مضامین و مقالات

اہل سلف وصالحین کےاخلاق حمیدہ سے،اسلام پھیلے جیسا کیا آج بھی نہیں پھیل سکتا ہے؟

 

۔ نقاش نائطی
۔ 966562677707+

فرق افواج اسلامی اور افواج یہود و ہنود و نصاری

"اسرائیلی افواج اپنے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اپنے تربیت یافتہ کتوں سے جنسی زیادتی کرواتے تھے”:- نیو یارک ٹائم کے نامہ نگار نکولس کرسٹوفر https://share.google/3BWeNSfWOcE6fSrtN

اسلامی شریعت اور احکامات میں جنگ کے دوران اور بعد میں دانستہ ظلم و ستم کی ممانعت کی گئی ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق جنگ کے دوران عورتوں، بچوں، بوڑھوں، پجاریوں اور غیر جنگجوؤں کو نقصان پہنچانے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ کھلے عام قتل و غارت، درختوں کو کاٹنے, کھیتوں کو اجاڑنے اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ مفتوحہ علاقوں میں غیر مسلموں کو "ذمی” (محفوظ شہری) کا درجہ دیا جاتا تھا۔ ان کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری اسلامی ریاست پر ہوتی تھی، جس کے بدلے میں وہ ایک مخصوص ٹیکس (جزیہ) ادا کرتے تھے، جو مسلمانوں کے زکوٰۃ کے برابر یا اس سے کم ہوتا تھا۔ اس ٹیکس کی ادائیگی کے بعد وہ اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے میں آزاد تھے۔

مفتوحہ علاقوں کی مقامی آبادیوں (مثلاً شام، مصر، ایران، اور سپین وغیرہ) کے تاریخی ریکارڈ اور مؤرخین کی تحریروں میں فتح کے ابتدائی مراحل اور بعد کے ادور کے مختلف واقعات ملتے ہیں۔فتوحات کے دوران ہونے والی جنگوں میں جانی و مالی نقصان اور شہروں پر قبضے کے دوران تباہی کے واقعات پیش آتے ہی رہتے ہیں۔بہت سے مؤرخین (جیسے کہ احمد بن یحییٰ البلاذری کی کتاب "فتوح البلدان” اور تھامس آرنلڈ کی "دی پریچنگ آف اسلام”) اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مقامی آبادیوں نے,اکثر اسلامی حکومت کو سابقہ ظالم حکومتوں (جیسے بازنطینی یا ساسانی سلطنت) کے مقابلے میں زیادہ منصفانہ پایا، کیونکہ وہاں مذہبی آزادی اور کم ٹیکسوں جیسے فوائد حاصل تھے۔ مجموعی طور پر، اسلامی افواج کا کردار خالصتاً ظالمانہ نہیں ہوتا تھا، بلکہ یہ ایک باقاعدہ سیاسی اور عسکری نظام تھا جس میں انصاف اور فلاح کے اصول بھی شامل تھے، تاہم مختلف ادوار میں حکمرانوں کی ذاتی پالیسیوں اور جنگی حالات کے مطابق اس میں تبدیلیاں آتی رہیں ہیں

