
ایران: کرہ ارض کی تقدیر ؟
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
ایران کے اسلامی انقلاب کوآج 47 سال مکمل ہو گئے ہیں ۔ایک جانب دنیا بھر میں ایرانی سفارت خانے سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں تودوسری جانب ایران کی سمندری سرحدوں پر امریکی جنگی بیڑے’’ ابراہیم لنکن ‘‘نے ڈیرا ڈال رکھا ہے اور دنیا بھر کا میڈیا ایک ایک منٹ گن رہا ہے کہ اب جنگ شروع ہوئی اور تب ۔اس صورتحال میں سمندر کے اس پار عرب ممالک، ایران و امریکہ کے مابین گفتگو کا آغاز کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور ایک دور کی گفتگو کرانے میں کامیاب ہو چکے ہیں، جسے دونوں فریقین نے ’’مثبت‘‘ قرار دیتے ہوئے اگلے ہفتے دوسرے دور کی بات چیت کا اشارہ دیا ہے ۔
ظاہر ہے الجھی ہوئی اس صورتحال میں پورا مغربی ایشیا بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔ کسی ٹائم بم کی گھڑی کی طرح ٹک ٹک کی آواز پوری دنیا میں گونج رہی ہے۔ مسئلہ صرف مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ جنگ کے شعلوں کی تپش روس ،چین اور بھارت سمیت پورے جنوبی ایشیا میں محسوس کی جائے گی۔ یمن اور آبنائے ہرمز کے سمندری راستے مخدوش ہوئے تو یہ تپش پورا یورپ بھی محسوس کرے گا۔ امریکہ تو وینزویلا کے تیل سے کام چلا لے گا مگر یہ تیل یورپ کو بھی مل سکے گا یہ کہنا سر دست مشکل ہے۔ دیگر اشیاء ضروریہ کی نقل و حمل بھی متاثر ہوگی ۔کسی تیسری عالمی جنگ کا اعلان ہو یا نہ ہو مگر حالات عالمی جنگ جیسے ہی ہوں گے۔ شاید یہی خدشہ ہے جس نے عربوں کو اتنا فعال بنا رکھا ہے کہ وہ امریکہ پر اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کر کے اس ممکنہ جنگ کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خطے میں ایران کا سب سے بڑا دشمن ملک، اسرائیل بھی اس جنگ کے لیے کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھا رہا ۔ امریکی دفاعی ماہرین بھی اس صورتحال کو بخوبی سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی قیادت خصوصا امریکی صدر مستقل جنگی دھمکیاں دینے سے گریز نہیں کر رہے ، ایران بھی ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے ۔گویا زبانی جنگ میں کسی جانب سے کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی۔
اس پس منظر میں اہم سوال یہ ہے کہ آخر خطے میں ایران کو اتنی اہم دفاعی اور کلیدی حیثیت کیسے حاصل ہو گئی ۔انقلاب سے قبل ایران اس خطے کا عام سا ملک تھا ۔ اپنی تہذیب اور تیل کے سوا اس کی کوئی بااثر سیاسی یا دفاعی حیثیت خطے کے دوسرے ممالک کو متاثر نہیں کرتی تھی۔ لیکن اب جبکہ گزشتہ 47 سال سے ایران پر انتہائی سخت اقتصادی پابندیاں لاگو ہیں، ان کی معیشت بری طرح بدحال ہے، عوام کے لیے روزگار کے مواقع کم ہیں، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی آسمان پر ہیں اور دستیابی بھی کم ہے ،ایرانی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے تقریبا زیرو ہو چکی ہے۔ ہر چند کہ یہ اقتصادی ناکہ بندی کسی مستند عالمی ادارے مثلا اقوام متحدہ کی جانب سے عائد نہیں کی گئی، بلکہ یک طرفہ طور پر امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی ہے جن کا ماننا کسی بھی ملک کے لیے لازمی نہیں ہے، مگر جن ممالک پر امریکہ کا اقتصادی دباؤ ہے وہ ڈر کے مارے ان پابندیوں پر عمل کرتے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ روس ،چین ،انڈونیشیا ،ملیشیا، پاکستان ترکی، وسطی ایشیا کے بہت سے ممالک ان پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ بھارت بھی کسی حد تک ہی مانتا ہے۔ لیکن جب امریکی دباؤ پڑتا ہے تو بھارت کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی داخلی تجارت کے تقاضوں کے پیش نظر ماننا پڑتا ہے۔ حالانکہ اس سے ملک کو اکثر حالات میں نقصان ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
