مضامین و مقالات

مکہ اعلامیہ: ذرا نم ہو تو یہ مٹی۔۔۔

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

گزشتہ ہفتے مکہ میں سعودی عرب پاکستان اور ترکی کے مابین اقتصادی،عسکری معاہدہ عمل میں آیا ۔اس سے قبل ستمبر 2025 میں ایسا ہی معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہو چکا ہے ،جس میں ترکی کی شرکت نے اسے مزید مستحکم بنادیا ہے ۔گو کہ اس معاہدے کی تفصیلی دستاویز ابھی منظر عام پر نہیں ہے لیکن مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی اقتصادیات، پاکستان کی فوجی اور ایٹمی توانائی اور ترکی کی ہتھیاروں کی جدید پیداوار کا اب یہ تینوں ممالک مشترکہ استعمال کتیں گے اور تینوں میں سے کسی بھی ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا ۔جس کا مقابلہ تینوں مل کر کریں گے۔ مزید کچھ دیگر ممالک کی شامل کیے جا سکتے ہیں جس میں مصر اگلا شریک ہو سکتا ہے۔ دیگرخلیجی اور افریقی ممالک کو بھی دعوت دی جا سکتی ہے ۔اس معاہدہ پر دنیا کے مختلف ممالک نے مختلف انداز میں رد عمل ظاہر کیا ہے۔ جہاں ایک طرف مغربی ممالک اسے بے اثر قرار دے کر رد کر رہے ہیں تو دوسرے بہت سے ممالک شکوک و شباب شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ اس سے نالاں ہیں۔خودمسلم ممالک کا رد عمل بھی یکساں نہیں ہے، خصوصا ایران جو ابھی حالت جنگ میں ہے وہ اسےاپنے خلاف ایک محاذ کی تیاری کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایرانی قیادت نے اسے خارج کیا ہے ،البتہ ابھی دو دن قبل ایرانی صدر نے مبہم انداز میں یہ کہتے ہوئے خیر مقدم کیا کہ یہ عالم اسلام کے اتحاد کا وقت ہے اگر اس معاہدے سے اتحاد کی راہ نکلتی ہے تو خیر مقدم ہے ۔وہیں خلیجی ریاستیں خصوصا متحدہ عرب امارات اس پر خاموش ہیں تو اکثر ممالک اس کا خیر مقدم کر رہے ہیں ۔ادھر بھارت نے بھی اس معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ البتہ عوامی سطح پر عالم اسلام میں اس پر کافی خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عام طور پر اسے ایک مسلم ناٹوکی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے ،حالانکہ اس معاہدے کے بارے میں واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ محض ایک دفاعی معاہدہ ہے اور کوئی فوجی الحاق اس کے پیش نظر نہیں ہے۔ نیز ان تینوں ممالک کے دیگر ممالک کے ساتھ جو بھی روابط اور معاہدے پہلے سے موجود ہیں وہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے ۔اس لیے اسے ناٹو کا نام دینا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے ویسے بھی اگست 1949 میں اپنے قیام سے لے کے اب تک ناٹو کے اقدامات عموما جارحانہ نوعیت کے رہے ہیں۔ بو سنیا سے لے کر عراق، افغانستان تک ناٹو کے عیسائی یورپی ممالک کےاس اتحاد نے ہمیشہ جاریت ہی بپاکی ہے۔ حالانکہ ترکی اس میں تنہا مسلم ملک ہونے کے ساتھ اس کا دوسرا سب سے بڑا شریک بھی رہا ہے۔ لیکن وہاں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے ترکی نے بہت زیادہ فعال حصہ نہیں لیا ۔اس لیے خوش ہونے والوں کو بھی یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہم کن اصطلاحوں کا استعمال کر رہے ہیں۔
