اسلامیات،افسانہ و غزلیات

حی علی الفلاح… مگر اُس کے لئے نہیں!

احساس نایاب شیموگہ۔۔۔

رات کے سناٹے کو چیرتی ہوئی اذان کی صدا نے جیسے خاموش فضا میں سکون کی ایک لطیف لہر دوڑا دی تھی۔
شاہین، جو کچھ ہی دیر پہلے سارے گھر والوں کو سحری کروا کر خود بھی سحری سے فارغ ہوئی تھی، جلدی سے دسترخوان پر بکھرے برتن سمیٹی۔ سر پر دوپٹہ سنبھالتے ہوئے اس نے رسوئی کا بھی سارا کام سمیٹا، اور اذان کی آواز کے ساتھ ہی کمرے کے دراز میں رکھی ٹوپی نکال کر بابا کے پاس آئی۔
بابا نے مسکراتے ہوئے بیٹی کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے ٹوپی لے لی۔
وہ “اللہ حافظ” کہتے ہوئے گیٹ کی طرف مُڑے تو شاہین نے بھی دھیمی آواز میں “اللہ حافظ” کہا اور فوراً کمرے کی بالکنی میں آکھڑی ہوئی۔
سیاہ، کھلا آسمان…
اس پر چاند ستاروں کی جگمگاہٹ…
یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے سیاہ مخملی آنچل کو ہیرے اور موتیوں سے سجا دیا ہو۔
نرم ہوا کے جھونکوں کے درمیان وہ خاموشی سے آسمان کو دیکھتی رہی۔
سفید ریشمی لباس پہنے، سر پر سفید دوپٹہ اوڑھے جس پر بادلے کا باریک ورک جھلملارہا تھا،
ہوا کے ہلکے سے جھونکے سے لہراتی زلف کو کان کے پیچھے کرتی ہوئی،
وہ خود بھی چودھویں کے چاند کی طرح پُرسکون اور روشن دکھائی دے رہی تھی۔
اس کی بچپن سے عادت تھی کہ جب بھی وہ گھر پر ہوتی، اذان کی آواز کے ساتھ ہی دوڑ کر بالکنی میں آجاتی۔
وہ اپنے بابا اور بھائیوں کے ساتھ محلے کے دیگر نمازیوں کو مسجد جاتے ہوئے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتی تھی،
اور آج بھی اسی حسرت کے ساتھ وہ بابا کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
کمرے سے ماں کی آواز آئی،
“شاہین بیٹا، ابھی آجاؤ… نماز کے لئے دیر ہو رہی ہے۔
“جی امی، آئی…”
وہ مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی اور ایک معصومانہ، ہلکی سی شکایت بھرے لہجے میں ماں سے کہنے لگی،
امی، بابا اور بھائی کتنے لکی ہیں ۔۔۔ وہ جب چاہیں اللہ کے گھر جا سکتے ہیں۔ مگر ہم کیوں نہیں ؟
کیا اللہ میاں کو عورتوں سے اتنی خفگی ہے کہ ہمیں اپنے گھر سے دور رکھا ہے ؟
یہ کہتے ہوئے اس نے ہلکا سا منہ پھلا لیا۔
امی نے محبت سے مسکراتے ہوئے اس کا ماتھا چوما،
اور نرمی سے اسے اپنے قریب بٹھا لیا۔
نمازِ فجر اور تلاوتِ قرآن کے بعد وہ اپنے کالج کے اسائنمنٹس تیار کرنے بیٹھ گئی۔
کالج کا وقت ہو رہا تھا، اس لئے وہ جلدی سے تیار ہوئی اور وقت پر کالج کے لئے نکل گئی۔
شاہین ایک مڈل کلاس، مہذب اور باوقار گھرانے کی بیٹی تھی۔
پردے کی پابند ہونے کے باوجود وہ کالج کی ایک ہونہار، باصلاحیت اور ٹاپر طالبہ تھی،
جس کی سنجیدگی، شائستگی اور خاموش محنت اس کی شخصیت کو اور بھی نمایاں بنا دیتی ہے۔
