مضامین و مقالات

ایران و امریکہ جنگ بندی عقد اور پیٹرو ڈالرعقد,حیثیت و اہمیت

۔ نقاش نائطی
۔ +966562677707

https://www.facebook.com/share/r/1H4oEnHGsE/
1955سے 1975 ویتنام لاؤس کمبوُیا بمع شمال و جنوب ویتنام در پردہ سویت یونین چائینا اور امریکہ و نیز سویت یونین مخالف دھڑوں سے لڑی گئی اس وقت کی سب سے بڑی جنگ, بیس سال تک لڑتے ہوئے 58ہزار اپنے فوجی قربان کرنے کے باوجود, صاحب امریکہ ویتنام جنگ ہار چکا تھا۔
چھاپہ مار دشمن پر حملہ آوری کا دورجدید کا یہ حربی وار ویت نامیوں نے عصر حاضر کو دیا تھا جو عالمی حربی قوت امریکہ کےخلاف بےسر و سامان آبلہ پا, افغانیوں نے, افغانی تورا بورا پہاڑی تسلسل میں اسے پروان چڑھایا ,7 اکتوبر 2023 کو سابقہ 75 سالہ غاصب نازی اسرائیلی ظلم و انبساط کے خلاف,ایرانی تربیت یافتہ, فلسطینی مجاہدین آزادی "حماس” نے, ہر اعتبار معشیتی و ملکی سرحد بندی, فقط 360 مربع کلومیٹر پر مشتمل عالم انسانیت کی سب سے بڑی کھلی جیل غازہ پٹی کے سرحدوں کے اندر, زیر زمین کئی کلومیٹر لمبی خندقی راہ گزر, شاہراہیں, حربی صنعتیں و مجاہدین پناہ گاہوں کا لامتناہی جال, زیر زمین قائم کئے, عالم انسانیت کے چوتھی یا پانچویں حربی قوت اسرائیل پر خندقوں سے نکل, ان پر حملہ آور ہوئے, لحظوں میں خندقوں ہی کے واسطے روپوش ہوئے, اپنی انوکھی چھاپہ مار کاروائیوں سے, اس ویتنامی چھاپہ مار حرب و جنگ طریقہ کار کو,ایک اچھوتےمقام تبریک تک پہنچائے,عالمی نظام تعلیم حرب و جنگ کو,ایک اچھوتے مقام متمئز پر پہنچائے, حرب و جنگ اوصول و ضوابط قائم کرنے کی راہیں کھول دی تھیں اور ایران نے اسی چھاپہ مار دست بدست کاروائیوں کو سمندری تیز رفتار کشتیوں سے, دشمن امریکہ کی عالمی اقدار بحری بیڑوں کےچھکے چھڑائے, اسے نیول حرب و جنگ کے اعلی ہتھیار کے طور عالم انسانیت کے سامنے پیش کرنے کامیاب ہوا ہے۔
عصری تعلیم یافتہ اس دنیا نے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے ہزارہا سال قبل والے زمانہ قدیم کے اوصول جنگ و حرب پر عمل درآمد کئے, صاحب امریکہ نے, اپنے حربی دشمن جاپان کی, اسکے اپنے امریکی پرل ہاربر یلغار و تباہی کے بدلے میں, اپنے ایجاد کردہ قاتل انسانیت ایٹم بم کو جاپانی دو شہر ھیرو شیما, ناگا ساکی پرساتے ہوئے, کم و بیش دو لاکھ جاپانیوں کو لحظوں میں موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے, مزید کئی جاپانی شہروں پر بم برساتے,جاپانیوں کو ہی صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی کے ساتھ,جو جیتا وہی سکندر والے اوصول حرب وجنگ, یک طرفہ عقد مفاہمت جنگ بندی, امریکہ جاپان عالم انسانیت کے سامنے لاتے ہوئے, اپنے وقت کی ایک اچھی معیاری حربی قوت جاپان کو, اپنی دفاعی حربی فوج ہی نہ رکھنے کی امریکی شرط ماننے پر مجبور ہوئے, اپنے ملکی معشیت جی ڈی پی کے ایک حصہ کو صاحب امریکہ کو سالانہ دئیے,جاپان کی حربی حفاظت, قاتل جاپان امریکہ ہی کےہاتھوں میں دئیے, سابقہ81 سالہ امریکی غلامی کی زندگی جاپانیوں کوجینے مجبور کیا ہے
