
یونیفارم سول کوڈ: عمل رد عمل
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
پچھلے دو ماہ کی ملک کی سیاسی خبروں کا تجزیہ کیا جائے تو ایک مشاہدہ واضخ طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ برکس اجلاس سے قبل اور جنتر منتر پر جین زی تحریک کے بعد وزیرآعظم مودی ٹی وی اور پرنٹ میڈیا میں بہت کم نظر آرہے تھے جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ تقریبا خبروں سے غائب تھے، برکس اجلاس کے دوران اور اس کے بعد وزیرآعظم ایک بار پھر خبروں کی شہ سرخیوں میں آگئے ،خصوصا ایک کامیاب مشترکہ اعلامیہ کے حوالے سے ان کی بہت تعریف ہوئی، لیکن اس کے فورا بعد وزیر داخلہ بھی مشترکہ سول کوڈ کے عنوان سے خبروں میں لوٹ آئے، انہوں نے کہا کہ 2029 سے قبل بی جے پی ۔ این ڈی اے حکمرانی والی ریاستوں میں مشترکہ سول کوڈ نافذ کر دیا جائے گا۔ اترا کھنڈ، ٓاسام ،گجرات مدھیہ پردیش اور گوا میں یہ مشترکہ کوڈ جس طرح نافذ کیا گیا ہے وہ سب کے سامنے ہے کہ بہت سے قبائلی اور علاقائی ہندو رسوم و رواج کو اس کوڈسے مستثنی قرار دیا گیا ہے اور صرف مسلم عائلی قوانین کو ہدف بنا کر انہیں حذف کر دیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ کے اس اعلان کے فورا بعد بہار میں ان کے پرانے حلیف جنتادل یونائٹڈ نے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ،جبکہ مہاراشٹر اور آندھر پردیس جیسی مخلوط این ڈی حکومتوں نے اس جانب تیز پیشرفت کا عندیہ ظاہر کیا ہے ۔بہار سے ہی چراغ پاسوان نے اس پر مبہم بیان دیا جبکہ اتر پردیش کی راشٹریہ لوگ دل ابھی خاموشی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 2024 میں یوم جمہوریہ کے موقع پر لال قلعہ کی اپنی تقریر میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ’’ 75 سال سے ملک ایک فرقہ وارانہ اور امتیازی سول کوڈ کو برداشت کر رہا ہے، اب وقت آیا ہے کہ ہمارے ملک کے دستور سازوں کی منشا کے مطابق ایک سیکولر سول کوڈنافذ کیا جائے، جس کے لیے ملکی سطح پر مختلف الخیال لوگوں کے درمیان مبائثہ ہونا چاہیے‘‘۔ کچھ دن تو اس پر کچھ بحث ہوئی بھی لیکن پھر خاموشی چھا گئی اسی دوران کچھ ریاستوں نے اس مبینہ مشترکہ سول کوڈ کو اپنی ریاستوں میں نافذ کر دیا اور کچھ تیاری کر رہے ہیں۔جہاں وزیر آعظم اور وزیر داخلہ کے بیانات میں واضخ تضاد محسوس کیا جا سکتا ہے۔وہیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مشترکہ سول کوڈ سے دستور سازوں کی منشا کیا تھی ۔دستور ہند کے چوتھے حصے میں مذکوررہنما اصولوں میں سے ایک مشہور زمانہ آرٹیکل 44 ہے جو کہتا ہے کہ’’ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوشش کرتی رہے کہ بالاخر ملک کے تمام مذاہب وعقائدکے ماننے والوں کو ایک مشترکہ عائلی قانون اختیار کرنے پر آمادہ کیا جا سکے‘‘۔ گویا یہ ذمہ داری مرکزی سرکار کی ہے نہ کہ ریاستی حکومتوں کی! دستور کے اس شیڈول میں تقریبا 16 رہنما اصولوں کا ذکر ہے جن میں سے تقریبا 15 کوتو۱۹۵۱ے کر 2013 تک مختلف کانگرس حکومتوں نے قانون سازی کے ذریعے دستور ہند کا حصہ بنا دیا، اور مختلف عدالتوں نے ان قوانین کو بنیادی حقوق کے مساوی بھی قرار دیا ہے، لیکن اس مخصوص آرٹیکل پر یہ سرکاریں ہمیشہ خاموش رہیں جبکہ بی جے پی اور اس سے قبل جن سنگھ یا آر ایس ایس ہمیشہ اس پر مصر رہیں کہ ملک میں ایک مشترکہ سول کو نافذ کیا جائے، حالانکہ اٹل بہاری باجپائی کی زیر قیادت بی جے پی کی سرکار کے نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ مشترکہ سول کوڈ ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوںگی اور اسی بنیاد پر اس زمانے کی سیکولر کہی جانے والی جماعتوں نے واجپئی سرکار کا حصہ بننا قبول کیا تھا ۔