مضامین و مقالات

کیا چاند بھی اب سنی یا تبلیغی ہو گیا ؟؟؟ یا چاند بھی کسی کی ملکیت، کسی کی چاگیر بن گیا ؟؟؟

احساس نایاب شیموگہ۔۔۔

چاند تو آسمان پر ایک ہی نکلتا ہے، مگر زمین پر اس کے مسلک الگ الگ ہورہے ہیں۔ کہیں وہ “سنی” ہو جاتا ہے، کہیں “تبلیغی”، اور کہیں وہ اعلان کے انتظار میں معلق رہتا ہے۔
گویا اس نے بھی پہلے اپنا مسلک چننا ہو۔
چاند بے چارہ فلکی مدار میں گھوم رہا ہوتا ہے، اور ہم اسے فقہی حلقوں میں گھما رہے ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ چاند نہ سنی ہے نہ تبلیغی، نہ دیوبندی نہ بریلوی۔ وہ تو بس ایک فلکی حقیقت ہے، مگر ہم نے اسے شناختی کارڈ تھما دیا ہے۔ مسئلہ چاند کا نہیں، ہماری شناختی سیاست کا ہے۔ ہم عبادت کے مہینے کو بھی اپنے اپنے حلقوں کی فتح اور شکست کا میدان بنا دیتے ہیں۔
افسوس کہ ہم سب ایک ہی کلمہ پڑھتے ہیں، ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں، مگر چاند کے معاملے میں ایسے بٹ جاتے ہیں جیسے آسمان بھی فرقہ وار ہو گیا ہو۔۔۔
جن کا اللہ ایک ہے، رسول ایک ہیں، قرآن ایک ہے، ان کا چاند بٹا ہوا ہے،
اور وہ مسلمانوں کو دو ٹکڑوں میں بانٹ رہے ہیں۔
اگر ہر گروہ اپنی رائے کو ہی آخری سچ سمجھے گا تو پھر چاند کیا، سورج بھی متفقہ نہیں رہے گا۔
شاید سوال یہ نہیں کہ چاند کس کا ہے
سوال یہ ہے کہ ہم کب خود کو چاند سے بڑا سمجھنا چھوڑیں گے۔ ؟؟؟

دیگر کئی مسائل پر کامپرامائز کرنے والی امت
آخر چاند کے مسئلے پر کیوں آکر اتنی شریعت کی پابند نظر آتی ہے۔۔۔
ایسے کئی مسائل پر ہم اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتے ہیں اور وہاں ایثار کے جذبات کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی چاند کا مسئلہ آتا ہے تو فیصلہ آپ نے پہلے کیوں لیا والی انا کی جنگ چھڑ جاتی ہے۔
پھر احادیث، دلائل اور مسائل پیش کئے جاتے ہیں، جبکہ اصل حل تو اتفاق اور کمیونٹی پر مبنی فیصلہ ہے۔ لیکن یہاں بھی انتشار پیدا کرکے الگ الگ رائے ہیش کی جاتی ہے اور امت کو بانٹا جاتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ چاند نظر آیا یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہمیں اپنی ضد کا چاند زیادہ عزیز ہے یا امت کا اتحاد ؟؟؟

یقین جانیں یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف تراویح شروع ہوچکی ہیں، وہیں دوسری طرف چاند نہ نظر آنے اور جمعہ کے دن روزہ شروع ہونے والے اعلانات ہورہے ہیں۔ انا کی جنگ مین شہر کو اور لاکھوں مسلمانوں کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔
اگر کل روزہ ہوگا تو لاکھوں مسلمانوں کے نقصان اور ذہنی انتشار کی ذمہ داری کون لے گا ؟؟؟
اور اگر انتیسویں روزے کو چاند نظر آگیا تو ان کے پاس کیا جواب ہوگا ؟؟؟
کیا دیر سے روزہ رکھنے والے اٹھائس روزوں پر رہ جائیں گے ؟؟؟
کیا عید ایک دن ہوگی یا دو دن ؟؟؟
ہر سال ایک ہی ڈرامہ کب تک ؟؟؟
“ہماری شہادت معتبر ہے”
“نہیں، ہماری تحقیق مستند ہے”
نتیجہ؟؟؟
چاند ایک، عید دو، اور امت کئی حصوں میں تقسیم۔
اگر ہر مکتبِ فکر اپنی انا کا دوربین لے کر بیٹھا رہے گا تو آسمان صاف بھی ہو تو دلوں کا افق ابر آلود ہی رہے گا۔ شاید مسئلہ چاند کے نظر آنے کا نہیں، نظرئیے کے نہ بدلنے کا ہے۔ ہم آسمان پر ہلال ڈھونڈتے ہیں اور زمین پر اخوت کھو دیتے ہیں۔۔۔

اب تو یون لگتا ہے کہ چاند بھی جاگیر بن گیا ہے
ایسے حالات رہے تو اُمت میں اتحاد کہاں سے آئے گا ؟؟؟
جب چاند بھی ملکیت میں چلا جائے گا ؟؟؟
کہیں اعلان ایسے ہورہا ہے جیسے آسمان کی رجسٹری دفتر مخصوص میں درج ہو۔ ایک گروہ کہتا ہے: “چاند ہمارے پاس آیا تھا”، دوسرا جواب دیتا ہے “ہماری سرحد میں داخل ہی نہیں ہوا”
حالانکہ چاند نہ کسی مسلک کی جاگیر ہے، نہ کسی کمیٹی کی میراث۔ وہ تو سب کے لئے ایک ہی افق پر طلوع ہوتا ہے، مگر ہمارے دلوں کے افق الگ الگ ہیں۔ مسئلہ رویت کا کم اور قیادت کا زیادہ ہے، تحقیق کا کم اور انا کا زیادہ ہے۔
جب فیصلہ عبادت کی آسانی کے بجائے برتری کی علامت بن جائے تو اتحاد محض تقریر کا لفظ رہ جاتا ہے۔ اتحاد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں نیت اجتماعی ہو، مفاد مشترک ہو اور فیصلے شفاف ہوں۔ لیکن جب ہر حلقہ اپنی دوربین کو “آخری سچ” سمجھ لے تو پھر چاند نہیں، اختلاف ہی وہ جاتا ہے۔
شاید ہمیں چاند کو جاگیر بنانے کے بجائے خود کو جواب دہ بنانا ہوگا۔
کیونکہ آسمان کا چاند تقسیم نہیں ہوتا—تقسیم ہم ہوتے ہیں۔۔۔
خیر، ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ فتنہ یہی پر نہیں رُکے گا۔
کل بھی یہی نام نہاد ذمہ داران اپنی اپنی چھتوں اور اپنے اپنے منبر سے نظر آنے والے چاند کو ہی مستند مانیں گے، اور باقی سب کے چاند کو مشکوک قرار دیں گے۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button