
نفسِ انسانی: حقیقت، اقسام اور اصلاح
چاہت محمد قاسمی
انسان کبھی خیر کی جانب مائل ہوتا ہے تو کبھی شر اس کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے، حالانکہ یہی وہ انسان ہے جس کی تخلیق عبادت و اطاعت کے لئے کی گئی ہے اس کا شر کی جانب مائل ہوجانا اور خالق و مالک کی نافرمانی کرنا عموما ایسی باطنی قوتوں کی وجہ سے ہوتا ہے، جو انسان کو شر اور معصیت کی جانب ابھارتی ہیں اور گناہوں اور نافرمانیوں پر آمادہ کرتی رہتی ہیں، انہیں باطنی قوتوں میں سے ایک قوت نفس ہے، نفس ایک ایسی نادیدہ قوت ہے جو انسان کے ساتھ ہر وقت لگی رہتی ہے، کبھی اس سے جدا نہیں ہوتی، نیز نفس انسان کو کبھی خیر کی طرف مائل کرتا ہے تو کبھی شر، معصیت اور رب کی نافرمانیوں کی جانب ابھارتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو نفس حرص و ہوس میں اس طرح ڈوب جاتا ہے کہ حق و باطل، حرام و حلال، صحیح اور غلط کی تمیز بھی کھو بیٹھتا ہے، لہذا ایسے حرص و ہوس میں ڈوبے ہوئے نفس کا تصفیہ، تزکیہ اور اصلاح انتہائی ضروری ہے۔
*زیر نظر مضمون میں نفسِ انسانی کی حقیقت، اس کی اقسام، اس کی اصلاح کے ذرائع اور تزکیۂ نفس کی اہمیت کو قرآن و سنت اور اقوالِ اہلِ علم اور اصحاب معرفت کی روشنی میں اختصار کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔*
*نفس کے عناصر:*
انسان کے باطن میں ایک ایسی قوت اور داعیہ موجود ہے جو اسے خیر یا شر کی طرف مائل کرتا ہے، اسی باطنی حقیقت کو "نفس” کہا جاتا ہے اور یہ نفس چار عناصر سے مرکب ہے آگ، مٹی، پانی اور ہوا، لہذا انسانی نفس سے ان چار اوصاف کے مقتضیات کا ظہور ہوتا رہتا ہے جیسا کہ تفسیر مظہری کی پانچویں جلد میں ہے
كَالْغَضَبِ وَالْكِبْرِ اللَّذَيْنِ هُمَا مُقْتَضَى عُنْصُرِ النَّارِ، وَالدَّنَاءَةِ وَالْخِسَّةِ مُقْتَضَى الْأَرْضِ، وَالتَّلَوُّنِ وَقِلَّةِ الصَّبْرِ مُقْتَضَى الْمَاءِ، وَالْهَزْلِ وَاللَّهْوِ مُقْتَضَى الْهَوَاءِ، إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي.
ترجمہ: چنانچہ غضب اور تکبر آگ کے عنصر کا تقاضا ہیں، دناءت اور کم ہمتی مٹی کے ، رنگ بدلنا اور کم صبری پانی کے، اور ہنسی مذاق میں مشغول رہنا اور لہو و لعب جیسی صفات ہوا کے عنصر کا تقاضا ہیں۔
*نفس کی اقسام:*
قرآن کریم میں انسانی نفس کی تین حالتوں کا ذکر ملتا ہے۔
*اول* نفس امارہ: اگر نفس بہت زیادہ گناہوں کا حکم کرتا ہے اور اس گناہ پر نادم بھی نہیں ہوتا ہے تو یہ نفس امارہ کہلاتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ (یقینا نفس تو بہت زیادہ برائی کا حکم کرتا ہے)
*دوم* نفس لوامہ: اگر گناہ کا خیال آتا ہے لیکن گناہ سے خوف خدا کی وجہ سے رک جاتا ہے یا گناہ پر شرمندہ ہوکر توبہ کرلیتا ہے تو نفس لوامہ ہے، جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (میں قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی)
*سوم* نفس مطمئنہ: اگر انسان اللہ تعالیٰ اطاعت وعبادت اور رسول اللہ کی اتباع پر مطمئن ہے، اور اس سے کوئی گناہ بھی سرزد نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب ہوتا ہے تو یہ نفس مطمئنہ کہلاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں رب کریم کا فرمان ہے۔ يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (اے نفسِ مطمئنہ اپنے رب سے رجوع کر اس حال میں کہ تو بھی راضی ہو اور ( تیرا رب) تجھ سے راضی ہو)
*تزکیۂ نفس:*
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ ( کہ نفس تو بہت زیادہ برائی کا حکم کرنے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کردے اور یقینا میرا پروردگار غفور اور رحیم ہے)
آیت مذکورہ میں نفس امارہ کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کے دو مبارک نام غفور اور رحیم کا بھی ذکر ہے۔
بعض اہلِ معرفت نے اس سے یہ لطیف نکتہ اخذ کیا ہے کہ انسانی نفس بالذات تو نفس امارہ بالسوء ہے جیسا کہ قرآن میں بھی ہے (إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ) لیکن اسی نفس امارہ بالسوء پر جب اللہ تبارک و تعالیٰ کے نام غفور کی صفت کے آثار کا ظہور ہوتا ہے تو وہ نفس لوامہ بن جاتا ہے اور جب رب دو جہاں کے اسم گرامی رحیم کی صفت سایہ فگن ہوتی ہے تو وہ نفس مطمئنہ کا خطاب اور طمغہ حاصل کرتا ہے۔
*تزکیہ نفس کا دعوی؟*