معاہدے کا پس منظر تو سب کے ذہن میں ہے۔ سات اکتوبر 2023 کو غزہ میں ۲۰۰۷سے جاری محاصرے کے خلاف حماس کی بڑی کاروائی نے مغربی ایشیا میں خطے جاتی سیاست کےنئے نقشے مرتب کیے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کا جو رول سامنے آیا ہے اس نے پورے خطے کے امریکی حلیفوں کو مشکوک و مضطرب کر دیا ہے ، صاف کہا جانے لگا ہے کہ امریکی ریشہ دوانیاں محض اسرائیل کے تحفظ کے خاطر ہیں ۔رہی سہی کسران کت ایران پرحملے نے پوری کر دی۔ جب ایران نے خلیج اور اطراف کے ممالک پر امریکی فوجی اڈوں اور اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچایا تو امریکہ خود اپنے اڈوں کی حفاظت کرنے سے قاصر رہا اور سیکیورٹی کے جدید ترین آلات وہاں سے اٹھا کر اسرائیل منتقل کر دیے، ان کے اکثرفوجی بھی وہاں سے فرار ہو گئے، کھربوں ڈالر خرچ کرنے والے ان ممالک نے سمجھ لیا کہ امریکہ ان حفاظت کا متعمل نہیں ہو سکتا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے گوادر سے لے کر مشرقی چین تک معاشی کوریڈور جو تقریبا 46کھرب ڈالر کے پروجیکٹ ہے اس سےبراہ راست خلیجی ممالک کے تیل کی فروخت ہوگی۔ علاوہ ازیں محمد بن سلمان مملکت کے لیے اقتصادی اور عسکری حفاظت کی خاطر متبادلات کی تلاش ایک عرصے سے کر رہے ہیں۔ اس لیے سعودی عرب گزشتہ 10 سال میں بہت تیزی سے بدلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
دنیا بھر کے سفارتی ماہرین اس معاہدے کے نفوذ کے لے کرمایوسی کا ہی اظہار کر رہے ہیں۔ ماضی میں اس طرح کے بہت سے معاہدات سعودی عرب میں مکہ اعلامیہ کے نام سے ہوتے رہے ہیں ،تقریبا سب ہی بے اثر ثابت ہوئے ہیں، ۱۹۸۳ سے لے کر اب تک ہونے والے اس قسم کے تقریبا 10 معاہدوں کی ایک فہرست موجود ہے۔ محض دسمبر 2015 میں سعودی عرب کی ہی قیادت میں 32 مسلم ممالک کا ایک فوجی وفا ق ’’مسلم فوجی انسداد دہشت گردی وفاق ‘‘کے نام سے قائم ہوا تھا اب اس وفاق میں 45 مسلم ممالک شریک ہیں، ایران اس کا حصہ نہیں ہے، اس کے سپہ سالار پاکستان کے سابق فوجی چیف راحیل شریف ہیں اور اس کا صدر دفتر ریاض میں قائم ہے۔ جب یہ وفا ق قائم ہوا تھا تب اسےبھی مسلم ناٹوکہا گیا تھا ۔لیکن 11 سال میں اس کی کارکردگی دفتری خانہ پوری کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتی ۔کسی ایک مسلم ملک میں بھی دہشت گردی کو نہیں روکا جا سکا۔ غزہ میں اسرائیل کی دہشت گردی کا حال سب کے سامنے ہے ان 43 ممالک میں سے کس کی فوج نے اس دہشت گردی کو روکنے کے اقدامات کیے؟ اسی طرح بیشتر افریقی مسلم ممالک میں خارجی اور اندرونی دہشت گردی کے بہت سے سلسلے جاری ہیں جن میں سے کچھ تو مسلم ممالک ہی فروغ دے رہے ہیں ۔یمن کی دہشت گردی اور خانہ جنگی میں کن کن ممالک کا ہاتھ ہے یہ بھی واضح ہے۔ ایسے میں ایک برائے نام فوجی وفاق کس کے مفاد میں کام کرتا ہے یہ سمجھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح اگر ان تینوں ممالک کی اپنی علاقائی پوزیشن پر نظر ڈالیں اور ان کے پڑوسی ممالک اور عالمی اداروں کے ساتھ انفرادی معاہدوں پر غور کریں تو بھی صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ معاہدے کی شق کے مطابق یہ ان مقامی معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں تو تینوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونے کی حالت میں نہیں رہ جاتا ۔مثلا ترکی ناٹوں کا سب سے اہم شریک ہے جو ہمیشہ ایشیائی ممالک کے مفادات کے خلاف ہی ریغ بکف رہا ہے، اسی طرح پاکستان اپنے جنوبی پڑوس میں ایران کے ساتھ کسی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا ،بہرحال اعلان کرے یا نہ کرے ایران بھی اب ایک ایٹمی طاقت بننے کے بہت قریب ہے ۔حالیہ جنگ میں وہ مغربی ایثیا میں اپنی فوجی اور اقتصادی بالادستی ثابت کر چکا ہے ۔