کالج میں ہو رہے اس ایونٹ کے لئے طلبہ کے باقاعدہ گروپس بنائے گئے تھے۔
شاہین کو بھی اپنی پریزینٹیشن پیش کرنی تھی۔ ایک تو روزے کی حالت، اُس پر ایونٹ کو لے کر چار دن کی مسلسل بھاگ دوڑ، نیند سے محروم راتیں، فائلیں، سلائیڈرز، مشقیں، سب کچھ اس کی تھکن میں شامل ہو چکا تھا۔
لنچ بریک ہوا تو وہ روزے سے تھی۔ بھوک سے زیادہ اسے سکون کی تلاش تھی۔
کچھ دیر سستانے کی نیت سے وہ کالج کے قریب واقع پارک کی طرف نکل آئی۔
دوپہر کا سنہرا وقت تھا۔
پارک تقریباً خالی تھا، ہلکی دھوپ میں نرم ہوائیں چل رہی تھیں۔ سبز گھاس کی تازگی اور رنگ برنگے پھول آنکھوں کو عجیب سی ٹھنڈک دے رہے تھے۔
وہ ایک سایہ دار درخت کے نیچے بینچ پر آکر بیٹھ گئی، بیگ سائیڈ میں رکھا اور آہستہ سے آنکھیں موند لیں۔
یوں لگا جیسے برسوں کی تھکن اس کے وجود سے اتر رہی ہو۔
اس دوران اسے وقت کا بالکل احساس نہ رہا۔
اچانک جب اذان کی پرسکون آواز مسجد کے مینار سے ابھری تو وہ سیدھی دل کی گہرائی میں اترتی محسوس ہوئی۔
وہ چونک کر اٹھی۔
پارک کے سامنے مسجد کا صحن تھا۔ مرد وضو کر رہے تھے، صفیں بن رہی تھیں۔
ایک بار پھر اس کے دل میں برسوں پرانی چبھن جاگ اٹھی۔
کتنی ہی بار اس نے سوچا تھا ۔
کاش مسجد میں عورتوں کے لئے بھی ایک کمرہ ہوتا…
کاش ہم بھی اللہ کے گھر میں چند لمحے سکون سے گزار سکتے…
کاش ہمیں فتنہ کہہ کر دروازوں کے باہر نہ رکھا جاتا۔
وہ اس محرومی کو شدت سے محسوس کر رہی تھی۔
شاہین کے علاوہ اُس کی مسلم سہیلیاں بھی اکثر یہی کہتی تھیں کہ جب کالج میں کلاسز نہیں ہوتیں تو مجبوری میں پارکوں، ہوٹلس یا مالس میں وقت گزارنا پڑتا ہے۔
اگر مسجد میں ان کے لئے بھی ایک گوشہ ہوتا تو عبادت بھی ہو جاتی اور دل کو سکون بھی ملتا۔
آج بھی اگر شاہین کو مسجد کے کسی کونے میں تھوڑی سی بھی جگہ مل جاتی، تو وہ یوں پارک میں آکر نہ بیٹھتی۔
یہی سوالات، یہی خیالات اس کے دل و دماغ میں گردش کر رہے تھے۔
اس نے سر پر حجاب درست کیا اور چُپ چاپ مسجد کی طرف دیکھتی رہی۔
نماز شروع ہو چکی تھی۔
امام مسجد کی پُرسکون آواز، اور سجدوں کی ہم آہنگی ۔
یہ سب اس کے دل کو ایک عجیب، گہرا اور خاموش سکون عطا کر رہے تھے۔
اُس لمحے پیچھے سے کسی کی ہلکی سی آہٹ ہوئی۔
وہ مُڑی تو دیکھا، رمیش تھا۔ اس کا کلاس فیلو، پریزینٹیشن گروپ کا ساتھی۔
وہ مسکرایا، تو شاہین نے بھی تھکی ہوئی سی ایک ہلکی مسکراہٹ سے جواب دیا۔
رمیش، ایونٹ ختم ہو گیا کیا ؟
شاہین نے قدرے نرم لہجے میں پوچھا۔
ہاں… وہ آہستگی سے بولا۔
رمیش نے غیر ارادی طور پر بینچ پر ذرا سا فاصلے پر بیٹھ گیا۔
دونوں کے درمیان گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا
پریزینٹیشن، رزلٹ، پروفیسر کی تعریف، اور ایونٹ کی تھکن۔
