
دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور میں سالانہ امتحان کے بعد علمی و تربیتی نشست
(مفتی ہارون) دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور میں سالانہ امتحان کے بعد ایک پُروقار اور روح پرور نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں راجہ بازار مدینہ مسجد کے امام و خطیب مولانا گلزار رحمانی نے کہا کہ قرآنِ پاک کی تعلیم ایک نہایت مبارک اور عظیم عمل ہے، جس پر دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت رکھی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ سنتوشپور میں گجرات کے معیاری مدارس کے طرز پر قرآنِ کریم اور نورانی قاعدہ کی اعلیٰ تعلیم کا باقاعدہ اور منظم نظام قائم ہے، جہاں طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت بھی سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق کی جا رہی ہے۔انہوں نے مدرسہ کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کولکاتہ شہر سے متصل ایک پسماندہ آبادی میں اس معیار کا ادارہ قائم کرنا اور نونہالانِ امت کو عصری تقاضوں یعنی اسکول امتحانات کے ساتھ قرآنِ کریم کی تعلیم فراہم کرنا ایک عظیم خدمت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دارالعلوم کے چند سینئر فضلاء کے علاوہ ادارے کے بیشتر اساتذہ کرام اکل کوا اور گجرات کے معیاری مدارس کے تعلیم و تربیت یافتہ ہیں، جو اسی نہج پر یہاں طلبہ کو حفظ و تجوید کی عمدہ تعلیم دے رہے ہیں۔مولانا گلزار نے مزید کہا کہ امتحان کے دوران انہوں نے محسوس کیا کہ یہاں تجوید کی بھرپور رعایت، یادداشت کی پختگی اور ماہانہ مسابقہ جیسے مؤثر انتظامات موجود ہیں، جس کے باعث طلبہ اپنے اسباق کو بہتر طور پر یاد رکھتے ہیں موصوف نے ادارے میں متعین نگران، سی سی ٹی وی کیمروں، کھیل کود کے مناسب انتظامات اور ورزش کے اہتمام کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں درسیات کے ساتھ بچوں کو فرائض، سنن، مستحباتِ نماز اور روزمرہ کی دعائیں بھی سکھائی جاتی ہیں، جس سے طلبہ میں صالحیت اور عملی زندگی میں نمایاں امتیاز پیدا ہوتا ہے۔اس موقع پر بطور ممتحن مولانا مرسلین قاسمی، امام و خطیب چاند خان مسجد نارکلڈانکہ نے بھی بچوں کی یادداشت، لہجہ اور تجوید کی اعلیٰ سطح پر عمل درآمد پراساتذہ کرام اور مہتمم مولانا نوشیر کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے دارالعلوم اسرارِیہ سنتوشپور کا نام سنتے آ رہے تھے، لیکن آج مشاہدہ ہوا کہ یہاں کے کئی کمسن بچوں نے محض دو سال میں حفظِ قرآن مکمل کر لیا، اور حفظ مکمل کرتے ہی بغیر کسی اضافی دور کے تراویح سنانے کے قابل ہو جاتے ہیں، جو اساتذہ کی منظم منصوبہ بندی اور فکری تربیت کا واضح ثبوت ہے۔آخر میں مولانا مرسلین نے دعا کی کہ رب کریم اساتذہ کرام اور ادارے کے معاونین کو اجرِ عظیم سے نوازے، کیونکہ پسماندہ علاقے میں قائم ایسے ادارے کی خبرگیری اور تعاون سعادت کی بات ہے۔




