مضامین و مقالات

اسرائیل کا خفیہ وژن: 80 میٹر چٹان سے جھانکنا

 

۔ ابن بھٹکلی ۔

+966562677707 *

 

حکم خداوندی حضرت انسان جس لائن میں بھی غور و فکر تدبر و تحقیق کرتا پایا جاتا ہے اللہ رب العزت انہیں اس لائن میں مہارت عطا کردی دیتے ہیں۔ ہم عام انسان ہمارے پیٹھ پیچھے کیا کچھ ہورہا ہے اس سے بے خبر جئے جارہے ہیں وہیں اسرائیلی محققین دشمن ممالک زیر زمین بنکروں میں دنیا کی نظریں بچا کیا کچھ کررہا ہے یہ جاننے کی جستجو میں منہمک ہے ایران و حماس زیر زمین میزائیل کے کارخانے تعمیر کئے جیسے عالم انسانیت کو متحیر العقل کئے ہوئے ہیں دنیا کے انیک ممالک آسمانوں میں اپنے بھیجےرسدگاہوں سے, انکے دشمن ملک زیر زمیں کیا کچھ کررہے ہیں یہ جھانکتے ہوئے دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اب تازہ اعلانیہ سے یہ انکشاف ہوا کہ اسرائیلی سائنسدانوں محققوں نے اپنے آسمانی سیٹلائیٹ کیمروں سے دشمن ملک کے, زمین 80 میٹر یعنی کم و بیش 264 فٹ نیچے پہاڑوں کےنیچے ایٹومک سرگرمیوں پر نظر رکھنے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ تعجب ہوتا ہے ہم مسلمانوں کے,خود اللہ رب العزت کی طرف سے قرآن مجید میں, معلم یعنے استاد کے لقب سے بلائے گئے,نبی آخرالزمان محمد مصطفی ﷺ پر اتارے گئے قرآن مجید کی ابتدائی دو آیتوں میں ہی, بعد والی آیت کو سمجھ کر پڑھنے اور تدبر تفکر کر انسانیت کی بھلائی کے لئے نت نئی راہیں تلاش کرنے کا حکم پہلی ایت تحکمی میں دینے کے باوجود آج 1460 لمبے سال گزرنے کے باوجود ہم مسلمانوں کی اکثریت, آسمانی کتاب قرآن فہمی ہی سے ماورا, نماز روزے تراویح کی رکعات جیسے فروعی مسائل میں الجھے, خدائی حکم,حصول علم کو دو متضاد حصوں میں بانٹے, کچھ فیصد صرف دینی علوم حاصل کرنے میں مست و مسرور ہیں تو اکثریت اس رزق کے حصول کے لئے عصری علوم حصول کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جس رزق کو, ماقبل اسکی ولادت کے,رزاق دو جہاں نے, اسکے لئے متعین کردیا گیا ہے۔اور ایک بڑھئی یعنی کارپینٹر نبی کے امتی دو فیصد آبادی انسانیت قوم یہود قرآنی علوم کی روشنی میں عصری علوم کے اتنے ماہر بن چکے ہیں کہ اب ایران کے ہاتھوں حربی اعتبار پٹنے اور شکست کھانے سے پہلے تک امریکہ کے توسط سے اقوام متحدہ تک کو اپنے زیر اثر لئے, پوری عالم انسانیت پر درپردہ حکومت کررہے تھے ایران کے ہاتھوں اتنی کاری شکست باوجود, قوم یہود,اپنے سابقہ عالم انسانیت پر حکمرانی کی تگ و دو ہی میں مصروف عمل پائے جاتے ہیں۔اور ہم مسلمین عالم کے عصری علوم بے بہرہ دنیوی حصول میں مگن رہتے پس منظر میں رب دو جہاں مسلم دشمن قوم یہود کو ہی انکی اپنی تحقیقی سرگرمیوں کے چلتے انہیں وقت اور سرخرؤ کردے اور ہم مسلمانوں کو ان یہود ونصاری کے قدموں سرنگوں ہی پڑا رہنے دے ۔وماالتوفئق الا باللہ* ابن بھٹکلی https://www.facebook.com/share/1JGc83HSoa/ ایک ایسی دنیا میں جہاں راز پتھر کی تہوں کے نیچے گہرے دفن ہیں، ایران میں ایک پوشیدہ جوہری تنصیب کے انکشاف نے عالمی انٹیلی جنس حلقوں میں دھچکا پہنچا دیا ہے، کیونکہ اسرائیل اپنی تحقیقات کے ذریعہ سے کسی طرح 80 میٹر ٹھوس گرینائٹ کے نیچے "جھانکنے یادیکھنے” میں کامیاب ہو گیا ہے، "کون جانتا تھا کہ چٹانیں ایسے دھماکہ خیز راز چھپا سکتی ہیں؟” یہ بظاہر بے جان پہاڑ، سکون کا محض ایک اگواڑا، ایک بہت بڑا راز رکھتی ہیں جسے 25 سالوں میں بڑی احتیاط سے تیار کیا گیا ہے، کسی بھی حملے کا مقابلہ کرنے اور ناقابل شناخت رہنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پھر بھی، جیسا کہ ہم سائنس اور جاسوسی کے پیچیدہ راز کھولتے ہیں، اسرائیلی انٹیلی جنس کے ذریعے اس پوشیدہ حقیقت سے پردہ اٹھانے کے طریقے حیران کن سے کم نہیں ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی کی نمائش کرتے ہیں جو سائنس فکشن اور حقیقت کے درمیان لائنوں کو دھندلا دیتی ہے۔ جیسے جیسے داؤ پر لگا ہوا ہے اور تناؤ بڑھ رہا ہے، عالمی برادری حیران رہ گئی ہے: سطح کے نیچے اور کون سے راز پوشیدہ ہیں، اور قومیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کس حد تک جانے کو تیار ہیں؟ بین الاقوامی تعلقات اور سلامتی کے مستقبل کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟ تفصیلات نیچے 👇 https://www.facebook.com/share/1JGc83HSoa

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button