
مسلمان کو "قبرستان کی دیوار یا مسجد کے بیت الخلاء نہیں، پارلیمنٹ میں کرسی، سیاست میں برابر کی حصہ داری چاہیے !
احساس نایاب شیموگہ، کرناٹک ۔۔۔
بہار میں انتخابی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے۔
سیاسی پارٹیوں کے، اتحاد، جلسے، وعدے، اور دعوے، سب کچھ جاری ہے۔ لیکن اگر سب سے زیادہ کسی کی بات ہو رہی ہے، تو وہ ہے "مسلم ووٹ”۔
ہر پارٹی چاہتی ہے کہ مسلمان اسے ووٹ دے، ہر امید وار چاہتا ہے کہ مسلم محلوں میں قدم رکھے تو نعروں سے استقبال ہو، لیکن وہی مسلمان، جب نمائندگی کی بات کرتا ہے تو سب کے منہ بند ہو جاتے ہیں۔۔
مسلم ووٹ چاہئے، لیکن مسلمان امیدوار نہیں۔ مسلمانوں کا مجمع چاہئے، لیکن مسلم قیادت نہیں۔ ان سیاسی تضادات کے بیچ، سب سے زیادہ بےوقعت، سب سے زیادہ استعمال ہونے والا، اور سب سے زیادہ خاموش طبقہ بیشک بھارت کا مسلمان ہے۔۔۔
ایسے میں یہ سوال لازم ہے
کیا آج بھی مسلم ووٹر صرف ایک ” اعداد و شمار کا ہندسہ ہے ؟
یا اس کا کوئی شعور، کردار اور قیادت باقی ہے ؟ کیونکہ
ہر بار کی طرح اس بار بھی ریاست کی کئی بڑی جماعتیں اپنی امیدواری کی فہرست لے کر سامنے آئی ہیں، جن میں
” جنتا دل یونائٹڈ نے کُل 101 امیدواروں میں صرف 4 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہے، ان میں جامع خان (چین پور)، صبا ظفر (امور)، منظر عالم (جوکی ہاٹ)، اور شگفتہ عظیم (ارریہ) شامل ہیں ۔۔۔ یہ اعلان کسی لطیفے سے کم نہ تھا ، کیونکہ بہار میں تقریباً 17 فیصد مسلم آبادی ہے، اور ایسے میں نمائندگی کی یہ تنگ دلی ایک سوچا سمجھا سیاسی پیغام ہے کہ، ” تم یعنی مسلمان صرف ووٹ دیں، قیادت کا خواب مت دیکھیں ” ۔۔۔
دوسری طرف راشٹریہ جنتادل،
کانگریس، اور ان کے اتحادی بھی دعووں میں بڑے مگر عمل میں بونے نکلے ۔۔۔۔
راشٹریہ جنتادل نے 143 مین سے چند مسلم امیدوار دئیے ، لیکن نہ وہ فہرست مکمل طور پر سامنے آئی، نہ اس میں قیادت کی کوئی جھلک نظر آئی ۔۔۔۔
کانگریس کی فہرست میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی محدود رہی، ہاں کچھ چہرے ضرور شامل کئے گئے، مگر یہ چہرے وہی پرانے ، آزمایا ہوا سیاسی مال تھے، جن کی حیثیت صرف، ” ووٹ کھینچنے ” کی مشین سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔۔
ان کے علاوہ دیگر جماعتوں کا حال بھی کم و بیش یہی ہے۔۔۔۔
ان سب کے بیچ "مجلس اتحاد المسلمین کی اسدالدین اویسی نے تقریباً 25 مسلم اکثریتی حلقوں میں اپنے امیدوار اتارے ہیں، جن میں
اختر الایمان ( امور )، شمش آغاز ( گشن گنج )، انس سلام ( گوپال گنج ) جیسے نام شامل ہیں اور دیگر کئی نئے چہرے، مسلمانوں کے درمیان ایک الگ آواز بن کر اُبھر رہے ہیں۔۔۔۔
ان کی موجودگی نے یقیناً کئی حلقوں میں بڑی جماعتوں کی نیندیں اُڑادی ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایم آئی ایم ابھی تک مسلم ووٹ کو متحد کرنے کے نعرے سے آگے عملی سطح پر کوئی بڑا دھچکہ نہیں دے سکی ۔۔۔۔
