مضامین و مقالات

کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایسا بھی ہوگا؟

 

۔ نقاش نائطی
۔ +966562677707

7ستمبر 2024 غزہ حماس کے اسرائیل پر حملہ آوری پہل سے پہلے,کیاعالم انسانیت کی کوئی باوقار شخصیت یا ملک، فلسطینیوں پر کئے جانے والے دانستہ اسرائیلی ظلم و انبساط پر عالمی پلیٹ فارم پر آواز اٹھانے کی ہمت کر بھی سکتا تھا؟ یہی وہ شیعہ ایران کی ہر ممکنہ حربی و معشیتی مدد و نصرت تھی جس نے، صرف اور صرف مملکت سعودیہ عربیہ و قطر کو امریکی جھانسے میں ابراھیمی ایکورڈ عقد بند ہوتے، فلسطینی حمایت خاتمہ کے دروازے بند کئے جانے کو روکنے ہی کے لئے, ایرانی حمایت یافتہ حماس کو اپنی بقاء کی آخری جنگ لڑنے، انہیں کمر بستہ کیا تھا۔ ورنہ خدائی من و سلوی پٹرول معدنیاتی دولت سے سرشار, یہ سنی عرب ممالک شاہان, اپنے پیش رؤ انکے آباء اجداد,خلیفہ المسلمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چودہ سو سال قبل, ارض فلسطین سے دربدر کئے گئے یہودیوں کو, دوبارہ ارض فلسطین لا بسانے والی حماقت, "لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ہے” سرزد کئے,مصرعہ ثانیہ پر عمل پیرا، نہ صرف امت مسلمہ پر خرچ کئے جاتے، انہیں عطا پیٹرول دولت کے ایک بڑے حصہ کو, اسرائیل و امریکہ کے پالن پوشن پر خرچ کئے,ہزاروں لاکھوں فلسطینیوں کے, یہود کے ہاتھوں قتل عام کا سبب نہ بن رہے ہوتے! ویسےبھی پیٹرول دولت سے مالامال مملکت بحرین و یواے ای ابراھیمیی ایکورڈ عقد بندہوتے, نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کرچکے تھے بلکہ یہود و نصاری امریکہ و اسرائیل کے مسلم امہ کے خلاف حرب وجنگ کی صورت, جنگی شراکت, ساتھی و پارٹنر بن بھی چکے تھے۔ اس وقت تو نام نہاد سنی مسلمان دونوں ہاتھوں سے شیعہ ایران کو کوس رہے ہوتے کہ اسرائیل دوست ایران نے,فلسطینیوں کو بہکا کر, عالمی حربی قوت اسرائیل سے پنگا لینے آمادہ کئے, اسرائیل کے ہاتھوں نسل فلسطین ختم کئے جانے کے درپئے لگتے ہیں۔
https://www.facebook.com/share/p/1br8QoLdZS/
مملکت سعودی عربیہ اپنے میں دو مقامات مقدسہ, حرم مکی و مدنی سموئے ہوئے ہونے کی وجہ ہی سے, مسلم امہ رہبری و سرداری کے بارگراں تلے دبے رہتے,اپنے آپ کو قوم یہود کا ساتھی کہے جانے سے گریز کرتے ہوئے,عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت اسلام ہی کے نام سے معرض وجود میں آئی مملکت پاکستان کے,اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے منتظر پائے جارہے تھے۔لیکن اللہ غریق رحمت کرے, بانی پاکستان محمد علی جناح علیہ الرحمہ کو, کہ انہوں نے,اپنے کے انتقال سے قبل, کسی بھی صورت مملکت یہود اسرائیل کو نہ تسلیم کئےجانے والے اپنے واضح موقف کی وجہ ہی سے, پیٹرول من و سلوی کے مالک تمام عرب ممالک کے لئے خط مستقیم احمر بنے ہوئے تھے۔ امت مسلمہ کی ان ہدایت باوجود عرب ممالک بحرین و یواے ای امریکی دباؤ دوستی کے چلتے یا عالم یہود سے عالمی تجارت ومعشیت شریک لازم و ملزوم کئے جاتے اپنے ممالک کوترقی پزیری کےمدارج طہ کرانے ہی کے لئے, ابراھیمی ایکورڈ مملکت یہود کو تسلیم کرچکے تھے بالکہ دو قدم آگے گئے, نوئے کے دہے عراق و شام لیبیا و افغانستان اپنے وقت کی حربی مضبوط تر مسلم و عرب ممالک کو, یہود و نصاری کے ہاتھوں تاراج کئے جاتے, اپنے ماضی کے عمل ہی کی طرح, مستقبل میں بھی اگر یہود و نصاری اسلام دشمن قوتوں کو ایران و ترکیہ نیز پاکستان, مسلم قوتوں کی سرکوبی کے لئے کمربستہ ہوئے وقت, اسلام دشمن یہود و نصاری حربی قوتوں کے حربی شریک بنے, اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف صاحب امریکہ کے بلکہ دشمن اسلام و انسانیت جارحیت پسند اسرائیل کے لئے بھی, اپنے مملکتی دروازے معشیتی و حربی طور وا کرچکے تھے۔ "الکفار لااعتبار” قول خاتم الانبیاء واضح ہدایات باوجود ان عرب شیوخ کو,اسلام دشمن یہود ونصاری سےحربی شراکت داری کرنے, جرآت کیوں کر ہوئی؟ یہ سوچ کرہی بحیثیت مومن مسلم، ہم فقط نام والے مسلمان, اپنے قلب و اذہان میں کراہت و جھرجھری محسوس ہوئے پائے جاتے ہیں