اب 2014 کے بعد بی جے پی کی حالیہ سخت گیر حکومت تھی بار بار اس کا ذکر تو کرتی رہی لیکن گزشتہ 12 سال کے اپنے دور اقتدار میں مرکزی سطح پر ایسا کوئی قانون بنانے سے عاجزرہی اور بالاخر اپنی حکمرانی والی ریاستی سرکاروں کو یہ ذمہ داری سونپ دی۔ واضح رہے کہ جس طرح 16 رہنما اصولوں میں سے 15 اصولوں پر قانون سازی کا کام مرکزی حکومتوں نے کیا تھا اس معاملے میں بھی مرکزی حکومت ہی قانون سازی کی مجاز ہے اور سادہ اکثریت سے قومی سطح پر مشترکہ عائلی قانون پاس کر سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر حکومت چند قبائلی اور دیگر پسماندہ غیر مسلم علاقائی طبقات کو مستثنی کر کے محض مسلم قوانین کو زد پر لیا گیا تو یہ دستور کے بنیادی حقوق میں بیان شدہ دفعہ 25 کی صریح خلاف ورزی ہوگی چنانچہ اس سے قبل دفعہ 25 میں ترمیم کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ دو تہائی ریاستی اسمبلیوں کو بھی یہ ترمیمی قانون پاس کرنا ہوگا جو اس حکومت کی بس کی بات نہیں ہے۔ خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی قانون میں ایوان کے اندر حکومت پہلے ہی شکست کھا چکی ہے اب دوسرا جوکھم لینے کی حالت میں نہیں ہے۔ اس لیے ریاستی حکومتوں میں یہ قانون پاس کروائے جا رہے ہیں ۔دستور میں موجود مرکز اور ریاستوں کے مابین اختیارات کی توضیح کرنے والے شیڈول نمبر سات میں درج تین متوازی فہرستوں کی تیسری فہرست میں ریاستوں کو عائلی قوانین خود بنانے کی اجازت حاصل ہے۔ ساتھ آرٹیکل 254 بھی اس کی معاونت کرتا ہے۔ ایسے میں اگر ملک کی تمام یا بیشتر ریاستیں اپنے صوبوں میں عائلی قوانین تبدیل کر لیں تو بھی بی جے پی کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ اسی نیت سے مرکز کے بجائےریاستوں میں یہ قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ مگر ریاستوں میں بھی دفعہ 25 کے تحت حاصل اپنے عائلی قوانین پر عمل پیرائی کے حق سے محروم ہونے کی شکایت مقامی صوبائی ہائی کورٹ میں کی جا سکتی ہے بعد ازاںسپریم کورٹ میں بھی معاملہ جا سکتا ہے۔ اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ زیر سماعت بھی ہے۔ لیکن گجرات ،آسام، مدھیہ پردیش میں اس قانون کو ابھی صدارتی منظوری حاصل نہیں ہوئی ہے اس لیے ان ریاستوں میں ابھی یہ قانون کا درجہ حاصل نہیں کر سکا ہے، اسی لیے کسی عدالت میں چیلنج بھی نہیں کیا گیا ،لیکن اس معاملے میں ایک خدشہ بھی ہےکہ اگر بیشتر ریاستوں میں اس قانون کو چیلنج کیا گیا اور الگ الگ ہائی کورٹ نے الگ فیصلے لیے اور اس قانون کی حمایت میں ہی فیصلہ دیا تو یہ معاملہ یقینا سپریم کورٹ میں آئے گا اور ممکنہ طور پر ایک دستوری بینچ اس کی سماعت کرے، ایسے میں عدلیہ کے موجودہ رجحان اور آزادی کے بعد سے اب تک مختلف عدالتوں کی جانب سے مرکزی حکومت کو مشترکہ عائلی قانون لانے کی ہدایت کے پیش نظر وہاں بھی کوئی خاص رعایت حاصل ہو سکے گی یہ کہنا مشکل ہے۔اور اگر سپریم کورٹ سے کوئی منفی فیصلہ ا ٓجائے تو مرکزی حکومت کےلئےقومی سطح پر یہ قانون لانے کی راہ آسانی سے ہموار ہو جائے گی ۔اس طرح بی جے پی کے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں۔
