
بہار 2025 کا دنگل! ” ایم آئ ایم ” بمقابلہ سیکولر پارٹیاں، ووٹ بٹوارے کا کھیل، فائدہ کس کو ؟ …
احساس نایاب شیموگہ ۔۔۔۔
بہار کی سیاست ہمیشہ شور مچاتی ہے، لیکن اس بار کے شور میں کچھ الگ ہی بات ہے ۔۔۔۔
اس مرتبہ بہار
2025 کے اسمبلی انتخابات محض سیاسی معرکہ نہیں، بلکہ یہ اس نظریاتی بحران کا اظہار ہے جس میں "سیکولرزم” صرف نعرہ بن کر رہ گیا ہے، اور میدان میں ایک بار پھر وہی پرانا سوال گونج رہا ہے ۔۔۔
کیا اس بار بھی مسلم ووٹر صرف ” بی جے پی کو ہٹانے کے نام پر قربانی کا بکرا بنیں گے ؟؟؟
یا پھر اس بار کچھ نیا ہونے والا ہے ؟
بہار کی سرزمین کبھی انقلاب کا گہوارہ رہی ہے، مگر آج یہی زمین ووٹ کے نام پر تقسیم، دھوکے اور خود غرضی کا اکھاڑا بن چکی ہے۔۔۔
2025 کے انتخابات نے ایک بار پھر وہی پرانا منظر دہرا دیا ہے، محض چہرے بدلے ہیں، مگر کھیل اب بھی وہی پرانا ہے، انجام بھی شاید وہی ہو ۔۔۔۔
جب جب انتخابات آتے ہیں مسلمانوں کو یہی بتایا جاتا ہے کہ "بی جے پی کو ہٹاؤ "، مگر کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ ملک میں "اپنی قیادت بنانی ہے”۔۔۔۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست کا سب سے بڑا دھوکا شروع ہوتا ہے۔
سیکولر کہلانے والی پارٹیاں برسوں سے مسلم ووٹ کو اپنی جاگیر سمجھتی آئی ہیں،
ان کے نزدیک مسلمان اے ٹی ایم مشین کی طرح ایک ووٹ مشین ہیں، جذباتی، قابل استعمال، اور انتخاب کے بعد غیر ضروری، جیسے استعمال کرکے پھینکا ہوا تشو پیپر ۔۔۔۔
ایسے میں جب کبھی کوئی مسلم رہنما اپنی نمائندگی کے لئے اٹھتا ہے، تو ان سیکولر پارٹیوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔
پھر شور مچتا ہے کہ “یہ ووٹ کٹوا ہے، یہ ” بی ٹیم ہے” یہ بی جے پی کو فائدہ پہنچائے گا فلاں فلاں ”
مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اگر یہ ووٹ اور ووٹرس تمہارے ہی جھوٹے وعدوں سے تنگ آگئے ہیں، تو قصور ان ووٹر کا ہے یا مسلمانوں سے جھوٹی ہمدردی کا دم بھرنے والی سیکولر پارٹیوں کا ؟؟؟
بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ
” ایم آئی ایم کے اسد الدین اویسی کا سو سیٹوں کا چیلینج، کیا پرانی سیاست کے منہ پر تازہ طمانچہ ثابت ہوگا یا خود ان کا جھولا خالی رہے گا ؟؟؟
دراصل پچھلے انتخابات میں بھی کچھ یہی کرنے کی کوشش کی گئی تھی ، یعنی ووٹ کو خود بولنے کا حق دیا۔
کئی جگہ کامیاب ہوئے، کئی جگہ ناکام۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی کامیابی سے کس کو کتنا فائدہ پہنچا ؟؟؟
یہاں ذرا غورطلب
جن علاقوں میں مجلس کے امیدوار جیتے، وہاں سیکولر پارٹیاں ہاریں،
اور جہاں مجلس ہاری، وہاں بی جے پی جیت گئی۔۔۔۔
ایسے میں عوام سوچنے پر مجبور تھی کہ، کیا اویسی واقعی قیادت کی جنگ لڑ رہے ہیں، یا صرف وہ کردار ادا کر رہے ہیں جس سے بی جے پی کو آسان جیت مل جائے ؟؟؟
یعنی مسلمانوں کو زور کا جھٹکا ذرا دھیرے سے لگے ۔۔۔۔
خیر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین یعنی اویسی نے اس بار 32 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر کے نہ صرف ایک جارحانہ پوزیشن اختیار کی ہے، بلکہ سیکولر پارٹیوں کو بھی آئینہ دکھایا ہے۔ خاص طور پر "سیمانچل” جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں، جہاں راشٹریہ جنتا دل، جنتا دل یونائیٹیڈ اور کانگریس برسوں سے ووٹ تو کھا رہی تھیں، مگر نمائندگی کی بات کی جائے تو وہ کاغذ پر بھی پوری نہ ہو پائی۔۔۔۔