باتیں سادہ تھیں، ماحول پرسکون تھا، اور وہ دونوں حالات سے بالکل بےخبر اپنی گفتگو میں مگن تھے۔
اسی اثنا میں نماز ختم ہو چکی تھی،
اور مسجد سے ایک ایک کر کے نمازی باہر نکلنے لگے۔
اچانک چند نوجوان لڑکوں کی نظر پارک میں بیٹھی شاہین اور رمیش پر پڑی۔
ملک کے ماحول میں پہلے ہی “گھر واپسی” اور مذہبی حساسیت کے نام پر خوف اور شکوک کا بیج بویا جا چکا تھا۔
لڑکوں نے جب شاہین کو رمیش کے ساتھ بیٹھے دیکھا تو ان کے اندر کی نام نہاد غیرت اور جذبات بھڑک اٹھے۔
دس، پندرہ لڑکے، جن کی عمریں سترہ سے بیس سال کے درمیان تھیں، تیزی سے پارک کی طرف بڑھے۔
موبائل کیمرے آن، آنکھوں میں غصہ، اور چہروں پر فیصلہ سنانے والی سختی۔
شاہین اور رمیش اب بھی حالات سے بےخبر باتوں میں مصروف تھے۔
انہیں لمحے بھر کے لئے بھی اس بات کا گمان نہ تھا کہ ایک معمولی سی بیٹھک اس قدر طوفان بن سکتی ہے۔
لڑکے قریب آئے تو اچانک ان میں سے ایک نے آگے بڑھ کر رمیش کا کالر پکڑ لیا۔
دوسرے نے شاہین کے ہاتھ سے اس کا موبائل چھین لیا۔
“کیا تمہیں قوم کی عزت کا ذرا بھی خیال نہیں ؟
ایک نوجوان غصے سے چلایا۔
دوسرا طنزیہ آواز میں بولا،
“مسلمان لڑکے مر گئے کیا ؟ جو تم کافروں کے پیچھے پڑکر قوم کی عزتیں برباد کررہی ہو ”
شاہین کچھ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی۔ خوف اور دہشت سے اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
زبان پر جیسے قفل پڑ چکا تھا، حلق خشک ہو گیا تھا۔ وہ چاہ کر بھی کچھ نہ کہہ پائی۔
جب ایک لڑکے نے فوراً ویڈیو بنانی شروع کر دی۔ تو
شاہین گھبرا گئی۔
روتی، گڑگڑاتی، بار بار کچھ کہنے کی کوشش کرتی رہی، مگر اس کے حلق سے آواز ہی نہیں نکل پا رہی تھی۔
ادھر رمیش بھی شدید گھبراہٹ میں صفائی دینا چاہ رہا تھا، مگر کوئی اس کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔
ایک طرف خوف…
دوسری طرف مشتعل غیرت کا شور…
اسی ہجوم میں ایک نوجوان، جو نسبتاً سنجیدہ اور قدرے سمجھدار نظر آ رہا تھا، آگے بڑھا۔
اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ سے رمیش کا کالر چھڑایا اور اسے سخت لہجے میں کہا،
“تم یہاں سے فوراً چلے جاؤ ”
رمیش، جو پہلے ہی خوفزدہ تھا، کچھ کہے بغیر وہاں سے تیزی سے نکل گیا۔
شاہین اب بھی وہیں کھڑی تھی ۔
ڈری، سہمی، کانپتی ہوئی۔
اس نے بار بار اپنی صفائی دینے کی کوشش کی، مگر کسی نے اس کی بےگناہی پر یقین نہ کیا۔
بالآخر مسجد کمیٹی کے ذمہ داران کو فون کیا گیا۔
مسجد کمیٹی کے صدر حاجی فاروق صاحب، نے حکم دیا کہ لڑکی کو مسجد کے صحن میں لے کر آیا جائے۔
شاہین روتی ہوئی ان لڑکوں کے ساتھ مسجد کی طرف لے جائی گئی۔
اتنے میں یہ خبر پورے شہر میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی، موقعہ کی ویڈیوز وائرل ہوگئی تھی۔
