
حقِ رائے دہندگی بنام حقِ حکمرانی
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
محض ایک کروڑ کی کل آبادی ااور تہتر لاکھ ووٹر والے چھوٹے سے ملک اسرائیل کے انتخابی نتائج آ چکے ہیں اور ساری دنیا کی نظریں ان نتائج اور اس کے بعد وہاں حکومت سازی کی کوششوں پر مرکوز ہیں، حالانکہ عموماً اتنے چھوٹے ملک کے انتخابات پر دنیا کی نظریں اس شدت کے ساتھ مرکوز نہیں رہتیں۔ اس سے قبل خود اسرائیلی انتخابات پر بھی دنیا اتنی متوجہ نہیں تھی جتنی اس بار ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا لگاتار اس کی خبریں نشر کر رہا ہے اور انتخابی تجزیہ نگار اور دانشور اس پر بے تحاشا تبصرے لکھ رہے ہیں۔ دنیا کے بڑے حکمران بھی اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اسی لیے یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آخر اس چھوٹے سے ملک کے انتخابات پر اتنی توجہ کیوں ہے؟ اس کی دو وجوہ سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک تو مغربی ایشیا کے حالیہ حالات، جو خود اسرائیل اور اس کے بڑے حلیف امریکہ کے پیدا کردہ ہیں اور جنہوں نے پورے خطے کو جنگ کی بھٹی میں جھونک رکھا ہے۔ اور اس کے وہ حالیہ حکمران، جنہوں نے سفاکی، بربریت، ظلم اور وحشت کی انسانی تاریخ میں بدترین مثال قائم کی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کے حکمراں بن یامین نیتن یاہو کو عالمی عدالت نے جنگی مجرم قرار دے رکھا ہے، اور خود ملک کے اندر بھی وہ بدعنوانی کا ملزم ہے اور اپنے ذاتی سیاسی وجود کے تحفظ کے لیے فوج اور دیگر حفاظتی ایجنسیوں کا غیر قانونی استعمال کرتا رہا ہے۔
دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل میں مقیم سب سے بڑی اقلیت، یعنی فلسطینی عربوں نے اس بار اتنی بڑی فتح حاصل کی ہے کہ اب ان کی مرضی کے بغیر وہاں کوئی جمہوری حکومت قائم نہیں ہو سکتی، اور اگر کوئی حکومت نہ بن پائی تو دوبارہ انتخاب کی نوبت آ جائے گی۔ حالانکہ جس طرح اپنے قیام سے اب تک اسرائیلی آبادی کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ کیا ہے انہی خطوط پر اقلیتی مسلمانوں نے بھی بڑی تعداد میں پولنگ کرکے اپنی پارٹیوں کے نمائندوں کو کامیاب بنایا ہے۔ لہذا دوسرےانتخاب میں بھی کم از کم مسلمان اس بڑی کامیابی کو پھر سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اسرائیلی سیاست دان بھی سمجھتے ہیں کہ دوسرے انتخاب کا نتیجہ بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔
ان حالات میں اسرائیل سمیت ساری دنیا کو شکوہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں نے ووٹ کیوں کیا اور اتنی بڑی تعداد میں وہ کامیاب کیوں ہوگئے جبکہ وہ محض اکیس فیصد ہیں اور کوئی دوسرا یہودی ووٹ بھی ان کے ساتھ نہیں تھاجس کے نتیجے ،یں پوری کی پوری سیاسی قیادت ان کے رحم و کرم پہ آگئی۔
یہی وہ شکوہ ہے جو یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ آخر ایک ملک کی وہ اقلیت، جو تمام تر شہری اور دستوری حقوق رکھتی ہے، ووٹ دینے اور انتخاب لڑنے کا بھی برابر کا حق رکھتی ہے، اگر کامیاب ہو جائے تو اس کے حقِ حکمرانی کا انکار آخر کس جمہوری اصول کے تحت کیا جا سکتا ہے؟
اسرائیل کے دونوں سیاسی محاذ عرب نمائندوں کو حکومت سازی میں شریک کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ دورانِ الیکشن انہوں نے اپنے ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کریں گے، اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ ان کے معاہدے کے بغیر نیتن یاہو کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ حالانکہ عوام اور دیگر کچھ سیاسی پارٹیوں کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں عرب نمائندوں سے معاہدہ کر لینا چاہیے۔ خود مسلمانوں نے بھی یہ اشارہ دیا ہے کہ نیتن یاہو کو ہٹانے کی خاطر وہ کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔
چنانچہ ۱ن کے تعاون سے ۱۰ نومبر کو حلف برداری کے بعد وہاں کے اسپیکر کو ہٹانے کی تحریکِ عدم اعتماد آسانی سے کامیاب ہو جائے گی اور کچھ متنازع قوانین کو بدلنے کی تحریک بھی انہی عرب ووٹوں کے ذریعے آسانی سے کامیاب ہو جائے گی۔ حکومت سازی بعد میں کسی مرحلے پر ہوگی۔ مسلمان پارٹیوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی حکومت میں شریک ہوئے بغیر نیتن یاہو کے مخالف محاذ کی حمایت کریں گے۔
حالانکہ اسرائیل کے دونوں محاذ انتہائی سخت گیر ہیں اور دو ریاستی حل کے مخالف ہیں، نیز عربوں اور فلسطینیوں کے قتلِ عام کے بھی حامی ہیں، مگر اس کے باوجود وہاں کے مسلمان نیتن یاہو کی مخالفت میں یہ سمجھوتہ کرنے پر راضی ہیں، جس کے ذریعے نیتن یاہو جیسے ظالم کا سیاسی مستقبل سلاخوں کے گھیرے میں آ جائے گا اور ممکن ہے کہ اسے کیفرِ کردار تک بخوبی پہنچایا جا سکے۔
بہرحال، وہاں کے مسلمان اپنی مقامی ضرورتوں کے تحت جو حکمتِ عملی بھی اختیار کریں، وہ خود اسے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، لیکن ان کے سیاسی طرزِ عمل نے عالمی طور پر جو سوال پیدا کیا ہے، اس پر سنجیدہ بحث کی ضرورت تو پیدا ہو ہی گئی ہے۔ اگر کسی ملک کے شہریوں کو حقِ ا رائے دہی حاصل ہے تو حقِ حکمرانی کس بنیاد پر منسوخ کیا جا سکتا ہے؟ یہ معاملہ تنہا اسرائیل کا نہیں ہے، بلکہ بہت سے دیگر ممالک میں بھی اس کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
خود امریکہ میں جب باراک حسین اوباما، ایک کالے اور مسلمان ہونے کے باوجود، صدارتی الیکشن میں منتخب ہو گئے تو امریکہ میں بہت سی تیوریوں پر بل پڑے۔ حتیٰ کہ باراک کو اپنے نام سے حسین کا لفظ ہٹانا پڑا، حالانکہ ان کے مسلمان ہونے کے باوجود امریکہ کی مسلم مخالف پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
۲۰۱۶ سے اب تک تیسری بار لگاتار منتخب ہونے والے لندن کےمیئر صادق خان کی جیت پر بھی کافی جارحانہ تبصرے ہوتے رہے۔ امریکہ کے اہم ترین شہر یئویارک کے مئیر ظہران ممدنی کے انتخاب کو بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا گئا۔ مشی گن اور نیوجرسی سمیت تقریباً 11 میئر امریکہ میں مسلمان ہیں اور پانچ مسلم ارکان امریکی کانگریس میں بھی ہیں۔ ان سب پر لگاتار تنقید ہوتی رہتی ہے۔ الہان عمر اس کی سب سے بڑی مثال ہیں، اور اب مسی سپی میں ابوبکر السید کو بھی اسی طرح مخالفت کا سامنا ہے۔
اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں بھی جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور وہ وہاں الیکشن میں ووٹ دینے اور الیکشن لڑنے کا حق رکھتے ہیں وہاں چند لوگ ممبر پارلیمنٹ بھی بن جاتے ہیں۔ اس پر کسی کو زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن اگر وہ حکمران بن جائیں تو اس پر اعتراضات ہونے لگتے ہیں۔ سنگاپور کی مثال کو چھوڑ کر ، جہاں دو مرتبہ مسلم صدر اور دو ہی مرتبہ مسلم اسپیکر منتخب ہو چکے ہیں اور وہاں کسی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوا باقی ساری دنیا کی سیکولر جمہوریتوں کا یہی حال ہے ۔
