تازہ ترین خبریں

"مودی جی ہیں تو سب کچھ ممکن ہے” کیا اس میں کچھ سچائی ہے؟

. نقاش نائطی
. +966562677707

2500 سو سال پرانا بہار کی گفاؤں میں بند وہ خزانہ جسے انگریزوں کی توپیں بھی طشت از بام نہ کرسکیں تھیں

2014 سے پہلے سرکاری دور سنچارکمپنی بی ایس این ایل، دیش کی سب سے بڑی تجارتی موبائل ٹیلیفون کمپنی تھی۔ سابقہ پینسٹھ سالہ کانگرئس سرکار 140کروڑدیش واسیوں کے ٹیکس پیسوں سے اپنے سالانہ بجٹ سے اور اپنے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں سے، دیش کی مختلف سرکاری صنعتوں و تجارتی کمپنیوں کے ساتھ ہی ساتھ، بی ایس این ایل سرکاری کمپنی کو ہزاروں کروڑ کا بجٹ پاس کئے دئیے، اسی ہزار کے قریب بڑے بڑے دیوھیکل موبائل و فون ٹاور لگوائے، نہ صرف بھارت کی بلکہ دنیا کی اسے بہت بڑی دور سنچار کمپنی بنائے ہوئے تھی۔ مہان مودی جی ایڈانی امبانی کے کئی سو کروڑ الیکشن فنڈ سے 2014 جیت کر کیا آئے اور اپنے مکر و فن جھوٹ و افترا پروازی سے، بلف ماسٹر یا جھوٹوں کا سردار بنتے ہوئے، پورے دیش میں مسلمانوں کے خلاف ایک عجیب قسم کا مسلم منافرتی ماحول پیدا کرتے ہوئے، اسی پچاسی فیصد کےقریب دیش کےھندوؤں پچھڑی جاتیوں کے ذہن و افکار میں 15 فیصد مسلمانوں کا ڈر اور خوف بٹھاتے ہوئے، اپنے گجراتی پونجی پتیوں کا آشیرواد حاصل کئے، کبھی کسی مندر تو کبھی کسی دوسرے مندر میں پوجا ارچنا، ڈنڈوت کرتے، خود کو بھگوان رام کا سچا بھگت ثابت کرتے کرتے، بالاخر خود کو ایشور کا اوتار کہلواتے ہوئے,خود کا اپنا جھولا اٹھائے فقیر منش،کہیں پر منھ اٹھائے چلے جانے کا کہتے، دیش واسیوں کو بے وقوف بناتے ہوئے، نہ صرف دونوں ہاتھوں سے بلکہ سچے تن من سے،کبھی امبانی کی جیو کمپنی کا برانڈر ایمبیسڈر بنتے ہوئے، دیش کی اردھ ویستھا کو لوٹنے میں مصروف ہوگئے تھے۔

