مضامین و مقالات

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
عید الاضحی کا موقع ہے ۔ہر سال کی طرح امسال بھی قربانی کو لے کر ملک بھر میں گرما گرم بحث جاری ہے ،کس جانور کے قربانی کریں، کس کی نہ کریں، کیسے کریں ،کہاں کریں، جانوروں کی خرید و فروخت کے مسائل ،مختلف سرکاری، نیم سرکاری اور خود مسلم تنظیموں کی جانب سے مختلف قسم کی مشاورتی اپیلوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عید الاضحی پر ہی کیا موقوف مسلمانوں کے ہر تہوار، عبادت پر متعدد سوالیہ نشان لگائے جا چکے ہیں ۔نماز ،اذان ،تراویح،، رمضان ،عید الفطر، عید الاضحی ، خواتین کے شرعی حقوق ،حتی کہ قران حکیم اور سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پر بھی الزابات اور اعتراضات کی بھرمار ہے ۔ایسے میں امت کے اکابر بھی بلاوجہ خود کو دفاعی پوزیشن میں کھڑا کرکے ہر سوال کا جواب اپنی دانست میں تسلی بخش دینے کی ناکام کوشش کرتے نظر آتے ہیں اور اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ کبھی کبھی بالکل بنیادی اسلامی اصولوں پر بھی سمجھوتہ کر لینے کے مشورے موصول ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں ایک بات جو سب کو سمجھنی چاہیے وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے ۔آپ سوتے ہوئے انسان کو جگا سکتے ہیں جاگتے ہوئے آدمی کو بھلا کون جگا سکتا ہے !جو لوگ اعتراضات کر رہے ہیں وہ خود بھی سارے جواب جانتے ہیں اسی لیے آپ کی ہر دلیل کی رد مختلف لایعنی باتوں سے اپنے گریبان میں جھانکے بغیر کرتےرہتے ہیں۔ بحث کج بحثی میں بدل جاتی ہے۔ ویسے بھی یہ تمام وہ الزامات ہیں جو آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل بھی ابتدائے اسلام میں ہی یہود و نصاری کے ذریعے اسلام پر لگائے گئے تھے اور اس وقت بھی ان کے جواب دے دیے گئے تھے ،جو تاریخ میں محفوظ ہیں ۔لیکن بار بار ہر زمانے میں جب بھی مسلمان کمزور ہوتے ہیں انہی اعتراضات کا اعادہ کیا جاتا رہا ہے اور یہی جوابات بھی دیےے جاتے رہے ہیں۔ آج پھر ملک میں مسلمان حاشیے پر ہیں تو پھر وہی سوالات کھڑے کیے جا رہے ہیں چنانچہ اس کی آسان شکل یہ ہے کہ ان اعتراضات کو ہرگز قابل اعتنا نہ سمجھا جائے اور سوال در سوال، جواب در جواب کے اس سلسلے پر مکمل خاموشی اختیار کی جائے۔ منیر نیازی نے کہا تھا کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے، سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے ۔ البتہ اپنی داخلی اصلاح پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے کیونکہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ خود مسلمانوں میں بہت سی بے احتیاطیاں در کر آئی ہیں، مثلا قربانی کے لیے جس خشوع و خضوع اور جذبے کی ضرورت ہے اس کی جگہ نام و نمود نے لی ہے ، قربانی کرتے وقت جن شرعی اور حفظان صحت کے اصولوں کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے ان کو نظر انداز کرنے لگے ہیں ،پڑوسی کے حقوق اور باہمی تعاون کے احساسات بھی نظر نہیں آتے ،ایسے اور بہت سے امور ہیں جن پر نقد کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ چنانچہ داخلی اصلاح پر متوجہ ہوتے ہوئے اپنی گمراہی اور قران و حدیث کے واضح اصولوں سے انحرا ف اور اپنی بے را ہ روی پر بےجا اصرار بھی نہیں کرنا چاہیے۔ بہرحال ان سخت حالات کے شر میں خیر کا یہ پہلو تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اس بہانے اصلاح معاشرہ کی ہماری داخلی کاوشوں کو ایک مہمیز حاصل ہو رہی ہے ۔