اسلام‘ سلامتی اور خوبیوں والا مذہب ہے۔ اسلام کےمحاسن میں سےہے کہ اس میں انسانوں بلکہ تمام جانداروں کے حقوق کی نگہداشت، حفاظت اور پاسداری ہے۔ اسلام مسلمانوں کو جانوروں سمیت تمام انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ خلقِ خدا کے ساتھ رحمت و شفقت اور عدل و احسان کا معاملہ اسلام کا خاصہ اور طرئہ امتیاز ہے۔ جب کہ ظلم و ستم، ناحق مارپیٹ، کسی کو پریشان کرنا یا کسی کی حق تلفی کرنا، اسلام کی نظر میں انتہائی معیوب، قبیح اور مجرمانہ عمل ہے، جس سے اسلام انتہائی سختی سے منع کرتا اور روکتا ہے۔ اسلام سے پہلے انسانوں کو غلامی کی چکی میں پیسا جاتا تھا اور اُن کے ساتھ بہیمانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ اسلام ہی نے غلاموں، باندیوں اور قیدیوں کو ان کے انسانی حقوق کا مستحق ٹھہرایا، جیسا کہ کئی احادیث اس پر شاہد ہیں
۱- حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:- یعنی: ’’جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا دستِ نگر اور ماتحت بنایا ہے، وہ تمہارے بھائی ہیں( یعنی لونڈی، غلام اور خدمت گار) ان کو وہ کھانا دیا جائے جو خود کھائے، اور ان کو وہ پہنائے جس کو خود پہنے۔ ان کو ایسے کام کی تکلیف نہ دیں جس سے وہ تھک جائیں، اگر اسے ایسے کام کی تکلیف دینا ضروری ہو تو پھر خود بھی اُن کا ہاتھ بٹائیں۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ سے روایت ہے کہ:-’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے قبل آخری نصیحت یہ ارشاد فرمائی کہ ’’نماز کا خیال رکھو اور اپنے زیرِدست غلاموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔‘‘
اسلام نے جنگوں کے احکام اور جنگوں میں دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تفصیلات بیان کی ہیں، خصوصاً جب دشمن کو قیدی بنالیا جائے تو ان کے ساتھ کس طرح حسن سلوک کیا جائے۔ ان اسلامی محاسن و مکارم کاپہلادستاویزی مجموعہ فقہ حنفی کے تیسرے بڑے امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’السیر‘‘ ہے۔ یہ کتاب بین الاقوامی مراسم اور جنگی آداب کے حوالے سے انسانی حقوق کا پہلا مدوّن چارٹر آف لاء ہے۔ آج کی نام نہاد مہذب دنیا ان اسلامی روایات اور تہذیب و تمدن کے آگے ہیچ ہے، اس لئے کہ آج کی مہذب دنیا اپنے مخالف قیدیوں کو کسی قسم کی رعایت کا مستحق نہیں گردانتی، بلکہ ان پر ہر قسم کا ظلم و ستم روا اور جائز سمجھتی ہے۔
اسلام نے عدل و انصاف کے دونوں پلڑے قیدی (خواہ مسلم ہوں یا کافر)دونوں کے لئے,برابر رکھے ہیں، چنانچہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان قیدی کو دشمن کی ظالمانہ قید سے رہا کرانے کا حکم دیا ہے، وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دشمن قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید بھی فرمائی ہے۔

حکم قرآنی :- ’’اور کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت پر محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو۔‘‘ (الدھر:۸)