2014 مہان مودی جی کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے امبانی کی جیو کمپنی کا وجود ہی نہیں تھا ۔ 140 کروڑ دیش واسیوں کے ٹیکس پیسوں سے کھڑے کی گئی، دیش کی سب سے بڑی دور سنچار کمپنی،بی ایس این ایل کے 80 ہزار موبائل ٹاور کو، بھکشا میں استعمال کرنے جیو کمپنی کو دان میں دیتے ہوئے، جیو کمپنی کو دیش کی بڑی دور سنچار کمپنی میں بدلتے ہوئے، جہاں مودی جی نے، امبانی کو، فری جیو سم کا لالی پاپ دکھائے، دونوں ہاتھوں سے دیش واسیوں کو لوٹنے کا موقع دیا، وہیں سابقہ پینسٹھ سالہ کانگرئس دور اقتدار میں، کھڑی کی گئی دیش کی سب سے بڑی دور سنچار کمپنی، بی ایس این ایل کے، پہلےکانگرئس دور اقتدار والے، لاکھوں روزگار پر رہے، بھارت واسیوں کو، بے روزگار کئے، حکومتی سرمایہ سے، بی ایس این ایل کے لاکھوں تربیت یافتہ ورکروں کو، جیو کمپنی کو فری میں مہیا کرواتے ہوئے،اسے مارکیٹ میں قدم جمانےکا موقع دیا تھا۔
2029 عام انتخاب بعد انشاءاللہ جب کانگرئس سرکار اقتدار میں آئیگی تو،اپنے پندرہ سالہ سنگھی رام راجیہ میں، امبانی برادران اور ایڈانی کو دنیا کے مالدار ترین پونجی پتی بنانے کے لئے، جیو کمپنی قائم کروائے، اوربھارت ھیوی الکٹریکل یا الکٹرانک کمپنی بھیل کے فرانس کے ساتھ رافیل طیارے خریدنے کئے معاہدے کو پس پشت ڈالے، اپنے گجراتی انل امبانی کی نومولود کمپنی کو فرانس رافیل جیٹ طیاروں کی خریداری معاہدہ کرواتے ہوئے، دیش کی معشیت کو لوٹنے والے اور سابقہ پینسٹھ سالا کانگرئسی راجیہ میں، دیش واسیوں کے ٹیکس پیسوں سے کھڑے کئے، ریلوےاور ایر ٹریفک نظام کو، ایڈانی کے حوالے کئے، اور اپنے نوٹ بندی ڈرامے بازی سے 140 کروڑ عام جنتا کے سابقہ دس بیس سال کی بچت کو لوٹنے والوں کا پورا پورا حساب نہ صرف لیا جائیگا بالکہ ان پندرہ سالوں میں، اپنے اکثریتی پارلیمنٹ قانون بناکر الکٹورل بانڈ کے ذریعہ ای ڈی اور آئی ٹی سرکاری افسران کو، غنڈوں کی طرح استعمال کرواتے ہوئے، دیش کے ہزاروں تاجروں، صنعت کاروں کو، لوٹنے کی تحقیق، اگر کانگرئس سرکار کروانے پر آئے تو، مہان مودی جی اور انکے سنگھی لٹیروں کے ساتھ ہی ساتھ، گجراتی لٹیرے امبانی ایڈانی کی پوری لوٹ کھسوٹ بھی 140 کروڑ دیش واسیوں کے سامنے آجائیگی۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی نہ صرف کل آبادی, بلکہ عالم کی ایک بہت بڑی آبادی کو خوراک مہیا کروانے والے لاکھوں کروڑوں کسانوں کے جملہ ہزار دیڑھ ہزار کروڑ کے بنک قرضوں کو معاف نہ کرواتے ہوئے، ان کسانوں کو اپنے قرضوں کی ادائیگی نہ کرنے پر بنک چھاپوں سے معاشرے میں انہیں معطون و بدنام کئے، انہیں خودکشی کی موت مرنے پر مجبور کرنےوالے،ان سنگھی معشیتی پنڈتوں نے،140 کروڑ دئش واسیوں کے ٹیکس پیسوں کو، اپنے گجراتی سنگھی برہمنی پونجی پتیوں کے ہزاروں لاکھوں کروڑ بنک قرضوں کو،اپنے دس بارہ سالہ سنگھی رام راجیہ میں، معاف جو کروایا ہے، اس کی پوری پوری تحقیق ہونی چاہئیے۔ یہ اس لئے کہ، 140 کروڑ غریب و میانہ دیش واسیوں کے ڈائرکٹ یا انڈائرکٹ ادا کئے ٹیکس پیسوں کو، مالداروں کے بنک قرضوں کو معاف کروانے کا،دیش کی قانون ساز پارلیمنٹ کو حق نہیں دیا جانا چاہئیے۔ اور اس دس بارہ سالہ سنگھی مودی رام راجیہ میں، جتنے ہزار لاکھ کروڑ، ان پونجی پتیوں کے بنک قرضے معاف کروائے گئے ہیں, ان پونجی پتیوں سے واپس لئے، دیش کے خزانے کو دوبارہ بھردیا جانا چاہئیے

