مضامین و مقالات

شہری حقوق کو مشکوک بنانے کی منظم سازش

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

ابھی 12 سال قبل تک ملک میں شہریت کا مسئلہ محض آسام تک محدود تھا ۔ لیکن 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ ایک ملک گیر مسئلہ بن گیا۔ غیر قانونی تارکین وطن سے لے کر بنگلہ دیشی مسلمان ،روہنگیا وغیرہ کے بہانے پورے ملک کے مسلمانوں کی شہریت کو مشکوک بنانے کی لگاتار کوشش کی جاتی رہی ،خصوصا انتخابات کے موقع پر’’ گھس پیٹھیا‘‘کا لفظ کا استعمال بی جےپی کے قائدین بشمول وزیراعظم کی زبان پر ازبر رہتا ہے ۔حالانکہ زمینی حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ رہنما کوئی بات نہیں کرپاتے۔ اب تو حد یہ ہو گئی ہے کہ کچھ اور بن نہیں پڑا تو ایس آئی آر کے نام پر بڑی تعداد میں عوام کے شہری حقوق کو مشکوک بنانے کی منظم اور ادارہ جاتی کوشش کیجارہی ہے۔ تقریبا 13 کروڑ عوام کی شہریت محض چندماہ کی کاوش سے مشکوک بنا کر انہیں شہریت کے ثبوت پیش کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب مسلمان تو نہیں ہیں۔ ملک ۱۲۔۱۳ کروڑ ہی مسلم ووٹر ہوگا۔ان میں سے تقریبا ۲۔۳کروڑ مسلم ووٹر ایس آئی آر سے متاثر ہے، دیگر ۱۰ کروڑ کے قریب ووٹر میں سے اکثر غیر مسلم محروم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح یہ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسلمانوں سمیت پورے ملک کا عمومی مسئلہ بن گیا ہے۔ ہر چند کے ایس آئی آر کا پس منظر یہی تھا کہ کسی طرح مسلمان ملک کے اقتدار اور عام شہری حقوق سے محروم ہو کر دوم درجے کے مفلوک الحال شہری بن جائیں لیکن 2014 کے بعد ہونے والے ہر ریاستی اور مرکزی انتخاب میں ایس آئی آر اور اس کی کہ پالیسی ساز یہ باور کر چکے ہیں کہ محض مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کر کے اور ان کے ووٹ کے بغیر بھی حکومت سازی میں کامیاب ہو جانے کے باوجود انہیں ملک کے غیر مسلم طبقات کی بڑی اکثریت سو سال کی شدید جدوجہد، پروپیگنڈا کے بعد بھی اپنا ہمنوا بنانے میں ناکام رہےہیں۔ انہیں مسلمانوں کا ووٹ تو ملتا ہی نہیں ہے لیکن دیگر شہریوں کے کل ووٹ کا 25 فیصد حصہ بھی نہیں ملتا ۔اگر 150 کروڑ لوگوں کی ٓبادی میں سے ۲۳ کروڑ سے زائد ووٹ آج بھی بی جے پی کو نہیں مل پا رہے تو کل آبادی کے تناسب میں یہ 17 فیصد کے قریب بنتا ہے ،جبکہ گزشتہ 12 سال سے مرکزاور بیشتر ریاستوں میں انتہائی مضبوط حکومتیں موجود ہیں، دولت کے اعتبار سے بھی وہ ملک کی مالدار ترین پارٹی ہے، کیڈر کے اعتبار سے ان کا دعوی ہے کہ 11 کروڑ سے زائد ان کا زمینی کیڈر ہے، آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کا کیڈر اس کے علاوہ ہے، پورا میڈیا ان کے زیر نگیں ہے، مختلف حفاظتی ایجنسیاں، بیوروکریسی، حد یہ ہے کہ عدلیہ تک متاثر ہو چکی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حکومت اندرا گاندھی کی حکومت سے بھی زیادہ طاقتور ہے، لیکن اس کے باوجود تکنیکی اور سرکاری مشینری کے جوڑ توڑ ، مخصوص انتخابی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ، پارٹیوں کو توڑ پھوڑ کے بھی حکومت سازی تو ہو جاتی ہے مگر ووٹ نہیں ملتا ۔اسی کا شاخسانہ ہے کہ اب یہ جماعت صرف مسلمانوں نہیں بلکہ ملک کے اس اکثر طبقے کی شہریت پر ہی سوال اٹھا رہی ہے جو ان کو ووٹ نہیں دیتا۔