https://www.facebook.com/share/p/1br8QoLdZS/

خلافت عثمانیہ والی اخری, خلیفہ عبدالحمید کے پاس جب یہودی سربرآوردہ شخصیات بیسویں صدی سے اوائل پہنچی تھیں اور حرب اول عالمی کے بعد, مسلسل یورپی ملکوں سے جنگ لڑتے قرض دار ہوئےخلیفہ عبدالحمید کے پورے قرض کو ادا کرنے سے بھی زیادہ مالی مدد کئے,صرف ارض فلسطین میں بسنے کی جب اجازت چاہی تھی تو,اس وقت قرض میں ڈوبےخلیفہ عبد الحمید نے، انہیں ایمان افروز, کیا جواب دیا تھا؟ کیا خلیفہ عبدالحمید علیہ الرحمہ نے یہ نہیں کہا تھا؟ کہ "تمہاری مدد سے اپنے تمام قرضوں سے آزاد سرخرو ہونے کے لئے, میں خلیفہ عبدالحمید، کیوں کر اور کیسے خلیفہ المسلمین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ارض فلسطین سے یہودیوں کو در بدر کئے جانے والے فیصلہ امیر المومنین کے خلاف جانے کی جرآت کرسکتا ہوں؟” کیا موجودہ عرب شیوخ کے جد امجد نے, اسی خلیفہ المسلمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہودیوں کو ارض فلسطین سے باہر کھدیڑنے والے فیصلہ کے خلاف, یہودیوں کو ارض فلسطین مستقل رہائشی پروانے جاری نہیں کئے تھے؟
"یوں جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے”
(ان شاہوں کے)”لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ہے” مشہور ہندستانی شاعر مظفر بزمی یوپی
کچھ بہت بڑا پانے کے لئے, کچھ بڑا ہی کھونا پڑتا ہے۔تسلیم ہے کہ 7ستمبر 2024 اسرائیل پر فلسطینی حماس یلغار اولی بعد, اسرائیل نے پچاس ساٹھ
ہزار فلسطینی بچوں بوڑھوں اور عورتوں کو شہید کروایا ہے اسلامی ایمانی عقیدے مطابق وہ شہید کئے گئے بے قصور فلسطینی بچے بوڑھے نساء جنت کے باد نسیم کے سائےتلے عالم برزخ میں, بعد محشر صدا جنت میں مزے لوٹنے والے انتہائی چین و سکون کے ساتھ
اپنے ابدی آرام گاہ جنت کے منتظر ہیں۔یہ پچاس ساٹھ ہزار شہداء فلسطین, ضیاء امت مسلمہ نہیں,سرمایہ حیات امت مسلمہ ہیں, بعد سکوت خلافت عثمانیہ, عوام پر عوامی حکومت والے دل خوش کن جمہوری نعرہ کی آڑ میں, عالم انسانیت پر یہود و نصاری نازی ظلم وانبساط غلبہ سے نجات کے لئے, انتہائی ضروی تھے۔ ان سنی عرب شاہوں کے مکارانہ ساتھ و حمایت,نیز مالی امداد کے ساتھ, نوئے (90)کے دہے بعد عالمی حربی قوتوں کے اشتراک کے ساتھ,افغانستان عراق شام لیبیاء لبنان یمن سومالیہ سوڈان پچاس ساٹھ لاکھ, بے قصور شہید کئے گئےمسلمانوں کے قتل عام کے,کیا یہ سنی عرب ممالک شاہان ذمہ دار نہیں ہیں؟ ان ملینس عرب و عجم مسلم شہادتوں کے مقابلہ فلسطینی شہادتیں ھیج تر ہیں فلسطینی شہادتوں کے ساتھ, افغانستان عراق و شام و لیبیاء لبنان یمن و شوڈان صومالیہ ذمہ دار یہود و نصاری کے ساتھ کیا عرب حکمران بھی برابر کے ذمہ دار نہیں ہیں؟ اقوام و ملکی بقاء کی جنگ میں, بے قصور عوام تو مارے ہی جاتے ہیں۔ اپنے قومی تشخص ملکی اقدار کی جنگ کے حلیف و حریف, عراق و لیبیاء, لبنان و شام سنی مسلمانوں کی شہادت کے لئے,شیعہ ایران کو صدا کوستے,انہیں خارج مسلم امہ ٹہرانے والے خود ساختہ سنی علماء کرام و عام سنی مسلمان, عرب یمن سوڈان صومالیہ افغانستان پچاس ساٹھ لاکھ مسلم امہ شہید کئے گئے عرب شیوخ یہود و نصاری گھٹ جوڑ پر مجرمانہ خاموش کیوں ہیں؟ یہ سمجھ سے بالاتر امر ہے