کہ ایک مسلم لڑکی کو ایک ہندو لڑکے کے ساتھ پارک میں “رنگے ہاتھوں” پکڑا گیا ہے…
مسجد کے صحن میں عمر دراز مردوں اور نوعمر لڑکوں کی بھیڑ تھی۔ جیسے کوئی تماشہ لگا ہو۔
نماز کے وقت کبھی اتنا مجموعہ نہیں دیکھا گیا تھا جتنی بھیڑ اس تماشے کو دیکھنے کے لئے امڈی تھی،
بھیڑ کے آگے شاہین ہاری ہوئی سلطنت کی قیدی کی طرح کھڑی تھی۔
اور سب قاضی بنے ہوئے تھے۔
ہر ہاتھ میں موبائل تھا، سب ویڈیو بنانے کے لئے بےقرار تھے، اور ہر آنکھ میں فیصلہ سنانے کی جلدی، فضا میں شور تھا، مگر اس شور سے زیادہ خوفناک وہ خاموشی تھی جو ایک تنہا کمزور لڑکی کے گرد دیوار بنائے کھڑی تھی،
ہجوم کے بیچ سے مفتی صاحب کی بھاری آواز گونجی
"یہ بددین ہے، بےحیا ہے… اسلام کا نام بدنام کر رہی ہے ”
آواز ابھی دیواروں سے ٹکرانا شروع ہی ہوئی تھی کہ مسجد کمیٹی کے صدر حاجی فاروق صاحب نے بھی گرجدار آواز میں اعلان سا کردیا۔
ناجانے یہ کتنوں کو پیدا ہوئی ہے۔
"ان کا سوشل بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ ایسی لڑکیوں کو تو کفن بھی نہیں دینا چاہیے۔
"ہاں ہاں، صدر صاحب نے بالکل صحیح فرمایا”
ہجوم نے ایک ہی سانس میں تائید کی، گویہ سب کے اندر چھُپی عدالت کو آج فیصلہ سنانے کا موقع مل گیا ہو۔
صحن کی دیوار کے ایک کونے میں ڈری سہمی شاہین خود کو سمیٹنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
وہ حیران تھی… وہ سمجھ نہیں پارہی تھی، کہ کیا واقعی صرف ایک بینچ پر بیٹھ جانا ہی اس کا گناہ تھا ؟
اتنے میں بھیڑ سے ایک اور آواز گونجی
فون کرکے اس بےحیا کے ماں باپ کو بلایا جائے، یہ سب انہیں کی تربیعت کا نتیجہ ہے۔
شاہین کے کانوں میں جیسے ہی یہ آواز گونجی، وہ تڑپ کر رہ گئی
اب اس کے صبر کا باندھ ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔۔
اُس نے چیخ کر کہا
مسجد کی دیواریں خاموش تھیں،
مگر اس خاموشی میں ایک سوال دفن تھا ۔
“کیا اللہ کا گھر صرف مردوں کا ہے؟”
شاہین اب بھی ہجوم کے بیچ کھڑی تھی، اس کی آنکھوں میں نمی، لبوں پر لرزش تھی، اُس کا وجود کانپ رہا تھا۔ اور لبوں پر برسوں کا جمع ہوا سوال تھا۔۔
“مجھے فتنہ کہہ کر اللہ کے گھر سے دور کردیا گیا۔۔۔ کیا میرے سجدے بھی فتنہ تھے ؟ میرے روزے، میری ساری عبادتیں بھی فتنہ ہیں ؟
آج اگر اللہ کے گھر کا دروازہ میرے لئے کھُلا ہوتا، تو مجھے پارک کی بینچ کو اپنی پناہ گاہ نہ بنانا پڑتا۔۔۔
لوگوں کی نظریں ایک لمحے کے لئے جھکیں، مگر اس کے لئے مسجد کا دروازہ اب بھی نہ کھلا
وہ پھر بولی ۔۔۔ مگر آواز اب کانپ نہیں رہی تھی، آگ برسا رہی تھی۔
“میں بازار جا سکتی ہوں،
میں شادیوں میں جا سکتی ہوں،
میں پارک، ہوٹلس، مالس اور ہر اُس جگہ جاسکتی ہوں جہاں مرد و عورت کا ہجوم ہو، جہاں جنس کی تمیز نہ ہو