خاص طور پر امور، جوکی ہاٹ، بہادر گنج، کشن گنج، ارریہ، سیمانچل جیسے علاقوں میں مسلم امیدواروں کی بھرمار ہے،
یعنی ایک ہی حلقے میں کئی کئی مسلم چہرے آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ ایسا منظر پہلی بار نہیں ہے، مگر ہر بار نقصان مسلمانوں کا ہی ہوا ہے۔۔۔۔
ایسے میں یہاں پر یہ سوال اہم ہے،
کیا مسلمانوں کی قیادت خود اپنے ووٹ کو سمجھنے اور بچانے میں ناکام ہورہی ہے ؟؟؟
ایسے میں ووٹ بکھرے گا، فائدہ وہی اٹھائیں گے جنہیں نہ مسلمانوں سے ہمدردی ہے، نہ ان کی قیادت سے۔۔۔
یہاں پر جو اہم بات اس سارے منظرنامے میں نظر آتی ہے وہ ہے مسلمانوں کی نمائندگی کا بحران۔ ایک طرف بڑے سیکولر دعویداروں نے مسلمانوں کو صرف “ووٹ بینک” بنا کر رکھا، دوسری طرف خود مسلم قیادت میں اتحاد اور دانشمندی کا فقدان نظر آتا ہے، نتیجہ؟
نمائندگی کمزور، ووٹ بٹا ہوا، قیادت غیروں کے رحم و کرم پر، اور مسائل جوں کے توں۔۔۔
حکومت ہو یا حزب اختلاف، دونوں نے مسلمانوں کو یا تو ڈرا کر، یا لالچ دے کر خاموش رکھنے کی پالیسی اپنائی ہے۔ کہیں سی اے اے کا خوف، کہیں ووٹر لسٹ سے ناموں کا غائب ہونا، کہیں امیدواروں کی فہرست سے نام کاٹنا، یہ سب کچھ ایک مکمل سیاسی یتیمی کی تصویر پیش کرتا ہے۔۔۔
اگر اب بھی مسلمان جاگ نہ پایا، اگر اب بھی ووٹ دیتے وقت صرف جذبات، برادری یا وعدوں پر چلا، تو یاد رکھنا کہ قیادت کبھی بھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی جاتی، چھیننی پڑتی ہے، بیداری سے، اتحاد سے، اور فہم و فراست سے۔۔۔
اتنے سالوں میں کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ ہمیں صرف ووٹر کی حیثیت میں کیوں رکھا گیا ہے؟
کیوں ہم ہر انتخابی وقت پر ہاتھ جوڑنے والوں کو ووٹ دیتے ہیں، مگر پانچ سال تک ان کے ہاتھ ہمارے حق میں کبھی نہیں اُٹھتے ؟؟
دراصل اس کی وجہ ہماری یہی سیاسی بےحسی ہے ۔۔۔
اس کے علاوہ ” ہمارے سامنے لاشعوری کی ہزاروں مثالیں بکھری پڑی ہیں۔ آج کے مسلمان کو محض مذہبی جذبات کی تسکین دے کر سیاست سے دور کر دیا گیا ہے۔ کبھی قبرستان کی دیوار، کبھی مزار کی چادر، کبھی مسجد کی مرمت، یہی سب کچھ اس کے ذہن میں بھر دیا گیا ہے۔
جبکہ نہ تعلیم کا سوال ہے، نہ صحت کا مطالبہ، نہ روزگار کی فکر، نہ ظلم کے خلاف آواز ۔۔۔
ہمیں اصل مسائل سے غافل رکھ کر جذبات کے نشے میں مبتلا کر دیا گیا ہے… ہمارے ذہنوں میں زمین کے نیچے یا آسمان کے اوپر کی باتیں ٹھونس دی گئی ہیں اور ہم اسی میں خوش ہیں، خاموش ہیں، حالات سے بےخبر ہیں۔”
جبکہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ "قبرستان کی دیوار یا مسجد کے بیت الخلاء نہیں ہیں، بلکہ پارلیمنٹ میں کرسی، سیاست میں برابر کی شرکت حاصل نہ ہونا ہے۔۔۔
اور اسی سیاسی یتیمی نے آج مسلمانوں کو اس حال میں لاکر کھڑا کیا ہے کہ،
