
دنیا ایسے بھی مسخر کی جاتی ہے؟ تصور بھی نہیں کیاجاسکتا ہے
۔ ابن بھٹکلی
۔ 919448000010+
اٹھارہ سو سال سے انیس سو سال قبل مسیح درمیان, اللہ کے حکم سے جب,مکہ کے غیر آباد علاقے میں دو پہاڑیوں کے بیچ سنگلاخ زمین پر اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے حضرت انراھیم علیہ السلام نے اللہ کا گھر کعبہ اللہ تعمیر کیا تو اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ اللہ کی عبادت کے لئے لوگوں کو بلایا جائے۔ آذان یا ندا دی جائے۔آپ ﷺ نےمستعجب ہوکر پوچھا کہ اس سنگلاخ علاقے میں جہان دور دور تک کوئی آبادی نہیں ہے لوگ آپ کی عبادت کو کیسے آئیں گے؟ تب اللہ نے کہا تھا "میرے حکم کی تعمیل پر لوگوں کو بلانا تمہارا کام ہے اور اللہ کی عبادت کے لئے تمہاری طرف سے بائے جانے والی آواز کو, عالم انسانیت کے کونے کونے تک پہنچانا یہ میرا کام ہے” اور دنیا شاہد ہے اس وقت سے آج کم و بیش 3900 سال قبل سے ہر سال دنیا کے کونے کونے سے بندگان اسلام کیسے تلبیہ پڑھتے ہوئے قافلے قافلوں کی شکل کعبہ اللہ کی طرف رواں دواں جاتے پائے جاتے ہیں تلبیہ پڑھتے ہوئے بالکل ایسے جیسے ان تک اللہ رب العزت نے ابراھیم علیہ کی کعبہ اللہ کیطرف بلائے جانے کی آواز سنائی ہو اور بندگان خدا ہم مسلمان اسی ابراھیمی آواز کا جواب دیتے کعبہ اللہ پہنچ رہے ہیں۔ گو انتیس سو سال کا وقفہ طویل تر ہے لیکن رب دو جہاں نے, اسے کچھ اس طرح مسخر کیا ہوا ہے کہ ہم براہیمی آواز پر لبیک کہتے بیت اللہ کیطرف چلے جاریے ہوں
"لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ” ترجمہ "میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیری ہی ہیں اور بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔”
کیا ایسا نہیں لگتا طویل تر 3900 سال مسخر کردیئے گئے ہوں اور کل کچھ دیر کچھ دن پہلے ہی ہم تک ابراھیم علیہ السلام کی کعبہ اللہ کی طرف بلاوے کی صدا ہم تک پہنچی ہو اور رخت سفر باندھے کعبہ اللہ کی طرف تلبیہ پڑھتے رواں دواں ہوچکے ہوں۔
زائرین حج بندگان خدا کی سہولت کے لئے مغل ملکہ نورجہاں کی درخواست پر مغل شہنشاء اکبر کی طرف سے شروع کی گئی پانی کے راستے سفر حج سروس جو مغل لائیں شپنگ کمپنی کی طرف سے ایم وی اکبری اور اہم وی نورجہاں کے نام سے بیسویں صدی کے آخر تک جاری تھی اس نے اپنا آخری سفر جو 1994 تک کیا تھا اسے 1995 سے پانی کے جہاز حج سروس کو بند کیا گیا تھا ان ایام پورے ھند سے سفر حج پر نکلنے والے حجاج کرام وزارت حج و عمرہ کے زیر اہتمام مہاراشٹر حج ھاؤس ‘محمد حاجی صابو صدیق مسافر خانہ’ کرافورڈ مارکیٹ چھترپتی شیواجی ٹرمینل سے جایا کرتےتھےاسکا حسن انتظام و سرپرستی وزارت حج و عمرہ مہاراشٹرا سے ہوا کرتا تھا۔ ساٹھ ستر سال قبل, شہر بلاد مسجد اسٹریٹ بمبئی نواب مسجد کے سامنے اپنے البلاغ ماہنامہ و تجارتی مصروفیات تاج آفس میں مصروف معاش المحترم محی الدین منیری صاحب علیہ الرحمہ حاجیوں کی خدمات کے لئے اپنے آپ کو وقف کئے ہوئے تھے۔1991 الحاج محی الدین منیری صاحب سے ہماری تفصیلی بے تکلفانہ ملاقات مکہ سفر دوران, جب ہم نے ان سے ہوچھا تھا کہ دو چار سال میں حج و عمرہ کے لئے آپ کا حرمین شریفین آنا ہوتا ہے یہ بین الملوکی سفر اتنا آسان کیسے ہوجاتا ہے؟ تب انہوں نے قصد سفر حج و عمرہ زائرین کے سفر آسانی کا بڑا اچھا نسخہ بیان کیا تھا کہتے تھے جب ہم مسلمان اپنے اعتبار سے سفر حج و عمرہ کا ارادہ کر لیتے ہیں تب اگر اس نیت باندھے دن سے کثرت ذکر تلبیہ کرنا شروع کردیتے ہیں تب اللہ رب العزت, ہمارے لئے ہمارے سفر کو آسان کردیتا ہے گویا اللہ کے رسول حضرت ابراھیم علیہ السلام کی طرف سے کعبہ اللہ آنے کی دعوت اللہ ہم انسانوں کے دل و دماغ تک تسلیم کردیتا ہے اور ہم سفر حج کا قصد کرلیتے ہیں اور تلبیہ پڑھنا شروع کردیتے ہیں اور بارگاہ ایزدی سے ہمارے سفر آسانی کی راہیں کھلنی شروع ہوجاتی ہیں اور مومن مسلمان بندہ بحکم ربی حرمین شریفین پہنچ ہی جاتا ہے۔قول رب تعالی اللہ اہنے بندت کے ساتھ بالکل ویسا ہی سلوک کرتا پایا جاتا ہے جیسا بندی اپنے رب سے گمان رکھتا ہے۔ اللہ ہی سے دعا ہے کہ ہمیں اسکے دونوں مبارک گھر حرمین شریفین کی دیدار مکرر نصیب فرمائے اور خاتمہ بالخیر ہوتے اسکے پاس لوٹنے والے خاش نصیبوں میں سے ہمیں بنائے۔ وماالتوفیق الا باللہ