ایٹم بم برسائے قاتل انسانیت اس انسانیت سوز امریکی حرکت بعد, اقوام عالم انسانیت کی بقاء کے لئے,دانشوران عالم انسانیت نے, پہلے سے موجود کئی ایک عالمی طرز تنظیموں اداروں پر مشتمل "اقوام متحدہ عالمی یو این او” 24 اکتوبر 1945قائم کئے,ایسے قاتل انسانیت ایٹمی ہتھیار بنانے استعمال کئے جانے کو قابو میں رکھنے, اوصول ضوابط ترتیب دئیے ہیں.جسے غیر نیوکلیر ہتھیار والے این پی ٹی ممالک جس میں ایران سمیت عالم کے189ممالک عقد بند ہیں۔ ان عقد بند ممالک نے مستقبل میں نیوکلیر حربی ہتھیار نہ بنانے کے عالمی عقد پر دستخط کئے ہیں۔ عرب کھاڑی علاقے میں اپنی غیرقانونی سکونت پزیری باوجود اسرائیل این ٹی پی عقد عالم پر دستخط نہ کئے ہوئے ہے بالکہ غیر قانونی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کئے ہوئے, پورے عرب ایران کھاڑی پر ایک دہشت گرد ملک کی طرح ہمہ وقت جنگ و جدال والے پس منظر میں ملوث کئے ہوئے ہے
جس کی لاٹھی اسکی بھینس اسی اوصول و حرب و جنگ کے تحت بیسویں صدی کے نصف بعد یوایس ایس آر اور امریکہ کے درمیان عالم کے انیک ملکوں میں اپنے تائید کردہ حکمرانی قائم کرنے کی ہوڑ جیسے لگی ہوئی تھی
جدت پسند عصری دنیا کے, "عوام پر اپنی عوامی حکومت” جمہوریتی ڈھکوسلے نعرے باوجود, جاپان ہی کی طرح ہر آزاد خود مختار ممالک کو اپنی اسیری میں رکھنے یا تو انکے ملکی سیاست حذب مخالف سے سانٹھ گھانٹھ کئے, ان ملکوں میں رحیم چینج آپریشن کئے, اپنے تفکراتی غلاموں کو ان ممالک کے مقتدر منصبوں پر بٹھاتے آنا,صاحب امریکہ ,عالم انسانیت پر اپنا حق سمجھتا ہے اور جن ممالک کے غیور حکمران اس امریکی تسلط کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور امریکی سامراجیت کے انکاری پائے جاتے ہیں ان آزاد ممالک پر عالمی اقتصادی پابندیاں لگائے, عالمی معشیتی میدان میں انہیں پچھاڑے اندروں ملک مہنگائی بے چینی انارکی پھیلائےان ممالک کے عوام اپنے حکمرانوں کے خلاف سڑک جام احتجاج کروائے انہیں اقتدار سے محروم کئے اپنے تفکری غلاموں کو ان ملکوں پر آقتدار میں لانا, اسے جمہوری اعلی اقدار کا نام دئیے کھلے عام یہ فعل قبیح صاحب امریکہ کرتا آیا ہے۔ پاکستان کے عوامی منتخب نمائندے عمران خان کو جیل بھیج,سابقہ 34 لمبے سالوں سےانہیں جیل میں سڑائے, اسکی جگہ امریکی ذہنی غلاموں کو, اعلی حربی مناصب پر براجمان کئے, اپنے مرضی مطابق ان سے کام لینا ہی صاحب امریکہ کے اعلی اخلاق و اقدار ہیں۔