پھر بھی دو سال قبل حماس غازہ انتفادہ تازہ سے قبل,جو انسانیت اسرائیل کے خلاف کچھ بھی سننے کو تیار نہ تھی آج انسانیت کے علمبردار یہود و نصاری ایوانوں ہی میں سے, اسرائیل و امریکہ کو ایٹمی ہتھیار مکت کرنے والی آوازیں اور ایک پائی تک اسرائیل کی مدد نہ کرنے نیر جارح اسرائیل کا عالمی مقاطعہ کئے جانے کے نعرے و بیانات, زوال یہود نصاری غلباتی سکندر اعظم انسانیت,صاحب امریکہ خاتمہ و زوال پزیری کے نقارے نہیں سنا رہے ہیں؟

ایک مضبوط اور جذباتی طور پر چارج شدہ بیان آن لائن گردش کر رہا ہے، جس میں اسرائیل کی مالی اور فوجی مدد کو مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو جاری تنازعات کے گرد عالمی سیاسی مباحثوں کی بڑھتی ہوئی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح کے پیغامات اکثر ان لوگوں کے ساتھ گونجتے ہیں جو انسانی مسائل، خارجہ پالیسی کے فیصلوں اور بین الاقوامی تنازعات میں طاقتور ممالک کے کردار کے بارے میں گہری تشویش محسوس کرتے ہیں۔

سیاسی میدان میں آوازیں مختلف آراء کا اظہار کرتی رہتی ہیں . کچھ اسٹریٹجک اتحاد کی بنیاد پر,حمایت جاری رکھنے کی وکالت کرتے ہیں، جب کہ دیگر انسانی حقوق کے خدشات کی روشنی میں امداد کی دوبارہ تشخیص کا مطالبہ کرتے ہیں۔ برنی سینڈرس سینئر موسٹ سینیٹر اور ورمونٹ کانگریسی وفد کے ڈین ہیں۔ سینڈرز 2016 اور 2020 میں ڈیموکریٹک صدارتی نامزدگی کے امیدوار تھے، دونوں بار دوسرے نمبر پر رہے۔برنی سینڈرز جیسی سیاسی شخصیات کا تذکرہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ یہ گفتگو کس طرح ملکی سیاست کو بھی تشکیل دے رہی ہے، خاص طور پر جمہوری ممالک میں جہاں عوامی رائے پالیسی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "سب کچھ بند کرو” جیسے بیانات سیاسی اظہار اور فعالیت کا حصہ ہیں، سرکاری پالیسی فیصلوں کا نہیں۔ امداد، دفاع اور سفارت کاری کے حوالے سے حکومتی اقدامات پیچیدہ عمل پر مشتمل ہوتے ہیں، بشمول قانون ساز اداروں میں مباحثے، بین الاقوامی معاہدوں، اور طویل مدتی تزویراتی تحفظات۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں، ایسے طاقتور نعرے تیزی سے پھیل سکتے ہیں، جو مشغولیت اور بحث کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، لیکن انہیں ہمیشہ سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے۔ باخبر رہنا، متعدد نقطہ نظر کو سننا، اور معتبر ذرائع پر انحصار کرنا ایسے حساس عالمی مسائل کے بارے میں متوازن تفہیم پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے۔
کل تک اسرائیل کی دلدادہ اٹلی کی پی ایم جورجیو میلانی میں یہ ہمت کہاں سے پیدا ہوگئی؟ کہ اس نے نہ صرف اسرائیل سے اپنا دفاعی معاہدہ توڑ دیابلکہ اقوام عالم کے کسی منچ پر وہ فلسطینی پرچم کو لپیٹے پہنچتی ہیں اور اسرائیلی پرائم منسٹر کے زبردستی اس سے فلسطینی پرچم کھینچنے کی کوشش پرغالبا”وہ عالمی میڈیا کےسامنے, اسرائیلی پرائم منسٹر بنجامن نتناہو کی ہتک کرتے پائی جاتی ہیں۔
"اٹلی کی پی ایم جورجیو میلانی اسرائیل سے اپنا دفاعی معاہدہ کیوں توڑ دیا”؟
https://www.aljazeera.com/news/2026/4/15/why-has-italys-giorgia-meloni-suspended-a-defence-pact-with-israel

تاریخ فلسطین اسرائیل پر ایک نظر
برطانوی حکومت نے باضابطہ طور پر 1917 میں بالفور اعلامیہ (ڈیکلریشن)کے ساتھ اس منصوبے کا آغاز کیا، جس میں "یہودی لوگوں کے لئے قومی گھر” کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ فلسطین پر ان کے لیگ آف نیشنز مینڈیٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ عالمی صہیونی تنظیم (WZO) تھیوڈور ہرزل اور چیم ویزمین جیسی شخصیات کی قیادت میں، انہوں نے یہودی ریاست کے قیام کے لئے سیاسی تحریک کی قیادت کی تھی۔ محکمہ خارجہ کی اندرونی مخالفت کے باوجود، صدر ہیری ایس ٹرومین نے 14 مئی 1948 کو اسرائیل کو تسلیم کرنے والی پہلی قوم بننے میں اہم کردار ادا کیاتھا۔