نو گیارہ امریکی دہشت گردانہ حملوں کے بعد، عالمی سازش کے تحت، عالم بھر کے ہم مسلمانوں کو، دہشت گرد کے طور پیش کئے، اور مہاتما گاندھی کے قتل بعد، قاتل مہاتما اس وقت کے ھندو مہاسبھائی آج کے ھندتو وادی سنگھی ذہنیت افسران کے، عالمی مسلم مخالف یہود و نصاری سازش کناں کے ساتھ مل کر، بھارتیہ سنگھی آر ایس ایس اور اسکی ذیلی شدت پسند کے دہشت گرد تنظیم، ابھینؤ بھارتی کے ساتھ، ساٹھ گاٹھ کئے، سوامی اسیمانند، پرتگیہ سنگھی ٹھاکر،اوردیش کی افواج کے حاضر سروس کرنل پروہت کو ساتھ ملائے، دیش کی مختلف شہروں ریاستوں میں،مالیگاؤں قبرستان ،حیدر آباد مکہ مسجد، بنارس مندر، سمجھوتہ ایکسپریں جیسے عوامی جگہوں پر خود ساختہ بم بلاسٹ کروائے، ہم مسلمانوں ہی کا مالی و جانی نقصان کرواتے ہوئے، دیش کی تحقیقاتی ایجنسیوں اور پولیس و عدلیہ میں پہلے سے بٹھائے، اپنے سنگھی ذہنیت افسران کو، استعمال کئے، انکے کئے مختلف ہم دھماکوں میں، ہم مسلمانوں ہی کو ذمہ دار ٹہرائے، ہزاروں اعلی تعلیم یافتہ بے روزگار مسلمانوں کو سازش کےتحت گرفتار کروائے، انہیں دس بیس تیس سال جیلوں میں بند کروائے،ان ہزاروں مسلمان نوجوانوں کی زندگیوں کو تو بر باد کیا ہی تھا اب مہان مودی جی اور انکے سنگھی بریگیڈ نے دیش کی پارلیمنٹ میں اپنے اکثریتی زعم میں، مختلف سیاسی پارٹیوں کے ممبر آف پارلیمنٹ کو ای ڈی اور آئی ٹی چھاپوں سے ڈرا دھمکاکر، ان کا ساتھ حاصل کئے، جو قانون اب مہان مودی جی دیش کی پارلیمنٹ میں پاس کروائے گئے ہیں اب سے۔کچھ سال بعد 2029 عام انتخاب جیتے کے بعد، یکم جولائی سے نافذ العمل ہونے والے قانون کی رو سے، دیش کے مسلمان ہی نہئں، کسی بھی ذات مذہب کا بھلے ہی ھندو کیوں ہو، نئے پاس شدہ قانونی دفعات کی رو سے، بغیر ضمانت بیسیوں سال جیل میں قید بند رکھا جاسکے گا۔ کیا اس تناظر میں اور مہان مودی جی کے دس بارہ سالہ سنگھی رام راجیہ میں, جس طرح دانستہ عالم کی سب سے بڑی سیکیولر جمہوریت کے سیکولر دستور العمل ہی کو پس پشت رکھے، سرکاری سرپرستی میں، دئش میں ہزاروں سال قبل والے منو اسمرتی والے دلت برہمن چھوٹ چھات برہمنی رام راجیہ قائم کئے جانے والے دعوے کئے جارہے ہیں۔ کیا دیش بھر کے اعلی تعلیم یافتہ لاکھوں کروڑوں سول سوسائیٹی افراد, مختلف صوبائی منعقد ہونے والے ان چناؤ کو الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر قانون نفاذ سے سنگھ مخالف لاکھوں ووٹ کٹوائے اور سنگھ موافق لالھوں نقلی ووٹ دیش کی ووٹر لسٹ میں غیر قانونی طور اندراج کروائے, ارایس ایس بی جے پی مہان مودی جی کے ہاتھوں یرغمال بنائے، ہزاروں گنگا جمنی سیکیولر اثاث ملک کے دستور کو ختم کئے جاتے دیکھتے رہ جائیں گے؟
اب تو ایشور کے اوتار مہان مودی جی نظر دیش واسی ہم مسلمانون کی انکے اباء واجداد کی غربا و مساکین بہتر پڑھائی علاج معالجہ کے لئے وقف کی ہوئی لاکھوں کروڑ کی وقف املاک ہڑپنے پر لگی ہوئی جسے بھارت کے مسلمان کسی صورت ان سنگھی درندوں کو ہضم کرنے نہیں دینگے۔لیکن مہان مودی جی مسلم وقف املاک کو ہڑپنے قانون بناچکے ہیں اب مستقبل میں یہ دیکھنا باقی رہ گیا پے کہ اس میں مہان مودی جی مسلم اوقاف ہڑپنے کامیاب ہوتے ہیں یا ہم مسلمان اپنے اباء و اجداد کی وقف املاک بچانے کامیاب ہوتے ہی۔ جنگلی درندے کے منھ کو انسانی خون کا ایک مرتبہ جب لگ جاتا ہے تب وہ اپنے شکار کے لئے انسانی آبادی کی طرف آنے لگتا ہے۔ ہم دو ہمارے دو ان گجراتیوں کی نظریں اب شاید کئی سال پرانے راجوں نوابوں کے مدفوں خزانوں پر اور بڑے مندروں کے خزانوں پر شاید ٹکی ہوئی ہیں۔ شاید اسی لئے بعد آزادی ھند 78 سالوں بعد ان مدفوں ھندو وادی خزانوں کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی ہیں۔ جب تک کہیں چنگاری نہیں پھڑپھڑاتی دھواں اچانک باہر کیسےآنےلگتا ہے؟ مدھیہ پردیش راجستھان حیدرآباد سمیت کئی اور جگہوں پر کئی سو سالوں سے مدفوں خزانوں کو اور کیرالہ مندر تہہ خانوں کے بند دروازے کے پیچھے چھپے خزانے کے علاوہ بہار کی غفاؤں میں سابقہ ڈھائی ہزار سال سے مدفون رکھا گیا لاکھوں کروڑوں کروڑ کا خزانہ جس کےدروازوں کو اس دیش پر حکومت کررہے لٹیرے انگریزوں کے توپوں کی گڑگڑاہٹ سے بھی توڑ نہیں پائے تھے,بھارتیہ ریسورسز لوٹنے والے یہ ان گجراتیوں کے ہاتھوں یہ قدیم خزانے لوٹے جانے کے خدشے ہی نے, انکے اطراف والے کسی دیش بھگت کی طرف سے سائبر میڈیا یر ان خزانوں کی خبریں وائرل کردی ہیں۔ ان بارہ سالہ مہان مودی جی کے کام کاج کرنے کے طریقہ سے پتہ چلتا ہے واقعتا”, "مودی جی ہیں تو سب کچھ ممکن ہے” کئی سو سالوں سے مدفوں خزانے بھی برآمد کیا جانا ممکن لگتا پے وما علینا الا البلاغ
اس وکیل مہاشے کی بات کو ذرا غور سے سنا جائے
https://www.facebook.com/61550037685744/posts/pfbid029JqWDHn2M6ZExjMi2xtR7wNJapAttKyxzgayAQBRf4GzhdDjrcX67L8WGZhX3Hujl/?app=fbl

گوالیار قلعے کے 7 تہہ خانون میں مدفوں خزانے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button