مضامین و مقالات

کیامسلم حکمرانوں کا انسانیت کے لئے دیا حکم، ندی دریاؤں کی طغیانی سے انسانیت کو امان دلا سکتا ہے ؟

 

۔ نقاش نائطی
۔ +919448000010

شاہ اورنگ زیب کے سیلاب زدہ دریائے جمنا کو پرسکون کئے، یوپی اور نوئیڈا کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے خط لکھنے کے بارے میں لوک داستانیں لال قلعہ کے قریب دہلی میں رونما ہوئیں۔ لیجنڈ کہتے ہیں کہ شہر کو شدید سیلاب کے خطرے سے دوچار ہونے سےبچانے کے دوران، اورنگ زیب نے جمبا دریا کو مخاطب کرتے ہوئے ایک خط لکھا اور اسے اپنے طغیانی کم کرتے ہوئے انساننیٹ کے امن و آمان والا ہونے کا حکم دیا، جو کہ مشہور روایت کا دعویٰ ہے۔ مورخین اس واقعہ کو ایک تصدیق شدہ تاریخی حقیقت کے بجائے ایک مشہور افسانہ سمجھتے ہیں۔
جمنا ندی طغیانی سے،اس کے آس پاس انسانی بستیوں کو آمان دلانے، شہنشاہ ھند اورنگ زیب کی طرف سے دریاء جمنا کو لکھے گئے خط کی اصلیت کا تو ہمیں علم نہیں، لیکن چودہ سو سال قبل وقت خلافت راشدہ حب اسلامی سلطنت کے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ تھے تب تاریخ گواہ ہے کہ انکے عدل و انصاف کے پیش نظر ان کا حکم براہ راست جانوروں درندوں زہریلے حشرات الارض کے ساتھ ہی ساتھ بے جان سمجھی جانے والےندی نالوں پر بھی چلتا تھا۔ حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں،جب اسلامی سلطنت روم و فارس کو شکست فاش دیتے ہوئے،عالم انسانیت کے دو تہائی حصہ ارض پر اپنی اسلامی خلافت پھیلائی تھیں تو ہر مفتوحہ بڑے ملکوں علاقوں پر اسلامی خلافت کے درالخلافہ ریاست مدینہ سے، گورنر مقرر کئے جاتے تھے۔ ان ایام فاتح مصرحضرت عمر بن العاس ہی وہاں کےگورنر تھے
جب حضرت عمرو بن العاص نے مصر فتح کیا تو قبطی باشندے ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ دریائے نیل کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے، سال میں ایک مرتبہ جب مہینے میں بارہ راتیں گزر جاتی ہیں تو ہم کنواری لڑکی کو اس کے والدین سے لے اتے ہیں، اور اسے بہترین زیورات اور لباس سے آراستہ کرتے ہیں، پھر اسے دریائے نیل میں پھینک دیتے ہیں۔ عمربن العاص نے ان سے کہا کہ یہ اسلام میں جائز نہیں، اسلام اس سے پہلے والی بے ہودہ رسم و رواج کو ختم کرنے ایاہے۔جب دریا کا پانی خشک ہونے لگا اور حالات خراب ہوئے تو انہوں نے صورتحال امیر المومنین حضرت عمر فاروق رض کو لکھی۔حضرت عمر نے خط کے جواب میں ایک رقعہ دریائے نیل کے نام بھیجا،جسے دریا میں ڈالا گیا تو پانی دوبارہ جاری ہو گیاتھا