پہلے جب انتخابات ہوتے تو بڑے سے بڑا سیاسی لیڈر مسلم رہنماؤں سے ملاقات کرتا، مسلم محلوں و گھروں کے پاس جاکر ہاتھ جوڑ کر امان، بہن کہہ کر ووٹ مانگتا
لیکن آج بی جے پی کا نام لے کر بی جے پی کا خوف دلا کر ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے جیسے سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دے کر، انہیں کامیاب کرکے مسلمان خود پر احسان کر رہے ہیں، اور سیکولر پارٹیوں کی کامیابی مانو مسلمانوں کی فتح ہے۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کے ووٹ سب کو چاہئیے مگر مسلمان کسی کو نہیں۔۔۔
اور بھارت کا مسلمان 78 سالوں سے سیکولر پارٹیوں کا اعتماد جتنے کی فکر میں ایک طرف خود سیاست سے دور ہوتا جارہا ہے، تو وہین دوسری طرف سیکولر کہلانے والی پارٹیاں بی جے پی کا خوف دلاکر مسلمانوں کا سیاسی وجود ختم کر رہی ہیں ۔۔۔۔
لیکن آج ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی، اپنی قیمت اور اپنی طاقت کو سمجھنا ہوگا۔۔۔
سیاسی پارٹی کو مسلم ووٹر چاہئیے یا مسلم ووٹرز کو سیاسی پارٹی؟؟
سوال سادہ ہے، مگر جواب برسوں کی بےحسی میں دفن ہے۔۔۔
ہربار مسلمان ہی اعتماد کیوں جیتیں ؟؟
مسلمان ہی ووٹ دیں، مسلمان ہی برداشت کریں، اور آخر میں مسلمان ہی الزام بھی سنیں، یہ سیاست ہے یا استحصال ہے ؟؟؟
ووٹ دو، نعرے لگاؤ، آگے پیچھے گھومو، زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھاؤ، پانچ سال صبر کے پتھر توڑو،
اور پھر آخر میں یہی سنو کہ “ابھی وفاداری ثابت کرنی ہوگی، ابھی اعتماد جیتنا باقی ہے۔۔۔
کیا واقعی اب بھی سیکولر پارٹیوں کا اعتماد جیتنے کے لئے مسلمان اپنے زخموں کو نذرانہ بنائیں؟
یا ابھی بھی اپنے جسم کی چمڑیاں اُتار کر ان کے پیروں کی جوتیاں بنانا باقی ہے؟
کیا ہم اپنی عزت، اپنے دکھ، اپنی قربانیاں ان کے منشور کی زبان بنائیں ؟
آخر اعتماد جیتنے کے لئے مسلمانوں کو اور کس سطح پر گرنا ہوگا؟
ووٹ ہمارا، خون پسینہ ہمارا، ہار جیت کی ذمہ داری بھی ہمارے ہی سر ؟
تو پھر ان سیکولر پارٹیوں کی اوقات کیا ہے ؟؟؟
جب ان کا تخت و تاج، ان کا وجود سب کچھ ہماری دین ہے تو وہ ہم پر احسان کیوں جتاتے ہیں ؟؟
بی جے پی کا خوف، ہندوتوا کا نعرہ، “جمہوریت بچاؤ” کا ڈھونگ،
یہ سب اب پرانے ہتھیار ہیں جن سے ہمارے جذبات کو بار بار چھلنی کیا جاتا ہے۔۔۔
کہیں مذہب کے نام پر، کہیں یکجہتی کے نام پر، تو کہیں امن کے نام پر۔
مگر اصل میں ہر بار صرف کرسی کے نام پر۔۔۔
مسلمان کا ووٹ اب خوف کا مرہم نہیں، شعور کی تلوار بننا چاہئے۔
اُسے اب نجات دہندہ نہیں ڈھونڈنا، بلکہ جواب مانگنا ہوگا۔
ہر سیاسی جماعت سے سوال پوچھنا ہوگا کہ جب سب کچھ ہمیں ہی کرنا ہے تو "تمہارا وجود کس کام کا ؟”
سیاست اب اعتماد کا کھیل نہیں،
ضمیر کا امتحان ہے۔
اور شاید وقت آگیا ہے کہ اعتماد کا سبق مسلم ووٹرس کو نہیں ،
بلکہ
سیاست دانوں کو سیکھنا ہوگا اور بھارت کی دوسری بڑی اکثریت، یعنی تیس کروڑ مسلمانوں کا اعتماد جیتنا ہوگا ۔۔۔
اے مسلمانانِ ہند!