تفسیرِ عثمانی میں تنبیہ کے عنوان سےمذکور ہےقیدی عام ہے مسلم ہو یا کافر۔‘‘ حدیث میں ہے کہ ‘’بدر‘‘ کے قیدیوں کے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس مسلمان کے پاس کوئی قیدی رہے، اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ چنانچہ صحابہؓ اس حکم کی تعمیل میں قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے، حالانکہ وہ قیدی مسلمان نہ تھے۔ مسلمان بھائی کا حق تو اس سے بھی زیادہ ہے۔ اگر لفظ ’’أسِیْر‘‘ میں ذرا توسع کرلیا جائے، تب تو یہ آیت غلام اور مدیون کو بھی شامل ہوسکتی ہے کہ وہ بھی ایک طرح سے قید میں ہیں۔ ‘‘
اسیرانِ بدر کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حسنِ سلوک کی تفصیل علامہ شبلی نعمانی ؒ رقم فرماتے ہیں کہ:-
’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے ان کے ساتھ یہ برتاؤ کیا کہ ان کو تو کھانا کھلاتے تھے اور خود کھجور کھاکر رہ جاتے تھے۔ ایک کافر ابوعزیز کہتے تھے کہ مجھے شرم آتی اور میں روٹی انہیں واپس کردیتا، لیکن وہ ہاتھ بھی نہ لگاتے اور مجھے ہی کھلاتے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قیدیوں کے ساتھ اچھے سلوک کی تاکید فرمائی تھی۔‘‘ (سیرۃ النبی، ص: ۲۳۰،ج : ۱)
سہیل بن عمرو جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ان ایام مکہ میں پُرزور شعلہ بیان تقریر یں کیا کرتا تھا، بدر میں قیدی بنائے گئےتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ اس کے نیچے کے دو دانت اُکھڑوا دیجئے، تاکہ اچھی طرح بول نہ سکے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: -’’اگر میں اس کے عضو بگاڑوں تو اگرچہ (میں) نبی ہوں، لیکن خدا اس کے بدلے میں میرے اعضاء بھی بگاڑ دے گا۔‘‘ (طبری)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ سلوک ہی سے متاثر ہوکر آپ کا بہت بڑا دشمن ثمامہ بن اثال جب آپ کی قید سے رہا ہوا تو ایمان لے آیا اور پھر وہ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کہلائے۔ (سنن ابی دائود)
ہوازن کے قیدیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے عمدہ کپڑے خرید کر پہنانے کا حکم دیا۔ (دلائل النبوۃ للبیہقیؒ)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے,ایک قیدی خاتون اور اس کے بچے کو جدا کرنے والے کے بارے میں وعید ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ روزِ محشر اس کے اور اس کے چاہنے والوں کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔‘‘ (ترمذی)
حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’میں کچھ قیدیوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک قیدی خاتون رو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ میرا بچہ مجھ سے الگ کرکے بیچ دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً حکم دیا کہ اس کے بچے کو واپس لاؤ، چنانچہ اس عورت کو اس کا بچہ واپس کردیا گیا۔‘‘ (مستدرک حاکم)
اسلام کی ان سنہری ہدایات و روایات کی روشن کرنیں آج بھی جہانِ رنگ و بو میں اُجالا کررہی ہیں۔ ماضی قریب میں افغانستان کے اندر مجاہدینِ اسلام کی قید میں ایک برطانوی خاتون صحافی دس دن رہ کر جب واپس آئیں تو طالبان کو دہشت گرد، انتہا پسند، جاہل، گنوار، اجڈ، وحشی کے القاب سے یاد کرنے والی مغربی دنیا پر،اس وقت سکتہ طاری ہوگیا، جب’’یوان ریڈلی‘‘ نے دورانِ قید طالبان کے حسنِ سلوک اور احترامِ انسانیت کے روئیے کی گواہی دی۔ ان کی شرافت و وضع داری اور اخلاقی صفات سے متاثر یہ عیسائی خاتون بعد میں قرآن کریم کے مطالعے کی روشنی میں،مزید حقیقت آشنا ہوئی تو اسلام کی نعمت سے بہرہ مند مسلمان بھی ہوگئی، جب کہ دوسری طرف گوانتا ناموبے میں امریکی فوج کے مسلمان قیدیوں پر دل خراش مظالم کی داستانوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔
حال ہی میں فلسطین کے مغربی کنارہ غزہ میں سابقہ پچاس سالہ صہیونی قہر و جبر کا شکار اور اپنی آزادی کے لئے لڑنے والے مجاہدینِ اسلام حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا تو حماس کی قید سے رہا ہونے والی عورتیں اور بچے ان کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھک رہے تھے ایک خاتون کہتی ہے کہ اس کی بیٹی حماس کی قید میں شہزادیوں کی طرح زندگی گزار رہی تھی۔ رہا ہونے والے بچوں کے ہاتھوں میں کھانے پینے کی اشیا تھیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم قید کا یہ سنہرا وقت بھلا نہیں پائیں گے۔ ایک اسرائیلی خاتون’’دینیل‘‘
اور اس کی ننھی بچی’’ایمیلیا‘‘
نے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے نام عبرانی زبان میں شکریہ کا خط تحریر کیا تھا، جو عالمی میڈیا سمیت قومی اخباروں میں بھی شائع ہوا ہے۔ اس کے مندرجات درج ذیل ہیں:ـ’’مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے، لیکن میں آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے میری بیٹی کے ساتھ حسنِ سلوک اور محبت کا مظاہرہ کیا، آپ نے اس سے والدین کی طرح سلوک کیا، اسے اپنے کمروں میں بلاتے اور اسے یہ احساس دلایا کرتےکہ آپ سب اس کے صرف دوست نہیں، بلکہ محبت کرنے والے بھی ہیں۔ آپ کی شکر گزار ہوں اس سب کے لئے، جب آپ گھنٹوں ہماری دیکھ بھال کرتے، اور ساتھ ساتھ مٹھائیوں، پھلوں اور جو کچھ میسر تھا اس سے ہمیں نوازنے کے لئے شکریہ۔ بچے قید میں رہنا پسند نہیں کرتے، لیکن آپ اور دوسرے ملنے والے اچھے لوگوں کا شکریہ۔ میری بیٹی خود کو غزہ کی قید میں اپنے آپ کو ملکہ سمجھتی تھی اور سب کی توجہ کا مرکز تھی۔ اس دوران مختلف عہدوں پر موجود لوگوں سے واسطہ رہا اور ان سب نے ہم سے محبت، شفقت اور نرمی کا برتاؤ کیا، میں ہمیشہ ان کی شکر گزار رہوں گی، کیونکہ ہم یہاں سے کوئی دکھ لے کر نہیں جارہے، میں سب کو آپ کے حسنِ سلوک کی تفصیل بتاؤنگی جو غزہ میں مشکل حالات اور نقصان کے باوجود ہم سے کیا گیا۔ اسرائیلی خاتون نے خط کے آخر میں مجاہدین اور ان کے اہلِ خانہ کی صحت اور تندرستی کے لئے دعا کی بھی کی تھیں‘‘
اس خط کی سطر سطر ان فلسطینی مجاہدین اسلام کے رویّے اور حسن اخلاق کے, دشمن اسلام یہودیوں کی طرف سے اظہار تحریرا” کئے گئے ثبوت ہیں، جنہیں ظالم اسرائیل افواج "دہشت گرد قرار دے کر اُن کی آڑ میں تیس چالیس ہزار سے زائد مظلوم فلسطینی بچوں عورتوں اور بوڑھوں کا قتلِ عام کرچکے ہیں۔ یہ تحریری بیانات مسلم فلسطینیوں کے اپنے دشمن اسرائیلی قیدیوں کےساتھ کئے گئے اپنےحسن سلوک کی گواہی دیتے ہیں، جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے۔ اور درحقیقت یہ اس بات کی بھی شہادت ہے کہ مجاہدینِ اسلام نے جہادِ اسلام کے دوران اُسوئہ نبوی اور شیوئہ محمدی کو مکمل مدِنظر رکھا، اور ذرا بھی دشمنانِ اسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر انگشت نمائی کا موقع نہیں دیا۔ اس موقع پر تمام مسلمان بھی فلسطینی مجاہدین کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنے دشمن اسرائیلی مہمانوں کو دنیا کے سامنے اخلاقی جرأت کے ساتھ سر اُٹھانے کا حوصلہ بخشا۔ حماس کی شجاعت و بسالت، قربانی و جاں نثاری، اسلام کے ساتھ اُن کی وفاداری اور خصوصاً مظلوم مسلمانوں کے حق کے لئے دکھائی گئی اُن کی جرأت و بہادری کو آفرین اور سلام ہے! حماس کے مجاہدین نے اسلام کے اولین دور کی یاد تازہ کردی ہیں، ان شاء اللہ! ان کا کردار تاریخ کے اَن منٹ نقوش بن کر آئندہ نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہوگا۔ اور دیر یا بدیر یورپ و امریکہ کے اعلی تعلیم یافتہ یہود و نصاری اسرائیل ظلم و انبساط باوجود اسرائیلی قیدیوں ہر فلسطینیوں کا یہ حسن اخلاق برتاؤ دیکھ, یقینا دیں اسلام تعلیمات پڑھنے سمجھنے کی کوشش کرتے پائے جائیں گے اور یقینا”ان سے بیشتر اسلام کی اخلاق پرور رشد و ہدایت دیکھ اسلام قبول کرنے مجبور ہو جائیں گے۔ انشاءاللہ فثم انشاءاللہ
لیکن جہاں فلسطینی مجاہدین کا یہ قابلِ ستائش اقدام دنیا بھر کے سامنے آیا ہے، وہیں اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل کے ظلم و ستم اور جور و جفا کی بھیانک اورگھنائونی تصویر بھی طشت از بام ہوچکی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی یکم دسمبر 2023 کی رپورٹ کے مطابق 18؍ سالہ
’’محمد نزل‘‘ جنہیں اگست میں بلاجرم اسرائیل نے گرفتار کر کے جیل میں رکھا تھا، 7؍ اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد ’’محمد نزل‘‘ سمیت کئی فلسطینی قیدیوں کو مارا پیٹا گیا، ان پر کتے چھوڑے گئے، انہیں کپڑوں اور کمبل سے محروم کردیا گیا، نیز انہیں کھانے سے محروم رکھا گیا۔ ایک خاتون قیدی کو جنسی زیادتی کی دھمکی دی گئی، اس کے کمرے میں آنسو گیس پھینکی گئی، کچھ قیدیوں کے اوپر اسرائیلی فوجیوں نے پیشاب کیا، نیز ان پر چھریوں سے حملے کئے گئے، جس کے بعد کچھ ہفتوں میں 6 فلسطینی قیدی اسرائیلی تحویل میں جامِ شہادت نوش کرچکے تھے۔ حالیہ جنگ بندی کے دوران قیدیوں کے تبادلے میں ’’محمد نزل‘‘ رہا کئے گئے تو ان کے طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ ان کے دونوں ہاتھوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں، جس کی تفصیل انہوں نے بیان کی کہ کئی فوجیوں نے ان پر حملہ کرکے انہیں بری طرح مارا پیٹا۔ محمد نزل اپنے سر کا بچاؤ ہاتھوں سے کرتے رہے، کچھ دیر بعد انہیں یقین ہوگیا کہ ان کے ہاتھوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں اور وہ حرکت کے قابل نہیں رہے۔ رہا ہونے کے بعد ہسپتال میں ان کے ہاتھوں کے ایکسرے کرائے گئے، جس سے اس بات کی تصدیق ہو گئی۔ یہ
ہے اسرائیلی مظالم کی ایک جھلک، جو دنیا کے سامنے انسانی حقوق کا رونا روتے نہیں تھکتے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حالیہ غزہ جنگ کے بعد انسانیت، انسانی حقوق، عالمی برادری، مساوات و برابری، عدل و انصاف جیسے الفاظ بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں۔ اور صاف نظر آرہا ہے کہ اسرائیل اور اس کے پشت پناہ امریکا و برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک کے یہاں عدل و انصاف کے پیمانے برابر نہیں ہیں۔ نیز بعض مسلم ممالک کی بے حسی بھی اسلامی اُخوت و بھائی چارگی کے تصور کو غلط ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ بہرحال! باوصف حماس نے اپنے دشمن قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کے ذریعے اسلام کی روشن تعلیمات کو ایک بار پھر مجسم کردار کی صورت میں پیش کردیا ہے، جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی و فتح نصیب فرمائے، ظالموں کو نیست و نابود فرمائے اور حق کا بول بالا فرمائے، آمین

