
شناخت پر مبنی سیاست اورمسلمان
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
شنا خت کی سیاست دنیا بھر میں جمہوری اور انتخابی سیاست میں الیکشن جیتنے کا آسان طریقہ بن چکی ہے۔ اقلیتیں، محروم طبقات اور دیگر گروپ اپنی جانب توجہ مبذول کرانے ، اپنے مطالبات کو تسلیم کروانے یا پھراقتدار میں اپنی حصہ داری کو یقینی بنانے کے لیے عموما شناخت پر مبنی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔ حالانکہ بہت سے سیاسی دانشور اس طریقے کو غلط مانتے ہیں اور اصولوں پر مبنی اخلاقی و نظریاتی سیاست کی ضد مانتے ہوئے اسے خارج کرتے رہتے ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ انتخابی نظام میں شناخت کی سیاست پورے الیکشن کے نتائج کو متاثر کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ جیسی سب سے پرانی اور سب سے طاقتور کہی جانے والی جمہوریت بھی شناخت کے ہی زیر اثر رہتی ہے۔ نسلی اور صنفی امتیازات صدارتی لیکشن پہ حاوی رہتے ہیں۔ گزشتہ امریکی انتخاب میں کملا ہیرس کو صنفی بنیاد پر ہی صدارتی امیدوار نہیں بنایا گیا تھا اس سے قبل بارک اوبامہ کو سیاہ فام نسل سے تعلق رکھنے کی وجہ سے الیکشن جیتنے میں مدد ملی تھی اور وہ امریکی تاریخ میں پہلے سیافام صدر بنے تھے۔ اسی طرح یورپ جیسے اعلی تعلیم یافتہ ، مہذب ترین، کھاتے پیتے سماج میں بھی شناخت اہم رول ادا کرتی ہے۔ اہم عوامی معاملات تو پس پش رہتے ہیں اور مقامی و مہاجر سخت گیر و نرم گیر عناصر کے مابین مقابلہ رہتا ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر کےحالیہ جمہوری نظام میں سیاسی اصول و نظریات ، وعوامی ضروریات، سماجی فلاح ہ بہبود کے پروگرام کوئی مقام نہیں رکھتے ۔ شناخت ہی اصل انتخابی ایجنڈا ہوتی ہے البتہ کسی بھی صورت سے ایک مرتبہ انتخاب جیت لینے کے بعد سیاسی پارٹیوں کی اصل حکمت عملی زمین پر نافذ ہوتے ہوئے دکھائی دینے لگتی ہے۔ پھر وہ پالیسی سیکولرزم ہو یا فسطائیت کی ہو۔ اس طرح قائم ہوئی حکومت یکساں طور پر اپنے ملک کی عوامی ضروریات کو مخاطب نہیں کرتی بلکہ اپنے ہی نظریے کے ماننے والے عوام کے مفاد میں کام کرتی ہے ۔جس سے سماجی انتشار اورنابرابری میں اضافہ ہوتا ہے ۔ لیکن پھر بھی دنیا میں جمہوریت کو ہی بہترین طرز حکمرانی تسلیم کیا جاتا ہے۔
ہمارے ملک میں بھی انتخابی جمہوریت کا یہی نظام ہر مرحلے اور ہر سطح پر موجود ہے امریکہ اگر دنیا کی سب سے مضبوط جمہوریت کہلاتا ہے تو بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ ہمارے یہاں انتخاب کا طریقہ فرسٹ پاسٹ فرسٹ پوسٹ کہلاتا ہے۔ یعنی جس امیدوار کو پول کیے گئے ووٹ کا سب سے زیادہ ووٹ ملے گا وہی کامیاب قرار دیا جائے گا ،بھلے ہی کل ووٹوں میں اسے محض 10 فیصد یا اس سے بھی کم ووٹ ملے ہوں اور باقی 90 فیصد ووٹ دیگر امیدواروں میں آٹھ، آٹھ ، نو،نو کر کے تقسیم ہو گئے ہوں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جمہوریت جسے اکثریتی رائے کا ترجمان قرا دیا جاتا ہے اکژ حالات میں بس ایک چھوٹی سی اقلیت کی ہی نقیب بن کر اکژیت پہ غالب آجاتی ہے۔