
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
کل عید میلادوالنبی کا جشن پورے جوش و خروش سے ملک بھر میں مختلف مقامات پر منایا جائے گا۔ بیشتر جگہوں پر میلاد النبی کے جلوس برآمد ہوں گے ،جن میں مختلف قسم کی جھانکیاں اور اس قسم کے دیگر مظاہر پیش کیے جائیں گے۔ اسی طرح دنیا کے مختلف مقامات پر کسی نہ کسی انداز میں کچھ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ ہر ملک اپنی تہذیبی اور تاریخی روایات کے مطابق عید میلاد النبی کا جشن مناتا ہے ۔اگرچہ ولادت باسعادت کی اصل تاریخ میں آج تک اختلاف ہے کہ یہ اصلا 12 ربیع الاول ہے یا نو یا 17 ربیع الاول ہے ۔بہرحال ربیع الاول اور پیر کے دن پر اتفاق موجود ہے۔ اس اختلاف کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ کے دوران کبھی اپنا یوم ولادت نہیں منایا ،خلفائے راشدین اور تابعین کے زمانے میں بھی یہ روایت کبھی دیکھنے کو نہیں ملتی ،شاید عرب میں یوم ولادت منانے کا رواج ہی نہیں تھا، اسی طرح عالم اسلام میں بھی یوم ولادت اور سالگرہ منانے کا اہتمام عوام نہیں کرتے تھے ۔گیارہویں صدی میں فاطمی شہنشاہیت کے دوران مصر میں ان کے درباروں میں امرا، وزراء نے اسے سب سے پہلے رائج کیا اور قران خوانی اور نعتیہ محافل کا آغاز کیا ۔اگلی صدی میں شام کے شہروں میں عید میلاد النبی کےجشن کا آغاز عوامی طور پر شروع ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ترکی، مراقش و ماطراف کے ممالک میں بھی بڑے بڑے عوامی اجتماعات اور لنگر کا اہتمام ہونے لگا ۔ بہت بعد کے زمانے میں مغل درباروں میں بھی یہ روایت عام ہونے لگی، عید میلاد النبی کے جلوس کا باقاعدہ آغاز 1903 میں کانپور کے جلوس محمدی سے ہوا تھا جو بعد میں لاہور میں بھی نکالا جانے لگا اور رفتہ رفتہ ملک بھر میں رواج پا گیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے ۔نعتیہ مشاعروں اور عوامی لنگروں سے اْگے بڑھ کر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہت سی ناپسندیدہ حرکات کا بھی اضافہ روز افزوں ہوتا رہا ۔لیکن میری اس تحریر کا مطمحہ نظر یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ ولادت باسعادت کے اصل تاریخ کیا ہے اور اسے منانا ،جلسے جلوس منعقد کرنا جائز، ناجائز ،مستحب یا غیر مستحب وغیرہ ہے ۔کیونکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اصل تاریخ پیدائش کیا ہے اور ہم اسے کیسے مناتے ہیں ۔بلکہ میرے پیش نظر یہ ہے کہ ٓاپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل پیغام کیا تھا ،آپ نے کس طرح اس پیغام کی ترویج اور ترسیل فرمائی اور محض ۲۳ سال کے عرصہ رسالت میں ایک عوامی ،سماجی، دینی اور اقتصادی نظام بپا کر کے اس زمانے میں ہزاروں کلومیٹر دور تک لاکھوں لوگوں کو اپنا ایساہمنوا بنا لیا کہ وہ آپ کے ہر پیغام اور ہر حکم پر جان و مال فدا کرنے میں بھی دریغ نہیں کرتے تھے ،اور کیسے قیامت تک کے لیے ایک عالمی ،آفاقی، انسانی نظام قائم و دائم کر دیا ۔ کیا ہم آج اس پیغام پر عمل پیرا ہیں ؟
