
بھارت میں ھندو مسلم اتحاد کی ذمہ داری صرف مسلمانون کی ہی ہوکر کیا رہ گئی ہے؟
۔ نقاش نایطی
۔ +966562677707
https://www.facebook.com/share/r/1LbTHEct9J/
کیٹیڈرل چرچ آف جان پال بوسنن شہر امریکہ تاریخی پرانا چرچ ہونے کی وجہ سے جتنا مشہور ہے، اس سے کہیں زیادہ یہ نہ صرف پورے امریکہ میں بلکہ پورے عالم میں مسلم مسیحی اتحاد کیلئے مشہور ہو چکا ہے۔
آج سے بیس سال قبل بوسٹن شہر کی یونیورسٹی میں مختص جائےنماز جگہ جب مقامی مسلمانوں کے لئے جمعہ کی نماز پڑھنے تنگ محسوس ہونے لگی تو مقامی مسلمانوں کے ذمہ داروں نے,جمعہ کی نماز پڑھنے، ہال کی تلاش میں مقامی چرچ تک جا پہنچے جمعہ کی نمازکے لئے مسلمانوں کو کوئی بھی ھال دو گھنٹہ کے لئے درکار تھا۔ اس لئے آج سے بیس سال پہلے چرچ کے ذمہ داروں نے شروع میں چرچ کے نیچے کا تہ خانہ مسلمانوں کو نماز کے لئے دینا شروع کیا۔
چونکہ مسیحیوں کی طرح مسلمانوں کو بھی اپنے آسمانی خدا کی عبادت کیلئے ھال درکار تھا اس لئے بعد کے دنوں میں، چرچ انتظامیہ نے اپنے چرچ کی دوسری منزل کے وسیع و عریض مرکزی ھال کو،جمعہ کی نماز ادا کرنے، مسلمانوں کو دینے لگے۔ عام طور پر مسیحی لوگ سوٹ بوٹ پہن کر، ڈیسک ٹیبل پر بیٹھ کر چرچ میں عبادت کیا کرتے ہیں، اس لئے اوپر کے ھال سے بیٹھنے کے لئے رکھے گئے ڈیسک ٹیبل، نماز کے وقت میں ہٹائے جاتے ہیں اور چرچ کے ہر ھال میں آویزاں قد آدم یا اس سے بھی بڑے، مریم میری اور جیسز کے مجسموں کو، دوران نماز وقفے کے لئے، سفید پردےسے ڈھانپا جانے لگا۔ یہی نہیں آج سے چھ سال قبل چرچ انتظامیہ نے، مسلمانوں کو نماز سہولیات عطا کرنے ہی کی خاطر، مرکزی ھال میں، متعدد کھڑکیاں اور وضو کی جگہ بنانے کے لئے چرچ کی بناوٹ کی تبدیلی پر لاکھوں ڈالر بھی خرچ کئے ہیں اور یوں یہ کیٹیڈرل چرچ آف جان پال بوسنن شہر امریکہ ہی کا نہیں بلکہ پورے عالم کے "مسلم مسیحی اتحاد و محبت” کی نشانی کے طور مشہور ہونے لگا ہے۔ یہاں کے مسلمان بھی اس بین المذہبی رواداری کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے، اپنے چندہ پیسے سے، ہرسال لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہوئے، بوسٹن شہر کے غریب عیسائیوں کے لئے، ہراتوارچرچ میں اجتماعی کھانے کا نہ صرف انتظام کرتے ہیں، بلکہ وقت وقت کے ساتھ، چرچ انتظامیہ سے مل کر، بین المذاہب میل جول کو قائم رکھنے , رفاعی پروگرام بھی منعقد کرتے رہتے ہیں۔
1.1 تا 1.34% مسلم آبادی تناسب والے عالم انسانیت کے سب سے طاقت ور ترین مسیحی ملک صاحب امریکہ میں، مسلم مسیحی ہم آہنگی کا اتنا خیال جہاں رکھا جاتا ہے تو وہیں 15سے20% مسلم اقلیت والے ملک بھارت میں ھندو مسلم منافرت کا ایسا بازار کیوں گرم رکھا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو کسی ھندو مذہبی مندر میں نہیں, بالکہ عوامی جگہوں پر ہم مسلمانون کو اپنی فرض نماز پڑھنے تک سے کیوں ماورا رکھنے کی کوشش و سعی کی جاتی یے؟کیا اس پر ھندو اکثریتی سیکیولر ذہن ھندؤں کو تدبر و تفکر نہیں کرنا چاہئیے؟
