
سنتے ہیں غور سے آواز جرس
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
ملک ایک عجیب سی بے چینی اور اضطراب کا شکار لگتا ہے۔ لوگ عام طور پر خوش نہیں ہیں۔ سماج کا تقریباً ہر طبقہ ہی مختلف نوعیت کے مسائل کا شکار ہے۔ ٹیلی ویژن اسکرین پر خبریں اور تبصرے دیکھیں تو لگتا ہے کہ ملک بے تحاشا ترقی کر رہا ہے اور ساری دنیا ہر معاملے میں بھارت پر منحصر ہو چکی ہے، اور خود ملک کے عوام گویا پہلی مرتبہ خود کو آزاد اور خوشحال محسوس کر رہے ہیں۔اکثر یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ گویا ملک ہزار سالہ مسلم غلامی سے ابھی ابھی آزاد ہوا ہے، اور ہندو اب پہلی بار آزادی کا سانس لے رہے ہیں ۔مسلم دور کی غلامی کی نشانیوں کو مٹا کر،ان سے وابستہ اسلامی آثار کو ختم کر کے، اپنی قدیم ہندو شناخت دوبارہ اختیار کر رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ آر ایس ایس اور بی جے پی کا رہینِ منت ہے۔لیکن ٹی وی اسکرین سے ہٹتے ہی، جیسے ہی سماج اور عوام سے رابطے میں آتے ہیں، تو مسائل کا ہجوم گھیر لیتا ہے۔ زمینی سطح پر محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ محض مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ کسان، مزدور، تاجر، صنعت کار، سرکاری ملازم، گھریلو خواتین، طلبہ، دلت، پسماندہ طبقات اور اقلیتیں سب ہی مضطرب ہیں اور ایک دوسرے سے شاکی بھی ہیں۔
ہر چند کہ ملک کے مسلمان زیادہ واضح طور پر نشانے پر دکھائی دیتے ہیں۔مساجد، مدارس، مکاتب، نماز، اذان، اوقاف، گائے، ہر روز ایک نئے قسم کا "جہاد”، خواتین کے شرعی حقوق ، پولیس اور عدالتوں کی جانبدارانہ کارروائیاں، کاروبار اور ترقی کے مواقع مسدود کیا جانا۔جو لوگ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور پورے سماج کے لیے مفید ہیں، وہ بھی نشانے پر ہیں۔ مثلاً حالیہ دنوں میں بہار کے معروف ٹیچر خان سر کو ہی لے لیجیے۔ دنیا جانتی ہے کہ تعلیمی مافیا کے خلاف کھڑے ہو کر غریب ہندو، مسلمان، دلت اور پسماندہ طبقات سبھی کے بچوں کو انتہائی سستی تعلیم فراہم کرنے اور صحت کی سستی سہولیات کے مراکز قائم کرنے کے باوجود وہ نشانے پر آ گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوتواعاسی کس قدر خوف کے عالم میں جیتے ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کے پسِ پردہ ملک کے تمام غریب اور حاشیے پر کھڑے عوام کے ساتھ جو سلوک اور رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ بھی کسی طرح کم سنگین نہیں ہے، اگرچہ وہ کم دکھائی دیتا ہے۔مثال کے طور پر، ملک کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ بچوں کے بارہویں جماعت کے امتحانات کامیابی سے منعقد کرانے کے لیے حکومت کو فوج کی مدد لینی پڑرہی ہے۔ دنیا میں بھی ایسی کوئی نظیر شاید ہی ملے۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں مختلف قسم کے مافیا اس قدر طاقتور اور بااثر ہو چکے ہیں کہ حکومتِ وقت بھی ان سے نمٹنے میں خود کو عاجز محسوس کرتی ہے۔ اسی کا شاخسانہ ہے کہ ملک بھر کے نوجوان اور بے روزگار طلبہ اب سڑکوں پر آنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ حالیہ ایام میں "کا کروچ جنتا پارٹی” نے ملک کے عوام کو اپنی جانب بڑی تیزی سے متوجہ کیا ہے۔ اس پارٹی کا سیاسی نفع و نقصان کس کو اور کس حد تک پہنچے گا، یا خود اس پارٹی کا کیا سیاسی مستقبل ہے، یہ بحث اور تجزیہ ابھی بہت قبل از وقت ہے۔ لیکن اس پارٹی کی حمایت میں نوجوانوں کا بڑی تعداد میں راغب ہونا اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ ملک کا نوجوان اس قدر عدم اطمینان اور غصے کا شکار ہے کہ اسے ایک چھوٹا سا نوخیز پلیٹ فارم بھی نظر آیا تو وہ اس کی جانب لپک پڑے۔حکومت نے بھی اسی میں اپنی عافیت سمجھی کہ نوجوانوں کے غصے کو ایک خوبصورت موڑ دے کر توڑ دیا جائے۔ ممکن ہے اس سے حکومت وقتی طور پر راحت کی سانس لے سکے، لیکن اگر سبب کا ازالہ نہیں ہوا تو مرض اندر ہی اندر بڑھتا رہے گا اور آج نہیں تو کل یہ آبلہ ضرور پھوٹے گا۔