ان دگر گوں حالات میں انقلاب کے ابتدائی سال 1980 تا 988 ایک طویل اور لاحاصل جنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔جو اسی امریکہ کی قیادت میں 23 یورپی و عرب ممالک کے اتحاد کی جانب سے تھوپی گئی تھی ۔جس کا مقصد یہ تھا کہ ایران جنگ میں الجھا رہے اورنہ تو انقلاب کی نوک پلک درست کرنے کا نہ انقلاب کے نظریاتی اصول کو دیگرممالک تک پہنچنے کا موقع مل سکے ۔داخلی طور پر بھی کئی مرتبہ مختلف بہانوں سے عوامی احتجاجات کا سامنا کرنا پڑا، جو انہی ممالک کے تعاون اور سرپرستی میں کھڑے کیے گئے تھے مگر ہر مرتبہ ناکام ہوئے۔ حال ہی میں 28 دسمبر 2025 کا عوامی احتجاج تو اتنا سخت تھا کہ اکثر لوگوں کو لگ رہا تھا کہ اس بار یہ احتجاج کامیاب ہو جائے گا اور ایرانی حکومت اسی طرح گر جائے گی جیسے پچھلے دنوں بنگلہ دیش ،نیپال اور سری لنکا میں گری تھی۔اس بار امریکہ اور اسرائیل نے باقاعدہ اس احتجاج کی پشت پناہی کا اعتراف بھی کیا۔
دنیا نے دیکھا کہ مبینہ احتجاجیوں نے ہزاروں بے قصور شہریوں ، پولیس اور فوجیوںکو شہید کر ڈالا،درجنوں مساجد کو نظر آتش کیا ،قران حکیم کے نسخے جلائے، سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا ،جس سے ایران کے عوام نے بخوبی سمجھ لیا کہ احتجاج دراصل عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے نہیں بلکہ امریکہ واسرائیل کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے ، اسلامی نظریاتی حکومت کو برخواست کر کے وینز ویلا کی طرح ایران کو امریکی کالونی بنانے کی سازش ہے،تب ایران کے غیور اور اسلام پسند عوام اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور یہ شورش ختم ہو گئی۔ اس سے اندازہ کیاجا سکتا ہے کہ 47 سال کی اقتصادی پابندیوں اور ہزارہا پریشانیوں کے باوجود ایرانی عوام اپنے نظریاتی انقلاب کے ساتھ آج بھی ویسے ہی کھڑے ہیں جیسے شروع میں کھڑے تھے ۔یہ ایرانی حکومت کی وہ سب سے بڑی طاقت ہے جس نے دنیا بھر کی تمام صیہونی، استعماری، استکباری اور فسطائی قوتوں کو اب تک ناکام رکھا ہے۔ اور تمام نامساعد حالات کے باوجود ایران کو تعلیمی،تکنیکی، دفاعی، سیاسی اور ایٹمی محاذ پر ایک قابل لحاظ قوت کے طور پر کھڑا کر رکھا ہے۔
ایرانی حکومت کی طاقت کا ایک سرچشمہ روحانی بھی ہے۔ گزشتہ تین چار صدی میں دنیا بھر کے سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا نے مذہبی حکمرانی کو تقریبا مسترد کر دیا تھا۔ سیاست اور دین کو جدا جدا سمجھا گیا۔ آج یہ نظریہ سختی کے ساتھ دنیابھر میں رائج نظر آتا ہے۔ خصوصا مسلم دنیا میں خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں ہی دینی حکمرانی کے تصور کو ناکام مان لیا گیا تھا ۔سقوط خلافت کی ایک بڑی وجہ بھی یہی تھی۔ اسی طرح سترہویں صدی سے 19ویں صدی کے درمیان چرچ اور سائنس کی کشمکش کے نتیجے میں عیسائی دنیا پہلے ہی مذہب اور حکومت کو علیحدہ کر چکی تھی۔ خود بھارت میں بھی 800 سالہ مسلم حکمرانی کا دور اصل میں کوئی دینی یا مذہبی حکومت نہیں تھا۔ اس پس منظر میں 11 فروری 1979 کا ایرانی انقلاب خالصتا دینی تناظر میں بپا ہوا۔