امریکی تاریخی بوسٹن چرچ میں موجود یسوع مسیع اور ماں مریم کے بڑے مسجموں کو، وقت نماز جمعہ سفید کپڑوں سے ڈھانک دئیے جانے والے اس عمل کودیکھ اور سن کر ہمیں بھی چمنستان بھارت کے، بعدآزادی ایسے ہی ایک، ھندو مسلم بین المذہبی رواداری درشاتے عمل کی یاد تازہ کرادی ہے۔ دراصل بعد آزادی ھند عالم کے ملکوں سے اپنے تعلقات استوار کرنے، دیگر ملکوں کے سربراہان کو بھارت بلایا اور بڑی گرم جوشی سے انکا استقبال کیا جاتا تھا اور چونکہ بھارت آزاد ہونے کے دو سال قبل ہی عالم یہود و نصاری عالمی سازشوں کے چلتے، عالم کےنقشے پر اسرائیل کا وجود بھی عمل میں آچکا تھا، اور اسرائیل کے آس پاس موجود عالم عرب، اس اسرائیلی وجود سے نالاں، عالمی سطح پر تمام ممالک دو مختلف گروپ میں بٹ چکے تھے اس لئے آزاد بھارت کو بھی کسی ایک پالے میں جاتے ہوئے، اپنے مستقبل کا مفادتلاش کرنا تھا۔چونکہ آزادبھارت کے لیڈران مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، اس وقت کی فسطائی قوت ، برطانیہ امریکہ کے خلاف نان ایلائین افریقی غریب ملکوں سے تعلقات قائم کئے ہوئے تھے اور عرب ممالک میں پیٹرول نکلتے پس منظر میں، ہر کوئی ان سے تعلقات قائم کئے، اس قدرتی معدنی دولت سے مستفید ہونے کی فراق میں رہتے تھے، اس لئے اس وقت کے، تقویت پاتے، عرب ملکوں کی قربت حاصل کرنے کیلئے، عالم کا ہر ملک عربوں سے,گرم جوشی والے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی ہوڑ میں لگے رہتے تھے۔ مسلمانوں کے تاریخی مبارک شہر مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ، آدائیگی حج انتظامات کے سلسلے میں، ماقبل دریافت پیٹرول، اس وقت کی خستہ حال سعودی حکومت کو، نظام حیدر آباد ہر ممکنہ مالی تعاون دیتے رہتے تھے، نظام حیدر آباد اور والیاں سعودی عرب سے پہلے سے اچھے تعلقات قائم تھے۔ اور بھارت کے حکومتی ذمہ داروں کا جھکاؤ اسرائیل کے خلاف، عرب ممالک ہی کی طرف تھا، اس لئےان ایام عالمی سطح پر ایک طاقتور اقتصادی ملک کی طرح قوت پکڑتی مملکت سعودی عرب سے دو طرفہ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی لئے،نظام حیدر آباد کےاس وقت کے سعودی بادشاہ کے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے، سعودی عرب شاہ سعود بن عبد العزیز کو آزاد بھارت کے دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ اور 1955 انکی بھارت آمد کے موقع پر انہیں متاثر کرنے کے لئے ہی، اس وقت کے اپنے کروڑوں ھندو زائرین کی وجہ سے ایک حد تک ترقی پذیر شہر بنارس کی گنگا ندی کے کنارے، شاہ سعودی عرب کے استقبال کی تیاریاں بھارت کے ذمہ داروں نے پوری کرلی تھیں۔