آخر کب تک بی جے پی کے خوف سے خود اپنا استحصال کرواؤگے؟
کب تک دوسروں کے منہ سے اپنی سیاست سنو گے؟
کب تک کسی کے جھوٹے وعدوں پر اپنی آنکھیں بند رکھو گے؟
یہی صحیح وقت ہے، بیداری کا، خودداری کا، سوال کرنے کا۔
اٹھو، اور اپنے حق کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔
جنہیں تمہارے ووٹ کی ضرورت ہے، ان سے پوچھو
تمہیں ہمارا ووٹ چاہئے، یا ہماری غلامی؟
ووٹ کے بدلے میں دو ہزار کی بھیک، یا بجلی کا بل معاف،
یہ خیرات سے کم نہیں، یہ تمہاری عزت کی قیمت لگائی جا رہی ہے۔
اور اگر تم نے اب بھی خاموشی اختیار کی، تو تاریخ تمہیں بزدلی کے باب میں لکھے گی، سیاست کے باب میں نہیں۔
آج کا مسلمان ووٹ کے بدلے نوٹ نہیں چاہتا،
سیاست میں برابری چاہتا ہے۔ حصہ داری چاہتا ہے۔
ہمیں نمائندگی چاہئے، ٹکٹ چاہئے،
ایسے لیڈرس چاہئیں، جو ہمارے درمیان سے اٹھیں،
ہمارے درد، ہماری ضرورتوں کو سمجھیں، اور سڑک سے سنسد تک ہمارے حق میں کھڑے ہوں۔۔۔
یہ وقت ہے خوابوں سے نکل کر حقیقت میں قدم رکھنے کا۔
اگر آج بھی نہ جاگے تو کل نہ ووٹ بچے گا، نہ وقار۔
تمہارا ووٹ تمہاری تسبیح سے کم نہیں، اسے گننا نہیں، اس سے انقلاب پیدا کرنا ہے۔
کانگریس ہو، ایم آئی ایم ہو یا کوئی اور پارٹی، کوئی ہم پر احسان نہیں کر رہی۔
1947 سے آج تک ان کا وجود ہمارے دم سے ہے۔
ہم ان کے مرہونِ منت نہیں، وہ ہمارے مرہونِ ووٹ ہیں۔
ہم اس ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہیں، اس ملک میں آٹھ سو سال ہماری حکمرانی رہی ہے، ہمارے بزرگوں کی وراثت یہاں کے ذرے ذرے میں ہے۔
لہٰذا ہمارے مطالبات بھی ہماری حیثیت کے برابر ہونے چاہئیں۔
چھوٹی سہولتیں نہیں، بنیادی حقوق چاہئیں۔
بہت ہوگیا مسجدوں کے بیت الخلاء، قبرستان کی دیواروں اور مزاروں کی چادروں کے مطالبات۔
بہت سن لیا عید کے نام پر وقف کمیٹیوں اور درگاہوں کی صدارت کا لولی پاپ۔
یہ خیرات نہیں، یہ حق چھیننے کی ترکیب ہے۔
ہمیں کسی کے احسانات نہیں، اپنا حق چاہئیے
ہمیں ریاست میں حصہ داری چاہئے۔
ہمیں پارلیمنٹ میں اونچا مقام، بڑے عہدے اور معیاری تعلیم چاہئے۔۔۔
یہ درخواستیں رحم یا صدقے کی شکل میں نہیں، بلکہ آئینی اور سیاسی مطالبات کے طور پر ہونی چاہئیں۔۔۔۔
نمائندگی انگلی پر تھرکنے والی کتھ پتلیان نہیں کرستی
نمائندگی وہ ہوتی ہے جو باوقار ہو،
جس میں نمائندہ ہماری زبان بولے، ہماری بات کہے اور ہر حال میں ہمارے حق میں کھڑا ہو۔۔۔
خدارا! اپنی خودی کو پہچانیں، آواز اٹھائیں، سوال پوچھیں، ٹکٹ لیں، میدان میں اتریں، بھیک نہیں، برابری مانگیں۔
اوروں کے آگے پیچھے گھومیں نہیں، دنیا کو اپنا مقام دکھائیں۔۔۔
اور یاد رکھیں!
ووٹ غلامی نہیں، اعلانِ آزادی ہے۔
اب وقت ہے کہ مسلمان ووٹ کو خوف کی زبان سے نہیں، عزت کی زبان سے استعمال کرے۔
یہ ووٹ کسی پارٹی کی خیرات نہیں، قوم کی امانت ہے۔
جو اس امانت کے قابل ہو، اسے دیں ۔۔۔
جو صرف وعدے کرے، اُس سے سوال کریں۔ اپنے مطالبات رکھیں۔
ہمیں اب ووٹ کے بدلے میں خواب نہیں، حقیقت چاہئے۔
ہمارے محلے صرف ووٹ بینک نہیں،
ہمارے گھر قوم کے ستون ہیں۔۔۔
اٹھو، اپنی تسبیح کے ہر دانے کے ساتھ ووٹ کا وزن پہچانو،
کیونکہ اب وقت ہے صرف جینے کا نہیں، وقار سے جینے کا۔۔۔۔