ایسے میں اسد الدین اویسی نے واضح پیغام دیا ہے
"اگر تم ہمیں نمائندگی نہیں دو گے، تو ہم اپنی آواز خود بنیں گے”
یہ وہ بات ہے جو سیکولر پارٹیوں کے لئے سیاسی زہر کی طرح ہے۔۔۔۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مجلس صرف "ووٹ کٹوا” ہے، یا واقعی ایک سنجیدہ متبادل ہے ؟؟؟
اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں حالات کا پورا نقشہ دیکھنا ہوگا ۔۔۔۔
جنتا دل یونائیٹڈ نے اب تک 4 مسلم امیدوار دئیے ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس ابھی تک اپنی لسٹوں میں تذبذب کا شکار ہیں، جیسے وہ پہلے خود ہی فیصلہ نہ کر پا رہے ہوں کہ مسلم ووٹ کو "نمائش میں رکھنا ہے یا اسمبلی میں بھیجنا ہے ؟؟؟”
حقیقت یہ ہے کہ بڑے سیکولر پلیئرز نے ہمیشہ "مسلمانوں کے ووٹ” کو صرف ووٹ کے لئے رکھا، مگر سیٹ کے لئے نہیں ۔۔۔۔
وہیں سیمانچل میں اویسی کا خاص زور ہے، جیسے عمور، ارریہ، جوکی ہاٹ وغیرہ۔ انہی نشستوں پر جے ڈی یو نے بھی مسلم امیدوار کھڑے کر دئے۔ ایسے میں مقابلہ دلچسپ ہوگا ۔۔۔۔
یہان پتہ چلے گا کہ سیکولر ووٹ جمع ہوتا ہے یا بکھرتا ہے۔۔۔۔
قبل از وقت یہ کہنا کہ اویسی بی جے پی کے ایجنٹ ہیں، غلط اور شاید ناانصافی ہو۔
لیکن یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ ان کی سیاست نے بی جے پی کے لئے راستے تنگ کئے ہوں۔۔۔
"سیدھی بات یہ ہے کہ سیاسی میدان میں اویسی صاحب کے ہونے سے زیادہ، کچھ علاقوں میں اُن کے نہ ہونے سے بی جے پی کو نقصان پہنچ سکتا ہے”۔۔۔۔
ایم آئی ایم کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان کے جلسوں کا شور زیادہ ہے، لیکن زمینی کام کم۔
لوگ ان کے جذباتی نعرے سنتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں، مگر اگلی صبح سب کچھ ویسا ہی رہتا ہے ۔
بے روزگاری، نفرت، خوف، اور سیاسی بے بسی۔۔۔۔۔
اویسی کے علاوہ بہار کے سیاسی اکھاڑے میں کئی اور چہرے بھی قسمت آزمارہے ہیں، اور ہر کوئی اپنی جگہ بنانے کی جستجو میں ہے ۔۔۔۔۔
"پرشانت کشور کی جن سوراج” نامی ایک نئی پارٹی نے بھی اپنی موجودگی درج کرائی ہے ۔۔۔
یہ بھی مسلم حلقوں میں سر ابھار رہی ہے، جیسے "مسلمان غریب کی بیوی سب کی بھابی ہو”
چہرہ نیا، نعرے وہی پرانے ” ہم سب کے ہین، ہم صاف ہیں” لیکن مقصد وہی پرانا، سیکولر ووٹ کا ٹوکن چوری ۔۔۔۔
سب کا دعویٰ تبدیلی کا ہے، مگر نتیجہ وہی ووٹ کا بٹوارہ ۔۔۔۔
یہ پارٹیاں دراصل ان زخموں پر مرہم رکھنے نہیں آتیں، بلکہ انہی زخموں سے اپنی پہچان بناتی ہیں، ہر ایک کا مقصد اقتدار ہے، اور اس دوڑ میں ووٹر کا درد صرف ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔
یہاں سیکولر پارٹیاں بھی دودھ کی دھُلی نہیں ہیں ۔
یہ وہ جماعتیں ہیں جو مسلمانوں کے وقتی مائی باب بن جاتی ہیں اور ہر انتخاب سے پہلے وعدے کرتی ہیں،
کہ انصاف ہوگا، روزگار ملے گا، نمائندگی بڑھے گی۔
مگر جب اقتدار آتا ہے تو یہی پارٹیاں مسلمانوں کو بھول جاتی ہیں۔
