
ہیومن ویلفیر فاونڈیشن کی ‘میوات اسکالرشپ’ تقسیم
میوات میں تعلیمی انقلاب آچکا ہے / ٹی عارف علی
نئی دہلی : (پریس ریلیز) تعلیم کے فروغ، کیریئر رہنمائی اور سماجی فلاح کے مقصد سے میوات اسکالرشپ تقسیم پروگرام ہفتہ کے روز کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ پروگرام کا آغازکیریئر کونسلنگ، بیواؤں کی کونسلنگ اور میڈیکل کیمپ سے کیا گیا، جس سے بڑی تعداد میں طلبا اوران کے سرپرست مستفید ہوئے۔
صدارتی خطاب میں ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین ٹی عارف علی نے کہا کہ تعلیم کسی بھی سماج میں مثبت تبدیلی کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے، تاہم محض تعلیم کافی نہیں بلکہ طلبہ کی مستقل رہنمائی، سرپرستی اور اخلاقی تربیت بھی ناگزیر ہے۔ میوات میں آج جو تعلیمی بیداری نظر آ رہی ہے، وہ اسی منظم کوششوں کا نتیجہ ہے، اور ہم اس سفر کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت جلد یہ خواب پورا ہوگا ۔
استقبالیہ میں ہیومن ویلفیر فاونڈیشن کے سی ای او نوفل پی کے نے کہا کہ اس اسکالرشپ کا مقصد محض مالی امداد نہیں بلکہ باصلاحیت اور مستحق طلبہ کا حوصلہ بڑھانا ہے۔
طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے حسین بی، پرنسپل آئی ٹی آئی پوسا نے کہا کہ موجودہ دور میں فنی اور ہنرمندانہ تعلیم روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔ طلبہ اگر تکنیکی مہارت کے ساتھ تعلیم حاصل کریں تو وہ نہ صرف خود کفیل بن سکتے ہیں بلکہ قوم و ملک کی تعمیر میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر میڈیکل سروس سوسائٹی نے الشفا ہاسپٹل کے اشتراک سے میڈیکل کیمپ لگایا ، سی ٹیگ نے کریر کونسلنگ سیشن لیے اور خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم ٹوئیٹ نے خواتیم کے لیے ہیلپ ڈیسک لگایا جس کا مقصد خواتین میں اعتماد بحالی کی کوشش ہے ۔
ڈاکٹر فاروق، ایم ایس، الشفا ہاسپٹل نے کہا کہ صحت اور تعلیم ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ صحت مند جسم ہی بہتر تعلیم حاصل کر سکتا ہے، اس لیے تعلیمی ترقی کے ساتھ صحت کی سہولتوں پر بھی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسکالرشپ تقسیم کرتے ہوئے پروفیسر زبیر مینائی نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ اقدار پر مبنی شعور، سماجی ذمہ داری اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا بھی ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم کو سماج کی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر آسیہ نسرین نے کہا ” اسکالرشپ جیسی کوششیں طالبات کے اندر آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہیں اور انہیں تعلیمی سفر میں درپیش رکاوٹوں سے نکلنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
اسکالرشپ کی تقسیم تین مرحلوں میں کی گئی۔ پہلے مرحلے میں یو جی–پی جی اور رفتار طلبہ کو اسکالرشپ دی گئی۔ اس موقع پر پروفیسر سارہ بیگم نے طالبات کی اعلیٰ تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر فاروق، ایم ایس، الشفاء نے صحت و تعلیم کے باہمی تعلق پر اظہارِ خیال کیا۔
دوسرے مرحلے میں 3 یو جی–پی جی اور رفتار طلبہ کو اسکالرشپ دی گئی۔ پروفیسر زبیر مینائی نے اقدار پر مبنی تعلیم اور سماجی ذمہ داریوں پر زور دیا۔
تیسرے اور آخری مرحلے میں TWEET اور رفتار کی طالبات کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی آسیہ پروفیسرنسرین اور ٹوئیٹ کی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شرناس کے ہاتھوں اسکالرشپ دی گئیں۔
ٹوئیٹ کی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شرناس نے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور خود اعتمادی سماجی استحکام کی بنیاد ہے۔ ٹوئیٹ کا مقصد خواتین کو تعلیمی، سماجی اور نفسیاتی سطح پر مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ خود فیصلے کرنے کے قابل ہو سکیں۔ پروگرام کی نظامت فاونڈیشن کے یتیموں کی کفالت کے شعبے کے انچارج ظہوراحمد نے کی اور پروگرام کا اختتام فاونڈیشن کے ایجوکیشن مینیجرشارق انصار کے کلماتِ تشکر پر ہوا۔
جاری کردہ
میڈیا ڈپارٹمینٹ ، وژن 2026 نئی دہلی