آزاد بھارت میں شہریت کا مسئلہ سب سے پہلے۱۹۷۹ میں آسام میں شروع ہوا تھا۔ جب وہاں کی مقامی آسامی زبان بولنے والی آبادی نے 1971 کی جنگ کے بعد بڑی تعداد میں ہندو بنگلہ دیشیوں نے آسام میں ہجرت کی تھی ،جس کے نتیجے میں آسامی زبان اور تہذیب و ثقافت کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ کہیں وہ اپنی ہی ریاست میں اقلیت بن کے نہ رہ جائیں اور بنگالی زبان تہذیب و ثقافت اکثریت میں نہ آجائے۔چنانچہ اصلا یہ ہندو مسلم کا مسئلہ تھا ہی نہیں ۔اسی غرض سے آل انڈیا آسام سٹوڈنٹس یونین (آسو) کی قیادت میں ایک پرتشدد تحریک چلائی گئی جس کا ہدف بالآخر مسلمان بن گئے ،نتیجتا آسام مائنورٹی سٹوڈنٹس یونین( امسو) بھی وجود میں آگئی۔ آسو نے پوری ریاست میں آگزنی، قتل و غارت گری ،تیل اور سرکاری تنصیبات پر آتش زنی اور بار بار خونی تصادم اور ہڑتال بپا کر کے آسام کی صورتیں حال کو دگر گوں کر دیا اور نوبت ایں جارسیدکہ آٹھ فروری 1983 کو ناگاوں اور موری گاؤں ضلعوں کے نیلی اور بورڈ باری گاؤں تک محض 24 گھنٹے کے اندر 10 ہزار سے زائد مسلمانوں کی نسل کشی کر ڈالی گئی۔مگر آسو کے ذریعے کیے گئے اس شدید قتل عام کے خلاف نامزدرپورٹ ہونے کے باوجود ان کو کانگریس سرکار نے عام معافی دے دی اس کی رپورٹ بھی اب ۴۲ سال بعد منظر عام پر آئی ہے۔ 1985 میں تمام فریقین کے ساتھ ایک معاہدہ کر کے راجیو گاندھی نے اس مسئلے کو ختم کر دیا تھا ،لیکن پھر اس مسئلے کی نوعیت بدل کر ہندو مسلم میں تبدیل کر دی گئی۔ جس کا خمیازہ آج تک وہاں کے مسلمان بھگت رہے ہیں ۔بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد جب آسام کے این آر سی کی رپورٹ اگست 2019 میں پیش ہوئی تو معلوم ہوا کہ کل 19 لاکھ بنگلہ دیشی تاریکین وطن میں سے 12 لاکھ سے زائد ہیں تو بنگالی ہندو ہیں اور تقریبا پانچ لاکھ ہی مسلمان ہیں بقیہ دیگر ذاتوں اور قبیلوں کے لوگ ہیں۔
اس سےقبل مرکز میں بی جے پی کی حکومت بہت شد و مد کے ساتھ بنگلہ دیشی گھ پیٹھیوں کا راگ الاپتی رہی لیکن اس چشم کشا رپورٹ نےحکومت کی نیند اڑا دی اور ان کا پروپیگنڈا بے اثر ہونے لگا تو فورا بی اے پی نے شہریت ترمیمی ایکٹ پاس کر ڈالا اور بنگلہ دیشی ہندوؤں کو شہریر دینے کا راستہ صاف کر دیا ،جس پر آسام میں پھر سے ٓاگ زنی شروع ہو گئی اس قانون میں سری لنکا اور میانمار جیسے پڑوسی ممالک کو نظر انداز کر کے افغانستان کو شریک کرنے اور مسلمانوں کے علاوہ ہر اقلیت کو ملک کی شہریت عطا کرنے کا انتظام تھا ،ظاہر ہے کہ میانمار اور سری لنکا میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی سب سے زیادہ مصیبت زدہ اقلیت میانمار کے مسلمان قرار دیے گئے ہیں۔ چنانچہ اس قانون کے خلاف ملک بھر کے مسلمان سڑکوں پر آئے اور جگہ جگہ ایک شاہین باغ بن گیا ،یوں شہریت کا مسئلہ آسام سے نکل کر پورے ملک کا مسئلہ بن گیا۔ حالانکہ قارون بن جانے کے بعد بھی آج تک ان 12 لاکھ بنگلہ دیشی ہندوؤں کو شہریت نہیں مل سکی۔ بی جے پی کی اعلی کمان اشاروں کنایوں میں پورے ملک کے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی باور کرانے کے در پہ رہتی ہے۔ حتی کہ خود وزیراعظم کہنے لگے کہ وہ تو لوگوں کو کپڑوں سے پہچان لیتے ہیں ،پنکچر لگانے والی قوم ہے، ہندوبہنوں کے منگل سوترچھین کر مسلمانوں کو دے دیے جائیں گے، وغیرہ وغیرہ باتیں کر کے ووٹوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ کرونا لوجی سمجھیں، یعنی پہلے سی اے اے ، پھر این ٓار سی پھر ووٹ ،مگر نہ تو سی اے اے کامیاب ہو سکا ، نہ ملک گیر این آر سی ،کیونکہ اکیلے ایک ریاست میں ہی این آر سی کرنے میں 13 سال لگے جس میں 16 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے ، رپورٹ حکومت کی منشا کے خلاف نکلی ۔