے ہیں، پھر جب کچھ وقت گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، اور اللہ کا نام لے کر دروازے بند کر لو، کیونکہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھول سکتا۔ (صحيح البخاري: 3304)
اس حدیث شریف میں آپ ﷺ نے صاف طور سے ایسے وقت کی تعیین کی ہے جس میں شیطان آزاد گھومتا ہے اور چونکہ بچے جسمانی اور ذہنی اعتبار سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں تو وہ بچوں کو آسانی کے ساتھ نقصان بھی پہنچا سکتا ہے، اسی لئے اللہ تعالی کے نبیﷺ نے رات کے شروع حصہ یعنی مغرب کے بعد بچوں کو باہر نکالنے سے منع فرمایا ہے  اور جب شیطان رات میں آوارہ گھومتا ہے تو اس سے خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں وہ گھروں میں نہ گھس جائے اسی لئے اس سے بچنے کا نبوی نسخہ حدیث میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ  بسم اللہ پڑھ کر دروازہ بند کرلو کیوں کہ شیطان بند دروازہ کھول نہیں سکتا ہے۔

اسی طرح انسان کو شیاطین کے وسوسوں، نیز انسان کو جسمانی اور ذہنی نقصانات سے بچانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں دعائیں اور بہت سی ترکیبیں ذکر کی ہیں جن میں سے کچھ ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔
شیطان رات ناک کے نتھنوں میں گذارتا ہے جیسا کہ حدیث شریف ہے
حـضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اسے چاہیے کہ تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان رات اس کے نتھنوں میں گزارتا ہے۔(صحيح البخاري: 3295)

شیطان کے شرور و فتن سے بچنے کے لیے آیت الکرسی بڑی اہمیت کی حامل ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
جو شخص رات کے وقت آیت الکرسی پڑھ لے، اس پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر رہتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔ (صحيح البخاري 2311)

اسی طرح سورہ بقرہ بھی ایک ایسی سورت ہے کہ جس گھر میں یہ پڑھی جاتی ہے اس گھر میں شیطان داخل نہیں ہوتا ہے لہذا حـضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، کیونکہ جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ (سنن الترمذي: 2877)

کبھی کبھی انسان کو برا خواب نظر آتا ہے جو ممکن ہے شیطان کی دخل اندازی سے ہوا ہو تو اس وقت بھی انسان کو چاہیے کہ شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے جیسا کہ حدیث شریف میں مذکور ہے
حـضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:نیک خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے، لہٰذا اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، یہ اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔(صحيح البخاري 3292)

اگر انسان کھانا شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھتا ہے تو اس کھانے میں شیطان بھی شریک ہو جاتا ہے لیکن پھر اگر انسان کھانے کے درمیان کی دعا پڑھ لیتا ہے تو شیطان قے کرکے بھاگ جاتا ہے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل حدیث میں بیان کیا ہے:

حضرت امیہ بن مخشیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔ ایک شخص کھانا کھا رہا تھا، اس نے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھی۔ جب صرف ایک لقمہ باقی رہ گیا تو اس نے کہا: "بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ” (اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ابتدا میں بھی اور آخر میں بھی)۔ نبی کریم ﷺ مسکرائے اور فرمایا: "شیطان برابر اس کے ساتھ کھانا کھاتا رہا، لیکن جب اس نے اللہ کا نام لیا تو شیطان نے اپنے پیٹ کی ساری چیز قے کر دی۔ (سنن أبي داود3767)

اذان جس طریقے سے آج بہت سے خدا کے دشمنوں پر ناگوار ہے اسی طرح یہ اذان ان کے گرو گھنٹال شیطان مردود کے لیے بھی بہت زیادہ تکلیف دہ ہے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے، اس حال میں کہ وہ گوز مارتا جاتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے۔ پھر جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہے۔ پھر جب اقامت کہی جاتی ہے تو دوبارہ بھاگ جاتا ہے، اور اقامت ختم ہونے کے بعد پھر آجاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے۔ (صحیح البخاری، 608)

نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام اور سونے سے پہلے سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنے کا اہتمام فرماتے تھے۔ یہ سورتیں شیطان، جادو، حسد اور ہر قسم کے شر سے حفاظت کا عظیم ذریعہ ہیں، اس لیے ہر مسلمان کو ان کی پابندی کرنی چاہیے۔

ان اعمال کے علاوہ شیطان مردود کے فتنوں، وسوسوں اور فریب سے بچنے کے لیے مسنون اذکار و اعمال کشکول اردو ایپ میں موجود صبح و شام کے اذکار کے عنوان سے ذکر کردیے گیے ہیں، اس کے علاوہ مناجات مقبول، الحزب الاعظم وغیرہ بھی ایپ کی زینت ہیں لہذا وہاں بھی ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

خلاصۂ کلام شیطان مردود ہماری عبادات اور رب کریم کے لیے ہماری اطاعت میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ہم سے کہیں زیادہ مستعد اور تیار ہے اور وہ ہر لمحہ ہمیں گمراہ کرنے اور رب کی نافرمانی اور گناہوں پر آمادہ کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں رہتا ہے، اس کے پاس ہمیں بہکانے اور ورغلانے کے لیے بے شمار حربے اور جال موجود ہیں اور ہزاروں سال کے تجربے سے وہ یہ بھی اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہے کہ کس انسان کو کس راستے سے بہکایا جاسکتا ہے اور کس کو کس جال میں پھنسایا جاسکتا ہے۔

اس لیے ہر مسلمان کی زمہ داری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھے، ذکرو دعا کا اہتمام کرے اور شیطان مردود سے اللہ رب العزت کی پناہ مانگتا رہے، یہی دنیا و آخرت میں شیطان کے مکرو فریب سے بچنے کا ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کی ہمیشہ ہمیش شیطان مردود کے ہر حربے، ہر فتنے، ہر شر سے حفاظت فرمائے۔

https://www.facebook.com/share/p/1GbtR3RrMk/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button