یہی سب کچھ وہ آزاد ریاست ایران میں کرنا چاہ رہے تھے۔ہوائی حملوں میں ایرانی مذہبی سیاسی و حربی قیادت کو شہید کئے,اپنے ملک سے بھاگے بھگوڑے کی طرح یورپی ممالک میں بسے ہوئے سابق شاہ ایران کے بیٹے رضا شاہ پہلوئی کو اقدار اعلی ایران پر براجمان کئے, اپنے الہ کاروں سے عوامی بے چینی حیران خیزی پیدا کئے, انارکی کے شکار ایران کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹے, علاقے کی ایرانی حربی اہمیت کو ہی ختم کئے جانے کے بعد, پہلے ترکیہ پھر سعودیہ کو یکے بعد دیگرے کمزور تر کئے, امریکہ کے,اس خطے میں سازشتا” بٹھائے نازی دہشت گرد اسرائیل کو پورے عرب کھاڑی کا اکلوتا حربی سلطان بنائے رکھے, مستقبل کے صدیوں سالوں تک خداداد عرب پیٹرول سے لاشرکت غیرے,استفادے کے یہود و نصاری متمنی تھے۔جیسا سابقہ تیس سالوں سے وہ عراق و سوریہ لیبیا کے پیٹرول ذخائر پر قبضہ جمائے مستفید ہورہے ہیں۔لیکن مسلمانوں کے قرآن مجید کی ایک آیت وَمَكَرُوا وَمَكَرَاللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ} [آل عمران: 54]
انہوں نے(مکر و فن والی) تدبیر کی اور اللہ نے(خیرکی) تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ [آل عمران: 54]
ایران اپنے عرب کھاڑی کے پیش رؤ, لیبیا کے معمر قذافی اور عراق کے صدام حسین کے ساتھ کئے گئے یہود و نصاری کے دوہرے کردار ظلم و بربریت اور وہاں کے عوام کی تاراجی کو, قریب سے بخوبی دیکھا بھی ہے, اس لئے عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود, انہیں دستاب وسائل کو بخوبی استعمال کئے, امریکی انبساط کے مارے اسکے دشمن روس و چائینا سے قربت بڑھائے,انکے حربی و تیکنیکی رہنمائی کے ساتھ, ایران خاموشی سے معشیتی مقاطعہ بعد,امریکہ کے حربی یلغار کے لئے, خود کو مضبوط کئے رکھے ہوئے تھا۔ سب سے اہم ایرانی عوام اپنے بعض دینی مسلکی تفکر اختلاف باوجود,اسلامی جہادی جذبات پر پوری طرح کھرا اترے, ثابت قدمی سے اپنے ملکی دفاع میں منہمک پائے جاتے ہیں۔ شاید اسی لئے عالم انسانیت کےسب سے بڑے حربی طاقت وقوت والے اکلوتے سربراہ عالم, اپنے عالمی درجہ بندی کے پانچویں بڑے حربی پارٹنر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ ہوائی بمباری ایران کے سیاسی مذہبی اور حربی لیڈر شپ شہید کئے جاتے اور متعدد حربی و ایٹمی ٹھکانوں پر بمباری کئے تباہی پھیلانے کے باوجود ,ایرانی قیادت نے ایسا کچھ ہونے کے گمان کے چلتے, پہلے ہی سے اپنی عسکری قیادت کو مرکزی قیادت کے بجائے علاقائی زونل قیادت کے ماتحت رہتے, ملک و قوم کے وفادار و عہد بند رہنےکی سیکھ و تربیت جو دی ہوئی تھی وہ ایران کی سالمیت کے لئے بااثر ثابت ہوئی ہے۔ ورنہ زمانہ قدیم سے یہ دیکھا گیا ہے کہ مرکزی قیادت کے شہید کئے جانے کے بعد, عوام میں بد امنی پھیلانا دُشمن قوتوں کے لئے آسان تر ہوجاتا ہے ۔