
آج کا نوجوان اور جیم کا فیشن: طبی اور شرعی نقطہ نظر
موجودہ دور میں نوجوانوں کے اندر جیم جانے اور باڈی بلڈنگ کا زبردست فیشن چل پڑا ہے۔ اپنی صحت کا خیال رکھنا اور جسم کو متحرک رکھنا یقیناً ایک بہترین عادت ہے، لیکن جب یہ فیشن اندھی تقلید اور نمائش بن جائے تو اس کے مثبت پہلو کم اور نقصانات زیادہ سامنے آنے لگتے ہیں۔
جیم جانا یا جسمانی ورزش کرنا بذاتِ خود غلط نہیں ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں ورزش انسان کو سستی سے بچاتی ہے اور جسم کو توانا رکھتی ہے۔ لیکن غلطی وہاں ہوتی ہے جہاں نوجوان جلد از جلد باڈی بنانے کے لیے شارٹ کٹ اپنا لیتے ہیں۔
طبی سائنس کے مطابق حد سے زیادہ اور غلط طریقے سے جیم کرنے کے درج ذیل نقصانات ہو سکتے ہیں: آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں
جوڑوں اور پٹھوں کی چوٹ: بھاری وزن غلط زاویے سے اٹھانے پر گھٹنوں، کندھوں اور بالخصوص کمر کے مہروں (Spine) پر شدید دباؤ پڑتا ہے، جس سے ڈسک سلپ (Disk Slip) اور جوڑوں کے مستقل مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
جلد مسلز بنانے کے چکر میں نوجوان جو پروٹین پاؤڈر اور کیمیکلز لیتے ہیں، وہ گردوں (Kidneys) اور جگر (Liver) پر شدید دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے گردے فیل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
باڈی بلڈنگ میں دیے جانے والے سٹیرائڈز انسان کے ہارمونل نظام کو تباہ کر دیتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر، دل کا دورہ اور بے اولادی جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
جہاں جیم میں سخت اور مصنوعی طریقے سے جسم پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، وہی دینِ اسلام نے "نماز” کی صورت میں انسان کو ایک بہترین، قدرتی اور متوازن روحانی و جسمانی ورزش عطا کی ہے۔
نماز میں روزانہ پانچ وقت قیام، رکوع، سجدہ اور قعدہ کی صورت میں انسان اٹھ بیٹھ کرتا ہے۔اب بات ذرا رکوع کی کریں تو رکوع سے کمر کے مہروں کی لچک برقرار رہتی ہے، سجدے سے دماغ اور چہرے کی طرف خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے جو ذہن کو سکون دیتا ہے اور گھٹنوں کی قدرتی ورزش ہوتی ہے۔
نماز انسان کو بغیر کسی جسمانی نقصان یا اضافی دباؤ کے قدرتی طور پر متحرک اور فٹ رکھتی ہے۔ یہ صرف جسم کی نہیں بلکہ روح اور ذہن کی بھی تسکین کا ذریعہ ہے۔
جیم کرنا یا ورزش کرنا کہیں سے کہیں تک غلط نہیں ہے، بشرطیکہ یہ قدرتی خوراک، صحیح تربیت اور اعتدال کے ساتھ ہو۔ لیکن اگر ہم اپنی روزمرہ کی نمازوں کو پابندی اور سکون سے ادا کریں، تو یہ نہ صرف ہماری آخرت کا سامان ہے بلکہ ہمارے جسمانی اور ذہنی توازن کو برقرار رکھنے کا سب سے بہترین قدرتی ذریعہ بھی ہے۔
مضمون نگار
ڈاکٹر نوشاد عثمانی
ایڈمنسٹریٹر
رام شیلا اسپتال
مدھوبنی بہار