جاتی ہے۔ نتیجتا ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں آزادی کے بعد سے اب تک کوئی ایک بھی حکومت ایسی نہیں بنی جسے عوام کے کل ووٹ کا تو کیا کل ڈالے گئے ووٹ کا ہی 50 فیصد سے زائد ووٹ ملا کانگرس جیسی مضبوط سیاسی جماعت کو بھی صرف ایک مرتبہ 1984 میں 49 فیصد ووٹ حاصل ہوا تھا اس سے پہلے تقریبا 40 فیصد اور اس کے بعد تو اب 19 فیصد تک سمٹ گیا ہے۔ اسی طرح حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی 38 فیصد سے زیادہ ووٹ کبھی نہیں ملا۔ گزشتہ تین انتخابات میں بی جے پی کو سو کروڑ میں سے تئیس کروڑ ووٹ حاصل ہوا ہے اور وہ ایک مضبوط سرکار چلا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام میں جہاں متعدد سیاسی پارٹیاں اور آزاد امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت ہے وہاں کسی طبقہ کو 50 فیصد ووٹ ملنا یا اس سیٹ پر اس طبقے کا پچاس فیصد سے زائد ووٹ ہونا کبھی ضروری نہیں ہوتا۔اگر انتخابی حکمت عملی درست ہو تو کبھی کبھی 10 فیصد ووٹ بھی انتخاب جیتنے کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔ جموں کشمیر کے اکثر انتخابات میں ایسا ہوتا رہا ہے۔
ملک میں مذہبی ،طبقاتی اور سماجی شناخت کا تجزیہ صاف بتاتا ہے کہ کوئی بھی طبقہ 50 فیصد نہیں ہے۔ بلکہ سچ کہیں تو 20 فیصد سے زیادہ تعداد کسی کی نہیں ہے۔ مسلم ،سیکھ، عیسائی ، بودھ، جین کل ملا کے 18 فیصد ہیں۔ اسی طرح 22 فیصد ایس سی ،تقریبا 10 فیصد ا یس ٹی ،پسماندہ اور اعلی ذات طبقات الگ الگ اور پھر ریاستی اور لسانی شناختیں ، سب مل کے بڑے سے بڑے سماج کو بھی 20 فیصد سے زیادہ نہیں رہنے دیتی۔ اسی لئے بہت کم ووٹ لے کے بھی مضبوط سرکاریں آسانی سے چل جاتی ہیں۔ گویا کثیر جماعتی سیاست کا فیضان یہ ہے کہ مضبوط طبقاتی شیرازہ بندی اقتدار کی اصل کنجی بن جاتی ہے ۔ملک کے تجربہ کار سیاستدان اس کنجی کو ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ آزاد بھارت کا کوئی ایک بھی انتخاب کسی نہ کسی شناخت کے بغیر نہیں ہوا ۔ مذہبی شناخت اس میں سر فہرست رہی ہے 1951 کے پہلے انتخاب میں مذہبی شناخت کا اثر اتنا گہرا تھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد جیسی معروف و مشہور شخصیت کے لیے جیتنے والی مضبوط سیٹ ڈھونڈنا کانگریس کے لیے مشکل پڑ گیا تھا ۔ہر سیاسی جماعت اپنی امیدواروں کو ٹکٹ دیتے وقت یہ پیش نظر رکھتی ہے کہ اس حلقے میں کس مذہب اور کس برادری کے ووٹران کی زیادہ تعداد ہے۔ اسی مذہب یا برادری کے امیدوار کو پارٹیاں ترجیح دیتی ہیں ۔مثلا یادو گھنی آبادی والے حلقے میں کسی پنڈت کو شاذو نادر ہی ٹکٹ دیا جاتا ہے (البتہ مسلم گھنی ابٓادی والے حلقوں میں اعلی ذات سمیت کسی بھی کو بھی ٹکٹ دینا آسان ہے) دلی میں بدرپور سے لے کے بوانہ تک تقریبا 23 اسمبلی حلقوں میں گوجر ووٹوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، چنانچہ ہر سیاسی جماعت اس برادری کے لوگوں کو ٹکٹ دیتی ہے۔جبکہ بلیماران سے سیماپوری تک آٹھ اسمبلی حلقوں میں لائن سے مسلم ووٹ ہیں مگر کوئی بھی سیاسی جماعت تمام حلقوں میں مسلم ٹکٹ نہین دیتی ، پورے ملک میں یہی نظام جاری ہے ایس سی ایس ٹی کو ریزرویشن ملا ہوا ہے اس لیے ان کی نمائندگی تو اس نظام کے تحت پوری ہو جاتی ہے ،لیکن دیگر طبقات کو یہ نمائندگی کبھی بھی حاصل نہیں ہوتی۔