اس صورتِ حال کو خود اپنے ملک پر بھی رکھ کر دیکھیں تو بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا سترہ فیصدآبادیاور ۲۰ کروڑ ووٹرکو محض تین فیصد نمائندگی حاصل ہے۔ آزادی کے بعد کبھی بھی پانچ فیصد سے زیادہ نمائندگی نہیں ملی۔ اس میں بھی وزیرِاعظم تو چھوڑیے، صوبوں کے وزیرِاعلیٰ تک نہیں بن پاتے۔ بہار کے عبدالغفور، مہاراشٹر کے عبدالرحمان انتولے اور آسام کی سیدۃ انور تیمور تھوڑے تھوڑے عرصے کے لیے وزیرِاعلیٰ بنے بھی تو ان ریاستوں میں ان کے خلاف وہ طوفان کھڑا ہوا کہ انہیں اپنے عہدے چھوڑنے پڑے۔
ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں دانستہ طور پر اس نمائندگی کو کم سے کم رکھتی ہیں۔ مثلاً ملک میں 90 لوک سبھا انتخابی حلقے ہیں، جن میں ایک سیکولر پارٹی کا امیدوار غیر مسلم سیکولر ووٹوں کے ساتھ مل کر بآسانی کامیاب ہو سکتا ہے، لیکن بی جے پی تو خیرٹکٹ دیتی ہی نہیں، کیونکہ اسے اپنے ہندو ووٹ بینک کو واضح طور پر بتانا ہوتا ہے کہ وہ صرف ہندوؤں کی مسلم مخالف پارٹی ہے۔ کانگریس جیسی سیکولر پارٹیاں بھی 40، 45 سے زیادہ ٹکٹ نہیں دیتیں۔ اس طرح ریاستی اسمبلیوں میں بھی اکھلیش یادوجیسے لوگ 400 میں سے محض 45 تک ہی ٹکٹ دیتے ہیں، جبکہ یوپی میں ڈیڑھ سو مسلم سیٹیں ایسی ہیں کہ سیکولر پارٹی کے ٹکٹ پر سیکولر ووٹوں کو ساتھ ملا لیں تو بآسانی جیت سکتے ہیں۔
اسی طرح ملک کی ہر ریاست کے یہ اعداد و شمار سب کے سامنے ہیں، سب کو معلوم ہیں اور کئی بار ان لیڈروں کے سامنے رکھے بھی گئے ہیں، لیکن یہ اعداد و شمار پیش کرنے والے مسلم لیڈر خود ہی سیکولر ہونے کے باوجود سیاسی اچھوت بنا دیے جاتے ہیں۔ سیاسی ذہن رکھنے والے مخلص مسلمانوں کو یہ پارٹیاں خود سے بہت دور رکھتی ہیں اور مفاد پرست، غیر سیاسی ،نو دولتئے ان کے منظورِ نظر رہتے ہیں۔ وجہ ظاہر ہے کہ اگر سیاسی اذہان کامیاب ہو کر لوک سبھا اور اسمبلیوں میں آ گئے تو مسلمانوں کے جمہوری اور سیکولر حقوق کا مطالبہ زور و شور سے کریں گے اور پھر وہ براہِ راست حکمرانی کا حصہ بھی بن سکتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال کو ساری دنیا کی طرح خود ہمارے ملک میں بھی قبول نہیں کیا جاتا۔ سب یہی چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا ووٹ، ان کے نوٹ اور ان کی طاقت مفت میں مل جائے۔
درحقیقت ملک میں سیکولر سیاست کا وجود ابھی تک مسلمانوں کے اسی مفت ووٹ سے قائم ہے۔
سقوطِ خلافتِ عثمانیہ کے بعد سے یہ سلسلہ ساری دنیا میں دراز ہے، جو پہلے محسوس نہیں ہوتا تھا، کیونکہ مسلمان خود بھی صدمے میں تھے، لیکن اب یہ خلا ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔اسی لیے ظہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں واضح کیا تھا کہ وہ ایک مسلم شناخت کے ساتھ انتخاب لڑ رہے ہیں، اور وہ کامیاب بھی ہو گئے۔ بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو اب یہ سمجھنا پڑے گا کہ کثیر الجماعتی جمہوریت میں اگر ایک ہی نظریہ رکھنے والے دو الگ الگ سیاسی اور انتخابی محاذ قائم ہوں، جیسا کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں میں موجود ہیں، تو ان میں سے یقینی طور پر ایک سخت گیر ہوگا اور ایک قدرے نرم ہوگا، مگر مسلمانوں کے تعلق سے دونوں محاذ ان کی مخالفت پر متفق ہوں گے۔ ایسے میں اقلیتوں اور محروم طبقات کی آواز معدوم ہو جائے گی اور وہ ظلم کا شکار ہوں گے۔
پچھلے مضمون میں بھارت کے تعلق سے بھی اسی سنگین سیاسی محاذ آرائی کا ذکر کیا تھا۔ اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مسلم قیادت محروم طبقات کا ایک تیسرا محاذ سیاسی توازن قائم رکھنے کے لیے مضبوطی کے ساتھ کھڑا رہے۔ اسرائیل کے حالیہ انتخابی نتائج اسی کامیاب تجربے کا نتیجہ ہیں۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیل کانسل کے صدر ہیں )
[email protected]