اللہ تعالی نے قران حکیم میں تمام جن و انس و فرشتوں کے تعلق سے واضح ہدایت فرمائی کہ آپ کے نام نامی کے ساتھ اس کے ادب و احترام میں لازمی درود و سلام پڑھا جائے( سورہ احزاب: 56 ) سلام کا یہ سلسلہ تا روز قیامت کبھی ختم نہ ہوگا ، اور ہم دیکھتے ہیں کہ آپ پر سلام کا یہ سلسلہ تاہنوزجاری ہے، ہر لمحے ہر آن اس دنیا میں مسلسل آپ کی خدمت میں سلام پیش کیا جاتا رہتا ہے، ابتدائے آفرینش سے آج تک اور آج سے قیامت تک دنیا کے کسی انسان کو یہ شرف و مرتبہ حاصل نہیں ہوا جو اللہ نے آپ کے لیے مقرر فرما دیا ۔مزید برا ں اللہ تعالی نے آپ کے اسوہ یعنی آپ کے طرز عمل کو بھی تا قیامت قابل تقلید قرار دے دیا ( سورہ احزاب: 21 )اس کے ساتھ یہ واضح حکم بھی دے دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور اپنے زمانے کے اولی الامر کی اطاعت اختیار کی جائے ( سورہ نساء: 59 ) اور اسی آیت میں یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر کوئی اختلاف ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی جانب ہی رجوع کیا جائے۔ یعنی اگر اولی الامرکی تعریف کا تعین کرنے میں بھی کوئی اختلاف ہو تو اللہ اور رسول کی اطاعت ہی واجب رہے گی۔ اب ان تینوں قرانی احکامات کو ملا کر دیکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ حتمی ہدایت کا ماخذ بالآخر قران اور اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی تا قیامت ایک روشن قندیل کی طرح اہل اسلام کے پاس موجود رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام احکامات کو دل سے ماننے کے باوجود کیا حقیقی پیرائے میں ہم اس پر عمل بھی کر رہے ہیں؟
عید میلاد النبی کا جشن منانا اور اس کا اہتمام سال درسال کرتے رہنا عقیدت و احترام کا ایک مظہر یقینا ہو سکتا ہے ،لیکن اسلام کا ہم سے اصل مطالبہ اس اسوہ رسول پر عمل کرنے کا ہے کہ جس کے بغیر ہمیں ہرگز کامیابی میسر نہیں ا ٓسکتی ۔جب کبھی ہم میلاد النبی کا اہتمام کریں تو ہمیں یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ اپنے زمانے میں ہم 1400 سالہ قدیم اس طریقہ کار کو کیسے اپنا سکتے ہیں ۔یہ تاویل ہرگز مناسب نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے محبوب ترین نبی تھے اور وہ زمانہ الگ تھا اب زمانہ مختلف ہے، وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو قران ہرگز اسوہ نبی کو تا قیامت مشعل راہ قرار نہ دیتا۔ اس لیے یہ سوال ہر زمانے میں اہم ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے زمانے میں اسوہ نبی کو کیسے اختیار کریں اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فی زمانہ عملی تطبیق کے خطوط کیا ہوں گے۔ اگر ہم عہد نبوی کے سماجی حالات اور معاشرے پر نظر ڈالیں تو سماجی و معاشی تفریق بہت واضح نظر آتی ہے ۔امرا کے لیے قانون الگ تھا اور غرباء و غلاموں کے لیے قانون الگ تھا۔ قران نے ان دونوں طبقات کو مستکبرین اور مستضعفین کی اصطلاحوں سے بیان فرمایا ہے۔ یہ طبقات آج بھی محروم یا حکمران طبقات کے زمرے یعنی ruling elites and marginalised classes کے نام سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس زمانے کا سماج ہمارے زمانے کے سماج سے کہیں زیادہ مظلوم و مقہور تھا، مختلف قسم کی ایسی سماجی برائیاں رائج تھیں جن کا آج کے زمانے میں ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ۔بخوف طوالت ان کا ذکر یہاں نہیں کیا جا رہا لیکن مثال کے طور پر محض حضرت بلال حبشی کی ہی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ عہد اسلام سے قبل کے حالات اور بعد کے حالات میں کتنا نمایاں فرق تھا ۔