چونکہ ان ایام آمد ورفت و ملکی حالات سےواقفیت کی رو سے، تمدنی ترقی پزیری، موجودہ دور کی طرح اتنے عروج پر نہیں پہنچی تھی، اس لئے عین دورے سے قبل سعودی انٹیلیجنس کی پیش کردہ رپورٹ پر، اسلام دھرم کا پرچار کرنے والے، مسلم حکمران کی حیثیت سے، مندروں کے شہر میں آزادانہ نقل و حرکت سے گریز کرنے ہی کی خاطر، سعودی فرماروا کی طرف سے مندروں کےشہر بنارس کے بدلے، کسی اور مقام پر، بھارت سعودی مشترکہ ملاقات رکھنے کی استدعا کی گئی تھی، چونکہ ان ایام اچانک کسی دوسرے شہر، اتنے وسیع پیمانے پر، دو بڑے مملکت کی مشترکہ ملاقات انتظام کرنا مشکل مسئلہ تھا، اس لئے بھارتیہ حکومتی ذمہ دار کافی پریشان ہوگئے تھے۔ اور اسی لئے حکومتی ذمہ داروں نے، شاہ سعود بن عبدالعزیز کو، ایک حد تک مطمئن کرنے کا جو وطیرہ اس وقت نکالا، وہ یقینا اس وقت ھندو مسلم محبت بھائی چارگی کی لازوال مثال قائم ہو گئی تھی۔ اور جتنے دنوں، والی سعودی عرب کا قیام بنارس میں تھا، اس وقت تک، شاہ سعود کی نقل و حرکت کی راہ میں پڑنے والے تمام بڑے اور اونچے مندروں کو وسیع و عریض چادروں سے ڈھانپنے ہوئے ،ان مندروں کو داعی دین اسلام سربراہ مملکت سعودی عربیہ کی چشم و کشاہ سے ماورا رکھا گیا تھا۔اس موقعہ پر شاہ سعود کو خراج عقیدت پیشن کرنے بنارس ہی میں منعقد کئے گئے، عظیم الشان مشاعرہ میں، اس وقت بنارس ہی کے،شاعر نذیر بنارسی نے مشاعرہ میں شاہ سعود کے سامنے جو اشعار پڑھے تھے جس میں انہوں نے کاشی کے صنم خانوں اور بنارس کی گنگا جمنی تہذیب کی تصویر کشی کی تھی
"ادنیٰ سا غلام ان کا گذرا تھا بنارس سے”
"منھ اپنا چھپاتے تھے کاشی (بنارس) کے صنم خانے”
نذیر بنارسی بنارس کی گنگا جمنی تہذیب اور وہاں کی مشترکہ ثقافت پر نظم و غزل کہنے کے لئے مشہور تھے۔ ان کی شاعری میں بنارس کی گلیوں اور یہاں کی مذہبی روایات کی گہری چھاپ ملتی ہے۔
یہ ہوتی ہے بین المذہبی رواداری، جس سے دو مذہب قریب آیا کرتے ہیں اور مختلف موقعوں پر اچانک اٹھنے والے معمولی اختلافات کے پیش نظر، آپس میں نفرت، بےگانگی و دراڑ طول پکڑا نہیں کرتی ہے۔ شاہ سعودی عرب نے مندروں سے اجتناب نظر کا صرف ڈھونک نہیں رچا تھا بلکہ اس وقت کےعرب حکمران واقعتا” پابند شریعت، اپنے حسن اخلاق سے داعی اسلام ہوا کرتے تھے۔ اسی لئےشاہ سعود علیہ الرحمہ نے، ان ایام تاج محل کی زیارت کرتے وقت، تاج محل تہ خانے کے، چھوٹے پستہ قدر در سے، جھک کر اندر جا، وفات پائے متوفی مغل فرمان روا شاہ جہاں کے مزار، حاضری سے ہی گریز کیا تھا۔ اور یہی نہیں بھارت کے دورے بعد، پاکستان دورے درمیان، جب شاہی قافلہ مزار قائد پاکستان محمد علی جناح علیہ الرحمہ پر جانا ہوا تھا تواس مزار زیارت کے موقع پر، شاہ سعود کا کہا وہ جملہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے لائق تھا کہ "کسی کی قبر پر مقبرہ درگاہ تعمیر کرنے کی اجازت اسلام میں گر ہوتی تو, مدینہ منورہ موجود، گنبد خضراء میں مدفون سرور کائینات خاتم الانبیاء سرکار دو عالم ﷺ کی قبر اطہر پر، دنیا کی سب سے علی شان سونے کی اینٹوں سے ہم مقبرہ یا درگا بناچکے ہوتے” یہ کہتے ہوئے ان آیام شاہ سعود نے; قاید اعظم پاکستان کی قبر ہر حاضری سے منع کیاتھا۔