اسرائیلی جیلوں سے رہائی پائے غزہ واپس پہنچے فلسطینی قیدیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دورانِ قید اسرائیلی فوج اور جیل حکام نے انھیں بدسلوکی اور اذیت کا نشانہ بنایا ہے۔حال ہی میں رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کے بیانات سے اسرائیلی جیلوں اور فوجی بیرکوں میں فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک سے متعلق پہلے سے موجود الزامات کو مزید تقویت ملی ہے۔ایک قیدی نے بتایا کہ اُن پر کیمیکل پھینکا گیا اور اُن کے جسم کو آگ لگائی گئی۔ 36 سالہ محمد ابو طویلہ پیشے کے لحاظ سے ایک مکینک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اپنے جسم پر لگی آگ بھجانے کے لیے میں جانوروں کی طرح تڑپتا رہا۔‘ بی بی سی نے پانچ ایسے فلسطینیوں کے تفصیلی انٹرویوز کئے ہیں جنھیں غزہ سے اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب حماس نے اسرائیل پر بڑا حملہ کر کے 1200 اسرائیلی شہریوں کو ہلاک اور251 کو یرغمال بنا لیا تھا۔ان قیدیوں کو ایک متنازع اسرائیلی قانون کے تحت بغیر کوئی مقدمہ چلائے جیل میں رکھا گیا۔ یہ قانون اُن افراد پر لاگو ہوتا ہے جنھیں اسرائیل کی سکیورٹی کے لئے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
قیدیوں کا کہنا ہے کہ ان پر حماس سے روابط کا الزام لگا کر اسرائیلی یرغمالیوں اور غزہ میں سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تاہم اسرائیلی حکام کو تفتیش کے بعد اُن کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اسی لئے حماس اور اسرائیل میں ہونے والے حالیہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اُن کی رہائی ممکن ہوئی ہے۔
https://www.bbc.com/urdu/articles/cqx40wdxqj0o
اگرچہ اس معاہدے کے تحت رہا ہونے والے کچھ افراد اسرائیلی شہریوں کے قتل جیسے سنگین جرائم کےالزامات کے تحت بھی سزا کاٹ رہے تھے مگر جن قیدیوں نے ہمیں انٹرویو دیا ان پر ایسا کوئی الزام نہیں تھا۔ ہم نے اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) اور اسرائیلی جیل سروس (آئی پی ایس) سے بھی پوچھا کہ آیا ان افراد کے خلاف کوئی فردِ جرم یا مقدمہ تھا یا نہیں، مگر ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

