مضامین و مقالات

ھمارا تصور دین

 

*تحریر و ترتیب ، س م ظفر*

دین کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء، ذکر و اذکار، عبادات نمازیں پڑھنا نھیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی لازمی ھے،
چونکہ قرآن کریم عربی زبان میں ھے، ھمیں ایک فلسفے و دلیل کے ذریعے یہ سمجھا دیا گیا کہ خبردار ! اس کے عربی متن سے قرآن فہمی کی کوشش ہرگز مت کرنا ورنہ گمراہ ھو جاؤ، براہ راست عربی متن سے قرآن فہمی کے لیے تو 7علوم سے 12 علوم میں مہارت حاصل کرنا ضروری ہے، یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اس لئے پہلے سے کئے کئے مستند علماء کرام کے تراجم ہی سے قرآن فہمی کی کوشش کی جائے۔ کچھ اس طرح ھمیں قرآن کریم کے معنی و مطالب اور اس کی اصل روح سے دور کردیا گیا تھا،

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہود ونصاریٰ کی نافرمانیوں کی تاریخ اور ان کی خصوصیات تفصیل سے بیان فرمائی ھیں، کہ کس طرح وہ حق کو چھوپاتے اور حق کو باطل کو ملا دیتے تھے، اور لوگوں کو اپنی مرضی کے فتوے فروخت کرتے تھے،

یہی تصور آج کل سیکولرزم لبرلزم کا ھے، کہ مذھب کا تعلق فرد کی ذاتی زندگی کا عقیدہ ہوجا پاٹ دعائیں ثواب دارین سے ھے، جس کا ھماری اجتماعی معاشرتی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ھے، کمیونزم شوشلزم میں مذھبی عقیدے کو ایک افیون کا نشہ سمجھا جاتا ھے جس سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ھے،

یہی وہ میٹھا زہر امت مسلمہ کو دیا جارہا

ھمیں ان دنیا کے معملات سیاست و حکومت کے جھگڑوں سے الگ ھوکر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادات ذکر و اذکار، رسومات نوافل، دعائیں، قرآن خوانیاں، نعت خوانیاں، تلاوت قرآن،حفظ و ناظرہ، پر توجہ دینی چاہیے، اس طرح اپنے آپ کو درست کرنا چاہیے، جس سے معاشرے کے حالات خودبخود درست ھو جائیں گے، معاشرے میں ظلم اور برائیوں کے خلاف جدو جہد و جہاد کرنا سیاست ھے، جو شجر ممنوعہ اور حرام ھے

اس طرح ھم نے قرآن کریم کو اپنی زندگی کے اجتماعی معملات سیاست و حکومت سے الگ کر کے صرف دعائیں برکت و ثواب دارین، اور نیکیوں کی گنتی شمار کرکے نجات پر مطمئن ہوگئے،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button