یہی نہیں شاہ سعود بن عبدالعزیز کے پوتے فی زمانہ مملکت سعودی عربیہ کے وزیر اعظم اور کراؤں پرنس محمد بن سلمان بن العزیز آل سعود جب 2023سپٹمبر سنیچر کے دن 18 ویں جی 20 نشست میں شرکت کرنے دہلی پہنچے تھے ۔اختتام نشست دوسرے دن صبح تمام بیرون ملکی ضیوف کے ساتھ انہیں بھی گاندھی سمادھی تعظیما” حاضری دینی تھی لیکن شاہ سعود کے پوتے ایمانی جذبات سے شرشار ایم بی ایس کو اپنے اسلامی اقدار کے چلتے, کسی کی قبر یا سمادھی پر تعظیما” جانا پسند نہ تھا اس لئے ملکی پروٹوکول کی پرواہ تک نہ کئے محمد بن سلمان اس تقریب سے بچتے, اس سے پہلے ہی دہلی سے دانستہ روانہ ہوگئے تھے۔ ایسے ایمان فروز امراء کو انکے ملکی ترقیات کچھ حدتک مباح اقدامات ہی کے چلتے, انہیں اسلام دشمن ٹہراتے، انکے خلاف رطب اللسان,اناپ شناب بکتے علماء ھند وپاک کو,کیا ان میں ان شاہان جیسی ایمانی حرارت موجود ہےبھی کہ نہیں؟ خود محاسبہ کرنا یا کروانا چاہئیے. اللہ ہی ایسے تمام متوفی داعی اسلام حکمران کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس عطا کرے اور فی زمانہ ایسے بیسیوں مسلم ممالک پر، پابند شریعت حکمرانوں کا نزول لازمی بنائے۔
عالم کی سب سے بڑی جمہوریت، چمنستان بھارت، اپنے گنگا جمنی مختلف المذہبی سیکولر اثاث سے، ہزاروں سال قبل ہی سے محبت اخوت بھائی چارگی کی مثال قائم کئے ہوئے ہے۔ جس پر باہر سے حملہ آور مسلم حکمران مغل شاہان نے بھی، سر تسلیم خم کرتے ہوئے، اس گنگا جمنی سیکولر تہذیب کو آگے بڑھاتے ہوئے، اپنے800 سالہ حکمرانی دوران بھی، اپنے دین اسلام کے عین اوصول مطابق اور مذاہب کے اقدار کو لائق تبریک سمجھتے ہوئے، بھارت میں سیکولر اثاث کو زندہ و تابندہ رکھا تھا۔ اور اس آزاد بھارت کے ہم کمزور و ناتواں 15 سے 20 فیصد آبادی تیس پینتیس کروڑ مسلمانوں نے، باوجود ہم پرہوئےشدت پسند سنگھی ذہن ھندو اکثریتی مظالم کے باوجود، ایک حد تک اپنی طرف سے، ھندو مسلم بھائی چارگی کی فضاء کو قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ کیا ہم بھول گئے کیرالہ سیلاب مرنے والے ھندو مسلم عیسائی کثیر لاشوں کو پوسٹ مارٹم کرنے، علاقے کی جامع مسجد نے، نہ صرف اپنے دروازے کھولے تھے بلکہ کئی روز تک، ہر ممکنہ تعاون سے سیلاب زدگان کی بازآباد کاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیا تھا۔ کورونا کال کے ابتدائی دنوں میں، ہمارے ویر ھندو سمراٹ، ہنومان پرتیک 56″سینے والے خود ساختہ ایشور کے اؤتار وزیر اعظم مودی جی کے، بغیر تیاری کئے، عالم کی سب سےبڑی جمہوریت 140 کروڑ بھارتیہ عوام کو، صرف چار گھنٹہ سے بھی کم وقت دئیے،اپنے نازی ہٹلری "من کی بات” حکم نامہ سے، پورے بھارت واسیوں کو گھروں میں قید بند کئے جاتے، عالم کی سب سے بڑی جیل بنائے گئے, ناعاقبت اندیش فیصلے بعد، عدم سہولیات ریل و بس سفر، مختلف علاقوں کے کڑوڑوں پرواسی مزدوروں کو، ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک, اپنے دو پاؤں کے سہارے و بھروسے ، ہزاروں کلو میٹر سفر پیدل ہی طہ کرنے کے انکے, عملی اقدام سے، بدحال و نڈھال ہوتے کروڑوں پرواسی مزدوروں کو، کورونا کال رمضان میں، خود دن بھر بھوکے رہتے ہوئے بھی، بھارت کے مسلمانوں نے، سر راہ جو پانی جوس چپلیں اور دیگر ضروریات سفر کی سہولیات بہم پہنچائی تھیں, بھارت کے 140 کروڑ ھندو مسلم سکھ عیسائی عوام، کیا انکے اس نیک اور اچھے عمل کو بھول پائیں گے؟اور یہ سب بھارت کے مسلمانوں نے،بھارت پرحکمران، شدت پسند ھندو ٹولے کے، اپنے بکاؤ بھونپو میڈیا کے ذریعہ سے، تبلیغی مرکز دہلی کے نادانستہ عمل کو بہانہ بنا، بھارت کے مسلمانوں کو بدنام و رسوا کرتے دانستہ سازشی تشہیری عمل باوجود کیا تھا۔
کیا بھارت کے اکثریتی ھندو برادری، کورونا کال فیس ٹو میں، ھندو ویر سمراٹ مودی یوگی کی نا اہلی کے باعث، حکومتی سرپرستی میں شرپسند سنگھیوں کے کورونا دوائیوں اور جان بچاتی آکسیجن کی تسکری کر، دولت سمیٹتے پس منظر میں، دیش کے مختلف حصوں پردیشوں شہروں کے مسلمانوں نے، اپنی مساجد و مدارس کو عارضی شفاخانوں میں تبدیل کرتے ہوئے، کورونا دوائی اور آکسیجن فری سپلائی کرتے ہوئے، ہزاروں کی تعداد میں دم توڑتی انسانیت کو کیا بچایا نہیں تھا؟ کونکن مہاراشٹرا سمیت ملک کے کونے کونے کی مساجد کے دروازے، ضرورت مند غیر مسلم بھائیوں کے لئے کھول کر، انہیں فری کھانا کھلاتے ہوئے، اسلام دھرم کی محبت اخوت کے پیغام کو، ھندو بھائیوں کو قریب بلا سمجھنے کی راہ ہموار کیا نہیں کی ہیں؟ مہاراشٹر ممبئی اور سنگھی مسلم منافرتی لیبارٹری مشہور گجرات کے مسلم رفاعی اداروں کے رضاکارمسلمانوں نے, کورونا وبا سے دم توڑتی ہزاروں اموات بعد, کورونا وبا پھیلتے خوف سے ڈرے, ان کے اپنوں کے کریا کرم تک سے دور رہتے پس منظر میں, ان لاوارث چھوڑی ہزاروں ھندو نعشوں کو, انکے ھندو مذہبی اقدار کے ساتھ کریا کرم کئے, ھندو سماج پر اخلاقی عملی کرم کیا نہیں کیا تھا؟ اور یہ سب اس وقت ہو رہا تھاجب مرکز کے ساتھ ہی ساتھ دیش کے بڑے راجیوں میں سنگھی حکمرانی کی چھتر چھاپہ میں، دیش کے مسلمانوں پر، ماپ لنچنگ، بے گناہ گرفتاریوں سمیت، ہراقسام کی ظلم و بربریت ، مسلم اقلیت پر روا رکھی جارہی تھیں۔ سرکاری دست شفقت میں، اپنے بکاؤ بھونپو میڈیا 24X7 مکرر نشریات سے مسلم مخالف منافرت بھڑکائی جارہی ہے۔ اس موقع پر دیش کے اکثریتی ھندو طبقہ سے، جس میں یقینا ھندوؤں کا زیادہ تر طبقہ، بھارت کی پر امن فضا کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ ہم معذرت کے ساتھ پورے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ، ہزاروں سالہ گنگا جمنی بین المذہبی سیکیولر اثاث کو باقی رکھنے، اس پراگندہ ماحول میں ھندو اکثریت کو آج آٹھ کھڑے ہونے کا وقت کیا نہیں آیا ہے؟ "سب کا ساتھ اور سب کا وکاس” اور "اچھے دن آنے والے ہیں” کے دل لبھاونے وعدے کے ساتھ مہان مودی جی نے، اس وقت کے ترقی پزیری کی طرف رواں دواں 2014 کے چمنستان بھارت کی باگ ڈور جو سنبھالی تھی، "اچھے دن” اور "سب کا ساتھ سب کا وکاس” تو دور کی بات، 2014 سے پہلے کے وہ خوشحال دن، یہ سنگھی مودی حکومت کیا برقرار رکھ بھی پائی ہے؟ دو کروڑ سالانہ نئی نوکریاں نئے روزگار دینے کے وعدے پر آئی اس حکومت کے 7 سالہ دور اقتدار میں،انکے انتخابی وعدے مطابق 7 سال میں 14 کروڑ نئے روزگار دینے کے بجائے، اپنی غلط معشیتی پالیسئز سے, پہلے سے روزگار پر رہے20 سے 30 کروڑ بھارت واسیوں کو اب تک بے روزگار کرچکی یے،اس سنگھی مودی یوگی حکومت کو آج ٹمل ناڈ کلکتہ سمیت ایک دو ریاستی انتخابات میں ہار سے دوچار کرتے ہوئے، 2028 عام تک اس سنگھی مودی سرکار کو بھارتیہ سیاست سے اکھاڑ باہر کرنے کا کیا وقت ابھی نہیں آیا ہے؟ جو حکومت دیش واسیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام ہے، اور جس حکومت میں 2014 کے مقابلہ گیس سلنڈر، پیٹرول و دال چاول سمیت ہر اشیاء ضرورت، مہنگی تر ہوتے، غریب و متوسط طبقہ کے لئے جینا مشکل تر ہوگیا ہے. آزاد ملک ایران بعد آزادی ھند ہی نہیں ماقبل آزادی ہزاروں سال سے بھارتیہ حکومت سے اچھے روابط قائم کئے ہوئے تھا یہاں تک 1971 کی ھند پاکستان جنگ بعد بھارت کے پاکستان سے خراب ہوتے تعلقات پس منظر میں,عالمی سطح بھارتیہ قبضہ والے کشمیر پر پاکستان کے حق جتاتے تناظر میں بھی, آزاد مسلم ملک ایران نے ہمیشہ کشمیر پر بھارت کی طرفداری کرنے کے باوجود, اپنے وقت کا نون ایلائین بھارت, آج اپنے مسلم منافرتی تفکر و اقدار کے ساتھ مسلم دشمن اسرائیل کے ساتھ نہ صرف کھڑا پایا جاتا ہے, بالکہ عالمی سطح مسلم امہ کے خلاف,اپنی مسلم نفرتی سوچ بتانے درشانے اسرائیل کے ایران پر حملہ سےچند ساع قبل اسرائیل پہنچتے ہوئے, عالمی میڈیا پر ڈنکے کی چوٹ سے, اسرائیل کو اپنا فادر لینڈ بتاتے ہوئے, خود کو اسرائیل کی ناجائز اولاد درشاتے ہوئے,گنگا جمنی بھارت کی ہزاروں سالہ سیکیولر ذہنی نون ایلائین اقدار سبھیتا کو نفرتی اسلام دشمن شبیہ کےطور پیش کرتے ہوئے, امت مسلمہ عالم کے درمیان, بھارت کو مسلم دشمن ثابت کرتی اپنی ناعاقبت اندیش کوشش سے مسلم امہ عالم سے, اپنی دشمنی درشاتے, اپنے حکومت حد سے زیادہ خراب خارجہ پالیسی کے چلتے، مسلم ملکوں سے دشمنی مول لیتے ہوئے, اپنےاطراف والے کمزور و ناتواں چھوٹے ملکوں کو تک، بھارت کا دشمن بناتے ہوئے اور ہمہ وقت جنگ کے خطرات میں بھارت واسیوں کو گھرا چھوڑ چکا ہے کیا ویسی حکومت سےوقت رہتےچھٹکارا حاصل کرنا, سیکیولر ذہن کروڑوں بھارت واسیوں کے لئے, وقت کا اولین تقاضہ نہیں ہے؟ کانگریس مکت سرکار کا نعرہ لگانے والوں کو سنگھ مکت بھارت ہوتا دکھانے کا کیا وقت نہیں آیا ہے؟ کیا چمنستان بھارت میں پہلے والے، ھندو مسلم سکھ عیسائی ہم سب ہیں بھائی بھائی والے، محبت چین سکون و آشتی والے،گنگا جمنی مختلف المذہبی،سیکیولر اثاث ماحول کو واپس کیا لایا نہیں جاسکتا ہے؟اپنی منافرتی پالیسیز سے دیش کو کمزور کرتے سنگھیوں کو اس دیش میں کب تک برداشت کیا جاتا رہے گا؟ یوپی پولیس ریکارڈ مطابق دیش کی پر امن فضاء کو ھندو مسلم اور دلت برہمن منافرت میں تبدیل کئے,دیش میں دنگے کروانے ,گؤماس کو مندروں کے سامنے پھینکوانے والے وشؤ ھندو پریشد کے کاریہ کرتا ذمہ دار تھے۔ دیش میں مکرر دنگے کا ماحول پیدا کئے دیش کے 70 فیصد اکثریتی ھندؤں کے دلوں کو 15تا20 فیصد مسلمانون کے خلاف عدم احساس تحفظ کا ڈر اور خوف بٹھائے, ان اکثریتی ھندوؤں کا ووٹ حاصل کئے, ہزاروں سالہ مختلف المذہنی سیکیولر ذہنی گنگا جمنی بھارت پر مسلم دلت منافرتی ماحول والی سنگھی حکومت کا یہ گھناؤنا نفرتی کھیل کب تک کھیلا جاتا رہے گا اور کب تک دیش کی سیکیولر ذہن اکثریتی ھندو طبقہ خاموش تماشائی بنے, ھندستان کو ان سنگھیوں کے ہاتھوں تباہی کے دہانے کی طرف لیجاتا دیکھتا رہے گا۔ ان چند سالوں میں وقوع پزیر ہوئے اڑیسہ مہاراشٹر بہار صوبائی حکومتی انتخابات اور اب منعقد ہوئے کلکتہ آسام انتخابات الیکشن کمیشن اور دیش کی عدلیہ تک کو یرغمال بنائے سنگھی بی جے پی کے جھولی میں کامیابی ڈالے وقوع پذیر کیا نہیں کئے گئے ہیں؟ اگر دئش پر حکومت کررہی سنگھی جناعتوں کو کلکتہ کا اب ہوا یہ انتخاب کلکتہ کی عوامی جیت نظر آتی ہے تو اس انتخاب کو یکسر کالعدم قرار دیتے ہوئے,دوبارہ بیلٹ پیپرز طرز انتخاب کئے عوامی ارآء دیکھی جائے اور تب بھی اگر بی جے پی جیتتی پائی جائے تو اسے عوام آراء کی صحیح معنوں جیت تصور کی جائے بصورت دیگر سابقہ دو سال دوران ہوئے تمام ریاستی انتخابات کو کالعدم قرار دئیے بیلیٹ پیپر انتخاب کرائے جائیں اور عوامی حکومت سازی کی کوشش کی جائے۔
کیا دیش کا آزاد الیکشن کمیشن اور عدلیہ آزاد باقی بچا ہے؟ اتنی ساری شکایتوں باوجود اور ای وی ایم ہیکنگ, سنگھیوں کے ریاستی انتخابات جیتنے کے باوجود,آخر آزاد خود مختار الیکشن کمیش اور دیش کی عدلیہ عوامی شکایات سنوائی کئے, پرانے بیلٹ پیپر طرز انتخابات کروانے کا انتظام و اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ اس سمت دیش کے اکثریتی سیکیولر ذہن ھندو برادری کی مجرمانہ خاموشی ایسی کب تک چلتی رہے گی؟ 2014 سے پہلے دیش میں سرگرم عمل تمام سیکیولر ذہن عوامی اعلی تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل سول سوسائیٹی تحریکیں، کیا دم توڑ مرچکی ہیں؟ آخر کیوں یہ سول سوسائیٹی تحریکیں بھارت میں انگرئزوں کے ٹکڑوں پر پلنے والی ان سنگھی پارٹیوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے آزاد بھارت کو ایک اور حقیقی آزادی دلانے کی کوشش کرتے کیوں نہیں پائے جائیں گے؟ وما التوفیق الا باللہ