پورے ملک میں این آر سی کرنے میں کتنا وقت اور کتنا سرمایہ صرف ہو جاتا اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ حکومت 2021 میں مردوم شماری تک نہ کرا سکی اور اب چھ سال کی تاخیر سے یہ کام شروع ہوا ہے۔ اس پس منظر میں حکومت کے مسلسل ناکامی اور 2024 میں این ڈی اے کی بیساکھیوں پر کھڑے ہو کر ایک اقلیتی حکومت بنانے کی ہزیمت نے مرکزی سرکار کو الیکشن کمیشن کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا۔ ظاہر ہے الیکشن کمیشن کی تقرری کا عمل جمہوری ہونے کے باوجود حکومت کے اختیار میں ہی رہتا ہے اپنی پسند کے افراد کو وہاں بٹھا کر حسب منشا کام لیا جا سکتا ہے اور وہی کیا جا رہا ہے ۔لیکن اتنی بڑی تعداد میں غیر مسلمین کے ووٹرز کی شہریت کو مشکوک بنانے اور بہار اور بنگال کے انتخابات پر اس کے واضح اثرات کاےمشاہدہ نےملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے کان کھڑے کر دئیے۔ اگر یہ محض مسلمانوں تک ہی محدود ہوتا تو شاید کوئی کاکرو چ جنتاپارٹی اور ملک کی حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کی قیادت سڑکوں پر نہ اترتی، بس بیانات آتے ،کچھ وعدے ہوتے ۔کچھ مقدمات ہوتے اور بات آئی گئی ہوجاتی ،جیسا کہ آسام میں 1997 کے بعد ڈی ووٹرز کے سلسلے میں ہوا بھی ہے جہاں ۳،۷ لاکھ ووٹوں کو مشکوک بنایا گئا اور آج ۳۰ سال بعدبھی ۹۳ لاکھ ووٹر عدالتوں کے چکر لگا رہیں جبکہ ۵۔۲ لاکھ سے زائدووٹر بحال ہو گئے۔ وہاں بیشتر مسلمان متاثر تھے اس لئے خاموشی رہی اب پورا ملک اگلے ۳۰ ۔۴۰ سال اسی تجربہ سے دوچار ہونے والا ہے۔ مگر اہم بات ہے کہ ملک کی تقریبا ایک تہائی آبادی کی شہریت کو مشکوک بنانے کی کاوش آخر کیوں کی جارہی ہے۔ خصوصا جبکہ اس میں مسلمان شاید 20 فیصد ہی متاثر ہو رہے ہیں ۔ اس کے لیے آر ایس ایس کے دیرینہ موقف کو سمجھا جانا چاہئیے کہ جو انہوں نے منو سمرتی اور چاک نیتی سے اخذ کیا ہے۔ اقتدار اعلی اور اس کی کنجی ہندوؤں کے مخصوص طبقات کے ہاتھ میں ہی رہے، وہ نہ ملک کے موجودہ سیکولر جمہوری دستور کو مانتے ہیں اور نہ ہی موجودہ پارلیمانی نظام کو قبول کرتے ہیں۔ وہ ابھی تک بھی اگر اسے اختیار کیے ہوئے ہیں تو محض دستوری مجبوری کی وجہ سے کہ اسےمانے بغیر وہ اقتدار میں ا ٓنہیں سکتے اور جین زی کے طرز پر اس دستور کے خلاف کوئی عوامی تحریک بھی کھڑی نہیں کر سکتے، اس لیے نظام میں رہ کر ہی نظام کو توڑ دینا چاہتے ہیں ۔مگر اب یہ سازش بھی ناکام ہوتی نظر آرہی ہے ۔ملک میں شہریت کا ایک قانون 1955 سے ہی موجود ہے جو واضح کرتا ہے کہ 15 اگست 1947 کو ملک میں جو شہری تھا یا اس دن جو بچے پیدا ہوئے وہ سب ملک کے شہری ہیں۔ بعد ازاں اس قانون میں ترامیم ہوتی رہی ۱۹۸۵ ۔ ۱۹۸۶ ۔ ۱۹۹۲ ۔ ۲۰۰۳ ۔ ۲۰۰۵ ۔۲۰۱۵ ۔ ۲۰۱۹ ۔ 2003 کی ترمیم ہی حکومت ملک گیر سطح پر این آر سی کرنے کا مجاز بناتی ہے۔ اس کے علاوہ اس قانون میں کوئی ایسی شق موجود نہیں ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر کسی کی شہریت کو ختم کرنے کا جواز رکھتی ہو۔ الیکشن کمیشن کا سہارا بھی اب بے اثر ہوتا نظر آرہا ہے ایسے میں شہریت ۔شہریت کی گردان کرنے والی سرکار کو امت شاہ کی کرونا لوجی سمجھنے سے زیادہ عوام کی کرونولوجی سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں)
[email protected]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button