قیدیوں کے بیانات کے مطابق ان سب کو کپڑے اُتار کر، آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور ہاتھ باندھ کر مارا پیٹا گیا
کچھ نے بتایا کہ انھیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے، کتوں سے ڈرایا گیا اور طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا کچھ نے دیگر قیدیوں کی ہلاکتیں اپنی آنکھوں سے دیکھی ایک قیدی نے بتایا کہ انھوں نےاپنے سامنے دوسرے قیدی پر جنسی تشدد ہوتے دیکھاایک نے بتایا کہ اس کا سر کیمیکل میں ڈبویا گیا اور اس کی کمر کو آگ لگا دی گئی ہم نے ان پانچ رہائی پانے والوں میں سے دو افراد سے دوران حراست ملاقات کرنے والے وکیل کی رپورٹس بھی دیکھی ہیں اور اس طبی عملے سے بات کی ہے جنھوں نے رہائی کے بعد اُن کا علاج کیا۔

بی بی سی نے اسرائیلی فوج کو ایک تفصیلی سوالنامہ بھیجا تھاجس میں قیدیوں کے الزامات اور ان کی شناخت کا ذکر کیا گیا ہے۔اپنے جواب میں اسرائیلی فوج نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا مگر صرف اتنا کہا کہ وہ ’قیدیوں کے ساتھ منظم طریقے سے کی گئی بدسلوکی کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ بی بی سی نے جن کیسز کا ذکر کیا، متعلقہ حکام ان میں سے کچھ شکایات کی تحقیقات کریں گے جبکہ دیگر ’ایسے الزامات ہیں جن میں نہ تو قیدیوں کی شناخت شامل ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس تفصیل، لہذا ان کی تحقیقات ممکن نہیں۔‘