لیکن صدیوں پرانی اس پرمپرا کو ایرانی قیادت نے اپنے دیرپا اثر پاتے ہوئے بگڑے حالات پر صحیح وقت پر نہ صرف قابو پایا تھا بالکہ دشمن اسلام یہود و نصاری کے ہاتھوں شہید کئے گئے انکی اعلی قیادت کی وجہ عوامی سطح جزوی اختلافات کو پس پشت رکھے,عوامی رجحان کو عسکری و مذہبی قیادت کے ہم آہنگ پایا گیا ہے۔ بہر طور یہ پہلی دفعہ ہے کہ عالم انسانیت کے سب سے بڑے چودھری صاحب امریکہ اور اسکے حربی پارٹنر عالمِی سطح پانچویں سب سے بڑی حربی قیادت کے مشترکہ حملوں کو نہ صرف 45 سالہ عالمی اقتصادی پابندیاں جھیلے اکلوتے ایران نے نہ صرف برداشت کیا بالکہ اپنے کروز و بیلسٹک میزائلوں سے عرب کھاڑی میں موجود تمام تر امریکی ائر بیسز پر بالکہ اسرائیلی کے اہم فوجی و اسٹریٹیجک نشانوں پر مسلسل حملہ کئے, اسرائیل و امریکہ کوحربی شکست تسلیم کرنے مجبور کیا جانا,عالمی سطح تعجب خیز امر لگتا ہے۔
ہر حرب و جنگ, جیت و شکشت پر منتج ہونا فطری عمل ہے لیکن صاحب امریکہ کا شکشت تسلیم کرنا, گویا اس کے منصب چودراہت عالم انسانی کو خطرے میں ڈالنے والا عمل تھا۔لیکن پھر بھی امریکہ اپنی شکست کو قبول کئے جانے ایسا مجبور ہوا کہ دشمن ایران کے ہاتھوں ننگا کئے بھاگنے مجبور کئے جانے سے ذرا پہلے, اپنی انڈر ویر بچائے بھاگے جیسا, اپنا 52 سالہ پیٹرو ڈالر عقد فلحال بچانے میں کامیاب امریکہ اپنا سب کچھ وقار و اقدار تک کھوئے, بھاگنے مجبور ہوا ہے۔ 8 جون 1974 سعودی عربیہ و امریکہ کے درمیان عقد بند پچاس سالہ پیٹرو ڈالر ایگریمنٹ 8 جون 2024 ختم ہوئے دوبارہ تجدید نؤ نہ کئے جانے کے باوجود, عقد منقطع نہ کئے جانے کی وجہ سے, قابل عمل ہے۔ اور یہ پیٹرو ڈالر ایگریمنٹ اعلانیہ عقد منسوخ کئے جاتےتک,عالمی سطح دیگر ممالک کی تحویل میں پائے گئے ڈالرس کی عالمی مارکیٹ قیمت مقابلے, پیٹرول ہی سے کم از کم,اس کی بھرپائی کو اوپیک ممالک کو پابند رکھتا ہے ۔ اس پیٹرو ڈالر عقد کے مقابلے پیٹرو دولت سے مالامال عرب ممالک یواے ای, بحرین , کویت اومان قطر عراق اور سعودی عربیہ کے بیرونی حملوں سے دفاع کرنے صاحب امریکہ جو پابند تھا اپنی ذمہ داری کھلی ناکامی بعد اور خصوصا” اکلوتے ملک ایران سے حربی شکست فاش بعد کسی بھی وقت یہ عرب ممالک بجنبش قلم اپنے آپ کو پیٹرو ڈالر عقد سے آزاد کئے, صاحب امریکہ کو معشیتی طلاطم سونامی سے دوچار کرسکتے ہیں۔ جس کا نہ ہونا ہی صاحب امریکہ کے لئے ایک عطیہ خاص یا وردان سے کم تھوڑی ہی نا ہے؟ ہمیں لگتا ہے یہی و ہ اصل سببب ہے جس سے صاحب امریکہ اکلوتے ایران سے اپنی حربی شکست خوردگی کا کڑوا گھونٹ پیئے ایران کی شرطوں پر عقد بند ہونے مجبور ہوا ہے۔
