اسلامیات،افسانہ و غزلیاتمضامین و مقالات

جب زبان نیکی کرے اور عمل خاموش ہو جائے ایک قرآنی آیت کی تفسیر

چاہت محمد قاسمی گنگوہی

أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورہ بقرہ آیت44)

ترجمہ:کیا تم (دوسرے) لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہو! کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں ۔

قرآن کریم کی اس آیتِ کریمہ میں براہِ راست علمائے یہود کو مخاطب کیا گیا ہے، لیکن چونکہ قرآنِ مجید کا خطاب عام ہے اور اس کی ہدایات، نصیحتیں اور احکام ہر زمانے اور ہر طبقے کے انسانوں کے لیے یکساں اور اہم ہیں اسی لئے تو قرآن کی ہر ایک آیت قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔

لہذا قرآن کریم کی اس آیت میں اللہ تعالی نے خاص طور سے ناصحین، مقررین اور خطیبوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ تم دوسروں کو نصیحت کرتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو؟ تفسیر مظہری میں ہے کہ اپنے نفس کو بھولنے کے معنی اسے نیکی سے آزاد چھوڑ دینے کے ہیں جیسے دل سے بھلائی ہوئی چیزیں چھوٹ جاتی ہیں۔ حقیقی بھولنے کے معنی مراد نہیں ہیں۔

مطلب جو انسان دوسروں کو تو نیکی اور بھلائی کا حکم کرتے ہیں اور خود کا کبھی محاسبہ نہیں کرتے، بیان اور نصیحتوں میں تو ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اور عمل میں کوتاہ اور پیچھے ہیں، غصہ، غیبت ، بدنظری، بداخلاقی، قطع تعلق، دھوکہ، طعنے اور ظلم و زیادتی پر بہترین تقریریں اور لمبے لمبے وعظ کہتے ہیں لیکن جب اپنی باری آتی ہے تو نظر چرا لیتے ہیں۔

خاص طور سے موجودہ زمانہ میں اپنی تنہائیوں میں موبائل پر فلمیں، ڈرامے اور سوشل میڈیا پر غیر شرعی امور میں مشغول رہتے ہیں، شیطان کے جھانسے میں آکر بے جا نفسانی لذتوں میں اتنا مگن ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالی کا خوف دل سے بالکل نکل جاتا ہے اور کسی چیز کا خیال تک دل میں باقی نہیں رہتا، بہت سے لوگوں کے لئے ایسا کرنا عام بات ہے اور اسی لئے ایسے بے عمل لوگوں کے بیان و تقریر اور وعظ و نصیحت میں اثر باقی نہیں رہتا ہے۔

اسی کو علامہ اقبال نے بڑے سلیقہ سے کہا ہے۔

اقبالؔ بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتارکا یہ غازی تو بنا،کردار کا غازی بن نہ سکا

بہر حال اللہ تعالی نے اس مذکورہ آیت میں مقررین واعظین اور نا صحین کو مخاطب کرکے اسی بات کو واضح طور سے بیان کردیا ہے اور بہت سی احادیث میں اسی پر وعیدیں بھی مذکور ہیں، جیسا کہ مشکوۃ شریف کی ایک حدیث ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں معراج کی رات کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے کہا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے خطیب حضرات ہیں، جو ایسی باتیں کہتے ہیں جن کو خود بھی نہیں کرتے ہیں۔

اورمسلم شریف کی روایت ہےکہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، جس سے اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل آئيں گی اور وہ ان (انتڑیوں)کے ساتھ ایسے گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں جانب گھومتا ہے۔ ایسے میں سارے جہنمی اس کے پاس جمع ہو جائيں گے اور کہيں گے: اے فلاں! تیرے ساتھ ایسا کیسے ہوا؟ کیا ایسا نہيں ہے کہ تو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور برائی سے روکتا تھا؟ وہ جواب دے گا: یہ تو سچ ہے۔ مگر میں دوسروں کو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور خود اس پر عمل پیرا نہيں ہوتا تھا۔ دوسروں کو برائی سے روکتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔

نیز تفسیر ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جنتی لوگ جہنمیوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ تمہاری نصیحتیں سن سن کر ہم تو جنتی بن گئے مگر تم جہنم میں کیوں آپڑے وہ کہیں گے افسوس ہم تمہیں کہتے تھے لیکن خود نہیں کرتے تھے۔