فوج نے یہ بھی کہا کہ ’اسرائیلی دفاعی افواج ایسے معاملات کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے جو اس کی اقدار سے متصادم ہوں۔ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی یا ناکافی سہولیات سے متعلق شکایات متعلقہ حکام کو بھیجی جاتی ہیں اور ان پر مناسب کارروائی کی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں متعلقہ عملے کے خلاف تادیبی کارروائی اور مجرمانہ تحقیقات کی جاتی ہیں۔‘

اسرائیلی جیل سروس (آئی پی ایس) کا کہنا تھا کہ انھیں اپنی تحویل میں موجود کسی قیدی سے بدسلوکی کی اطلاعات نہیں ہیں۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل سے منسلک ڈاکٹر لارنس ہل کورتھورن کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی بیان کردہ صورت حال بین الاقوامی اور اسرائیلی دونوں قوانین سے مکمل طور پر متصادم ہے اور بعض صورتوں میں یہ ’تشدد کی تعریف پر پورا اترتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی حالات میں بھی قیدیوں سے انسانی سلوک لازم ہے چاہے ان پر کسی جرم کا الزام ہو یا نہ ہو۔‘

جنگی پس منظر میں اسلامی و غیر اسلامی روئیوں کا فرق اور
اسرائیل کے مظالم باوجود فلسطینی مجاہدین کا حسن سلوک کھلی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے
https://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/%D8%AC%D9%86%DA%AF%DB%8C-%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%BA%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%B1%D9%88%DB%8C-%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%D8%B1%D9%82

اسرائیلی جیلوں میں قید و بند رکھے گئے ہزاروں بے قصور فلسطینیوں کو بھی دہشت گرد قرار دئیے اجتماعی طور ھلاک کیا جانے والا ظالمانہ قانون اسرائیلی پارلیمنٹ سے منظور ہوچکا ہے
https://share.google/3sWmHtN4Dlp9GE0Xn