پاکستان اور سعودی عرب کے مابین پہلے سے موجود معاہدے کے باوجود سعودی عرب میں امریکی مفادات پر ایرانی حملے کے وقت خاموشی رہا ،ممکن ہے یہ کہا جائے کہ وہ حملے سعودی عرب پر براہ راست نہیں تھے اس لیے پاکستان خاموش رہا ،لیکن حملہ تو بہرحال سعودی سرزمین پر ہی تھا ،دوسری طرف پاکستان کے شمالی پڑوس میں بھارت کو ایک قابل لحاظ ہے ایٹمی طاقت ہے جس سےتعلقات ہمیشہ نہ صرف کشیدہ بلکہ دشمنانہ ہی رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھارت اور سعودی عرب کے مابین بہت سے معاہدے ہوئے اور سعودی عرب کی اچھی خاصی سرمایہ کاری بھارت میں موجود ہے۔ سعودی عرب کا اہم ترین ایوارڈ بھی بھارت کے وزیراعظم لے چکے ہیں، ایسے میں بھارت پاکستان کے بیچ چپقلش ہو تو سعودی عرب کیلئے پاکستان کی مدد کیسے کرے گا؟ اقتصادی طور پر دیوالیہ پن کے قریب کھڑے ،سیاسی طور پرعدم استحکام کا شکار اور سماجی بے راہ روی سے دوچار مملکت خداداد کا شیرازہ منتشر ہونے کے قریب ہے ۔ایسے میں محض ایٹمی طاقت ہونے کے نام پر بقیہ دونوں شریک ممالک اس کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ گزشتہ نصف صدی سے سعودی عرب اور ترکی دونوں ہی ممالک پاکستان کو اقتصادی طور پر مدد کرتے رہے ہیں جس کا فائدہ وہ نہین اٹھا سکا ایسے میں ترکی اپنے جنوبی سرحد پر سیریا اور جنوب مشرق میں ایران کا پڑوسی ہے اور دونوں کردوںکے مسئلے کی وجہ سے ایک دوسرے کے حریف بننے کی سکت نہیں رکھتے۔
اس تناظر میں اس کی تنفیذاور اثر انگیزی اس وقت تک ممکن نہیں ہے کہ جب تک مغربی ایشیا کے کسی بھی وفاق میں ایران کو لازمی شریک نہ بنایا جائے ۔۲۰۱۰کے بعد سےخطے میں یہ صورتحال بہت واضح ہے کہ ایران اس علاقے میں قابل لحاظ طاقت ہے اور اسے نظر انداز کر کے ایشیا میں پائیدار قیام امن کی ہر کوشش ناکام رہے گی ۔ تقریبا تین سال کے حالات بھی بہت نمایاں طور پر واضح کر چکے ہیں کہ مسلم اتحاد کا نعرہ مسلکی علیحد کی پسندی قائم رکھتے ہوئے بے سود و بے فیض کھوکھلا ثابت ہوا ہے۔ سعودی عرب ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کر چکا ہے اسے بھی سوچنا چاہیے کہ جس طرح جدید سوچ کے ساتھ متبادل اقتصابیات دینے کی کوشش کی جارہی ہے اسی طرح اب مسلکی مکڑ جال سے بھی باہر نکلنا ہوگا ۔امریکہ اور اسرائیل ایک طرف سنی غزہ پر حملہ کر کے برباد کر رہے ہیں تو دوسری طرف شیعہ ایران کو بھی برباد کر رہے ہیں ۔اس سے قبل عراق افغانستان اور لیبیا سبھی سنی تھے۔سارے افریقی مسلم ممالک بھی سنی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اب مسلک و مشرب سے اوپر اٹھ کر عالمی اتحاد اسلامی کی جانب ،مخلصانہ پیش رفت کی جائے۔غور کر کے دیکھیں کہ اگران تین ممالک کے ساتھ اس میں ایران بھی شریک ہوتا تو یہ کس قدر طاقتور اور قابل عمل ہو سکتا تھا ۔ اس کی عدم شرکت ظاہر کر رہی ہے کہ اس پردہ زنگاری میں پرانے معشوق بھی فعال ہیں۔ اس لیے مسلم عوام نظروں کو خیرہ کر دینے والے ان مظاہر سے خوش ہونے سے قبل پردے کے پیچھے بھی جھانک لینا چاہیے ۔ان تمام حالات کے باوجود اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عالم اسلام کو فی زمانہ ایک عملا اتحاد کی شدید ضرورت ہے یہ اگر اس کی پہل ہے اور مخلصانہ کاوش ہے تو اسے بلا تقریق مسلک وسیع ہونے کی توقع رکھنی چاہیے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر اس کی بھرپور تائید بھی کی جانی چاہیے۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں )
[email protected]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button