اس واقعہ کو البدایہ والنھایہ اورتفسیر ابن کثیر نے ذکر کیا ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو اہل مصر نے فاتح مصر حضرت عمرو بن العاص سے کہا کہ ہمارے ملک میں کاشتکاری کا دارومدار دریائے نیل پر ہے، ہمارے ہاں یہ دستور ہے کہ ہر سال ایک حسین وجمیل کنواری لڑکی دریا میں ڈال قُربانی دی جاتی ہے، اگر ایسا نہ کیا جائے تو دریا خشک ہو جاتا ہے اور قحط پڑ جاتا ہے۔ حضرت عمرو بن العاص نے انہیں اس رسم سے روک دیا۔ جب دریا سوکھنے لگا تو حضرت عمرو بن العاص نے یہ واقعہ خلیفہ وقت امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا۔ جواب میں حضرت عمر نے تحریر فرمایا کہ دین اسلام ایسی وحشیانہ وجاہلانہ رسموں کی اجازت نہیں دیتا اور آپ نے ایک خط دریائے نیل کے نام لکھ بھیجا اور اسے دریا میں ڈالنے کی ہدایت کی۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:-
"عبداللہ عمر، وفاداروں کے سپہ سالار سے لے کر مصر کے دریائے نیل تک (اب) اگر تم اپنی مرضی سے بہتے ہو تو نہ بہؤ، لیکن اگر وہی خدا ہے جو تمہیں بہاتا ہے، تو ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمہیں صدا اسی طرح امن و امان سےبہائے۔”
https://www.facebook.com/share/r/19P57RAp6v/
یہ پرچہ لے کر حضرت امیر عسکر عمر بن العاس نے مصری قبطی قبیلہ کے، پرانی رسم مطابق پوجا پاٹ کئے، دلہن کی طرح سجی سجائی کنواری لڑکی کودریاء نیل میں قربان کئے جانے والی رسم”صلیب” سے ایک دن پہلے، خلیفہ ثانی حضرت عمر رض کی طرف سے آئے، اس خط کو دریائے نیل میں ڈال دیا، اور مصر کے لوگ اس خط کے دریاء نیل میں ڈالے جانے کے بعد والے،رونما ہوتے واقعات کو جاننے کے لئے بے چین تھے، کیونکہ وہاں ان کی فلاح و بہبود کا دارومدار دریائے نیل ہی تھا، جب دریاء نیل میں اسلامی خلافت کے گورنر مصر کے ہاتھوں حضرت عمر رض کی طرف آئے خط کو ڈالا گیا تو
دوسرے دن صلیب والی صبح، خدا نے ایک ہی رات میں دریائے نیل کے بہاؤ کو سولہ ہاتھ بلند کر دیا۔ خدا نے اس رات سے دریاء نیل کے قہر کو مصر کے لوگوں کے لئے آج تک روک رکھا ہے۔ اسے الحافظ ابو القاسم لعلقائی الطبری نے اپنی کتاب "السنت” (تفسیر ابن کثیر، سورۃ السجدہ، جلد 6، صفحہ 333-334) میں روایت کیا ہے۔
اسے الحافظ ابو القاسم لعلقائی الطبری نے اپنی کتاب "السنت” (تفسیر ابن کثیر، سورۃ السجدہ، جلد 6، صفحہ 333-334) میں روایت کیا ہے۔
نوٹ:- سناتی ھندو برادران وطن کو موقع موقع سے شاندار اسلامی تاریخ کے روشن پہلو سے اشناء کرتے رہنا چاہئیے تاکہ انہیں اسلامی آخری آسمانی دھرم اسلام اور اسکے آخری نبی محمد مصطفیﷺ جو کہ ان سناتنی ھندوؤں کے کلکی اوتار بھی ہیں انکے بارے میں حقائق پہنچائے جاسکی۔ پیشین گوئی رسول ﷺ کے مطابق روزمحشر یہی وہ سناتنی ھندو قوم ہونگے جو خداء بزرگ ولی برتر سے شکایت کررہے ہونگے کہ ان تک کسی نے اسکے اصل دین آسمانی کو نہیں پہنچایا
https://www.facebook.com/share/r/19P57RAp6v/
"وہ کون سی جگہ تھی جہاں سے بادشاہ اورنگزیب نے دریائے جمنا کو اس کے بہاؤ کو کم کرنے کے لیے خط لکھا تھا”
https://www.google.com/search?q=which+was+that+place+from+where+King+Aurangzeb+wrote+a+letter+to+Yamuna+River+and+its+flow+slow+down&oq=which+

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button