مضامین و مقالات

تمہیں غالب رہو گے اگر۔۔۔۔۔

ڈاکڑ تسلیم احمد رحمانی

اللہ تعالی نے اہل ایمان سے غلبے کا وعدہ فرمایا ہے (سورہ ال عمران 139 ) مگر یہ وعدہ مشروط ہے ایمان کے ساتھ ،اور اللہ کا وعدہ بھی ہمیشہ ہی سچا ہوتا ہے (سورہ روم ۶۰ )اس کے باوجود بھی اگر آج مسلمان غلبہ و اقتدار سے محروم ہیں اور نصرت الہی کے حصول سے عاری ہیں تو اس کی وجہ امت کو خارج میں تلاش کرنے کی بجائے اپنے اندرون میں تلاش کرنی چاہیے۔ اللہ تو اپنے ہر وعدے کی تکمیل پہلے ہی کر چکا ہے اور اپنی نعمتیں بھی تمام کر چکا ہے (سورہ مائدہ 3 ) امت سے راضی ہونے کا اعلان بھی کر چکا ہے ،اسلام کو دین حنیف بھی قرار دے چکا ہے اور تاریخ شاہدہے کہ جب اللہ نے یہ اعلان فرمایا تب سے لے کر اگلے 1300 سال تک مسلمانوں کو تقریبا ہر دور میں غلبہ و اقتدار حاصل رہا ۔یہ غلبہ محض حکمرانی کی حد تک محدود نہیں تھا بلکہ علم و فن، سائنس، معاشیات ،معاشرت ،اخترا ع وایجاد ات ،غرض انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اتنا غلبہ حاصل رہا کہ دنیا کی دیگر اقوام اس غلبے کو قبول کیے بغیر نہیں رہ سکیں اور تقلید بھی کرتی رہیں۔ انسانیت کو ارتقا و ترقی فلا ح و بہبود کے نئے آفاق میسر آئے ،سماجی اصلاحات کے دروازے کھلے، سائنسی ایجادات کے محیر العقول کارنامے انجام دیے گئے۔ آج بھی دنیا کی نئی ایجادات اور ترقی کی بنیاد میں اسی دور کا اصل کام موجود ہے جسے آگے بڑھا کر یورپ ترقی کا دعوی دار بنتا ہے ۔اس دوران جب جب مسلمانوں کے ایمان و معاملات اسلام سے دور ہوئے یا عیاشی کا دور دورہ ہوا تب تب مسلم سلطنتیں کمزور پڑیں، صلیبی جنگوں اور تاتاریوں کے سلسلے نے مسلمانوں کو خوب نقصان بھی پہنچایا اور بے دریغ قتل عام بھی کیا ۔لیکن جیسے جیسے وہ واپس اپنی دینی جڑوں کی طرف لوٹے ویسے ویسے اقتدار بھی مستحکم ہوتا چلا گیا ۔الغرض ہجرت مدینہ سے لے کر ابھی 1924 میں سلطنت ترکیہ کے سقوط تک یہ سلسلہ کمزور تو کئی بار ہوا مگر ختم کبھی نہیں ہوا ۔کہا جاتا ہے کہ تاریخ برطانیہ کے قلم رؤ میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا ،مگر غور سے دیکھیے کہ اس دور میں بھی ترکی سلطنت کے تین براعظموں پر مشتمل قلم رو میں اس برطانوی سورج کی ایک کرن تک نہیں چھو سکی ۔چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ سقوط ترکی کے ساتھ یہ 1300 سال کا سلسلہ بھی ختم ہوا، اور تب سے اب تک مسلم دنیا زوال کا شکار ہے، بھلے ہی دنیا کے 57 ممالک میں وہ حکمراں ہیں لیکن وہ حکمراں بھی آزاد نہیں ہے بلکہ کسی نہ کسی طرح استعمار اور صہیونیت کے رہین منت یا باج گذار ہیں۔