ایوینجلیکل مسیحی, یہودی ریاست کے لئے حمایت کی جڑیں مذہبی عقائد پر مبنی تھیں, جو قیامت سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ ظہور دنیا کےلئےضروری سمجھتے تھے۔ جیوش نیشنل فنڈ (JNF) نے یہودیوں کی امیگریشن اور آبادکاری کی سہولت کے لئے زمین کی خریداری میں ممکنہ مدد و نصرت کی تھی۔ صدر ووڈرو ولسن نے 1918 میں بالفور ڈیکلریشن کی حمایت کی۔ بعد میں، کانگریس نے 1922 میں لاج فش ریزولوشن پاس کیا جس میں "قومی گھر” کی توثیق کی گئی۔ زرعی بستیاں قائم کی جانے کی بات کہی گئی 1917-1947 برطانیہ نے فلسطین کا انتظام سنبھالا تھا، خاص طور پر 1930 کی دہائی کے دوران (نازیوں کے ظلم و ستم) کے دوران بڑھتی ہوئی امیگریشن کی اجازت دی تھی۔ ہولوکاسٹ نے یہودی ریاست کے لئے امریکی حمایت میں تیزی پیدا کردی تھی۔ امریکہ اور سوویت یونین نے فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کے اقوام متحدہ کے منصوبے کی حمایت کی جسے یہودی ایجنسی نے قبول کر لیا اور عرب لیگ نے مسترد کر دیاتھا
شاہ عبدالعزیز آل سعود نے یہودی آباد کاری اور فلسطین کی تقسیم کی شدید مخالفت کی تھی، اکثر فلسطینیوں کے ناقابل تنسیخ حقوق پر زور دیا تھا۔ 1945 میں امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کے ساتھ ملاقاتوں اور بعد میں بات چیت میں، شاہ عبدالعزیز نے اپنا موقف برقرار رکھا تھاکہ فلسطین کو جنگ عظیم دوم کے بجائے یہودیوں کا گھر نہیں بننا چاہیے۔ زندہ بچ جانے والے یہودیوں کے لئے(جرمنی) کو
علاقہ فراہم کرنا چاہئے۔یہی سعودی فرماورا کا اصل موقف تھا جب کہ صدر ہیری ایس ٹرومین نے بعد میں فلسطین میں یہودیوں کی ہجرت کی حمایت کی، یہ روزویلٹ کی طرف سے سعودی بادشاہ سے کئے گئے وعدوں کے خلاف تھا، جس کے نتیجے میں معاہدے کی بجائے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔
عرب دنیا میں تجارتی تیل پہلی بار 1932 میں بحرین میں دریافت ہوا تھا،اس کےبعد 1938 میں سعودی عرب میں بڑی دریافتیں ہوئیں۔ 4 مارچ 1938 کو سعودی عرب میں دمام کنواں نمبر 7 میں پیش رفت نے خطے کی معیشت کو بدل دیا۔ جلد ہی دیگر اہم دریافتیں ہوئیں,1940 میں کویت اور قطر، 1951 میں شروع ہونے والی آف شور دریافتوں کے ساتھ, خالق کائینات کی طرف سے معدنیاتی دولت پیٹرول سے عرب خطہ جب مالامال ہوگیا تو یہود کی مملکت اسرائیل, اسلام دشمن نصرانی ملک امریکہ و برطانیہ کی ناجائز اولادکی طرح , خالق کائینات کے اپنے عرب ممالک کو عطا معدنیاتی دولت پیٹرول کو منظم انداز لوٹنے ہی کے لئے اس وقت کی برطانوی کالونی اردن کے شاہ حسین کے ماتحت والے علاقہ فلسطین لابسایا گیا تھا۔
1948 میں اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد سے، اسرائیل اور ارد گرد کے عرب ممالک کے درمیان تنازعہ موجود تھا، جس کی جڑیں فلسطینی عربوں کی طرف سے بھی دعویٰ کرنے والے علاقے پر تنازعہ کی وجہ سے ہیں۔ صیہونیوں نے فلسطین کے علاقے کو یہودیوں کے آبائی وطن کے طور پر دیکھاجاتا تھا، جب کہ عرب اسے عرب فلسطینی سر زمین اور عرب دنیا کا ایک لازمی حصہ سمجھتے تھے۔
