
"ممبئ میں سینما بنی مسجد”
گناہ کی جگہ بھی توبہ کا مرکز بن سکتی ہے
اندھیرے سے نور وہی جگہ، مگر مقصد مقصد۔
شہرِ ممبئی کے علاقے ناگپاڑہ میں،مہاراشٹر کالج کے سامنے واقع معروف الگزینڈر سنیما چند سال پہلے کبھی فلمی نمائش کا مرکز تھا۔ وقت کے ساتھ اس مقام کی شناخت بدل گئی اور آج وہی عمارت ایک مسجد کی صورت میں اہلِ محلہ کے لیے روحانی سکون کا ذریعہ بن چکی ہے۔
ُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ
(اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے آتا )
ایک ایسا مقام کچھ سال پہلے تک وہاں ناچ گانا، فلمی مناظر ہنگامہ اور دنیوی مشاغل کا غلبہ تھا۔
جو کبھی فلموں، شور و غل اور دنیوی تفریح کا مرکز تھا، وقت کے ساتھ بدل کر سجدوں، اذانوں اور تلاوتِ قرآن کی صداؤں سے گونجنے لگا
اب اسی پردے پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی روح پرور جھلکیاں براہِ راست (لائیو کاسٹ) نشر کی جاتی ہیں آج اسی عمارت میں اذان کی آواز گونجتی ہے —
“اللہ اکبر، اللہ اکبر
وہی دیواریں…
وہی چھت…
لیکن ماحول بدل گیا۔
جہاں پہلے پردۂ اسکرین تھا، اب محراب ہے۔
جہاں تالیاں بجتی تھیں، اب “آمین” کی صدائیں بلند ہوتی ہیں
وہ جگہ جہاں کبھی فلموں کی چکاچوند، شور و غوغا اور بے حیائی کے مناظر اسکرین پر چلتے تھے —
آج وہی مقام سجدوں سے آباد ہے۔
وہی عمارت… مگر تقدس سے معمور ہو گئی۔
وہی اسکرین…، مگر پیغام مختلف
منظر بدل گیا
وہی دیواریں…مگر فضا مختلف
مقصد بدل گیا
یہ تبدیلی ایک صاحبِ خیر اور اللہ والے شخص کی کاوش کا نتیجہ ہے، جنہوں نے اس سنیما گھر کو خرید کر اسے مسجد میں تبدیل کر دیا۔ یہ اقدام نہ صرف ایک عمارت کی تبدیلی تھا بلکہ ماحول اور مقصد کی تبدیلی بھی تھی۔
ہر جگہ میں اصلاح اور خیر کا امکان موجود ہے۔
• حالات چاہے جیسے بھی ہوں، بہتری کی راہیں ہمیشہ کھلی رہتی ہیں۔
• اگر ارادہ خالص ہو تو اللہ تعالیٰ اندھیروں کو نور میں بدل دیتا ہے۔
یہ منظر اس حقیقت کا عکاس ہے کہ جب ارادے پاکیزہ ہوں تو حالات بھی بدل جاتے ہیں۔
ایک سنجیدہ پیغام
“اندھیرے سے نور تک” دراصل ایک علامت ہے — اس بات کی کہ تبدیلی ممکن ہے، اصلاح ممکن ہے، اور ہر معاشرہ اگر چاہے تو اپنے ماحول کو پاکیزہ اور باوقار بنا سکتا ہے
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ • اصلاح کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔
• خیر کی نیت ایک پورے ماحول کو بدل سکتی ہے۔
• اللہ تعالیٰ جب چاہے تو اندھیروں کو نور میں تبدیل فرما دیتا ہے۔
یہ تبدیلی ہمارے لیے بھی دعوتِ فکر ہے کہ ہم اپنے دلوں اور معاشرے کو پاکیزگی اور خیر کی طرف موڑنے کی کوشش کریں
ماللہ تعالیٰ اس بابرکت اقدام کو قبول فرمائے اور اس مسجد کو تا قیامت آباد رکھے۔ آمین.