واضح رہے کہ ملک کی کل آبادی میں 15 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں اور طلبہ کی تعداد تقریباً 40 کروڑ ہے، یعنی کل آبادی کا تقریباً 27 فیصد۔ یہی وہ طبقہ ہے جس پر ملک کا مستقبل منحصر ہے۔ اسی بنیاد پر ملک کو دنیا کا سب سے زیادہ نوجوان ملک قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وہ طبقہ بھی ہے جو اپنی تعلیم مکمل کر کے فوری طور پر روزگار حاصل کرنا چاہتا ہے اور پھر اپنا ایک گھر بسانا چاہتا ہے۔ لیکن اگر یہی طبقہ مایوسی اور بے روزگاری کا شکار ہو جائے تو ان سے وابستہ خاندانوں کا کیا عالم ہوگا؟ اگر اس طبقے کے خاندانوں کو بھی ان کے رنج و الم میں شریک شمار کر لیا جائے تو ملک بھر کی کم از کم 75 فیصد آبادی کسی نہ کسی درجے میں اسی اضطراب اور غصے کا شکار نظر آئے گی۔ مگر اس طبقے کا احتجاج نہ کسی ٹی وی اسکرین پر نظر آتا ہے اور نہ ہی کسی بڑے اخبار کی سرخی بنتا ہے۔
حال ہی میں اتر پردیش میں ہندوتوا کا رول ماڈل مانی جانے والی یوگی سرکار نے ایسما نافذ کر کے ریاست میں ہر قسم کی ہڑتال اور احتجاج پر اگلے چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ ابھی تک کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ نو سال سے مبینہ طور پر اتنی کامیاب حکمرانی کرنے، ریاست کو جنتِ بے نظیر بنانے کا دعویٰ کرنے، مافیا کے بے دریغ انکاؤنٹر کر کے ریاست کو جرائم سے پاک اور خواتین کے لیے محفوظ بنانے اور پانچ کلو ماہانہ مفت اناج جیسی اسکیموں کے ذریعے غریبوں کا مسیحا بننے والے حکمران کو اس جمہوری حق پر پابندی لگانے کی اچانک کیا ضرورت پیش آ گئی؟
اس ریاست میں تو ہر شخص کو بے حد مطمئن اور خوشحال ہونا چاہیے، اور اس لیے بھی ہونا چاہیے کہ اسی حکومت نے کامیابی کے ساتھ مسلمانوں کو حاشیے پر کھڑا کر کے، 350 مساجد و مدارس کو بند کر کے، رام مندر کی تعمیر اور سنبھل جیسے معاملات میں کامیابی حاصل کر کے ہندوتوا وادیوں کے سارے ارمان پورے کر دیے ہیں۔ اسرائیلی حکمتِ عملی سے درآمد شدہ بلڈوزر انصاف کو ملک کی بی جے پی حکومت والی ریاستوں کے لیے ایک یادگار اور نسخۂ تیر بہ ہدف بنا کر پیش کیا ہے۔تو پھر عوام کو احتجاج کی کیا ضرورت پیش آ رہی ہے ۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ابھی چند ہفتے قبل ہی نوئیڈا میں مزدوروں کی زبردست اور کامیاب ہڑتال ہوئی تھی، جس کے مزید بڑے پیمانے پر ہونے کے امکانات ابھی باقی تھے۔ اسی طرح کسانوں کی تحریک، بے روزگار اساتذہ، بھرتی گھوٹالوں اور دیگر کئی طبقات کی جانب سے احتجاج کی آہٹ بھی محسوس کی جا رہی تھی۔اگلے آٹھ نو مہینوں کے اندر ریاستی اسمبلی کے انتخابات بھی ہونے ہیں، ایسے میں اس طاقتور حکومت میں اتنی جرأت بھی نہ ہو سکی کہ گرام پنچایتوں یا شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرا دیتی۔ چنانچہ تاحکمِ ثانی ان انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا۔ عدالتوں کے بار بار استفسار کے باوجود حکومت کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دے پا رہی۔
