مضامین و مقالات

ریاستی انتخاب کے نتایج : نئی سیاسی صف بندی کا تقاضہ

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج آنے کا سلسلہ تادمِ تحریر جاری ہے، لیکن صورتِ حال کافی حد تک واضح ہو چکی ہے۔ کیرالہ اور پونڈیچیری کے نتائج تو سب پر پہلے ہی واضح تھے، تمل ناڈو، مغربی بنگال کے نتائج کی صورتِ حال غیر واضح تھی۔ تمل ناڈو میں بھی بہرحال ایک بڑا اندازہ تھا کہ کوئی تبدیلی آسکتی ہے، جو اب واضح ہو چکی ہے۔ لیکن مغربی بنگال کے معاملے میں تو ایکزٹ پول کرنے والے لوگوں کا بھی کہنا تھا کہ ووٹر خاموش ہے اور کوئی جواب نہیں دے رہا۔ یہ خاموشی بجائے خود ظاہر کر رہی تھی کہ کسی بڑی تبدیلی کی آہٹ ہے، وہ بھی ظاہر ہو چکی ہے۔
انتخابی مہم کے دوران جنوبی ہند کی تینوں ریاستوں میں تو انتخاب کا وہی انداز رہا جو ہمیشہ رہتا ہے، پدوچیری جہاں پہلے ہی این ڈی اے کی ایک حلیف کی حکومت تھی، دوبارہ جیت گئی۔ کیرالہ اور تمل ناڈو میں بالترتیب کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف کی جیت ہوئی، مگر تمل ناڈو میں ایک نئی سیاسی جماعت نے بھرپور اقتدار حاصل کیا ہے، جس کے تجزیے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح مغربی بنگال میں بھی بی جے پی کی بڑی فتح غیر جانبدارانہ تجزیے کی متقاضی ہے۔ جہاں تک تمل ناڈو کا تعلق ہے، وہاں تمل ویٹری کڑگم (TVK) کی شاندار جیت کے پیچھے 52 سالہ سابق تمل فلمی ایکٹر جوزف وجے کا بڑا ہاتھ ہے، جو اصلاً ایک دلت عیسائی ہیں۔ انہوں نے 2009 میں ایک سماجی تنظیم کی حیثیت سے کام شروع کیا اور اپنے مداحوں کی کثیر تعداد کےپیش نظر سیاسی طور پر بھی فعال ہوئے۔ پہلے انہوں نے جے للیتا کی پارٹی کی حمایت کی، پھر سیاسی اختلافات کی وجہ سے ریاست کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے کر 2021 میں بڑی کامیابی حاصل کی، جس نے ریاست کی بڑی سیاسی جماعتوں کو چونکا دیا۔ بعد ازاں وہ سی اے اے کے خلاف بھی متحرک رہے، نیز دیگر ریاستی معاملات میں بھی فعال رہے۔ بالآخر 2 فروری 2024 کو اپنی مذکورہ پارٹی لانچ کرتے ہوئے اپنے بائیں بازو کی سیاسی پالیسی کا اعلان کیا اور تمل ناڈو کے معروف لیڈران پیریار، کامراج اور ڈاکٹر امبیڈکر کے اصولوں پر چلنے کا عہد کیا۔ بعد ازاں کئی بڑی ریلیوں میں وہ مرکزی اور ریاستی سرکار کے خلاف جارحانہ انداز میں سامنے آئے اور بی جے پی کے شدید مخالف ہونے کا عندیہ بھی دیتے رہے۔ اسی بنیاد پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اس انتخاب میں وہ نمایاں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، حالانکہ ڈی ایم کے کے اشارے پر تمل ناڈو کی کچھ مسلم تنظیموں نے ان کی مخالفت بھی کی۔
بہرحال یہ غنیمت ہے کہ تمل ناڈو میں روایتی سیاسی جماعتوں کے مقابلے ایک نئی سوچ کے ساتھ ایک سیکولر چہرہ سامنے آیا ہے۔ بی جے پی کو ایک بار پھر وہاں سر اٹھانے کا موقع نہیں ملا اور وہ محض دو سیٹوں پر سمٹ گئی، حالانکہ اس کی حلیف اے آئی اے ،ڈی ایم کے کو پہلے سے بہتر سیٹیں ملی ہیں، اور ڈی ایم کے کو بھی تقریباً 60 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ تمل ناڈو اور کیرالہ نے ایک مثبت تبدیلی کو ترجیح دی ہے۔
لیکن مغربی بنگال کا معاملہ بہت دلچسپ ہے۔ ہر چند کہ پانچ ریاستوں میں انتخابات ہوئے تھے، لیکن قومی سطح پر شمال مشرق کی صرف دو ریاستیں، آسام اور مغربی بنگال ہی توجہ کا مرکز رہیں۔ اصل میں پہلے مرحلے میں ہی انتخابات ہو چکے تھے، اس لیے گزشتہ ایک ماہ سے صرف بنگال پر سب کی توجہ مرکوز رہی۔