گزشتہ چند دہائیوں سے ملک میں شناخت پر مبنی سیاست میں روزافزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ مذہبی شناخت ملکی سیاست پہ غالب ا ٓچکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نسلی اور علاقائی شناخت بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک ملک کی ہر ایک سیٹ پر ہر الیکشن اسی شناخت کی بنیاد پر لڑا اور جیتا جاتا ہے۔ ہندو ،مسلم ،سکھ ، بودھ عیسائی، پسماندہ ،دلت اور قبائلیوں کی پارٹیاں ملک میں موجود ہیں۔ بنگال اور اڈیشہ جیسے صوبوں میں علاقائی شناخت والی پارٹیاں بھی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ ملک میں ہر شناخت والی پارٹی اقتدار میں کسی نہ کسی مرحلے پر رہی ہے یا آج بھی ہے ۔مسلمان ملک کا تنہا طبقہ ہے جو سیاست میں سیکولرزم انصاف اور دستور پر مبنی نظریے کے تحت ہر پارٹی کو ووٹ دیتا ہے ۔اسی کی قیادت کو مضبوط کرتا رہتا ہے ۔اور چونکہ وہ پارٹیاں سیکولرزم کے ساتھ پہلے سے ہی اپنی کوئی دیگر موروثی یا نسلی شناخت رکھتی ہیں اس لیے ظاہر ہے کہ ان کی ترجیح اپنا ہی طبقہ ہوتا ہے مسلمان بس پیچھے کھڑا ایک حلیف بن کے رہ جاتا ہے۔ مسلمانوں کو کم از کم اب یہ صورتحال سمجھ لینی چاہیے یہ شکوہ کہ کوئی بھی پارٹی ہماری ہمدرد نہیں ہے بجاہے مگراس کے اسباب کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔
شناخت پر مبنی سیاست کی دوڑ کے اس زمانے میں مسلمان بہت دیر تک حاشیے پہ کھڑے ہو کر اس ریس کے تماشائی نہیں رہ سکتے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمانوں کی شناخت انہیں مزید حاشیے پہ کھڑا کر دے گی کیونکہ جتنے حاشیے پر ملک کا مسلمان آج کھڑاہے وہ کچھ کم نہیں ہے اس کے آگے بس کھائی ہے۔ چنانچہ یہی وہ مقام اور وقت ہے کہ جب ایماندارانہ بنیادوں پر ، سیاست کےبنیادی تکنکیکی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئےمسلمانوں کے مضبوط سیاسی پلیٹ فارم کھڑے ہوں۔ اپنی جمہوری طاقت کا مظاہرہ کریں اور دیگر مبنی بر شناخت پارٹیوں سے معاہدے کریں ورنہ ان کو شکست دیں۔ یہی دباو جمہوریت میں آپ کی شناخت کا تحفظ بھی کرسکتا ہے اور آکے حقوق بھی دے سکتا ہے۔ البتہ اگر مسلم سیاست کے نام پر کوئی کسی کا دست غیب بننا چاہتا ہے تو ظاہرہے یہ سیاسی میدان میں پیچھے سے خنجر بھونکنے کے مترادف ہے۔ اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مسلم سیاسی ارباب حل و عقد کو سر جوڑ کے بیٹھنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل کا سیاسی لائحہ عمل طے کرسکیں ۔کاش ایسا ہو سکے۔