اس مذکورہ آیت کی تفسیر میں یہ تینوں احادیث نبویﷺ ان لوگوں کو دعوت عمل دیتی ہیں اور ڈراتی ہیں جو دوسروں کو تو نصیحتیں کرتے ہیں، لمبے لمبے وعظ اور بڑے بڑے خطاب کرتے ہیں لیکن خود اپنا کبھی محاسبہ نہیں کرتے، تنہائی میں موبائل پر بد نظری ،فلمیں ،ڈرامے اور سوشل میڈیا پرغیر شرعی امور انجام دیتے ہیں، غصہ، غیبت، چغلی، حرام خوری، بری عادتیں سبھی ان کے اندر پائی جاتی ہیں کچھ بھی چھوڑنے اور تزکیہ نفس کی کوشش نہیں کرتے، نیز نماز، روزے ، صدقات، خیرات اور تلاوت وغیرہ جیسے اچھے اعمال کی پابندی نہیں کرتے ہیں، لہذا ایسے حضرات کو یہ آیت اور اس کی تفسیر میں یہ تمام احادیث اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ ہم کیا جانتے ہیں؟ کیا کہہ رہے ہیں؟ اور کیا کرنا چاہئے؟

نیز مفسیر نے یہاں یہ مسئلہ بھی واضح کیا ہے، جس کا سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بیان ، تقریر اور پندونصائح کرنا ایک الگ عمل ہے اور اور اپنی ان تقریروں اور بیانات پر عمل نہ کرنا یہ الگ سے باعث گناہ اور موجب پکڑ ہے، ایسا نہیں ہے کہ بیان تقریر اور پندو نصائح جیسے نیک عمل کو چھوڑ دیا جائے اور بے عملی کی قبیح عادت کو باقی رکھا جائے جیسا کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے تفسیر بیان القرآن میں فرمایا: اس سے یہ مسئلہ نہیں نکلتا کہ بے عمل کو واعظ بننا جائز نہیں بلکہ یہ نکلتا ہے کہ واعظ کو بے عمل بننا جائز نہیں۔

اور امام مالک نے حضرت سعید بن جبیر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر ہر شخص یہ سوچ کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑدے کہ میں خود گنہگار ہوں، جب گناہوں سے خود پاک ہوجاؤں گا تو لوگوں کو تبلیغ کروں گا تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ تبلیغ کرنے والا کوئی بھی باقی نہ رہے گا، کیونکہ ایسا کون ہے جو گناہوں سے بالکل پاک ہو؟ حضرت حسن کا ارشاد ہے کہ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ اسی غلط خیال میں پڑ کر تبلیغ کا فریضہ چھوڑ بیٹھیں (قرطبی)

نیز بہتر تو یہ ہےکہ انسان اپنے بیان ،تقریر اور پندو نصائح کو اپنے لئے ہتھیار اور اصلاح کا بہترین ذریعہ بنائیں جیسا کہ معارف القرآن میں ہے کہ حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی فرمایا کرتے تھے کہ جب مجھے اپنی کسی بری عادت کا علم ہوتا ہے تو میں اس عادت کی مذمت اپنے مواعظ میں خاص طور سے بیان کرتا ہوں تاکہ وعظ کی برکت سے یہ عادت جاتی رہے۔

خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ وعظ، تقریر، بیان، پند ونصائح بہترین عمل ہے اور امر بالمعروف نہی عن المنکر اسلام کا ایک اہم شعبہ ہے جس کے کرنے والے کو اللہ تعالی نے خیر امت فرمایا ہے لیکن دوسروں کو نصیحت کرنا اور خود بے عملی جیسے گناہ میں ملوث رہنا یہ علمائے یہود کا شیوہ تھا جو اللہ تعالی کی پکڑ اور عذاب کا باعث بنتا ہے، اس لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے واعظین ، مقررین اور ناصحین کو ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے اور نیک عمل کی عادت بنانی چاہئے تاکہ اس سے اللہ تعالی کی خوشنودی اور دونوں جہاں میں کامیابی حاصل ہوجائے۔

خاص طور سے موبائل، انٹرنیٹ، اور تنہائی کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے، کیونکہ یہی جدید دور کے سب سے بڑے امتحان ہیں۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنی تقریروں اور نصیحتوں کو سب سے پہلے اپنے نفس کے لیے آئنہ بنائیں، تاکہ ہمارے اقوال میں اثر اور اعمال میں برکت پیدا ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے قول و عمل میں اخلاص عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو دوسروں کو بھی بھلائی کی طرف بلاتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل پیرا رہتے ہیں۔
آمین یارب العالمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button