مضامین و مقالات

ابھرے گی اک نئی تان اسی ساز سے ؟

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

ملک میں سیاسی عدم استحکام کے آثار واضح نظر آنے لگے ہیں ۔ گیانیش کمار کے استعفے کی مانگ سے بات اب بہت آگے بڑھ چکی ہے ۔ گزشتہ ہفتے کانگریس کے قیادت کے ساتھ ساتھ سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی ایک آواز میں انتہائی سخت لہجے میں’’ ریجیم چینج ‘‘کی بات کہہ کر ایک سیاسی طوفان بپا کر دیا ہے ۔ریجیم کی تبدیلی اپنے آپ میں بہت کچھ کہتی ہے۔ سیاست میں الفاظ کا انتخاب بجائے خود ایک معنویت رکھتا ہے جو تحریک کے پس منظر اور پیش منظر دونوں کو واضح کر دیتا ہے۔لفظ ’’ ریجیم ‘‘اپنے آپ میں بہت سے پوشیدہ عزائم کا اظہار کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے ایران میں حکومت کے تختہ پلٹ کے لیے یہی لفظ بکثرت استعمال کیا گیا، شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف ہئیت تحریر الشام کی پیش قدمی اور بشار الاسد کا فرار ہو جانا بھی اس کی معنویت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح دیگر بہت سے ممالک میں اس کے مظاہر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں نیہا بورا کی جانب سے بنگلہ دیش میں اقتدار کی جبرا منتقلی کی مثال دینے سے بھی صورتحال کو کافی حد تک سمجھا جا سکتا ہے، ریجیم اور گورنمنٹ دونوں الفاظ کے معنی میں ایک نمایاں فرق ہے ۔اس لیے ریجیم چینج اور گورنمنٹ چینج میں بھی ایک فرق موجود ہے۔ ریجیم کو عام لغوی معنوں میں طرز حکومت یا نظام حکومت کہا جاتا ہے، جبکہ گورنمنٹ کے معنی محض حکمرانی کے ہیں ۔گویا حکمرانی کی تبدیلی یا حکمرانوں کی تبدیلی کا مطلب محض اتنا ہوگا کہ ہم ایک مخصوص طرز حکمرانی کے تحت کام کرنے والی حکومت کے اہلکار یا عہدے دار بدلنا چاہتے ہیں اور ان کی تبدیلی مروجہ نظام کے تحت ہی عمل میں آئے گی لیکن جب ہم ریجیم کو بدلنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم محض حکمران نہیں بدلنا چاہتے بلکہ اس پورے نظریے کو ہی بدل دینا چاہتے ہیں جس کے تحت موجودہ حکمران کام کر رہے ہیں، معنی کا یہی وہ فرق ہے جس نے ملک کی سیاست میں ابال پیدا کر دیا ہے، اور وہ بی جے پی جو گیانیش کمار کے استعفے کے معاملے میں تقریبا مدافعانہ پوزیشن میں تھی وہ اچانک جارحانہ تیور اختیار کرنے لگی، اس کے ساتھ کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت کے تیور بھی بدل گئے اور ابھیجیت دیپکے اب نیہا بورا اور پرشانت بھوشن جیسے سماجی رہنماؤں سے بھی کنارہ کشی اختیار کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ملک میں اس پر ایک بحث بھی شروع ہو گئی ہے ۔اور حالیہ تیوہاروں کے بعد پھر سے ایک تازہ دم تحریک کے خدو خال کیا ہوں گے یہ سوال ملک کے سامنے ہے ۔خصوصا ایسے وقت میں جبکہ اگلے چند ماہ میں پانچ انتہائی اہم ریاستی اسمبلیوں یو پی ،اتراکھنڈ ،پنجاب، گوا ، وغیرہ میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں ان پر اس تحریک کے کیا اثرات ہوں گے، ساتھ ہی چند ماہ قبل متنازع ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے فورا ووٹر لسٹوں کی پھر سے نظر ثانی شروع کرنے کا کام اور اسی دوران مردم شماری اور اس میں آر ایس ایس کے ورکرز کے شمولیت نے صورتحال کو پیچیدہ کر دیا ہے ۔۔خاص طور پر اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی صورت تو اس لیے بھی پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ وہاں ہائی کورٹ نے اگلے تین ماہ کے اندر پنچایت الیکشن بھی مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ہر چند کہ اس معاملے میں اتر پردیش حکومت سپریم کورٹ جا سکتی ہے لیکن وہاں راحت ملے گی یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ان تمام حالات میں اگر طرز حکمرانی میں تبدیلی تحریک سڑکوں پر آگئی تو انتخابات کا ہونا بجائے خود کتنا دوبھر ہو سکتا ہے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں کی جانب سے نظام حکومت کی تبدیلی کی تحریک چلانے اور اسے روکنے کی رستہ کشی اگر سڑک پہ ہوتی ہے تو کتنی لمبی چل سکتی ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا یہ کہنا تو سردست ممکن نہیں ہے لیکن اگر یہ رسہ کشی شدت اختیار کر گئی تو بظاہر ملک میں کوئی بھی انتخاب ہونا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ آزادی کے بعد ملک میں طرز حکمرانی میں تبدیلی کی کوئی تحریک ابھی تک نہیں چلی ، ایمرجنسی سے قبل جی پی تحریک جو حکومت کی تبدیلی کی خاطر اب تک کی سب سے بڑی تحریک تھی وہ بھی نظام حکومت کی تبدیلی کی مہم نہیں تھی بلکہ محض اندرا گاندھی کی قیادت والی کانگریس حکومت کو بدلنے کی مہم تک محدود تھی ، اسی لیے ایمرجنسی کے باوجود کامیاب بھی ہو گئی تھی ، لیکن اب کانگریس کی ہی قیادت میں ملک کی بیشتر اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے رجیم چینج کا نعرہ تاریخی اعتبار سے بہت اہم ہے۔
اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں سیاست کے ساتھ ملک کا نظام بھی ایک اہم موڑ پر ا ٓن کھڑا ہوا ہے، اپوزیشن کی یہ تحریک اگر واقعی سنجیدہ ہے اور اس کے پس پشت کوئی قرار واقعی نظریاتی فکر موجود ہے تو یہ تحریک ملک کو ایک نئے راستے کی طرف موڑ سکتی ہے۔ لیکن کانگریس کی جانب سے بی جے پی کے اعتراض کے فورا بعد ریجیم چینج لفظ کی وضاحت بھی سامنے آئی ہے کہ وہ جمہوری طریقوں سے ہی نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ ان کی اس وضاحت پر دلی ہی دل میں مسکرانے کو جی چاہتا ہے۔ اس لیے کہ جس بنگلہ دیش کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہاں بھی اور اس کے ساتھ سری لنکا ، نیپال ،شام عراق ،افغانستان وغیرہ پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی ہر جگہ ووٹ کے ذریعے جمہوری الیکشن کے انداز میں ہی نئی حکومتیں منتخب ہوئی ہیں ،لیکن’’ بعد از خرابئی بسیار‘‘ ! اپنی الگ الگ پریس کانفرنس کے دوران پرشانت بھوشن اور پون کھیرا کا درشت لہجہ بہت کچھ بولتا ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کے ترجمانوں کی جانب سے اس لفظ پر زبردست تنقید اور اس کے خلاف جارحانہ تیور اور ایک ملک گیر تحریک کی دھمکی بھی کہانی کے اگلے باب کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ہم جیسے لوگ زندگی بھر اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے یہ بات کہتے رہے ہیں کہ محض حکمران بدل جانے سے یا حکومت کے ہاتھ بدل جانے سے ملک کے حالات میں کسی مثبت تبدیلی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ بلکہ نظام حکومت کو ہی بدلنا ہوگا ۔لیکن اس سے ہماری مراد ہمیشہ یہ رہی کہ ملک کے دستور کو اس کے قرار واقعی صورت میں ایماندارانہ اور منصفانہ طریقے سے نافذ کرنے والے فکری رہنماؤں کو حکمرانی سنبھالنی چاہیے ۔ لیکن اس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ لیکن اگر اب یہی بات وہ سیاسی جماعتیں جو پہلے کبھی نہ کبھی حکومت میں رہی ہیں اور ان سے بھی ملک کو بہت سی شکایتیں رہی ہیں وہی خود نظام کی تبدیلی کی بات کرنے لگیں تو شک ہونا تو فطری بات ہے۔ لیکن ایک فرق سے بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اگر سول سوسائٹی بھی مضبوطی کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کی اس تحریک میں کھڑی نظر آتی ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ تحریر اصل میں آر ایس ایس کے نظریے اور حکمرانی کے بنیادی ستونوں پر اس کے تسلط ،غلبے اور اس سے فکری وابستگی رکھنے والے سرکاری کرندوں کے خلاف ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ملک میں دستور اپنے آپ میں منصفانہ، ایماندارانہ اور وضاحت کے ساتھ ہر شہری کو اس کے عقیدے، تہذیب اور ثقافت کی نمایاں گارنٹی دیتا ہے، مگر اسے نافذ کرنے والے ہاتھ ہمیشہ ہی زرد رنگ میں رنگے رہے ہیں، اس لیے دستور کو اپنی مکمل روح کے ساتھ آج تک نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ملک کی ایک بڑی اکثریت اپنے حقوق سے آج تک محروم رہی ہے، اب اگر نظام حکومت کی تبدیلی کی یہ مہم آر ایس ایس کے اس نظریے اور اس کو نافذ کرنے والے ہاتھوں کے خلاف منظم ہوتی ہے تو یقینی طور پر یہ ایک تاریخی تحریک ہو سکتی ہے ،جو آزادی کے بعد ملک کو ایک نئی اور مثبت راہ دے سکتی ہے۔ مگر کیا کریں کہ گلوں کے رنگ و بو ،اس قدر دھوکے دے چکے ہیں کہ گل بوسی کے شائقین کے لبوں تک بس کانٹے ہی پہنچ سکے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی احتیاط بہرحال لازم ہے۔کسی بھی نئی سیاسی تحریک کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ طے کر دے کہ ملک ’ہندوستھان ‘بنے گا یا ’’بھارت ‘‘رہے گا۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسک کے صدر ہیں )
[email protected]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button