وزیراعظم، وزیرِ داخلہ، یوپی کے وزیراعلیٰ سمیت بی جے پی کے تمام اہم رہنما بنگال میں ڈیرے ڈالے رہے، اور وہی فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز پروپیگنڈا اختیار کیا جاتا رہا جو عموماً بی جے پی کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ بنگالی قومیت کو پسِ پشت ڈال کر ہندوتوا کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو بنگالی ہندوؤں کا محافظ اور مسلمانوں کو ان کا دشمن بنا کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی، اور ہر ممکنہ حربہ بے دریغ استعمال کیا گیا۔ ایس آئی آر ، الیکشن کمیشن، پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں کی بھرمار کر دی گئی۔ جذباتی نعروں اور مذہبی علامتوں کا کھلے عام استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا کہ آخر بنگال کے انتخابات کو اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔
اس سوال کا جواب بھی اہم ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں سب سے زیادہ مسلم آبادی آسام میں تقریباً 35 فیصد ہے، اور دوسرے نمبر پر بنگال میں تقریباً 28 فیصد۔ کشمیر کے بعد ملک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد انہی دو ریاستوں میں ہے۔ آسام کی 126 میں سے 52 سیٹوں پر مسلم ووٹ 20 فیصد سے 90 فیصد تک ہے، جو تعداد کے اعتبار سے بہت مؤثر ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ دس سال سے وہاں بی جے پی اقتدار میں ہے، اور اس مرتبہ تو پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ تنہا بی جے پی نے 82 سیٹیں اور اس کی حلیف پارٹیوں نے 20 سیٹیں جیتیں، جبکہ بدرالدین اجمل کی پارٹی کو محض دو سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس طرح بی جے پی نے یہ ثابت کر دیا کہ بڑے سے بڑا مسلم ووٹ بھی اپنی حکمتِ عملی کے ذریعے بے اثر کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دس سال کا یہی تجربہ اس مرتبہ بنگال میں اختیار کیا گیا۔ 294 میں سے 100 سے زائد سیٹوں پر مسلم ووٹ 20 سے 90 فیصد تک ہے، اور مسلم ووٹ تقسیم ہوئے بغیر ممتا بنرجی کو ملا بھی، اس کے باوجود وہ 100 سے کم سیٹوں پر سمٹ گئیں اور ان کی پندرہ سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔
مسلم ووٹ اس مرتبہ یہاں بھی بے اثر ہو کر رہ گیا۔ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے کچھ بڑے لیڈروں سے بات کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے بنگال کی جیت کے بارے میں کسی خاص جوش کا اظہار تو نہیں کیا، لیکن اشارۃً یہ ضرور کہا کہ اس بار بنگال جیتنا ہی ہے، اور طریقہ وہی ہوگا جس طرح سی پی ایم نے اپنے دور میں کانگریس کو شکست دی تھی، اور بعد میں اسی سیاسی زور کے ساتھ ممتا بنرجی نے اقتدار حاصل کیا تھا۔ اسی طریقۂ کار پر عمل کر کے ہی بی جے پی بنگال جیتنے کی کوشش کر رہی تھی، اور اس زور زبردستی کے مظاہر بہرحال دیکھنے میں آ رہے تھے۔ دونوں جانب سے یہ سلسلہ جاری تھا، بس یہ دیکھنا باقی تھا کہ پلڑا کس کا بھاری رہتا ہے۔
بی جے پی کے لیے بنگال کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر ہے۔ ایک تو یہ کہ شمال مشرقی ریاستوں کے تناظر میں اب بنگال ہی ایسا بڑا خطہ رہ گیا تھا جو اس کے مکمل کنٹرول میں نہیں تھا، جبکہ بہار سے لے کر سکم اور اروناچل پردیش تک بی جے پی یا اس کے حلیف اقتدار میں ہیں۔ دوسری بات یہ کہ بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع ہونے کے باعث اس کی سکیورٹی پوزیشن نہایت حساس ہے، جس کی ملکی اور بین الاقوامی تزویراتی اہمیت ہے، اور اسی لیے مرکز میں حکمران جماعت اس پر کنٹرول کو ضروری سمجھتی ہے۔
تیسری اہم بات بہرحال یہ ہے کہ ریاست کے بڑے حصے میں خاصی گھنی مسلم آبادی ہے، جس پر کنٹرول حاصل کرنا اپنی دو سو سالہ اسلام اور مسلم مخالف آر ایس ایس کی پالیسی کے باعث فخر اور فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