رہبر انقلاب علامہ خمینی نے انقلاب کے پہلے ہی روز واضح اعلان کر دیا کہ ایرانی حکومت اسلامی نقطہ نظر سے ’’ولایت فقہہ ‘‘ کے فلسفے کو نافذ کرے گی ۔ولایت فقیہ ایک ایسی قرانی اصطلاح ہے جو عوامی زندگی کے مختلف امور میں ایک’’ ولی امر ‘‘کی قیادت کو لازمی قرار دیتی ہے ۔ہر چند کہ انقلاب بنیادی طور پر شیعہ مسلک کے اصولوں کو اپنا رہنما مانتا تھا ،مگر’’ لاشیعہ، لا سنیہ، اسلامیہ اسلامیہ ‘‘ کا نعرہ دے کر رہبر انقلاب نے واضح کر دیا کہ گو ایرانی حکومت کے دستور میں شیعہ شریعت نافذ رہے گی ،مگر عالمی سطح پر اس کا مطمحہ نظر بلا تفریق مسلک اسلام ہی رہے گا ۔
گزشتہ 47 سال اس پر عمل درآمد ہوتا نظر بھی آتا ہے ۔مسئلہ فلسطین کو لے کر سنی مزاحمتی تحریکوں کی بے لاگ حمایت اس کا ثبوت ہے ۔اس کے علاوہ بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے مسائل کے سلسلے میں بلا مصلحت کسی مسلکی تفریق کے بغیر ،بلند آوازیں ایران سے اٹھتی رہی ہیں ۔ ساتھ ہی ایک دوسرے نعرے’’لا شرقیہ لاغربیہ ‘‘نے ساری دنیا کے سامنے ایک چیلنج کھڑا کر دیا کہ اب عالمی نظام مشرق و مغرب کی تفریق کے بغیر استحقاق، استعداد اور انصاف کی بنیاد پر چلے گا۔ اس نعرے نے عالمی نظام پر یورپ کی بالادستی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ۔یہ وہ دو نعرے تھے جس نے ایک طرف پڑوس کے عرب ممالک کی شہنشاہیتوں کو معرض خطر میں ڈال دیا کہ اسلامی جمہوریت کے نفاذ کا مطالبہ عوام کو بغاوت پر آمادہ کر سکتا تھا ،اور دوسری جانب دنیا بھر کے وسائل پر یورپ ، امریکہ اور روس کا بلا شرکت غیر تسلط ختم کر سکتا تھا۔
چنانچہ 23 یورپی اور عرب ممالک کا اتحاد اسی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ،مگر ناکام رہا ۔بعد میں پیش آنے والے واقعات نے واضح طور پر دکھایا کہ ایک طرف دنیا بھر میں اسلام پسند تحریکوں کو طاقت حاصل ہوئی اور بہت سے مسلم ممالک میں اسی اسلامی نظریے پر مبنی حکومت قائم ہوئی اور مزید پیشرفت جاری ہے ۔دوسری طرف مغربی دنیا اب پہلے جیسی طاقت نہیں رکھتی ۔سقوط روس نے کئی مسلم ممالک کو آزادی دلائی ، یورپین یونین ٹوٹ گیا ،امریکہ اور اسرائیل جیسی ناقابل تسخیر سمجھی جانے والی طاقتیں آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں ۔ یوروپی زیر اثر والا نقوام متحدہ کمزور ہو رہا ہے تو نئے عالمی ادارے وجود میں آئے ہیں جو مغرب کی بالادستی اور اس کی کرنسی کے خلاف کھڑے ہیں ۔یورپی قیادت میں جاری اسلاموفوبیا کی تحریک جو 1980 کے بعد سے شدت اختیار کر رہی ہے وہ اسی ایرانی انقلاب کے ثمرات کو زہر آلود کرنے کے لیے بپا کی گئی۔ اس انقلاب نے ہی یہ بھی ثابت کیا کہ اسلامی نظریاتی حکمرانی عصرحاضر میں بھی نہ صرف ممکن ہےبلکہ ہر استبدادی نظام کا سامنا کرتے ہوئے بھی قائم و دائم رہ سکتی ہے۔ بلکہ اتنی مضبوط ہو سکتی ہے کہ پڑوس کےمخالف ممالک کو بھی مجبور کر سکتی ہے کہ فروعی ا ختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کے قریب آئیں ۔
عوامی سطح پر آج دنیا بھر کے 200 کروڑ مسلمان ایرانی حکومت کے موقف سے متفق بھی ہیں اور پر امید بھی ہیں۔ نیز دنیا بھر کے سیاسی، دفاعی اقتصادی ماہرین بھی یہ مانتے ہیں کہ اس وقت ایرانی حکومت پر کسی بھی قسم کی فوج کشی پورے کرہ ارض کو برے طور پر متاثر کر کے دنیا کو ایک شدید اقتصادی بحران کا شکار کر کے نیا عالمی نقشہ مرتب کر سکتی ہے۔تقریبا ایک صدی قبل علامہ اقبال نے شاید یہی پیشن گوئی کی تھی۔