1947 میں اقوام متحدہ کی طرف سے تقسیم فلسطین کے منصوبے کو اپنانے کے بعد، اور پھر 14 مئی کو اسرائیل کے قیام کے اعلان، آدھی رات کو برطانوی مینڈیٹ کی میعاد ختم ہونے، اور اگلی صبح عرب باقاعدہ فوجوں کے داخلے کے ساتھ بین الاقوامی جنگ میں فرقہ وارانہ تشدد بڑھتا ہوا خانہ جنگی میں بدل چکا تھا 1948 کی فلسطینی یہودجنگ 1949 کے جنگ بندی کے معاہدوں کے ساتھ ختم ہوئی، جس نے گرین لائن قائم کی۔ 1956، 1967، 1973 میں عرب اسرائیل کے درمیان مزید جنگیں ہوئیں۔ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں چونکہ مصر سعودیہ عرب اتحادسےاسرائیل سے لڑے تھے ۔اس لئے ابتداء میں عربوں کا پلڑا بھاری تھا لیکن اس وقت رچرڈ نکسن امریکہ کے صدر تھے۔عربوں کے اتحاد سے اسرائیل کی شکست کی صورت عرب پیٹرول ذخائر پر اسکی اجارہ داری قائم ہونا ناممکن سا عمل لگتا تھا اس لئے عرب علاقوں کے درمیان اسرائیلی ناجائز مملکت کو حیات دوام بخشنے ہی کے لئے صدر امریکہ رچرڈ نکسن نے اسرائیل کو پہلی مرتبہ بمبار طیارے دئیے تھے جس کی بدولت اسرائیل عربوں سے ہاری ہوئی جنگ کو مصر پر اسرائیلی بمباری سے, متحدہ عرب افواج کو شکست فاش دئیے پیٹرول سے مالامال عرب ملکوں کے درمیان مملکت اسرائیل کو ایک حربی طاقت کے طور ابھرنے کا موقع دیا تھا ۔1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران جب شاہ فیصل نے اوپیک (OPEC) ممالک کے ذریعے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو پیٹرول کی ترسیل بند کی، تو امریکی صدر رچرڈ نکسن کے خصوصی پیغام کے ساتھ وزیر خارجہ ہنری کسنجر (Henry Kissinger) نومبر 1973 میں سعودی عرب آئےتھے۔
جب سعودی شاہ فیصل کو امریکہ وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے مملکت سعودیہ آنے کی خبر ملی توملکی پروٹوکول کے اعتبار سے سعودی شاہ کو امریکی وزیر خارجہ کا خیر مقدم کرنے دارالخلافہ ریاض میں رہنا تھا لیکن شاہ فیصل نے اپنی ناراضگی کے بہتر انداز اظہار کرنے ہی کے لئے, عرب قبائلی کلچر مطابق ریگستان کے وسط میں ‘بر’ (پکنک) کے لئے چلے گئے تھے امریکی وزیر خارجہ کو شاہ کےسامنے اونٹ پر بیٹھ ریگستان درمیان بر (پکنک) والے مقام تک جانا پڑا۔ جہاں پر انکی عرب کلچر مطابق بکری دودھ اور اونٹ و بکری مندی توازع سے مہمان نوازی کی گئی تھی۔
ہنری کسنجر کے سعودی عرب آنے کے مقاصد اور پیغام کچھ یوں تھے۔کسنجر کا بنیادی مقصد شاہ فیصل کو تیل کی سپلائی (Embargo) فوری طور پر بحال کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔ امریکی معیشت اور یورپ میں پیٹرول کی شدید قلت کی وجہ سے حالات سنگین ہو چکے تھے۔مختلف تاریخی حوالوں کے مطابق، کسنجر نے شاہ فیصل کو دھمکی دی تھی کہ اگر پابندی نہ ہٹائی گئی تو امریکہ سعودی تیل کے کنوؤں پر بمباری کر سکتا ہے یا ان پر قبضہ کر سکتا ہے۔
نکسن انتظامیہ نے کسنجر کے ذریعے پیغام بھیجا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان مذاکرات کے ذریعے "منصفانہ اور یکساں” پالیسی اپنائے گا۔
کسنجر کی زبانی صدر امریکہ کی سعودی تیل کنوؤں کو بموں سے اڑانے کی دھمکی نہایت اطمینان سے سننے کے بعد,ہنری کسنجر کی دھمکیوں کے جواب میں, شاہ فیصل نے انتہائی جرات مندانہ اور تاریخی جملہ کہا تھا”ہم اور ہمارے آباء ؤ اجداد, کھجور اور اونٹ کے دودھ پر گزارا کرتے آئے ہیں، تم امریکیوں کو لگتا ہے کہ تم ہمارے پیٹرول کنوؤں کو بموں سے اڑانے کے بعد ہم کیا کریں گے؟ اور کیسے جئیں گے؟ تو آپ کو معلوم ہونا چاہئیے کہ ہم دوبارہ بھی اسی حال میں رہ سکتے ہیں، لیکن اب ہم اپنی عزت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔اب یہ تمہیں فیصلہ کرنا ہے کہ بغیر پیٹرول کے یورپ و امریکہ کے مصانع کیاچل سکتے ہیں؟” شاہ فیصل نے کسنجر کی دھمکیوں کے باوجود پیٹرول کی پابندی فوری ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔مذاکرات کے بعد، 1974 کے اوائل میں جب اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں سے جزوی انخلا پر رضامندی ظاہر کی، تب جا کر پابندی اٹھائی گئی تھی۔