مذکورہ معاملات کا براہِ راست مسلمانوں سے تو کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ ریاست کے تمام غریب طبقات اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک طویل عرصے سے "اچھے دنوں” کا انتظار کرنے اور ہندوتوا حکمرانی کے منتظر عوام اب مایوس ہونے لگے ہیں، مگر اس مایوسی سے نکلنے کا کوئی طاقتور متبادل بھی نظر نہیں آ رہا۔یہ احساس اب خود مسلمانوں کے اندر بھی بیدار ہونا چاہیے کہ صرف وہی نفرت، علیحدگی اور ظلم کا شکار نہیں ہو رہے۔ ان پر ہونے والے مظالم کا تو فخریہ اظہار ملک کے ذرائع ابلاغ میں کر بھی دیا جاتا ہے اور ملک کے ہندوؤں کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو نیست و نابود کر دیا گیا ہے، لہٰذا اب وہ اطمینان سے صرف بی جے پی کو ووٹ دیتے رہیں اور اپنی گھریلو اور روزمرہ ضروریات کو بھی اسی احساسِ تحفظ کے تحت نظر انداز کر دیں۔ایسا عملاً ہوا بھی ہے، لیکن ایسے عمل کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ پورا ملک اب اس خواب سے بیدار ہونا چاہتا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کے لیے شکوہ کناں رہنے سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے حصے کی کوئی شمع روشن کریں۔
بہرحال یہ ایک تلخ حقیقت اور عام مشاہدہ بھی ہے کہ ملک کے مجبور و مقہور غیر مسلم عوام کے مسائل کے سلسلے میں مسلمان عوام، خواص، قائدین اور تنظیموں کی آوازیں کم ہی اٹھتی ہیں۔ کبھی اگر کوئی آواز اٹھتی بھی ہے تو وہ بہت کمزور اور انتہائی تاخیر سے آنے والی ثانوی آواز ہوتی ہے۔ہم صرف مسلم معاملات پر ہی کچھ بول پاتے ہیں، اور اب تو وہ آواز بھی ہزاروں مصلحتوں کے پردوں معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ یہی وہ مناسب وقت ہے جب ملتِ اسلامیہ ہند کو ملک میں ایک قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے، اور ملت کے ارباب حل و عقد کو امت کو درپیش مسائل سے آگے بڑھ کر ملک کے دیگر پسماندہ اور غریب طبقات کے مسائل کواولین ترجیح دیتے ہوئے ان کی داد رسی کے اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔اس مقصد کے لیے سیاسی سطح سے زیادہ سماجی سطح پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔محروم طبقات کی قیادت سے براہِ راست رابطے استوار کرکے متحدہ عملی جدوجہد کی راہیں تلاش کرنی چاہئیں۔
ملک ہندو مسلم منافرت کی روز افزوں پکار سے تھک چکا ہے ۔مستقبلِ قریب کے انتخابات میں یہ منافرت شاید ہی کوئی بڑا کردار اداکر سکے، مگر بی جے پی کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا مؤثر ایجنڈا بھی نظر نہیں آتا۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے انتخابات جیتنے کا ہنر بخوبی جانتی ہے، جبکہ دوسری پارٹیاں اس معاملے میں ابھی اناڑی ہیں۔لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انتخابات جیت لینا ہمیشہ فتح مندی کی دلیل نہیں ہوتا۔ عوامی غصہ کسی فاتح حکمران کی ضد کو خاطر میں نہیں لاتا۔جب یہ غصہ عوامی سطح پر پھوٹتا ہے تو ایک سیلاب کی طرح بڑے سے بڑے حکمران کو بھی بہا لے جاتا ہے۔ اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ملک کے بیشتر تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ ملک میں یہ غصہ مستقل پنپ رہا ہے، لیکن یہ کس صورت میں پھوٹے گا اور اس کی شکل کیا ہوگی، اس بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فرقہ وارانہ خطوط پر ظاہر ہو سکتا ہے، کچھ کے نزدیک یہ غریبوں، بے روزگاروں اور انتخابی دھاندلی جیسے مسائل کے عنوان سے سامنے آ سکتا ہے، جبکہ بعض لوگ اسے ایک سیاسی بغاوت کی شکل میں بھی دیکھ رہے ہیں۔بہرحال، بنگال میں گزشتہ ایک عرصے کے واقعات کو دیکھیں تو مبہم سی ایک تصویر سامنے آنے لگی ہے ۔بہر حال وجہ اور طریقہ جو بھی ہو، غصے کا یہ طوفان بہت کچھ بدل کر ساقط ہو جاتا ہے۔
مسلمانانِ ہند کی دانشورانہ قیادت کو اس سماجی نفسیات کا ادراک کرتے ہوئے سماجی فعل و انفعال کے تناظر میں اپنی حکمتِ عملی پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت آ چکا ہے۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاؤنسل کے صدر ہیں )