یاد رکھئے اللہ تعالیٰ کے یہاں یہ بات پسندیدہ نہیں ہے کہ انسان اپنے نفس کی پاکیزگی بیان کرتا پھرے اور اپنے منہ میاں مٹھو بنے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ یعنی کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو اپنے نفس کی پاکیزگی بیان کرتے پھرتے ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے کہ وہ جس کو چاہے پاک قرار دے۔ نیز سورۂ نجم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى (یعنی تم اپنے نفس کی پاکی بیان نہ کرو! اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتے ہیں کہ کون واقعی پرہیزگار و متقی ہے) اور اسی لئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے معصوم نبی ہونے کے باوجود بھی فرمایا تھا وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي کہ میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتا ہوں۔
البتہ انسان کو چاہیے کہ وہ نفس کی پاکیزگی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتا رہے اور نفس امارہ کو نفس لوامہ اور پھر نفس مطمئنہ بنانے کے لئے ہمہ تن جد و جہد میں لگا رہے جیسا کہ صوفیا کرام کے یہاں اسی کی کوشش کی جاتی ہے اور خانقاہوں میں اسی کی مشق کرائی جاتی ہے۔
*اصلاح نفس:*
نفس کی اصلاح اور نفس امارہ کو لوامہ اور مطمئنہ بنانے کے لئے ایک حدیث شریف معارف القرآن کی پانچویں جلد میں بحوالہ قرطبی نقل کی گئی ہے جس میں نفس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نفس کی حقیقت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) سے ایک سوال فرمایا کہ ایسے رفیق کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس کا حال یہ ہو کہ اگر تم اس کا اعزاز و اکرام کرو! کھانا کھلاؤ! کپڑے پہناؤ! تو وہ تمہیں بلاء اور مصیبت میں ڈال دے اور اگر تم اس کی توہین کرو، بھوکا ننگا رکھو تو تمہارے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے زیادہ برا تو دنیا میں کوئی ساتھی ہو ہی نہیں سکتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تمہارا نفس جو تمہارے پہلو میں ہے وہ ایسا ہی ساتھی ہے۔
حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ نفس کی اصلاح اور اس کی خواہشات کو توڑنے کے لئے خوب جد و جہد کی جائے اور اس کے ساتھ غیظ و قہر کا معاملہ کیا جائے۔
*صوفیہ کے نزدیک اصلاح نفس کے طریقے:*
صوفیہ کرام نفس کی اصلاح اور اس کے تزکیہ پر بڑی محنت اور جدوجہد کرتے ہیں اور ان کے یہاں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے، لہذا ان کا انداز اصلاح اور تزکیہ نفس بڑی توجہ کا حامل ہے، حضرت مسیح الامت مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب شریعت و تصوف کی پہلی جلد میں نفس کی اصلاح کے تین طریقے ذکر کیے ہیں جن کا خلاصہ ہم یہاں ذکر کرتے ہیں:
*اول:* نفس کو شہوتوں سے روکا جائے اور اس کو من مانی بالکل نہ کرنے دی جائے۔
*دوم:* اس پر اللہ تبارک وتعالی کی عبادت و اطاعت کا بوجھ لادا جائے وہ عبادت سے روکے یا اس کا عبادت اور اطاعت میں دل نہ لگے تب بھی عبادت و اطاعت خوب کی جائے۔
*سوم:* استعانت باللہ یعنی اللہ رب العزت سے ہی مدد کی دعا کی جائے اور رب ذوالجلال کی جانب ہی رجوع کیا جائے، وہ ہر چیز پر قادر ہے اور نفس امارہ کو لگام ڈالنا اور اس کی اصلاح بھی اس کی مدد کے بغیر ناممکن ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ربانی ہے إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ( کہ نفس تو بہت زیادہ برائی کا حکم کرنے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کردے)
*حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمت اللہ علیہ* نے نفس کی اصلاح کے متعلق ایک بڑا مؤثر شعر کہا ہے جو مجھے بہت پسند ہے:
نہ چِت کر سکے نفس کے پہلواں کو
تو یوں ہاتھ پاؤں بھی ڈھیلے نہ ڈالے
ارے اس سے کُشتی تو ہے عمر بھر کی
کبھی وہ دبا لے کبھی تُو دبا لے
*خلاصۂ کلام:* یہ ہے کہ انسان کی کامیابی کا دارومدار نفس کی اصلاح پر ہے اگر انسان کا نفس اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول للہ کی سنت کے تابع ہو جائے اور اس کے پیش نظر اللہ کی رضا رہے تو یہ انسان کامیاب ہو جاتا ہے ورنہ ناکامی اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ اس کا مقدر بن جاتی ہے، اسی لئے نفس کی اصلاح کی کوشش کریں اور اس کو قرآن و سنت کے تابع کریں تاکہ دونوں جہاں کی کامیابی حاصل ہو۔
اللہ تعالی ہم سب کو نفس امارہ کے شر سے محفوظ فرمائے۔



