
عالمی جارحیت کی تاریخ ، یوروپ کا کردار
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
دنیا میں انسانی وجود قائم ہونے کے بعد سے لے کے اب تک جنگ کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔ انفرادی فسادات سے لے کر دیگرریاستوں پر قبضہ کرنے یا اپنے تحفظ کے نام پر جنگوں کا ایک لامتناہی سلسلہ تاریخ کے اور اق پر موجود ہے ۔جہانگیری کی ہوس لیے سکندر اور منگولوں کے قصے بھی ان اوراق پرموجود ہیں۔ حتی کہ ایک زمانے تک تمام حکومتوں میں ایک وزیر جنگ بھی رکھنا پڑتا تھا جسے بعد میں بدل کر وزیر دفاع کہا جانے لگا ہے۔ لیکن جب سے وزیر جنگ ،وزیر دفاع بنے ہیں تب سے ہی دنیا میں جنگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوااور ان کی شدت ، ہیبت ناکی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا ہے ۔پہلے یہ جنگیں مختصر اور مقامی ہوا کرتی تھیں ۔دو ممالک یا دو پڑوسی ریاستوں کے بیچ مہینے دو مہینے میں جنگ کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ جاتی تھی ۔لیکن جیسے جیسے دنیا ایک عالمی گاؤں میں بدلتی چلی گئی جنگوں کا سلسلہ بھی وسیع ہوتا چلا گیا اور دورانیہ بھی۔ نیزجنگ کی تباہی اور درندگی بھی شدید ہو گئی ۔دنیا میں بتدریج بین الممالک انحصار اور اشتراک بڑھنے سے جنگ کے اثرات بھی وسیع پیمانے پر محسوس ہونے لگے ہیں۔ 1912 کی جنگ بلقان اور اس کے نتیجے میں ہونے والی پہلی اور دوسری عالمی جنگ نے تو جنگ کا بیانیہ ہی بدل ڈالا۔ اب ہر ایک جنگ میں کئی ممالک شریک ہوتے ہیں اور ہر قسم کے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کر کے وحشتناکی اورسفاکی کی ہر حد کو پار کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ اسرائیل جیسے ممالک نے تو پہلے تو شیرخوار بچوں کو قتل کر کے انہیں جنگی ہتھیار بنادیا اور حال ہی میں غزہ کی جنگ میں تو شدید بھوک کو بھی جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
گزشتہ ایک ہزار سال میں جنگوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے ممالک پر جنگ تھوپنے یا فوجی مداخلت کرنے والوں میں فرانس اور برطانیہ سر فہرست رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے ڈھائی ۔ڈھائی سو کے قریب براہ راست جنگیں لڑی ہیں ۔ ان جنگوں میں بہت سے چھوٹے چھوٹے یورپی اور پڑوسی ممالک کو اپنی کالونی بنایا گیا۔ برطانیہ نے تو دنیا کے تقریبا تمام 190 ممالک پر کسی نہ کسی صورت میں حملہ کیا ہے اور اکثر کو اپنی کالونی بھی بنایا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں تاج برطانیہ کے زیر نگیں سورج غروپ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اگر صرف پچھلے ڈھائی سو سال میں 1776 میں اپنے قیام سے لے کے اب تک امریکہ کی جانب سے لڑہ جانے والی جنگوں کا شمار کیا جائے تو یہ دونوں ممالک کافی پیچھے رہ جاتے ہیں امریکہ بہت آگے نکل جاتا ہے۔ اس دوران امریکہ نےتقریبا 400 براہ راست جنگیں لڑی ہیں یا فوجی مداخلتیں کی ہیں۔ ان میں بھی 1990 سے لے کر اب تک محض 35 سال میں 2 سو جنگوں میں امریکہ نے براہ راست یا اپنے اتحادیوں کے ذریعے فوجی کاروائیاں کر کے یا تو ان ممالک پر قبضہ کر لیا ہے یا وہاں خانہ جنگی بپا کی ہے اور ان کے وسائل کو چھین لیا ہے۔