مسلمانوں کی نوجوان نسل بھی دین کا از خود مطالعہ کر کے صحیح اور غلط کا کی تمیز و تعبیر کر رہی ہے۔ یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہے اور ہماری اصلاح ہوتی رہے تو آئندہ چند سالوں میں ملک کا مسلمان دیگر طبقات کے لیے از خود ایک بہترین مثال بن سکتا ہے کہ دوسرے ادیان کے لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ دین اور عقیدے پر ڈسپلن کے ساتھ عمل کرنے کا فن کوئی مسلمانوں سے سیکھے۔ یہی دین کا طرہ امتیاز بھی ہے اور دعوت دین کا بہترین طریقہ بھی۔
جہاں تک ملک کے ایک طبقے کی شرنگیزی کا تعلق ہے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس طبقے کا ان کے دین سے دور دور تک بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک کے عوام کے اکثریت کا دین سناتن دھرم ہے۔ جبکہ ہندوتوا نظریہ محض ایک سیاسی نظریہ ہے، جو گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے ہی سننے میں آتا ہے ،جبکہ سناتن دھرم ہزاروں سال قدیم ہے جو وحدت الوجود، صلح کل اور اعلی انسانی اقدار پر مشتمل ہے۔ انسانی تاریخ میں ادیان کی ترویج و ارتقا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ابتدائی دور کے انسان کا مذہبی نظریہ سناتن دھرم کے اصولوں پر ہی مبنی تھا ،جو بعد میں انسانی ذہن کے ارتقا کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے مختلف ادوار و ازمنہ میں ،مختلف مقامات پر، مختلف ضروریات کے تحت دیگر ادیان میں منتقل ہوتا رہا اور بالاخر دین کی حتمی صورت کے طور پر دین اسلام سامنے آیا ۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ سناتن دھرم کے بہت سے اصول اور ویدوں کی بہت سے اشلوک اسلامی اصولوں سے بھی مطابقت رکھتے ہیں ۔اس لیے ضروری ہے کہ سناتن دھرم اور ہندوتو کے واضح فرق کو ملحوظ رکھا جائے۔
ہندتو وادیوں کے پیش نظر نفرت کی آبیاری کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنا اور پھر اسے مستحکم کر کے اسے جاری رکھنا ہی ہے۔ اس لیے وہ ہر حربہ استعمال کرنے میں کوئی دریغ نہیں کرتے۔ فسطائیت دراصل اسی کو کہتے ہیں۔ دھرم کے نام پر ان کی آستھا محض ایک بہانہ ہے، وگرنہ زمینی حقائق کا روزمرہ مشاہدہ خود بتاتا ہے کہ یہ نظریہ ملک کی سالمیت ،یکجہتی ،ہمہ جہت ترقی، معاشی اور اقتصادی استحکام، سماجی انصاف اور دنیا بھر میں بھارت کی شبیہ کو بھی داغدار کرتا ہے نیز مستقبل کے امکانات کو مسدود کرتے ہوئے غریب اور مفلوک الحال ہندو ،مسلمان ،سکھ، عیسائی، دلت ،قبائلی عوام پر مشتمل 90 فیصد آبادی کو بھی غریب اور بے حال زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے۔ ان حالات پر حکمران طبقے کی چشم پوشی ان بھارت مخالف عناصر کو مزید حوصلہ عطا کرتی ہے ۔مثلا گائے پر اپنی آستھا کو ظاہر کرنے کے بہانے پورے سال ملک کے مختلف مقامات خصوصا ایک ریاست سے دوسرے ریاست کو جوڑنے والی شاہ راہوں پر گئورکھشک تنظیموں کے ذمہ داران وکارکنان مویشی لے جانے والی گاڑیوں کو روک کر جو وصولی کرتے ہیں ان سے حکمران اور ان کے زیر نگیں نظام بخوبی واقف ہے۔ دراصل اس قسم کی وصولی سے ان میں سے اکثر تنظیموں کے اخراجات پورے ہوتے ہیں ۔لہذا یہ آستھا کا نہیں وصولی کا دھندا ہے ۔