ایران کی طرف سے نہ صرف پیش کردہ 14 شرائط بلکہ ایرانی اصرار پر جنگ بندی عقد کا حصہ بنائی گئی سب سے اہم شرط امریکہ و اسرائیل کی بمباری میں تباہ و برباد کئے گئے ایرانی اسٹرکچر کی باز آباد کاری کے لئے, ایران کی طرف سے, امریکہ سے طلب کئے گئے 300 ملین ڈالر کی تاوان جنگ رقم, بڑی یاچھوٹی رقم سے متضاد, یہ ہتک آمیز شرط ہے جو تاریخ کے اوراق میں 45 سالہ عالمی اقتصادی پابندی جھیل رہے اکلوتے کمزور تر ملک کے, اپنے سے حربی اعتبار 90 گنا قوی تر اور جدت پسند ہتھیار سےلیس,امریکہ اسرائیل کو شکشت فاش دینے کے ثبوت کے طور پیش کیا جاتا رہیگا۔ ویسے یہ حفظ ماتقدم عقد بند میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ (آیم او یو) الکٹرانک دستخط سے عمل میں آچکا ہے لیکن 19جون 2026 جیننوا سویزرلینڈ امریکہ و ایران کے مابین بڑے ہی شاندارانہ تقریب میں عقد بند ہوجائیگا اور اسی وقت دونوں ملکوں کے درمیان طہ پائی شروط منظر عام آئیں گی لیکن دونوں طرف کے میڈیا کرمیوں کی پھرپھراہٹ نے جو کچھ باتیں عوام کے سامنے لائی ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں۔
1)لبنان سمیت تمام فرنٹ پر جنگ بندی نافذ العمل ہوگی
2) ایران کے اندرونی معاملوں میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی
3) ہارموز کھول دیاجائیگا
4)ایران کے آس پاس سے امریکی افواج کی واپسی بھی ہوگی
5) تیل سے متعلق تمام پابندیوں کا خاتمہ اور اس کے متعلق تمام رکے ہوئے اثاثوں کو جاری کیا جائیگا
6)جنگ کے اخراجات اور ایران کی بازآباد کاری کے لئے 300 ارب ڈالر کا بھگتان امریکہ کریگا,چاہے اسے اپنے خلیجی مملکتی شاہوں سے جزوی لے یا مکمل لینا پڑے۔
7)ایران کے جوہری ہروگرام پر مکمل بات چیت کے لئے 60 دنوں کی مہلت دی گئی ہے دونوں فریق اس پر مستقبل میں کسی نتیجہ پر پہنچیں گے۔
8) ایران یہ یہ یقین دہانی کراتا ہے کہ وہ این پی ٹی کے تحت مستقبل میں ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا
9) بات چیت کے دوران امریکہ اسرائیل کی طرف سے کوئی فوجی کاروائی نہیں کی جائیگی اور ایران کی 24ارب ڈالر کی منجمد اثاثے ریلیز کئے جائیں گےم حفظ ماتقدم عقد ایم اور یو عقد بند ہوتے ہی مجمد اثاثوں کی نصف رقم ایران کے لئے ریلیز کردی جائیگی۔ باقی بتدریج ادا کی جائیگی
10) موجودہ معاہدہ اقوام متحدہ یو این او کی طرف مستند کیا جائیگا
11) میزائل پروگرام اگر ایران جاری رکھے تو اس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی

یہاں سب سے اہم اس حفظ ماتقدم ایم او یو کے عقد بند ہوتے ہی اس عقد کا ایک فریق صاحب امریکہ کا شریک حرب اسرائیل نے, جہاں اس عقد جنگ بندی کے خلاف عدم تعاون کا برملا اظہار کرتے ہوئے عقدکے خلاف لبنان پر بمباری کرچکا ہے جس کا سخت سے سخت حربی جواب دینے کا ایران نہ صرف استحقاق رکھتا تھا بالکہ سابقہ سو دن سے زیادہ چلی اس جنگ ایران امریکہ اسرائیل دوران,ایران نے اس پر کئے ہر حملہ کا بروقت اسی انداز جارح جوابی حملہ کئے, اپنی حربی خود اعتمادی ڈیٹرنس ثابت کیا ہوا تھا,بالکل اسی طرز اسرائیل پر بہت ہی کاری میزائیل برسات سے اسرائیل میں تباہی پھیلائے اسے سبق دینے کی تیاری ایران کر چکا تھا لیکن ایران و امریکہ درمیان مفاہمت کرنے والے باثر ممالک پاکستان و قطر کی معرفت امریکی صدر کی درخواسٹ پر,ایران نے اسرائیل پر اپنے میزائیل حملہ آوری کو روک کر, دشمن امریکہ کی درخواست کو احترام سے لئے, اپنی اسعت فراغ دلی کے ساتھ حرب وجنگ پر امن کے ساتھ کھڑا ہونے والے اپنے اسلامی اعلی اقدار و اخلاق پیش کرتے ہوئے, یورپی و امریکہ اعلی تعلیم یافتگان کے سامنے ایک اچھی تمثیل پیش کی ہے۔ ایک طرف امریکہ کا شریک حرب اسرائیل جہاں, عالمی بحران خاتمہ کے خلاف اور امن عامہ کے خلاف جاتا پایا گیا ہے وہیں ایران اپنے حربی دشمن امریکی صدر کی درخواست امن کو فوقیت دئیے,امریکہ کے سامنے اسے ہزیمت زد خجل کرنے والے اسرائیلی دوست یا ساتھی سے, دشمن ہوئے ہوئے بھی, اسرائیل سے بہتر خود کو ثابت کیا ہے۔ ویسے یہ لگتا تو معمولی عمل ہے,لیکن اسکے اثرات دیر ہی سے مگر تادیر آتے پائے جائیں گے۔ اسرائیل امریکہ کے لئے جہاں ایک بہت بڑے خسارہ کا سودا لائیبلیٹی ثابت ہوا ہے مستقبل میں ایران اپنی کثرت آبادی کے لحاظ سے امریکی معشیت کے لئےفائیدہ مند ایسیڈ کے طور بھی امریکہ کے لئے ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ یقینی امر ہے کہ امریکی انتظامیہ اسرائیل وفاق کو کبھی نہیں چھوڑے گی لیکن امریکہ کے معشیتی خستہ حالی پس منظر میں, ایران کی طرف سے ملنے والے فوائد کو,امریکی انتظامیہ کبھی نظر انداز بھی نہیں کر پائیگی۔یہ جدت پسند دنیا عموما” اقتصادی میزانئیے کو دیکھ کر عالمی فیصلے لیا کرتے ہیں۔ ویسے عالم اضطراب میں ٹرمپ کے منھ سے اسرائیل کے تئین نکلا جملہ کہ "امریکی ساتھ و امداد کے بغیر اسرائیل کچھ وقفہ بھی اکیلا اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ پائیگا” اس حقیقتِ سے عالم انسانیت کا کون عقل و فہم و ادراک رکھنے والا ماورا رہ سکتا ہے۔ اسرائیلی ریاست وجود میں آنے کے بعد سے اب تک امریکی و یورپی; ہر اعتبار ساتھ و مدد سے اسرائیل کسی بپھرے سانڈ کی طرح, اپنی ہیبت و خوف خلیج عرب و فارس علاقے میں قائم کئے ہوئے تھا۔ اب تو ایران کے ہاتھوں اسرائیل و امریکہ کی بنی درگت نے, ابھی سے بہت سارے یورپی ممالک کو, اسرائیلی انبساط کے خلاف رطب اللسان ہونے کی ہمت عطا کردی ہے۔ جو جیتا وہی سکندر اس مقولے کے مصداق, مستقبل کے دنوں میں, اور کون کون ملک اسرائیل کے خلاف کھل کر سامنے آتا ہے؟ یہ دیکھنا فقط اب باقی بچا ہے۔ 7, اکتوبر 2023 عالمی نقشہ پر,اپناوجود نہ رکھنے والے مشہور و مجبور و مقید رکھے گئے فلسطین کی ایک معمولی جہادی تنظیم نے جس طرح سے عالم انسانیت کی پانچویں بڑی حربی قوت اسرائیلی افواج کا بھرکس نکالا تھا اب ایران کے ہاتھوں صاحب امریکہ کی کھلی شکست فاش بعد, بہت سارے یورپی ملکوں کا ساتھ و جذبہ مدد کھوئے, اسرائیل کے لئے, ایرانی حربی اعلانیہ حرب جیت چکے ایران کی درپردہ پشت پناہی ہی حماس و حزب اللہ کے,اسرائیل افواج کو قابو میں رکھنے کے لئے کافی ہیں۔ دراصل حماس حزب اللہ و حوتی مجاہدین اسلام میں موجزن ٹھاٹیں مارتے”جہادی جذبات ” امریکہ و یورپ ساتھ و مدد ماورائیت والے اسرائیل کو ہزیمت زد شکست خوردگی کے لئے کافی ہیں۔ وما التوفیق الا باللہ