اس عرصے میں ۱۹ مسلم ممالک کو تہ تیغ کیا گیا ، حالیہ دنوں میں ہی دیکھیں تو دنیا کے مختلف خطوں میں کسی نہ کسی طور پر یا تو براہ راست جنگ لڑ رہا ہے یا امریکی مداخلت کی وجہ سے ان ممالک میں خانہ جنگی اور افرا تفری کا عالم بپا ہے۔ ویننزولا پر قبضہ ابھی دو ماہ پہلے کی ہی بات ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ، فلسطین ،غزہ ،سوڈان، یمن صومالیہ ،نائجیریا وغیرہ ممالک میں جنگ جاری ہیں اور ان میں امریکہ براہ راست ملوث ہے۔ سیریا میں بھی گردوں کو اکسا کر بدامنی پھیلانے میں اسی کا کردار ہے ۔ہندو پاک کے مابین دشمنی جیسے حالات بپا کرنے میں امریکہ کا رول کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کے پیچھے تو پوری مغربی دنیا کا رول سامنے ا ٓچکا ہے۔ الغرض ساری دنیا میں افر تفری، بے چینی، خانہ جنگی، اقتصادی بدحالی اور براہ راست جنگ میں امریکی رول ساری دنیا کے سامنے واضح ہے۔ اس کے ہراول دستے کے طور پر اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کی موجودگی بھی اب ثابت شدہ ہے۔ ان دونوں کے پیچھے فوجی، سفارتی اور سیاسی پشت پناہی کے لیے عموما یوروپ اور نیٹو ممالک موجود رہتے ہیں ۔چنانچہ بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ معزز،مہذب، اعلی تعلیم یافتہ، اعلی ترین سوسائٹی کہلائے جانے والا یورپ اور امریکہ مشترکہ طور پر اس عالمی بے چینی کا سبب ہیںاور مشترکہ طور پر عالم انسانیت کی بربادی ،بے چینی اور عدم استحکام کے ذمہ دار ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ عالمی میڈیا کے بیانیہ کے مطابق اس تمام خرابے کا سبب مسلمانوں کو قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ ۴۵سال سے امریکہ کی ان جنگوں کا اکژ ہدف مسلم دنیا ہی رہی ہے۔ عالم اسلام کے تقریبا 57 ممالک ایشیا ،عرب اور افریقی خطوں میں آباد ہیں ۔دنیا کے تقریبا 203 کروڑ مسلمانوں کی آبادیاں انڈونیشیا ،بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، ملیشیا، ایران، افغانستان اور ترکی جیسے ایشیائی ممالک میں بستی ہیں جہاںکل مسلم آبدی کا تقریبا 60 فیصد مسلمان رہتا ہے۔ جبکہ 20 فیصد مسلمان عرب ممالک میں اور تقریبا 15 فیصد افریقہ میں بستے ہیں۔ یورپ میں محض پانچ فیصد مسلم آبادی ہے ۔اتفاق یہ ہے کہ ایشیا عرب اور افریقہ ہی دنیا کے وہ بڑے خطے ہیں جہاں تیل ،سونا ہیرا اور دیگر اہم ترین قیمتی قدرتی معدنیات اور وسائل سے مالا مال ہے ۔گویا دنیا کی ترقی کے لیے درکار زیادہ تر اہم وسائل مسلم ممالک میں ہی موجود ہیں ۔ امریکہ اور یورپ کو اپنی بقا اور بالادستی قائم رکھنے کے لیے ان وسائل کی شدید ضرورت ہے اور انہیں حاصل کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور جاتےرہے ہیں ۔ان خطوں میں یہ کون کون سے وسائل ہیں ،کتنی مقدار میں ہیں اور ان کی کیا اہمیت ہے یہ تفصیل پھر کبھی بیان کی جا سکتی ہے ۔لیکن امریکہ کو دنیا کا ’’وشو گرو‘‘ بنے رہنے اور ڈالر کی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے ساری دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچانے کے لیے مسلم ممالک کی زمینوں میں پوشیدہ ان خزانوں پر قبضہ کرنا ضروری ہے۔