اور پھر 8 جون 1974 کو امریکہ و سعودی عربیہ کے درمیان پچاس سالہ پیٹرو ڈالر ایگریمنٹ عقد بند ہوا تھا جس پر امریکہ کی طرف سے ہنری کسنجر اور سعودیہ کی طرف سے اس وقت کے نائب وزیر اعظم اور پرنس فہد بن عبد العزیز نے دستخط کئے تھے۔ سوال یہ تھا اس وقت کے شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے اتنے سخت موقف کے باوجود ل,آخر وہ کون باثر شخصیات تھیں جن کی وجہ سے پیٹرو ڈالر ایگریمنٹ ہونے کے باوجود اس عقد پیٹرو ڈالر کے سخت مخالف, شاہ فیصل بن عبد العزیز آلسعود کو انکے اپنے بھتیجے کے ہاتھوں شہید کئے, امریکہ کو انہیں اقتدار سے ہٹانا پڑا تھا۔ یہی وہ امریکہ سعودیہ پیٹرو ڈالر ایگریمنٹ تھا, جو بعد میں اوپیک ممالک کے ساتھ عالمی سطح پر عالمی تجارت کو آمریکی ڈالر سے مشروط کرتے ہوئے,صاحب امریکہ کو عالمی سطح معشیتی طور انتہائی مضبوط کرتا چلاگیا تھا۔ اب 8 جون 2024 تک تو یہ عالم ہے کہ عرب ممالک کے اپنے پیٹرول بیچی پونچی,نہ صرف امریکی بنکوں میں پڑی رہتی ہے بالکہ اس کا ایک بڑا حصہ امریکی ہتھیار و تعیش پسندانہ آشیاء کی خرید پر خرچ ہوئے امریکی معشیت کو استحکام بخشتی ہے, تو وہیں اسی پیٹرول قیمتوں کا ایک بہت بڑا حصہ تناسب, امریکی حکومتی ٹریزری بونڈ کے عوض امریکہ ہی میں محفوظ رکھے جاتے امریکی معشیت کو سنبھالے ہوئے ہے ۔ گویا عرب ممالک کے درمیان اپنے غنڈے اسرائیل کو رکھے انہیں ڈرائے دھمکانے چاروں طرف سے,صاحب امریکہ عرب ممالک کو لوٹے جا رہا تھا, ان عرب حکمرانوں کو صاحب امریکہ کے ہاتھوں مسلسل لوٹےجانے کے باوجود, انکے پاس دوسرا کوئی نعم البدل بھی نہ تھا اسی لئے وہ دانستہ نادانستہ امریکی سرپرستی کئے جارہا تھے۔ ایکسیویں صدی کے دوسرے عشرے اختتام کے قریب مسلم امہ کی اولین ایٹمی قوت پاکستان پر عمران خان کی حکومت دوران خصوصا” کورونا وبا دوران پورے عالم میں مکمل لاک ڈاؤن کے چلتے پاکستانیوں کے جزوقتی لاک ڈاؤں سے,صنعتی پیداوار جاری رکھے, عالم میں ایک اچھوتا مقام حاصل کرتےہوئے اور خصوصا” عالمی حربی قوت صاحب امریکہ کی سیاسی مخالفت نظرئیے سے, عالم انسانیت میں ایک اچھوتا مقام حاصل کرتے پس منظر میں, عمران خان نے نہ صرف سعودی عرب, ایران, درمیان تفکراتی دوری کو پاٹنےکی جہاں بھرپور کوشش کیں تھیں,وہیں امریکی کیمپ والے مملکت سعودیہ کے وزیر اعظم اور کراؤن پرنس محمد بن سلمان, ایم بی ایس کے درمیان ایک حد تک قربت پیدا کی تھی۔یہی وہ اثرات تھے, جون 2024 امریکہ کے ساتھ طہ پائے پیٹرو ڈالر عقد اختتام بعد, تجدید نؤ سے لیل و لعل کرتے پس منظر کو, ایم بی ایس کے, کسی بھی وقت صاحب امریکہ کو چھوڑ, چائینا کیمپ میں جاتے نظرئیے کے طور بھی دیکھ رہے تھے۔اگر اسوقت ایم بی ایس امریکہ سے اپنے اختلافات کے پیش نظر, اپنے آپ کو بالکیہ چائینا کیمپ میں کھڑا ظاہر کردیتے تو آج کے اس ایران امریکہ جنگی پس منظر کو,کچھ اور زاوئیے سے دنیا دیکھ رہی ہوتی۔ اس سمت ہم نے کئی مضامین میں اپنے تفکرات کو اپنے قارئین سامنے بھی پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بدلتےسیاسی منظر ناموں میں,عالمی ملکی دوست و دشمن, اپنے پالے بدلتے پائے جاتے رہتے ہیں اور اس دنیا کا معمول صدا چڑھتے سورج کی شادمانی سے محظوظ ہونا ہی رہا ہے۔ امریکی انبساط کے خلاف سابقہ کئی دہوں سے خلیج کے کھاڑی ملک شاہوں کو صینی لیڈران امریکی پالے سے اپنے پالے میں کرنے کی فکریں کرتے پائے گئے ہیں روس و چائینا کی صدا یہ کوشش رہی تھی کہ خلیجی صحرائی ملکوں سے,امریکی حربی اڈوں کو صدا کے لئے بند کیا جائے اسی نظرئیے کے تحت چین و روس نے کھل کر ایران کا ساتھ دیتے ہوئے, امریکہ سے نپٹنے خلیجی دریاؤں کو ہی فوقیت دی تھی اور نتیجہ آج عالم انسانیت کے سامنے ہے