عرب و فارس کھاڑی سے اسرائیلوں کو کھدیڑ امریکہ یا برطانیہ میں لے جا بسایا جائے

1945عالم انسانیت پر اسوقت کے برطانوی راجیہ اثر اندازی کی وجہ سے, برطانوی کالونی کی طرح رہے آزاد فلسطینی علاقے میں لابسائے گئے اسرائیلیوں کے لئے, انہی کے اقوام عالم پر قائم, اقوام متحدہ قرارداد نمبر181 کے ذریعہ ارض فلسطین کو دو حصوں میں بانٹتے ہوئے زبردستی جس بے دردی سے اسرائیلی ریاست قائم کی گئی تھی اور یہود و نصاری کے ہاتھوں کھلونا بناکر رکھ دی گئی اقوام متحدہ قرارداد پر پورے 80 سال گزرنے کے باوجود, اسرائیلی ریاست تو
نہ صرف پھیلتی پھولتی اس عرب علاقے میں اپنے ظلم و انبساط سے پورے عرب ایران کھاڑی علاقے کو حرب و جنگ کا میدان بنا کر رکھا ہواہے لیکن ارض فلسطین ہی دو حصوں میں بانٹ اسرائیل کے قیام پر پورے 80 سال گزرنے کے باوجود,اقوام عالم نے فلسطینی ریاست کو ابھی تک تسلیم ہی نہیں کیا تھا۔
پڑھی لکھی اس اعلی تعلیم یافتہ انسانیت کی مسلم مسائل اس بے حسی پر,سابقہ 45سال عالمی اقتصادی پابندی جھیلتے ایران نے,اکیلے ہی عالمی حربی قوت صاحب امریکہ کے آزاد ملک ایران پر چڑھائی کرتے پس منظر میں, آزاد ملک ایران نے جس نوع امریکی افواج کو پٹخنی یا شکشت فاش دیتے ہوئے اپنی شرائط پر امریکہ کو جھکوا,جنگ بندی عقد دستخط کروانے مجبور کیا ہے وہ یہ ثابت کرتا ہے اتنی ترقی پزیری کے باوجود عالم انسانیت ہزاروں سال قبل والے "جس کی لاٹھی اسی کی بھینس” والے اوصول پر عمل پیرا ہے۔ اسی نقطہ نظر سے 1945 برطانوی سامراج کے اسوقت کئے فلسطین پر ظلم عظیم کو یکسر رد کرتے ہوئے,اسرائیلی ریاستی قیام کو غیر قانونی قرار دئیے اسکے استحقاق کو رد کیا جائے اور فلسطینی اکلوتی ریاست کو برقرار رکھتے ہوئے,صرف فلسطینی ریاست کو آزاد ملک تسلیم کیا جائے اور اس علاقے میں زبردستی آباد کئے گئے اسرائیلیوں کو,اس کے سب سے بڑے اقتصادی و حربی شریک و دوست ملک امریکی سرزمین پر یا اسکے خالق برطانوی سرزمین پر لے جا بسایا جائے۔ جب تک اس عرب و فارس کھاڑی سے اسرائیلوں کو باہر نہیں کھدیڑا جاتا عرب و فارس کھاڑی میں چین و سکوں بحال کرنا مشکل ہوجائیگا۔ بحیثیت مسلمان ہی یہ ہماری رائے نہیں ہے بالکہ یورپ و امریکہ کے اکثریتی عوام اس عرب و فارس کھاڑی سےاسرائیلیوں کو کھدیڑ کہئں۔اور لے جا بسانے کی رائے پیاس کرتے پائے جاتے ہیں۔ ابن بھٹکلی
https://www.facebook.com/share/r/1H4oEnHGsE/

https://www.facebook.com/share/p/1PQfBzxSUc/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button