مضامین و مقالات

ایک ماں کا دکھ: سڑک پر لاپرواہی کی قیمت 

 

تحریر: عثمان غنی خومی (ڈاٹا)

سڑکوں پر روزانہ نہ جانے کتنے دل دہلا دینے والے مناظر ہماری آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔ پولیس کی چیکنگ دیکھ کر راستہ بدلنے والے نوجوان، بریکرز پر زور زور سے ہارن بجاتے ڈرائیور-یہ سب صرف لاپرواہی نہیں بلکہ ایک اجتماعی بے حسی ہے۔ ہم خود یہ پیغام دیتے ہیں کہ قانون توڑنا کوئی برائی نہیں۔ اور نتیجہ؟ ہمارے اپنے ہی بچے، ہمارے گھروں کے پھول، بغیر ہیلمٹ اور بغیر لائسنس کے سڑکوں پر جان کی بازی لگاتے پھرتے ہیں۔ یہ کھیل نہیں، یہ جرم ہے۔

ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جب پولیس اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ہیلمٹ، لائسنس یا ٹرپل رائیڈنگ کی چیکنگ کے لیے ناکہ بندی کرتی ہے، تو فوراً سوشل میڈیا پر پیغامات گردش کرنے لگتے ہیں: ’’فلاں راستے سے نہ جاؤ، وہاں پولیس کھڑی ہے۔‘‘ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ پیغام دراصل قانون توڑنے کی دعوت ہے؟ ہم اپنے ہی نوجوانوں کو غلط راستے پر دھکیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کم عمر بچے بھی بے خوف و خطر گاڑیاں دوڑاتے ہیں اور ہم اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، یہ معمولی نہیں، ایک سنگین جرم ہے۔

ہائی وے پر ہر کراسنگ کے قریب بریکر اسی لیے لگائے گئے ہیں تاکہ گاڑیاں آہستہ ہوں اور لوگ محفوظ طریقے سے راستہ بدل سکیں۔ مگر ہم کیا کرتے ہیں؟ رفتار اور بڑھا دیتے ہیں، ہارن بجانے لگتے ہیں جیسے کوئی ایمرجنسی ہو۔ حالانکہ وہ اشارے، وہ بریکر ہماری جان بچانے کے لیے لگائے گئے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان کا احترام کریں۔گاڑی آہستہ کریں، بریک لگائیں، نہ کہ شور مچا کر دوسروں کو پریشان کریں۔ یاد رکھیں، یہ شور نہیں بلکہ حادثے کی دعوت ہے۔

آج بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے تازہ ہے، جب ایک برادرِ وطن کی ماں، جو غالباً شرالی کی رہنے والی تھی، سرکاری اسپتال میں اپنے بیٹے کے بستر کے پاس زار و قطار رو رہی تھی۔ اس کے آنسو، اس کی ٹوٹی ہوئی آواز، اس کی بے بسی-سب کچھ ایک دردناک کہانی سنا رہے تھے۔ وہ کہہ رہی تھی: میں ہر وقت اپنے بیٹے کو سمجھاتی تھی، بیٹا! ہیلمٹ پہنو، آہستہ چلاؤ۔ لیکن اس نے میری ایک نہ مانی۔

پھر وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی: تین مہینے سے میرا بیٹا یوں بستر پر پڑا ہے جیسے کوئی لاش۔ میں اس کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ کر چکی ہوں، اپنا گھر تک گروی رکھ دیا، قرض لیا… لیکن وہ اب بھی ٹھیک نہیں ہوا۔ہمارے بچے اپنے 20، 30 ہزار کے موبائل کو بچانے کے لیے اس پر کور اور اسکرین پروٹیکٹر لگاتے ہیں، جیسے کوئی قیمتی خزانہ ہو۔ مگر اپنی انمول جان کی حفاظت کے لیے ایک ہیلمٹ پہننا انہیں بوجھ لگتا ہے!

اس ماں کا درد ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔ کیا ہمیں اتنے دل دہلا دینے والے دن دیکھنے کے بعد ہی عقل آئے گی؟ کیوں نہ آج ہی فیصلہ کریں کہ ہم پولیس کا ساتھ دیں گے، قانون کا احترام کریں گے؟ یہ سب ہماری ہی بھلائی کے لیے ہے۔ ہماری جان، ہماری زندگی-یہی ہماری سب سے بڑی دولت ہے۔اسے ضائع نہ کریں، محفوظ رکھیں۔

قانون شکنی بہادری نہیں، کمزوری ہے۔اصل ہمت یہ ہے کہ ہم اپنی ذات سے دوسروں کو محفوظ رکھیں۔ پولیس یا سرکاری اہلکار ہماری بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں، ان کا احترام کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ آئیں، اپنی اور دوسروں کی زندگی محفوظ بنائیں تاکہ کل ہماری نئی نسل ہم پر فخر کر سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button