کیا ایرانی قید سے بھی کوئی امریکی قیدی رہا ہوئے ہیں
حالیہ جنگ ایران بمقابلہ اسرائیل و امریکہ دوران بہت سارے امریکی میرین فوجیوں کی گرفتاری کی خبریں موصول ہوتی رہی ہیں لیکن ابھی تک انکی رہائی اور ان امریکی فوجیوں کے ایران حسن سلوک کی روئداد منظر عام پر آنی باقی ہیں لیکن ایران پر امریکہ اسرائیل کی طرف سے زبردستی لادی دی گئی اس جنگ میں ایرانی افواج نے جس ٹک ٹو ٹیک طرز پر, امریکی اسرائیلی ہر وار کے بدلے میں, کھاڑی عرب دیشوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر اسی اقسام کے حربی داؤ کا استعمال کئے,حربی اندازبہترین جواب دئیے ہیں اس سے تو لگتا ہے ایران اپنے پاس موجود امریکی اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ بھی اسلامی تعلیمات مصداق ہی حسن سلوک روا رکھتا پایا جائیگا۔انشاءاللہ
https://share.google/aimode/gSlZhKzc7MxG1uwiM
حالیہ ایران پر نافذ کی گئی اسرائیل امریکہ جنگ مفاہمتی انداز کیا بند کردی جائیگی؟ یہ تو امریکہ اسرائیل ہی بہتر جانے لیکن حالات و قرائین سے اندازے لگائے جاسکتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھ سکتا ہے۔ چائینا و روس کی امریکی مخالفت میں ایران کی پشت پناہی سے، ایران نے صاحب امریکہ کو جس انداز حربی اعتبار حرب و جنگ کے ہرمحاذ پر جس مہارتانہ انداز امریکہ کو پٹخنی دی ہے اس سے صاحب امریکہ شکست کھائے اپنی ساکھ بجاتے کچھ دے کچھ لےحرب و جنگ مفاہمتی اگریمنٹ ایران سے کئے اپنی ساکھ بچائے بھاگتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت کچھ اس سے پرے ہی لگتی ہے۔ اس اہران جنگ سے ایسے شکشت کھائے امریکہ کے پیچھے ہٹتے قدم, اسکی پسپائی ہی گردانے جاتے ہوئے,عالم انسانیت کی نیابت والی ھیجیمنی وقار کو مجروح کرتے, مستقل قریب میں اگر پیٹرو ڈالر ایگریمنٹ بالکیہ درکنار, گر کیا جاتا ہےتو امریکی انتظامیہ کے لئے معشیتی توازن کو برقرار رکھنا انکے لئے ناممکنات والاعمل ہوجائیگا ۔ امریکی ٹریجری بونڈ تقسیم کئے, بدلے میں تیس چالیس ٹرلین کا قرضہ جوچڑھا ہوا ہے اگر اس کے چائینا سمیت عرب شیوخ قرض خواہ, اپنے قرض کے بدلے سونا طلب کرنے لگیں تو اقتصادی توازن برقرار رکھنا امریکہ کے لئے نامکن ساہو جائے گا۔ ایسی صورت, نوے کے دہے میں یوایس ایس آر کے ٹوٹے حصے بخرے ہوئے جیسا, صاحب امریکہ کی 52 ریاستوں میں کون کون سی ریاستیں آزاد ملک کےطور معرض وجود میں آتے, عالم انسانیت میں اپنا وجود باقی رکھنا چاہیں گی یہ دیکھنا فقط باقی رہ گیا ہے ۔اس پس منظر میں امریکہ کے لئے ایران سے پسپائی قبول کرنا سامنے ذلالت باوجود پیچھے کی موت کا ڈر بھی اسے ستا رہا ہے۔ ابھی ایک مہینے بعد امریکی سینٹ میں ہونے والے انتخابات سے پہلے امریکہ صد کو اپنی عوام۔کے سامنے پیش کرنے فیس سیونگ کچھ تو دکھاوے کی کامیابی تمغات درکار ہونے ضروری ہیں اسرائیلی صدر بنجامن نتن یاہو امن والے ماحول میں, اسکے خلاف حکومتی ریسورسز خرد برد معاملات کیسز میں الجھے اپنے عہدہ تمکنت سے برخاست کئے جاتے, بقیہ زندگی رسوائی والی اسیری کی زندگی سے جان چھڑانے ہی کےلئےضرور وہ کسی بھی صورت ایران نہ صحیح لبنان جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن سنی مسلمانوں کے رہبر مسلم امہ کے طور قبول نہیں کیئے جانے والا ایران امریکی معاہدے کی شرط اولی لبنان سمیت ہر محاذ پر جنگ بندی کے شرط کی رٹ لئے بیٹھا ہے۔ حالیہ حج ایام درمیان کوئی بڑی خون ریزی سے آمان میں رہنے ہی کے لئے, سعودی حکومتی دباؤ کے تحت ایران پر حملہ آوری میں صاحب امریکہ بے شک لیل و لعل سے کام لے رہا ہے۔ اسرائیلی وجود کے ساتھ ہی امریکی چودراہٹ ھیجیمنی کی بقاء مشروط ہے۔اسی لئے اسرائیل ملک کو بزور قوت عربوں سے قبول کروانے کی ترکیب ٹرپ کا پتہ ٹرمپ نے اچھالا ہے ۔ہمیں نہیں لگتا کہ حالیہ جنگ ایران امریکہ پسپائی پس منظر میں عرب ممالک امریکی دباؤکا شکار بنے, اسرائیل کو قبول کرتے پائے جائیں گے۔ تو اسکا مطلب صاف ہے ایران سے ایک مرتبہ پھر دو دو ہاتھ لئےقسمت آزمانا امریکہ ضرور چاہے گا ۔روس و چائینہ اپنے اصل دشمنی امریکہ سے نکالنے, ضرور دو بدو ایران کے ساتھ اس حرب کا حصہ بنیں گے تو, عالمی حرب ثانی یہ خلیجی خطے ہی میں ہوتے ہوئے, پیٹرول سے مالامال عرب ممالک کی تاراجی ایک حد تک یقینی لگتی ہے لیکن ہمارے اپنے سابقہ کئی مضامین میں اشارتا” اظہار کئے جیسا, اس حرب عالمی باوجود قرب قیامت کے اثار ہمیں تو بالکیہ نہیں لگتے ہیں, شہر بغداد عراق پتا نہیں کتنے مرتبہ برباد و آباد ہوتے رہے جیسا, تاراجی بعد تعمیر نؤ ایسے ہی تو دنیا برباد وآباد ہوتے رہا کرتی ہے 1733 تا 1757 نواب مغربی بنگال سراج الدولہ کے زمانے میں, غیور مزدوروں کے بغیر محنت مفت تنخواہ لینے سے انکار پر, طویل مدت تک ان مزدورں سے ایک
خصوص تعمیری کام لئے جاتے, دوسری طرف دوسرے مزدوروں سے, اسی تعمیری کام تاراجی کروائے جاتے عمل نیک مسلسل کی یاد دلا گئی ہے۔ اور سابقہ پچاس سال دوران امریکی اسیری کے چلتے ان عرب شیوخ نے ہمیشہ ارض فلسطین پر اسرائیل افواج کی دانستہ تاراجی بعد تعمیر نؤ فلسطین,مرہم سازی اپنے مثبت کردار سے,مسلم امہ کو مطمئن و مسرور کرنے کی مکرر کوششیں بھی کی ہیں۔ اسرائیل فلسطین تنازع پر,1945 اقوام متحدہ دو آزاد ملکی قراردادوں کے باوجود, جہاں اسرائیل اکلوتے گریٹر اسرائیل خواب تعبیر تلاش میں فلسطینی آزاد ریاست کو قبول کرنے سے انکار کرتا پایا جاتا ہے وہیں اسرائیل کے مقابلے کمزور ہی صحیح سعودی عرب دو ملکی آزاد فلسطینی و اسرائیلی ریاست کا جیسے خواہاں ہے وہیں ابتداء ہی سے شیعہ ملکی ایران اسرائیل جبر و ظلم سے ماورا اکلوتی فلسطینی ریاست کانی نہ صرف خواہاں رہا ہے بالکہ علی الاعلان اس کا برملا اظہار بھی کرتا پایا گیا ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ عرب خطے میں مستقل امن عامہ کے لئے 1945 سے پہلے والا اکلوتا آزاد ملک فلسطین قیام ہی ہے اور اس سرکش نازی ظالم اسرائیلیوں کو عرب خطے سے باہر جرمنی آسٹریلیا یا امریکہ کے کسی خاص مقام کو مختص کئے اسرائیلیوں کو آباد کئے بسایا جانا چاہئیے۔ اور عرب خطے کو بالکیہ یہود سے ماورا امن و سلامتی والے فلسطین کےطور تسلیم کیا جانا چاہئیے۔ اسرائیل امریکہ کو یقین ہے ایران کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائیگا تو وہ اور حربی اعتبار مضبوط تر ہوتے ہوئے اپنی پروکسی افواج حزب اللہ حماس کو حربی مدد و نصرت دئیے جاتے اسرائیل کو چین سے رہنے نہیں دے گا اسی لئے وہ یاتو عرب شیوخ پر دباؤ برقرار رکھے ان سے اسرائیل کو بحیثیت ملک تسلیم کئے اسکی بقاء کی گارنٹی کے ساتھ خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئےایران کی پروکسی افواج حزب اللہ حماس جہادی تنظیموں کا قلع قمع چاہتے ہیں
بقول ایشور کے اوتار مودی مہان کے لائیو میڈیا پر "اسرائیل ہمارا فادر لینڈ یے” اعلان کئے جیسا شاید ھند و اسرائیل اسی نقطہ نظر سے دور رس کچھ پلاننگ بنا رہے ہیں ۔ ہمارے علم یہ خبر آئی ہے کہ شمالی ھند مدھیہ پردیش یا ہماچل پردیش میں جنگلات کی ہزاروں ایکڑ پر مشتمل بہت بڑی آراضی کو ایڈانی کی تحویل میں دئیے جاتےاسرائیلی انویسمنٹ وہاں لانے کے بہانے یہ علاقہ اونچی قیمتوں پر اسرائل کو فروخت کیا جانا یے۔