ایک لحیم شحیم ،قوی الجثہ، طاقتور انسان محض غلام ہونے کی وجہ سے سرداران قریش کے ہر ظلم کا خاموشی سے بنا کسی رد عمل کے سہنےپر مجبور تھا ۔اور ابتدائے اسلام میں مشرف با اسلام ہو جانے کے بعد مکی زندگی میں ان پر ہونے والے ظلم و ستم کی روح فرسا داستانوں سے ہم سب واقف ہیں ،ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جب سرداران مکہ نے آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ ہم اپ کی مجلس میں شریک تو ہو سکتے ہیں لیکن حضرت بلال جیسے غلاموں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تو آپ نے واضح لفظوں میں فرما دیا تھا کہ جسے آنا ہے آئے نہیں آنا ہو نہ آئے لیکن یہ سب لوگ تو ساتھ ہی بیٹھیں گے۔ اس واشگاف اعلان نے واضح کر دیا کہ حالات کچھ بھی ہو جائیں اس سماجی تفریق کو ہرگزبرداشت نہیں کیا جائے گا ۔چنانچہ مدنی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت بلال نہ صرف موذن مسجد نبوی ہیں بلکہ مسجد کے انتظام و انصرام اور مالی ضروریات کے ذمہ دار بھی ہیں ،گو یاآج کی اصطلاح میں کہیں تو ایک طرح سے نبی پاک کے وزیر خزانہ بھی تھے۔ اسی طرح دیگر اصحاب کی بھی سماجی حیثیت ایک اہم ترین مقام تک پہنچ گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سماجی حیثیت کا تعلق فرد کی ذاتی قوت پر موقوف نہیں ہے بلکہ ایک منصفانہ اجتماعی نظام کا متقاضی ہے ۔پورے عرب کا سماج ہزاروں کلومیٹر دور تک اس سماجی تغیر کو بنظر غائر دیکھ بھی رہا تھا اور محسوس بھی کر رہا تھا ،یہی وہ وجہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ و مکہ کے مابین مسلسل معرکہ ارائی سے آپ کو جب فرصت میسر آئی تو دعوت و تبلیغ کا کام بہت تیزی سے بڑھا اور محض دو سال میں عرب کے مظلوم و مقہور قبائل نےجو ق درجوق اسلام کے پیغام پر لبیک کہا اور مکہ بغیر جنگ کے فتح ہو گیا ۔آج بھی ہم اپنے چاروں طرف نظر ڈالیں ،خصوصا وطن عزیز میں، تو اس طرح کے مظلوم و مقہور، پسماندہ سماج موجود ہیں۔ ملک کا بیشتر طبقہ اس کا شکار ہے، چاہے ان کو دلت کہیں، پسماندہ یا قبائلی یا دور دراز گاؤں کی آبادیاں سب ہی اقتصادی ،سماجی ،معاشرتی تفاوت کا شکار ہیں ،مگر ہم اس جانب متوجہ نہیں ہوتے ،حالانکہ آج کے زمانے میں ہمیں عہد نبوی کے مقابلے بہت سی آسانیاں اور وسائل دستیاب ہیں۔ یہ محض ایک معمولی سی مثال ہے وگرنہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرائی کی دیگر بہت سی شکلیں بھی باسانی میسر ہیں۔ بہرحال آپ کا طریقہ کار اور حکمت عملی زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے، جو آج پہلے سے بھی زیادہ قابل عمل ہے۔ جلسے ،جلوس ،تقریبات اپنی جگہ، مگر یہ سنجیدہ سوچ اور یہ فکر کہ ہمیں نبی پاک کے طریقہ کار کو کیسے زندہ کرنا ہے زیادہ ضروری ہے ۔افسوس کہ یہ فکر ہم سے کہیں کھو گئی ہے ۔اسی کا شاخسانہ ہے کہ دنیا کے تمام اہم ترین وسائل ہمارے ہاتھ میں ہوتے ہوئے بھی ہم ایک مغلوب امت بن چکے ہیں ۔سعدی شیرازی نے اپنی کتاب ’’بوستان ‘‘میں لکھا تھا کہ
خلاف پیمبر کسے رہ گزید
کہ ہرگز بمنزل نخواہد رسید
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں)
[email protected]