مسلمان صرف تب یاد آتا ہے جب بی جے پی کے خلاف ووٹوں کی گنتی درکار ہو۔
قیادت کا حصہ بننے کی بات ہو، تو ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
اور یہی وہ خالی جگہ ہے جسے اویسی جیسے رہنما پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں —
مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس خلا کو واقعی پُر کر رہے ہیں، یا اسے مزید گہرا کر رہے ہیں ؟؟؟
جبکہ آج اسی خلا میں ایک عجیب کھیل بھی چل رہا ہے —
سیکولر پارٹیاں اور اویسی، دونوں اکثر ایک ہی میدان میں ایک ہی نشست پر مسلم امیدوار اتار دیتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلم ووٹ خود مسلم امیدواروں میں بٹ جاتا ہے،
اور جیت کا تاج کسی تیسرے سر پر جا بیٹھتا ہے۔
یہ تکرار اب محض اتفاق نہیں لگتی، بلکہ ایک منظم سیاسی بےحسی بن چکی ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے ہر پارٹی اپنے ووٹ سے زیادہ دوسرے کا ووٹ کاٹنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
اپنی جیت سے زیادہ دوسرے کو ہرانے کی فکر ہے، یوں دو بکریوں کی رساکشی میں بی جے پی نامی گدھ بازی لے جاتا ہے ۔۔۔۔۔ اور اقتدار کی اس آپسی جنگ میں ” بی جے پی” مضبوط ہوتی جارہی ہے ۔۔۔
مگر اس بار کا موسم کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا ہے کیونکہ
بہار کا ووٹر اب پہلے جیسا سادہ نہیں رہا۔ وہ جانتا ہے کہ ہر نعرے کے پیچھے کوئی مفاد چھپا ہے۔
وہ دیکھ چکا ہے کہ "سیکولرزم” کے نام پر صرف کرسی کی سیاست ہوتی ہے، اور "مسلم قیادت” کے نام پر صرف جذبات کا کاروبار۔
اب عوام سوچتی ہے کہ کب تک وہ استعمال ہوتی رہے گی ؟
کب تک صرف بی جے پی کو ہرانے کے لیے ووٹ دے گی، اور کب اپنی قیادت کو جتوانے کے لئے؟
اگر اویسی واقعی مسلم قوم کے قائد ہیں، تو انہیں صرف تقریروں سے آگے بڑھ کر دکھانا ہوگا۔
انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صرف ایک مذہبی جذباتی چہرہ نہیں،
بلکہ سیاسی بصیرت رکھنے والے رہنما ہیں۔ ورنہ وقت زیادہ نہیں لے گا انہیں بھی انہی رہنماؤں کی صف میں شامل کرنے میں،
جنہوں نے قوم کے جذبات بیچے اور اقتدار کی قیمت وصول کی۔۔۔۔
بی جے پی کی کامیابی کا راز صرف اس کے ووٹرس میں نہیں،
بلکہ اس کے مخالفین کی کمزوری میں ہے۔ جب ہر کوئی خود کو لیڈر سمجھتا ہے، تو دشمن کو لیڈر بننے سے کوئی نہیں روک پاتا۔
بہار کا الیکشن اب صرف سیاست نہیں، یہ شعور کا امتحان بن چکا ہے۔
اگر مسلم ووٹر آج بھی جذبات میں بہہ کر فیصلہ کرے گا،
تو کل پھر وہی منظر دہرایا جائے گا،
نیت بدل جائے گی، مگر نتیجہ وہی رہے گا۔ اور اگر واقعی وہ بدلنا چاہے،
تو اسے کسی مسیحا کے انتظار میں نہیں بیٹھنا ہوگا، بلکہ خود اپنا رہنما بننا ہوگا۔
کیونکہ قیادت دی نہیں جاتی،
حاصل کی جاتی ہے
اور جس قوم کو اپنی قیادت کا حق خود مانگنا نہ آئے، اس کے ووٹ کی قیمت بھی وقتی ہے ۔۔۔
یاد رہے ! تاریخ چیخ کر بتارہی ہے کہ "قومیں دشمن کے ہاتھوں نہیں، اپنی غفلت کے ہاتھوں ہارتیں ہیں۔”
بہار کے ووٹر کے پاس اب بھی وقت ہے ۔
وہ چاہے تو تاریخ بدل سکتا ہے،
ورنہ ایک اور الیکشن آئے گا،
کچھ اور نعرے لگیں گے،
کچھ اور آنسو بہیں گے،
اور خوابوں کے آشیانوں پر ہر روز بُلڈوزر چلیں گے ۔۔۔۔۔