میں مزاروں پر جا سکتی ہوں،
میں پیر و مرشد کے آستانوں پر بھی جاسکتی ہوں
مگر اپنے رب کے گھر میں نہیں جاسکتی ؟ آخر کیوں ؟” ۔۔۔۔
شاہین کے سوالوں کی تاب سے جیسے ہوا رک سی گئی۔
“کیا میری آواز ناپاک ہے ؟
میرا وجود ناپاک یے ؟
یا میرا سجدہ ناقابلِ قبول ہے؟
یا پھر مسئلہ یہ ہے کہ میں عورت ہوں…؟
ہجوم میں سرگوشیاں تھیں،
مگر شاہین کے اندر طوفان انتہا پر تھا۔
“جب تم نے مسجد کے دروازے ہمارے لئے بند کئے،
تو تم نے صرف ایک دروازہ نہیں بند کیا… تم نے ہماری روح کی پناہ گاہ چھین لی۔”
اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے، مگر لہجہ اور تیز ہوگیا۔
“تم نے اپنی آسانیوں کے لئے مسجدوں میں پناہ لے لی، مسجد کی دیواریں خود کے لئے محفوظ قلعے بنالئے
اور ہمیں گھروں، بازاروں اور خوفناک ہجوم کے حوالے کر دیا۔۔۔
پھر کہتے ہو
عورتیں بےحیائی کرتی ہیں ”
ایک لمحے کے لئے وہ خاموش ہوئی…
پھر آسمان کی طرف دیکھ کر بولی۔
“یا رب!
اگر تیرا گھر سب کا ہے، تو تیرے بندوں نے اس پر پہرے کیوں بٹھا دئیے ؟
لوگ ساکت تھے، فضا بوجھل تھی۔
شاہین کی آخری چیخ ہوا میں لرزتی ہوئی پھیل گئی۔
” یا اللہ میرا قصور کیا ہے؟ پردہ کرنا ؟ خاموش رہنا ؟
یا صرف یہ کہ میں بھی تیری بندی ہوں ؟
اور پھر… اُس نے تھکی ہوئی سانسوں اور شکستہ روح کے ساتھ کہا،
“جب عورت کو مسجد سے دور کیا جاتا ہے، تو دراصل اسے اللہ سے نہیں،
اپنی آخری پناہ سے دور کیا جاتا ہے۔”
اور اس لمحے ایسا لگا جیسے مسجد کی دیواریں بھی اپنے بند دروازوں پر شرمندہ کھڑی ہوں…
ہجوم میں کسی کے پاس شاہین کے سوالوں کا جواب نہیں تھا۔
مگر سچ، شور اور الزام کے درمیان کہیں دب کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
منبر سے افطاری کا اعلان ہوا،
اعلان کے ساتھ ہی بھیڑ منتشر ہونے لگی، پھر سے اذان کی آواز فضا میں بلند ہوئی، مگر انصاف کی آواز زمین پر دب چکی تھی۔
منبر سے رحمت کا اعلان ہو رہا تھا،
اور صحن میں ایک دل کو فیصلوں کے پتھروں سے زخمی کردیا گیا تھا۔
اعلان تو “حی علی الفلاح” کا تھا، مگر صحن کے اُس کونے میں ایک روح شکستہ کھڑی تھی،
جس کے لئے کچھ اناپرست انسانوں نے فلاح کے سارے دروازے بند کردئیے تھے۔ اور اس کو فتنہ کہہ کر اس پر بےحیائی و بدکرداری کے سارے الزامات تھوپ دئے تھے۔۔۔
اور اس بار رحمتوں بھرے لمحوں میں بھی فضا بوجھل تھی، ہر چیز اداس تھی،اور آسمان سے ہلکی ہلکی بوندیں گر رہی تھیں، شاید وہ بھی شاہین کے حال پر آنسو بہارہا تھا، یا
اپنی رحمت کی بوندوں سے اُس کی تنہائی کا روزہ کھول رہا تھا۔
اور تھکی ہاری شاہین بےسدھ اُسی دیوار کے سہارے بیٹھی بس آسمان کو تک رہی تھی، جیسے وہ اپنے رب سے شکایت کررہی ہو ۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button