
حضرت جی قاری مولانا الشاہ عبد الستار صاحب بوڑیوی دامت برکاتہم کی محبتِ شیخ، اسلاف کے نقش قدم پر
چاہت محمد قریشی قاسمی
جس طرح ظاہر کا کوئی بھی علم یا ہنر استاد کے بغیر نہیں سیکھا جا سکتا، اسی طرح باطن کی صفائی اور تزکیہ نفس کے لیے بھی ایک کامل پیر و مرشد اور شیخ کا ہونا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
اسی لیے تصوف میں شیخ و مرشد یا روحانی استاد کی حیثیت ایک رہنما، طبیب اور مربی کی ہوتی ہے جو سالک اور مرید کے لیے اصلاح باطن اور معرفت الہی کے راستے پر گامزن کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔
لہذا یہ بھی واضح رہے کہ تصوف میں روحانی پیشوا اور رہنما کی اطاعت و فرمانبرداری لازم قرار دی جاتی ہے، پیرو مرشد کے عشق و محبت میں فنا ہو جانا بھی ایک معروف حقیقت ہے، شیخ کے ایک دیدار اور توجہ کے لیے مرید اور سالک ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں اور پیرو مرشد کی زبان سے نکلا ایک ایک لفظ متعلقین کے لیے مشعل راہ بن جاتا ہے۔
اسی لیے تصوف میں شیخ کی اہمیت نہایت بلند اور اس کی عظمت انتہائی اعلی سمجھی جاتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ مرید اپنے شیخ کی ہر ادا کو اپنے لیے نمونۂ عمل سمجھتا ہے، مرشد کی صحبت کو سرمایۂ حیات جانتا ہے اور پیر کی ایک نظرِ التفات کو اپنی تمام ظاہری کاوشوں سے زیادہ قیمتی تصور کرتا ہے۔ اہلِ تصوف کا عقیدہ ہے کہ کتابیں علم عطا کرتی ہیں، لیکن اہلِ دل کی صحبت انسان کے دل کو زندہ کر دیتی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کسی فارسی شاعر نے کہا ہے:
صد کتاب و صد ورق در نار کن
روئے دل را جانب دلدار کن
اور اسی کو اردو کے مشہور شاعر اکبر الہ آبادی نے کچھ اس انداز میں ترتیب دیا ہے۔
کتابوں سے نہ وعظوں سے نہ زر سے پیدا
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
اس وقت عارف باللہ، صاحب تصوف پیر طریقت، مرشد ملت حضرت قاری مولانا الشاہ عبد الستار صاحب بوڑیوی دامت فیوضہم علاقے اور ملک کی حدود سے بے نیاز ہوکر پورے عالم کے افق پر ایک تابناک اور درخشاں آفتاب کی طرح جلوہ افروز ہیں، جن کی فیض رساں شعاعیں دور دور تک علم و معرفت کی روشنی پھیلا رہی ہیں اور بے شمار علما، صلحا، اتقیا اور عوام الناس ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہو رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس وقت حضرت جی قاری مولانا شاہ عبدالستار بوڑیوی دامت برکاتہم کے فیوض و برکات کو اندرون ملک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ حضرت والا کے اس فیضان کو بیرونِ ملک بھی جاری و ساری فرمایا ہے، اور اس وقت ہر خاص و عام کی زبان پر ہمارے پیر و مرشد حضرت ابا جی بوڑیوی دامت فیوضہم کا ذکر خیر عقیدت و محبت کے ساتھ موجود ہے جبکہ حضرت والا اپنی مجالس میں جب کثیر مجمع عام و خاص اور بڑے جمّ غفیر کو دیکھتے ہیں تو عجز و انکساری کے ساتھ رُندھی ہوئی زبان سے بس ایک ہی بات بیان کرتے ہیں کہ یہ سب میرے شیخ حضرت مسیح الامت جلال آبادی نور اللہ مرقدہ کی دعاؤں کا ثمرہ ہے ورنہ میری کہاں اتنی حیثیت ہے۔
جب حضرت ابا جی قاری مولانا شاہ عبدالستار صاحب بوڑیوی دامت برکاتہم کی زبان سے یہ جملہ سنتا ہوں تو شیخ کی محبت اور عشق میں فنائیت کا جذبہ دل میں پیدا ہوجاتا ہے اور تصوف و طریقت کی کتابوں میں شیخ کی اہمیت پر جو زور دیا گیا ہے اس کی اہمیت کا اندازہ بطور مشاہدہ اچھی طرح ہو جاتا ہے۔