چوتھی بات یہ کہ ملک میں ہندوتوا کی ابتدائی ترویج و تشہیر کا آغاز بھی اسی بنگال سے ہوا تھا۔ راجہ رام موہن رائے، سوامی وویکانند، بنکم چندر چٹرجی اور جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکرجی وغیرہ کا تعلق بھی اسی ریاست سے رہا ہے۔
بنگال کو اتنی اہمیت دینے کی یہی وجوہات ہیں۔ ایسے میں ہمایوں کبیر جیسے مسلم لیڈر اور بابری مسجد کے نام کا استعمال بی جے پی کے لیے آسانی کا سبب بنا۔ حالانکہ یہ بات پہلے سے واضح تھی کہ نہ انہیں اور نہ ہی اویسی صاحب کو مسلم ووٹ ملے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ لیکن ایسے عناصر کی اہمیت ووٹ حاصل کرنے میں نہیں ہوتی، بلکہ ان کے ذریعے فرقہ وارانہ ردِ عمل کا بیانیہ قائم کیا جاتا ہے۔ مغربی بنگال کے نتائج کا غیر جانبدارانہ تجزیہ یہ واضح کر دے گا کہ اس انتخاب میں اصل ووٹ کٹوا خود کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیاں ثابت ہوئیں، جنہیں مجموعی طور پر صرف تین سیٹیں ملیں اور تقریباً آٹھ فیصد ووٹ حاصل ہوا، جبکہ مجلس اتحاد المسلمین کو محض 0.1 فیصد ووٹ ملا۔ واضح رہے کہ بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان محض پانچ فیصد ووٹ کا فرق رہا۔
آسام، بنگال اور کیرالہ، مسلم آبادی والی تین بڑی ریاستوں کے حالیہ انتخابات کا تجزیہ کم از کم اس امر کا اعادہ ضرور کرتے ہیں کہ جب سخت گیر ہندوتوا اور نرم ہندوتوا کے درمیان مقابلہ ہو تو بالآخر جیت ہندوتوا ہی کی ہوتی ہے۔ ایسے میں سیکولرزم کہاں باقی رہ سکتا ہے؟
گزشتہ پندرہ سال سے ملک کا انتخابی منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے اور لگاتار ایک ہی سمت میں بڑھ رہا ہے۔ بی جے پی نے انتخابات کا ایک نیا طریقۂ کار اختیار کیا ہے، جو سب کے سامنے ہے، لیکن خود کو سیکولر کہنے والی سیاسی جماعتیں اب تک خود کو بدلنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اسی لیے وہ پے در پے شکست کھا رہی ہیں اور ایک ایک کر کے ان کے تمام قلعے منہدم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سیاسی رویے سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ پارٹیاں دانستہ طور پر بی جے پی کی راہ آسان تو نہیں کر رہی ہیں، کیونکہ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے معاملے میں بظاہر سبھی آمادہ نظر آتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مسلمانوں کو بھی اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور کرنے کی ضرورت ہے، جس کی جانب ان سطور میں بارہا اشارہ کیا جاتا رہا ہے۔
کیرالہ کے ماڈل پر ایک بار پھر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آسام میں ریاستی سطح پر بدرالدین اجمل کو نئے حلیف تلاش کرنے چاہئیں اور اپنے دائرۂ عمل کو وسیع کرنا چاہیے۔ اسی طرح اویسی صاحب کو بھی ہر ریاست میں مضبوط اتحادی تلاش کرنے میں اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔مسلمانوں کی یہ تین بڑی پارلیمانی جماعتیں آپس میں سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنے دائرہ کار کو وسعت دینے کی حکمت عملی تیار کریں۔ ملک کے قبائلی طبقات اور پسماندہ طبقات کی جماعتوں سے رابطے قائم کیے جائیں۔ اگر سیکولر جماعتیں اب بھی ان پارٹیوں کو جگہ دینے پر آمادہ نہیں ہیں تو انہیں نظرانداز کرنا ہی مناسب ہوگا۔
اس سوال پر بھی غور ہونا چاہیے کہ آخر محض دو فیصد عیسائی آبادی ملک میں پانچ وزرائے اعلیٰ کیسے بنا لیتی ہے، اور پنجاب میں چاہے کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو، ایک سکھ ہی وزیر اعلیٰ بنتا ہے، تو پھر بیس فیصد آبادی رکھنے والا طبقہ اپنے ایم ایل اے اور ایم پی تک جتوانے میں کیوں ناکام رہ جاتا ہے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button