اس جانب خود وزیراعظم نے یوم ازادی کے موقع پر لال قلعہ سے اپنی تقریر میں بھی اشارہ کیا تھا، جس کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔الٹا اس آستھا کے نام پر کئی بے قصور لوگوں کی ماب لنچنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔ایک دوسرے زاویے سے بھی اس معاملے کو دیکھیں تو 2012 اور 14 کے درمیان اپنی انتخابی ریلیوں میں وزیراعظم کہا کرتے تھے کہ ملک کو سبز اور سفید انقلاب( کھیتی اور دودھ) کی بجا طور پر ضرورت ہے لیکن کانگریس حکومت گلابی انقلاب ( گوشت) پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت بھارت دنیا کو گوشت سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا اور سالانہ تقریبا چار بلین ڈالر کی درآمد ہوتی تھی، جن میں سب سے بڑا حصہ بڑے کے گوشت کا ہی ہوتا تھا، جسے اس زمانے میں بھی اور آج بھی بھینس کا گوشت بتایا جاتا رہا ہے۔ درحقیقت وہ بھینس کا ہوتا ہے یا گائے کا یہ تو ویتنام، ملشیا، عراق ،متحدہ عرب امارات۔ سعودی عرب، مصر وغیرہ جا کر ہی چیک کیا جا سکتا ہے، جہاں بھارت کا سب سے زیادہ گوشت سپلائی ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی دنیا میں گوشت سپلائی کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک بھارت ہے اور جو گوشت پہلے سپلائی ہوتا تھا وہی آج بھی ہوتا ہے یہ تجارت آج بھی چار بلین ڈالر سالانہ سے زیادہ ہے ۔عربی نام والی غیر مسلم مالکان کی کمپنیاں آج بھی غیر ملکی زر مبادلہ کما رہی ہیں اور حکمراہںجماعت کو اس میں سے بڑا چندہ بھی ادا کرتی ہیں۔ اسی طرح دنیا میں پالتو جانوروں کا سب سے بڑا کاروبار بھی بھارت ہی میں ہوتا ہے۔ پالتو مویشی یعنی گائے ،بھینس ،بکری ،اونٹ ،بھیڑ ،مرغی حتی کہ مچھلی تک کا کاروبارچھ لاکھ کروڑ سے زیادہ ہے۔ حکومت کی بہت سی اسکیمیں ہیں جن کے ذریعے ان مویشیوں کو پالنے اور بیچنے کے لیے دیہی عوام کو مالی مدد بھی دی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے کل مویشیوں کی سب سے بڑی تعداد تین کروڑ سے زائد بھارت میں موجود ہے۔ اور ملک کے اقتصادی ترقی میں اس کاروبار کا 31 فیصد حصہ ہے ۔اسی کے ذریعے دودھ کا کاروبار بھی دنیا میں سب سے بڑا بھارت میں ہے جو دنیا کا 24 فیصد ہے ۔مغربی بنگال جہاں ابھی بی جے پی کی نئی سرکار بنی ہے وہاں ایک لاکھ کروڑ روپے سالانہ مویشی خرید و فروخت کا کام ہوتا ہے۔ ویسے ملک بھر میں مویشیوں کے کاروبار اور گوشت کی تجارت کی درآمد کے معاملے میں اتر پردیش بھارت کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوتو وادی تنظیمیں یہ سب جانتی ہیں؟ اور اگر جانتی ہیں تو اس کاروبار کو نقصان پہنچا کر وہ دراصل کس کو نقصان پہنچا رہی ہیں؟ واضح رہے کہ اس کاروبار میں مسلمان محض مزدور کی حیثیت سے کام کرتے ہیں انڈسٹری مالکان میں مسلمانوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔
آستھاکے نام پر یہ دراصل مسلم دشمنی نہیں بلکہ ملک دشمنی ہے۔ جس سے ان شر پسندوں کو محض اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ اپنی شرانگیزی کو میڈیا کے ذریعے اجاگرکر کے ملک میں فرقہ وارانہ سماجی تقسیم بپا کر سکیں ، اس کے ذریعے انتخاب جیت سکیں۔ سرکاریں بنانے اور گرانے میں بھی اس کا استعمال کرتے رہیں۔ ملک کے مسلمانوں کو انتہائی تحمل کے ساتھ اس شرپسندی کو سمجھتے ہوئے کسی رد عمل کا مظاہرہ کرنے کے بجائے خاموشی سے اپنی داخلی اصلاح پر ہی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی سیاسی ،سماجی، دینی یا اقتصادی نظریہ جو طاقت، دولت اور اقتدار حتی کہ انسانیت کش مہلک ہتھیاروں کو بھی قابل پرستش سمجھتا ہو اس سے نہ تو خیر کی امید کی جا سکتی ہے اور نہ وہ بہت دیر تک اقتدار میں قائم رہ سکتا ہے۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں )

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button