تصوف میں آپ کو بہت سے ایسے قصے مل جائیں گے جن میں ہزاروں کامیاب لوگ اپنے شیخ کی محبت اور عشق میں فنا نظر آئیں گے، ہمارے حضرت جی بوڑیوی دامت برکاتہم کا بھی یہی حال ہے اور آپ بارہا اپنے پیرو مرشد حضرت مسیح الامت جلال آبادی نور اللہ مرقدہ کا تذکرہ عقیدت و محبت سے کرتے ہیں ایک دفعہ تو فرمایا کہ میں جب اپنے شیخ کے لیے ہدیہ بھیجا کرتا تھا تو اللہ سے دعا کیا کرتا تھا کہ میرا ہدیہ میرے شیخ کو پسند آ جائے اور میرے حضرت اس کو قبول بھی فرما لیں۔
فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ ایک مرغا کسی کے ذریعہ شیخ کی خدمت میں بھیجا اور اللہ تعالیٰ سے تنہائی میں بیٹھ کر التجا کرنے لگا کہ میرے حضرت میرا یہ ہدیہ بخوشی قبول فرمالیں، جب یہ ہدیہ حضرت مسیح الامت رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خدمت میں پہنچا تو حضرت مسیح الامت نور اللہ مرقدہ نے اس ہدیہ کو سر سے اوپر اٹھا تے ہوئے فرمایا کہ میرے عبدالستار سے کہنا کہ میں نے ان کا ہدیہ یہاں تک قبول کر لیا ہے۔ (سبحان اللہ)
اس واقعہ سے مرید کی محبت اور عقیدت کے ساتھ شیخ کی شفقت و پیار کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محبت محض یک طرفہ نہ تھی، بلکہ دونوں جانب یکساں طور پر نمایاں تھی، شاید ایسے ہی موقع کے لیے کسی نے کہا تھا ؏ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔ شیخ و مرید کے درمیان باہمی امتزاج دیکھیے کہ ایک جانب عظمت تھی تو دوسری جانب شفقت، ایک جانب عقیدت تھی تو دوسری جانب محبت اور ایک جانب اطاعت تھی تو دوسری جانب پیار کا دریا موجزن تھا۔ اور اسی شیخ کی شفقت، محبت اور پیار کی برکت سے مرید کو وہ عظمت عطا کی جو آج ان کی شہرت کا سبب بن گئی اور اسی مرید کی عقیدت، عظمت اور اطاعت کا ثمرہ ہے کہ آج مرید تصوف کے اعلی ترین عہدہ پر گامزن ہے اور شیخ و مرید کے اسی حسین سنگم نے حضرت جی بوڑیوی دامت برکاتہم کو معتقدین اور محبین کے لیے آج ماوی اور ملجا بنا دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اپنے شیخ حضرت مسیح الامت جلال آبادی نور اللہ مرقدہ کے ساتھ اس طرح کی وابستگی صرف حضرت جی قاری مولانا الشاہ عبد الستار صاحب بوڑیوی دامت برکاتہم ہی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ہمارے اکابر کی پوری تاریخ اسی طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
مثنوی شریف کے مصنف حضرت جلال الدین رومی بہترین عالم دین، مصنف اور استاد دوراں تھے لیکن جب حضرت شمس تبریزی سے ان کی ملاقات ہوئی تو وہ مولائے روم بن گئے، اہلِ جہاں کے لیے تصوف کے عظیم امام بن گئے اور مثنوی جیسا بے مثال شاہکار بطور یادگار تیار کیا۔ پھر اسی مثنوی شریف میں شیخ کی عظمت اور عقیدت میں ڈوب کر حضرت شمس تبریزی رحمت اللہ علیہ کے کرم اور شفقت کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔
مولوی ہر گز نہ شد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزی نہ شد
(ترجمہ: مولائے روم مولوی ہرگز نہیں بن سکتا تھا اگر حضرت شمس تبریزی کا غلام نہ بنتا)
حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ علامہ، فقیہ محدث، قاری اور مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم الامت مجدد الملت اور بہت بڑے عالم دین بھی تھے، ان کے شیخ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ رسمی درسِ نظامی کے عالم یا محدث و فقیہ کے طور پر تو معروف نہیں تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت والا کو ولایت، تقویٰ اور باطنی تربیت میں بلند مقام عطا فرمایا تھا لہذا حضرت حاجی صاحب کے فیوض و برکات سے اہل علم کی ایک کثیر تعداد فیض یاب ہوئی اور بڑے بڑے علما اور محدثین نے حضرت سے اصلاح باطن اور تزکیہ نفس میں کمال حاصل کیا تھا لہذا حضرت حکیم الامت بھی حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نور اللہ مرقدہ کے فیض یافتہ اور سالکین میں سے ایک تھے۔ یہی مجدد ملت اور حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنے شیخ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ یہ سب حاجی صاحب نور اللہ مرقدہ کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔ اسی کو حضرت تھانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اپنے اشعار میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے:
خودی جب تک رہی اُس کو نہ پایا
جب اُس کو ڈھونڈ پایا خود عدم تھے
تمہاری کیا حقیقت تھی میاں آؔہ
یہ سب امداد کے لُطف و کرم تھے
حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمت اللہ علیہ ڈپٹی کلیکٹر تھے دنیاوی تعلیم حاصل کی تھی، انگریز سرکار کے بڑے عہدے پر فائز تھے لیکن جب حضرت تھانوی سے بیعت ہوئے تو دل کی دنیا بدل گیی ایک دن وجد میں آکر فرمایا۔
تو نے مجھ کو کیا سے کیا شوقِ فراواں کر دیا
پہلے جاں، پھر جانِ جاں، پھر جانِ جا ناں کردیا
اور ایک جگہ کہتے ہیں
نقش بتاں مٹایا دکھایا جمالِ حق آنکھوں کو آنکھیں دل کو میرے دل بنادیا
آہن کو سوزِ دل سے کیا نرم آپ نے
نا آشنائے درد کو بسمل بنادیا
مجذوبؔ در سے جاتا ہے دامن بھرے ہوئے صد شکر حق نے آپ کا سائل بنادیا
حقیقت یہ ہے کہ تصوف کی پوری تاریخ عشق، وفا، عقیدت، اطاعت اور فنائیت کی ایسی ہی روشن داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جنہوں نے عام انسانوں کو غیر معمولی بنا دیا اور یہی وہ نسبت ہے جس نے بے شمار دلوں کو نورِ معرفت سے منور کر دیا۔ حضرت جی مولانا الشاہ عبد الستار صاحب بوڑیوی دامت برکاتہم کی زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ محبت، عقیدت، اطاعت اور خدمت کا یہ تعلق محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی زندہ روایت ہے جو سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے۔ یہی وہ نسبت ہے جس نے حضرت رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ کو مولائے روم بنایا، حضرت تھانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کو حکیم الامت کے منصب تک پہنچایا اور حضرت مجذوب رحمۃ اللّٰہ علیہ کو معرفت کی بلندیوں سے ہم کنار کیا۔ آج بھی اسلاف کے طریقہ پر یہی فیضانِ محبت حضرت جی قاری مولانا الشاہ عبد الستار صاحب بوڑیوی دامت برکاتہم کی ذاتِ گرامی میں جلوہ گر نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس فیضان کو تا دیر قائم و دائم رکھے۔ آمین۔
بروز جمعرات
بائیس صفر چودہ سو اڑتالیس ھجری
چھ اگست دو ہزار چھبیس