حالانکہ اللہ نے اپنے وعدوں کی تکمیل میں آج تک کوئی کمی نہیں فرمائی، آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے مسلمانوں کی آبادی اعداد و شمار کے اعتبار سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کہی جاتی ہے لیکن سب سے بڑی عیسائی آبادی اور مسلم آبادی کے درمیان محض تین کروڑ کا فرق ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی عیسائیوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ ویسے بھی دنیا میں مردم شماری کے جو ضوابط مقرر ہیں ان کو اگر درست کر کے دیکھا جائے تو آج بھی مسلمانوں کی آبادی ہی دنیا کی سب سے بڑی آبادی قرار پائے گی، مثلا بھارت میں ہی دیکھیں تو یہ آبادی 20 کروڑ کے قریب بتائی جاتی ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق مسلم آبادی کسی صورت میں بھی 24 کروڑ سے کم نہیں ہے ، اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک جہاں مسلمان بڑی اقلیت میں موجود ہیں وہاں بھی ان کی آبادیوں کو نسبتا کم کر کے شمار کیا جاتا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دراصل مسلمان ہی دنیا کی سب سے بڑی اکثریت ہیں۔ اس طرح اللہ کا یہ وعدہ بھی پورا ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت دنیا کی کثیر ترین امت بنے گی ۔اس پر مستزاد یہ کہ دنیا میں اوسط عمر کے لحاظ سے دیکھیں تو مسلمان سب سے جوان امت ہیں، جس میں 35 فیصد سے زیادہ آبادی 15 سال سے کم عمر لوگوں کی ہے جبکہ دنیا میں باقی تمام باقی عمر کے زمروں میں ساری دنیا کی اوسط عمر سے کم از کم نو سال کم ہیں ۔اس طرح انسانی وسائل کے اعتبار سے بھی دنیا کا سب سے بڑا وسیلہ مسلمانوں کے ہاتھ میں موجود ہے۔ دنیا میں اس وقت تقریبا 200 ممالک پائے جاتے ہیں ،جن میں سے 57 ملکوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور حکمراں بھی ہیں ،مگر بہت سے ممالک جن میں مسلمان بڑی اقلیت ہیں وہاں بھی ان کی رضامندی کے بغیر حکومت قائم نہیں ہو پاتی، خود بھارت اور جنوبی افریقہ کے بہت سے ممالک میں مسلمان فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں ۔اب تو امریکہ اور برطانیہ کے بھی کئی بڑے شہروں کا اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے ۔ا س طرح دنیا کے تقریبا 40 فیصد حصے پر مسلمان با اثر حیثیت میں موجود ہیں۔ آبادی اور حکمرانی کے علاوہ دیگر وسائل میں بھی اس امت پر اللہ کی نوازشیں کچھ کم نہیں ہیں، مثلا دنیا میں ترقی کے لیے آج کل سب سے اہم وسیلہ توانائی کے ذرائع ہیں۔ تیل، گیس، کوئلہ وغیرہ جس کے بغیر آج کی دنیا چند منٹ بھی سانس نہیں لے سکتی ان کا بیشتر حصہ اللہ نے مسلمانوں کی زمین کے نیچے رکھا ہے ،دنیا میں کل پیٹرول کی کھپت کا 75 فیصد مسلم ممالک سے ہی حاصل ہوتا ہے، اسی طرح غذائی اجناس کی پیداوار میں بھی مسلم دنیا کا حصہ تقریبا 25 فیصد ہے، دنیا کا تقریبا 18 فیصد سونا اور ایسے ہی اہم ترین قیمتی معدنیات میں بھی 17 سے 20 فیصد حصہ مسلم دنیا کا ہے ۔اس طرح یہی معاملہ جغرافیائی اہمیت کا بھی ہے۔ دنیا کے سب سے اہم سمندری راستے، بندرگاہیں ،سڑکیں، پہاڑ اور موسم مسلم ممالک کے ہی حصے میں آئے ہیں ۔ یہ سب وہ نعمتیں ہیں جو خود اللہ تعالی نے مسلمانوں کو عطا فرمائی ہیں، ان میں سے کچھ بھی مسلمانوں نے خود اپنی کاوش کے نتیجے میں بپا نہیں کیا۔ بلکہ قدرتی طور پر ان کو عطا ہوئی ہیں۔ جہاں تک بنانے کا تعلق ہے تو دنیا کی عظیم ترین یونیورسٹیوں کے قیام میں مسلمانوں کا حصہ بہت کم رہ گیا ہے، صحت کے شعبے اور ریسرچ میں اب ان کا کوئی مقام نہیں بچا ،صنعتی ترقی میں بھی اب مزدور کی حیثیت زیادہ رہ گئی ہے ،معاشرتی طور پر سماج بڑے پیمانے پر اخلاق باختہ ہے، دینی طور پر عقیدہ تو بہت مستحکم ہے لیکن عمل میں کمزور ہو چکے ہیں ۔یہ وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے دنیا کے اہم ترین وسائل ہاتھ میں ہونے کے باوجود عالمی رائے عامہ میں مسلمانوں کی آواز بے اثر سمجھی جاتی ہے۔ بیشتر مغربی ایشیائی اور افریقی ممالک میں لگاتار لمبی لمبی جنگوں کا سلسلہ بھی دراصل اسی لیے جاری رہتا ہے کہ ان زمینوں میں پوشیدہ خزانوں پر استعماری اور صیہونی طاقتیں خود قبضہ کرنا چاہتی ہیں یا عالمی منڈی میں ان کی ترسیل کو روکنا چاہتی ہیں تاکہ ان ممالک کے عوام بھوکے ننگی رہیں اور حکمراں ان کے غلام رہیں ۔مسلم ممالک کے حکمراں خود بھی ان حالات سے واقف ہیں ۔مذکورہ بالا اعداد و شمار تقریبا سبھی جانتے ہیں یہ عام طور پر ہر جگہ دستیاب ہیں ،لیکن ذاتی ہوس اقتدار کے آگے اپنی قومی مفادات کو نظر انداز کرنا اور اللہ سے بے خوفی کے تحت اپنےہی ملک کے لوگوں کو اپنا غلام بنائے رکھنا اور خود اپنے سے اوپر والوں کی غلامی اختیار کر لیتے ہیں ۔بحیثیت مجموعی امت کے مفادات سے انہیں کوئی علاقہ نہیں ہے۔ امت اسلامیہ کے لیے ایک ہی سلور لائن یہ ہے کہ آج بھی اللہ کی وحدانیت اور حرمت رسول کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹا بھلے ہی اعمال میں فساد ،شر، مسلک کی تفریق، بدمعاملگی جیسے عناصر شدت کے ساتھ سرایت کر ائے ہیں۔سماجی اجتماعیت کے نظریے سے عاری ،انفرادی مفادات پر کچھ بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ یہ ایمان فاسق تو ہو سکتا ہے مگر انکاری نہیں ہے۔ یہیں سے آگے بڑھنا ہوگا اور ہم میں سے ہر شخص کو اپنی ذات کا محاسبہ کرنا ہوگا کہ جب اللہ نے اپنے تمام وعدے پورے کرتے ہوئے اپنی تمام نعمتیں ہم پر تمام کر دی ہیں تو کیا ہم نے بھی اللہ سے جو وعدہ کر رکھا ہے اسے پورا کر دیا ہے؟ اگر نہیں کر پائے ہیں تو کمی کہاں رہ گئی ہے اور کیسے دور کی جا سکتی ہے جس دن انفرادی طور پر ہم میں سے ہر شخص اپنا یہ محاسبہ کر کے خود اپنی اصلاح شروع کر لے گا تو امت کے حالات بھی بدلنے لگیں گے غلبہ ہمیشہ ایمان کے ساتھ ہی مشروط رہے گا ۔ اور تم اللہ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے (سورہ رحمن)۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں)۔
[email protected]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button