ایران پر اسرائیل امریکہ کی طرف سے نازل کی گئی اس عرب کھاڑی کی جنگ پر نظر رکھنے والوں کو,اس بات کا بخوبی ادراک ہوچلا یے کہ آزاد ملک ایران کو جوہری ہتھیار ماورئیت رکھنے ہی کے لئے ایران پر حربی یلغار ہوئی ہے اور ایٹمی ہتھیار ماورائیت باوجود کمزور نظر آنے والے ایران سے شکشت فاش کھائے اسرائیل و امریکہ ایران پر ایک اور کاری وار کئے جانے کی پلاننگ ہی میں مست ہیں ۔ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار اعلانیہ ہوتا تو اسرائیل امریکہ اس پر حربی حملہ آوری کی ہمت شاید کر نہ پاتے, اس سے یہ نتیجہ سامنے کیا نہیں آتا ہے کہ اگر ایران اپنے پاس جوہری ہتھیار ہونے کا اعلان کردے تو شاید امریکہ اسرائیل کی طرف سے آس پر حملہ آوری کا ڈر ہی نکل جائے اس کا مطلب صاف ہے اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہے تو اس کے ہونے کا اعلان کردے اور اگر اب تک نہیں ہے تو فوری پوری کوشش کے ساتھ ایٹمی ہتھیار پہلی فرصت حاصل کرلے۔ہمیں لگتا ہے چین و سکون سے ترقی پزیری کے مدارج طہ کرنے ایران کے لئے حصول ایٹمی ہتھیار لازم ملزوم ہے رہی بات اب ایٹمی ہتھیار ہونے کا اعلان کرنے سے ایران کےلئے کوئی خاص خطرہ باقی نہیں رہتا ہے یہ اس لئے کہ حالیہ حرب میں وہ امریکہ اسرائیل کو ہر محاذ پر شکست دے چکا ہے۔ اولا” اس پر دوبارہ حربی حملہ آوری نہیں ہوگی اور اگر ہوگی بھی تو چائینا روس اسے امریکہ مقابلہ شکست کھانے نہیں دینگے ۔
https://www.facebook.com/share/v/1BTqYzaAY1/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button