اس کے لیے یا تو ان ممالک کے حکمرانوں کو کچھ رشوت دے کر یا تحفظ کا تیقن دے کر مختلف قسم کے معاہدوں کے ذریعے رام کر رکھا ہے، اور جو حکمراں نہیں مانتے ان کےان ممالک پر فوج کشی کے ذریعے ان کی دولت چھین لی جاتی ہے۔ دولت کی اس کھینچاتانی کے بیچ ایک دوسرا بڑامسئلہ بھی درپیش ہے ۔جو اس سے بھی زیادہ شدید ہے۔ اسلام اپنے قیام سے اب تک تقریبا 1300 سال ایشیا، افریقہ ،عرب کے انہی مالا مال خطوں پر حکمران رہا ہے ۔ابھی سو سال قبل ہی اس عالمی اسلامی حکمرانی کو اسی برطانیہ اور امریکہ نے جنگ کے ذریعے ہی ختم کیا ہے ۔اور تبھی سے دنیا نے اپنی تاریخ کی سب سے خطرناک جنگیں بھی جھیلی ہیں، جن میں محض 100 سال میں 10 کروڑ سے زیادہ لوگ مار ڈالے گئے اور اتنے ہی بے گھر کئے گئے،اس بڑی تباہی کے ملبے پر کھڑے ہو کر ہی امریکہ دنیا کا سب سے طاقتور ملک بنا ہے۔ 1980 کے بعد اسی یورپی دنیا اور امریکہ و اسرائیل کے لیے ایران کا اسلامی انقلاب سب سے بڑا خطرہ بن گیا تھا کہ جس نے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ مغربی جمہوریت کے برخلاف اسلامی جمہوریت کے خطوط پر ایران کی حکومت چلائیں گے ۔گویا جس ۱۳۰۰ سالہ اسلامی حکمرانی کو یورپ نے اپنے ظلم و تشدد کے ذریعے ختم کیا تھا، محض 50 سال بعد وہ دوبارہ منصہ شہود پر آگئی ۔ اس خطرے سے مقابلے کےلئے یہ شر پسند طاقتیں پھر اکٹھا ہوئیں اور آٹھ سال تک 23 ممالک نے مل کر ایران کے ساتھ جنگ جاری رکھی کہ ایک نوخیز اسلامی ریاست کا خاتمہ ہو جائے، لیکن ناکام رہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران گزشتہ 47 سال تک مستقل معاشی ناکہ بندی ،جنگ اور پروپیگنڈا کے باوجود نہ صرف قائم رہا بلکہ دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی رول ماڈل بن گیا۔ چنانچہ بہت سے افریقی ممالک،مصر سمیت چند عرب ممالک اور ترکی و ملیشیا جیسے ممالک نے بھی خود کو اسلامی جمہوریت کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی اور اکثر کامیاب بھی رہے۔یہ وہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ 47 سال میں امریکہ اور یورپی امریکہ کی قیادت میں اسرائیل نے تقریبا 19 مسلم ممالک کو تاخت و تاراج کر دیا ،اور بقیہ ممالک کو زبردستی اپنا حلیف یا باجگزار بنا لیا ۔ یہ ممالک براہ راست اب امریکی کالونی بننے پر مجبور ہیں۔
فروری سے جاری حالیہ امریکی کا ایران پر حملہ اسی امریکی غلامی سے مسلسل انکار کا شاخسانہ ہے اور اسلامی جمہوریت کے تسلسل پر اصرار کرنے کا نتیجہ ہے۔ ایران میں حکومت تبدیل کرنے کے امریکی ہدف کی وجہ بھی یہی ہے۔ لیکن غنیمت یہ ہے کہ ایران کے ۹ کروڑ عوام ابھی تک اپنی اسلامی جمہوریت کو برقرا رکھنے کی لئے ہر قربانی دے رہے ہیں۔ اسرائیل و امریکہ کے اسے بدلنے کے تمام حربے ناکام ہو جانے کے بعد سزا کے طور پر آج ایران کی ہنستی کھیلتی بستیوں پر ہزاروں ٹن بارود کی برسات کر کے تباہ و برباد کرنے کے باوجود ایرانیوں کا عزم ویسا ہی ہے جیسا ابھی تک اہل غزہ کا رہا ہے۔ وہ تو ایک چھوٹی سی ریاست تھے مگر ایران ایک طاقتور ملک ہے جو پہلے بھی آتھ سال جنگ لڑ کے سرخرو رہا ہے اور اب بارہ دن کی جنگ کا نتیجہ بتا رہا ہے اسے زیر کرنے کا خواب ہنوز دلی دور است ہی ثابت ہوگا۔