ایک وقت کا وہ امریکہ تھا وہ جو کہتا تھا عالم انسانیت کے لئے حرف آخر ہوا کرتا تھآ۔
7دسمبر 1941 امریکی پرل ہاربر پر جاپانیوں کے اچانک حملوں سے بدحواس ہوا صاحب امریکہ 6 اور 9 اگست 1945, صاحب امریکہ نے جاپانی دو شہر ھیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم برساتے ہوئے, ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ جاپانیوں کو بےوقت موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے, جاپانی قوم کو, اپنی حفاظت کی ذمہ داری بھی قاتل جاپان,امریکہ ہی کے سپرد کئے, عالم میں امن و چین, شانتی لانے والے آمریکی حکم کو آمنا و صدقنا کہتے قبول کرنے مجبور کرتے ہوئے, عالم انسانیت کواپنی چودراہٹ قبول۔کئے جینے مجبور کیا تھا۔ جو اناسی(89) سال بعد چائینا و روس کی پوری پشت پناہی بعد, ایران نے,امریکہ کی ھیجے منی یا وقار کو نیست نا بود کر رکھ دئیے جاتے,صاحب امریکہ کو عالم انسانیت کے سامنے رسواء رکھ چھوڑا ہے ۔یقینا” اس کے لئے شیعہ ملک ایران واقعی قابل تعریف ہے امریکہ کے خلاف دکھائی و درشائی گئی اپنی دلیری کے لئے۔ویسے کئی ہزار سال کی ایرانی تاریخ گواہ ہے, ما سوائے مدینہ والی 633 تا 651 عیسوی سال خلافت راشدہ حکومتی یلغار کے سامنے ہار تسلیم کئے سورج کی پجاری قوم سے, وحدانیت والی ایمانی مسلم قوم بننے کے سوا, ایرانی قوم نے کبھی کسی بھی بیرونی قوتوں کے آگے سرتسلیم خم کبھی نہیں کیا تھا۔ صاحب امریکہ نے اسرائیل کو اپنے مفاد کے لئے انہیں انکے دیڑھ ہزارسال قبل والے,خلافت راشدہ حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں,وہ بھی صیہونیوں کی ریشہ دوانیوں سےقوم یہود کوارض فلسطین کدھیڑ باہر کیا تھا لیکن اپنے آبائی وطن فلسطین پر ایک مرتبہ قدم جمانے کے بعد اسی اسرائیلی قوم نے انہیں اپنی زمین پر پناہ دینے والی فلسطین قوم کے ساتھ محبت چین کےساتھ رہنے کے بجائے 970 سے 1010
سال قبل مسیح یعنی آج سے 3026 سال والے انکے کنک داؤد کے زمانے والے ذھبی دور والے گریٹر اسرائیل کے خواب بننے شروع کئے تھے جس گریٹر اسرائیل میں فی زمانہ پورا جارڈن لبنان سیریا اور سعودیہ سمیت کئی ملکوں کے کئی حصوں پرمشتمل اپنےناممکنات خواب کی تعبیر کے پیچھے,قوم یہود مصروف عمل ہے۔اس کے لئے ہزار دیڑھ ہزار سال قبل ہی سے, قوم یہود مختلف یورپئین ملکوں کے ساتھ, اپنے سود پر مشتمل تجارت سے, معشیتی منڈیوں پرقبضہ جمائے,امریکی معشیت کو بھی اپنے زیر نگین کئے, بظاہر صاحب امریکہ کو عالم انسانیت کا سربراہ بننے اسکی مدد کئے,امریکہ کی حمایت کے ساتھ,درہردہ امریکہ کے ساتھ عالم انسانیت پر اپنی ان دیکھی حکومت چلاتے آرہے ہیں۔ اپنے گریٹر اسرائیل تعمیر خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے علاقے کے عرب وعجم مختلف ملکوں میں, کوئی بھی مسلم حربی اعتبار مضبوط ہوتا پایا جاتا ہے تو, انہیں اپنی سازشانہ کاروائیوں میں پھنسائے امریکہ کی ہمہ وقت مدد کےساتھ,ان ملکوں پر یہود و نصاری مشترکہ یلغار کئے, انہیں تباہ و برباد کرتا آیا ہے اس کی زندہ مثال 1979 ایران پر امریکہ پپیٹ رضا شاہ پہلوی حکومت کے خلاف کامیاب جد و جہد کئے, ایران پر شیعہ ایرانی عوامی حکومت قیام کے بعد, امریکی اشاروں پر ناچنے والے عرب سنی شاہان کو,ایران کے خلاف ورغلائے, ایران پر حملہ کروائے,مسلسل آٹھ سال دونوں فریق کو ہتھیار بیچے, خوب ڈالر کمائے, مضبوط ہوئے عراقی صدام حسین حکومت نیز لیبیائی افغانی حکومتوں کو کس طرح تاراج کیا گیا یہ بات کسی عقل و فہم ادراک رکھنے والوں سے مخفی نہیں رہی ہے۔ اب قوم یہود کے گریٹر اسرائیل خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے, انکے یہود و نصاری سازش کنان کے سامنے اولا” ایران پھر ترکیہ والی, مضبوط مسلم افواج والی صرف دو ہی مملکتیں باقی رہتی ہیں اسی سازش کے چلتے عرب سنی حکمرانوں کو شیعہ تفکراتی ایرا لن کا خوف بتائے ایران پر اسرائیل و امریکہ کیطرف سے یلغار کی گئی تھی۔ جس دنیا پر مسلم دشمن یہود و نصاری ایسی سازشیں تدبیریں کرتے آئے ہیں وہیں رب کائینات بھی اپنے بندوں کی حفاظت کی تدبیریں کرتے پائے جاتے ہیں اور رب کائینات کے آسمانی کتاب قرآن مجید میں بیان کئے جیسا "وَمَكَروا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيرُ الماكِرينَ”﴿۵۴﴾ اور بے شک انسانی مکر و فریب پر اللہ کی تدبیر غالب آکر رہتی ہے۔ اللہ نے عالم انسانیت پر تقویت حاصل کرتی چائینز قوم کے دلوں میں یہود و نصاری سازشوں سے تباہ کئے جاتے ایران کی مدد ونصرت کئے عرب ریگستانی خطے ہی سے یہود و نصاری غلبہ کوختم کرنے کی جو تدبیر سوچی تھی چائینیز و ایرانی اقوام کے گٹھ جوڑ سے یہود و نصاری کو اس دو ماہی جنگ میں ایسی شرمناک شکست دلائی ہے جو یہود ونصاری عالمی قوتوں کے لئے نہ نگلے نہ اگلے بن چکی ہے۔ شکست تسلیم کئے خاموش رہے اپنی ذلت آمیز شکست بعد, اپنے عالمی سربراہی ھیجے منی اقدار کھوئے, بےوقعت رہنے پر ایک اور زور آزمائی کئے, اپنی ساکھ بچانے کی فکر صاحب امریکہ کو جہاں ہے,وہیں سابقہ نصف صد سال سے صاحب امریکہ کو زیر کرتےعرب کھاڑی ہی سے اسے کدھیڑ باہر کاراستہ دکھانے میں مشُغول چین و روس ایسے تھوڑی نا خاموش تماشائی بنے دیکھتے بیٹھے رہ سکتے ہیں۔ چین و روس کے اس امریکہ ایران جنگ درمیان آنے کے بعد,امریکہ اسرائیل کی شکست یقینی دکھتے پس منظر میں, دو سانڈوں کی لڑائی میں کمزور مگر چالاک بھیڑیے کا درمیان میں کود پڑنا بھی بھیڑیے کے لئے وبال جان مسئلہ بن سکتا ہے لیکن بکرے کا بچہ آپسی اپنی برداری کے بکروں میں سر ٹکرانے میں مہارت حاصل کرتے اپنے سر مارنے کے فن یکتائیت کے چلتے شیخ چلی کے خواب بنتا وہ بکرے کا بچہ دو سانڈوں کے درمیان لڑائی کا حصہ بننے کی کوشش کرتا ہے تو اسکے مارے جانے یا ہاتھ پاؤں ٹروا, مفلوج زندگی بسر کرنے کے سوا کوئی اور چارہ گر نظر نہیں آتا ہے۔ کیا اس اسرائیل امریکہ بمقابلہ ایران روس و چائینہ جنگ و حرب میں یواے ای اور بحرین کا کھل کر ایران پر یلغار کرتی حماقت, پھر ایک مرتبہ اس مظفر بزمی کے مشہور شعر کے مصرع ثانی کو گنگنانے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ "یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے”
(یو اے ای کی حماقت پس منظر میں) "لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ہے”
کسی بھی انسان سےوقتی خطا سرزد ہونا, ہر کسی سے خصوصا” شاہان وقت سے بھی ممکن ہے لیکن ایسی لغزش ہم جیسے عامیوں کو تو محسوس ہوتی ہو اور ان شاہان کو ان کا مستقبل تاریک کرتی لغزشوں کا احساس نہ پوتا ہو یہ کیسے ممکن ہے؟ خیر جو بھی ہو ایسے مواقع پر اپنے رب و دوجہاں کے حضور یہی دعا کرسکتے ہیں کہ وہ ان عرب شاہان کو عقل سلیم عطا کرے اور انہیں مستقبل میں ہونے والے نقصان عظیم سے آمان میں رکھے اور پاکستان سعودیہ قطر ترکیہ حربی گٹھ جوڑ میں ایران کو بھی شامل کروائے ایک مضبوط حربی مسلم گٹھ جوڑ معرض وجود میں لائے, بعد سکوت خلافت عثمانیہ استنبول ترکیہ پر مسلم امہ پر صبر آزما آئےایک سو دو سال یہود و نصاری ظلم و انبساط دورانئے بعد, مسلم امہ کے لئے فرحت آفرین دل خوش کن دور خلافت اسلامیہ نشاط ثانیہ کی نوید نؤمسلم امہ کے سامنے۔لائے۔ وما التوفیق الا باللہ

اسرائیل یورپ اٹوٹ تعلقات کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟
https://clarionindia.net/israels-european-shield-crumbles/۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button