ملک کی دیگر غیر مسلم اقوام کے تناظر میں دیکھیں تو ایک جانب کرسچن پرسنل لا 1869 سے ہی مدون (کوڈیفائیڈ)ہیں ،جبکہ سکھ پرسنل لا 1909 سے مدون ہے جو 1955 کے ہندو میرج ایکٹ کو بھی قبول کرتا ہے ۔مزید برا ںہندو کورٹ بل پانچ سال کی جدوجہد کے بعد جواہر لال نہرو نے اپنے زمانے میں ہی مدون کروا دیا تھا۔ ہر چند کہ اس وقت بڑے بڑے کانگریسی ہندو لیڈران نے اس کی شدید مخالفت کی تھی مگر نہرو نے بڑے ضبط و تحمل کے ساتھ بالآخر سب کو راضی کر کے یہ قانون پاس کروا لیا تھا۔ حالیہ ریاستی مشترکہ قوانین کے تحت ان ریاستوں میں رہنے والے دلت و قبائلوں اور دیگر چھوٹی چھوٹی علاقائی قوموں کے عائلی قوانین کو مستثنی قرار دے دیا گیا ہے۔ اب بچے صرف مسلمان جن کے عائلی قوانین کے درپے آر ایس ایس ہمیشہ سے ہی ہے۔اسی لئے وہ اپنی حکومت والی ریاستوں میں یہ قوانین بنا رہی ہیں۔ یہاں بجا طور پر یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جب تمام مذاہب اور اقوام نے اپنے پرسنل لاز کی تدوین کرنے میں عجلت کا اظہار کیا تومسلمانوں نے اپنے مذہبی عائلی قوانین کی تدوین کو ابھی تک کیوں نظر انداز کیا؟جبکہ شریعت ایپلیکیشن ایکٹ ۱۹۳۷آج بھی نافذ ہے جو محض اتنی صراحت کرتا ہے کہ مسلمان اپنے عائلی معاملات میں اپنے مذہبی قوانین پر عمل پیرائی کے لیے آزاد ہیں گوکہ یہ قانون ابھی تک نافذ ہے لیکن پارلیمنٹ کسی وقت بھی اسے رد کرنے پر قادر ہے اس دوران ملک میں جب بھی مشترکہ قانون پر بحث ہوئی اور لا کمیشن سے مشورہ کیا گیا تو ہر بار لا کمیشن نے یہی مشورہ دیا کہ یہ قانون بنانا عملا ممکن نہیں ہے، اس کی بجائے مختلف اقوام اپنے اپنے عائلی قوانین کی تدوین کریں تو زیادہ مناسب ہوگا ۔ 18 ویں لاکمیشن سے لے کر حال ہی میں 22ویں لا کمیشن کی رپورٹیں لگاتار یہی بات دہراتی رہی ہیں ۔ لیکن نہ تو حکومت وقت اس مشورے کو قبول کرنے پر آمادہ ہے اور نہ ہی مسلم پرسنل لا بورڈ !حیرت ہے کہ 40 سال تک لگاتار سید شہاب الدین جیسے سیاسی مدبر مسلم عائلی قوانین کی تدوین کے لیے بورڈ کی ہر میٹنگ میں مطالبہ کرتے رہے لیکن کسی نے ایک نہ سنی ۔ایک مرتبہ بورڈکے ایک انتہائی اہم عہدے دار سے میں نے پوچھا کہ آخر اس میں ہرج کیا ہے، تو ان کا جواب تھا کہ کیا شرعی قوانین کو پارلیمنٹ کے حوالے کر دیں ؟مجھے بڑی حیرت ہوئی جب دوسری تمام اقوام یہ کر سکتی ہیں اور خود شریعت ایپلیکیشن ایکٹ بھی انگریز حکومت کا ہی بنایا ہوا ہے تو ایک آزاد جمہوریت میں جہاں ہر فرد ایک قانون اور ایک دستور کا پابند ہے وہاں کوئی بھی متوازی قانون کیسے رائج کیا جا سکتا ہے۔ ایک زمانے تک مختلف حکومتیں بھی اس پر آمادہ تھیں کہ مسلمان خود اپنے قوانین کی تدوین کر کے دیں تو اس کو من و عن پارلیمنٹ سے پاس کروا کہ ہمیشہ کے لیے اس بحث کا خاتمہ کر دیا جائے ،لیکن کوئی بھی نہیں مانا ورنہ موجودہ صورتحال پیدا ہی نہ ہوتی ۔موجودہ حکومت بھی اس میں ترمیم چاہتی تو اس کے لیے دو تہائی اکثریتت درکار ہوتی جو انہیں آج تک نہیں ملی۔ اب اس معاملے پر جلسے جلوس اور احتجاج کرنے سے قبل مسلم ارباب حل و عقدت کو اقتدار کے گلیاروں میں مچی سیاسی ہلچل پر بھی نظررکھنی ہوگی اور اپنی جست و خیز کے نتایج کا بھی تجزیہ کرنا ہوگا۔ مسلم ووٹ حاصل کرنے والی تمام سیاسی جماعتیں بنیادی طور پر ہندو قیادت پر مشتمل ہیں جن کے عائلی قوانین پہلے سے میں ہی محفوظ ہیں اور حالیہ قوانین سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ،چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس معاملے پر ان کی آوازیں بھی روایتی ہی ہیں ، کہیں نہ کہیں وہ خود بھی چاہتے ہیں کپ یہ قانون اب بن ہی جائے ۔یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اگر مسلمان خود اپنے قوانین کو شریعت اور روایات سے اوپر اٹھ کربراہ راست قران سےاستفادہ کریں۔ قران کی روشن کی ہوئی شمع ہدایت پر عمل کریں تو اس قسم کے تمام قوانین کے باوجود قرآنی قوانین پرایماندارانہ اور منصفانہ عمل پیرائی کی ہزار صورتیں ممکن ہیں۔ کیونکہ قوانین اسی وقت تک قانون ہیں جب تک عوام ان کو تسلیم کریں اگر عوام عملا انہیں رد کر دیں تو وہ قانون کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں)
([email protected])

