
اے اہلِ کرناٹک ! ذرا ٹھہرو…
احساس نایاب شیموگہ، کرناٹک۔۔
اے اہلِ کرناٹک ! ذرا ٹھہرو…
یہ عہدہ نہیں، امانت ہے۔
یہ تحریر کسی فرد کے خلاف ہے نہ کسی گروہ کے حق میں۔ یہ نہ کسی نام کو اچھالنے کی کوشش ہے، نہ کسی کو گرانے کی۔ یہ تو ایک زندہ ضمیر کی صدا ہے، ایک بوجھل دل کی پکار ہے، اور اس امت کے درد کی ترجمانی ہے جو آج ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔۔۔
کل ہم نے اپنے امیرِ شریعت کو مٹی کے سپرد کیا۔ وہ محض ایک شخص نہیں تھے، وہ ایک روایت تھے، ایک وقار تھے، ایک دینی اعتماد کی علامت تھے۔
آج ان کی کرسی خالی ہے، مگر افسوس کہ دلوں میں پیدا ہونے والا خلا اس کرسی سے کہیں زیادہ گہرا محسوس ہو رہا ہے۔
سنا ہے تین دعویدار سامنے آئے ہیں۔ سنا ہے میٹنگیں ہوئیں، آوازیں بلند ہوئیں، لہجے سخت ہوئے، اور یہ بھی سننے میں آیا کہ معاملہ ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔۔۔
سوال یہ ہے
کیا یہی وہ مجلس تھی جہاں کبھی قرآن کی بات ہوا کرتی تھی ؟؟؟
کیا یہی وہ مقام تھا جہاں امت کے درد پر آنکھیں نم ہو جاتی تھیں ؟؟؟
یا اب یہ بھی محض کرسی کی سیاست کا میدان بن چکا ہے ؟؟؟
امیرِ شریعت بننا کسی کی جیت نہیں، بلکہ شریعت کی سربلندی ہے۔ یہ منصب نہ جاگیر ہے، نہ وراثت، نہ سیاسی انعام، اور نہ کسی گروہ کا پرچم۔ یہ ایک امانت ہے۔
وہ امانت جس کے بوجھ سے حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی کانپ اٹھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے سوال ہوگا۔
آج ہم اسی امانت کو فخر کے تمغے کی طرح بانٹنے پر تُلے نظر آتے ہیں۔۔۔
اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچائی جائیں، اور نبی کریم ﷺ کی سخت تنبیہ ہے کہ جب قیادت نااہل لوگوں کے حوالے کر دی جائے تو پھر قیامت کا انتظار کیا جائے۔
ایسے میں یہ سوال پوری شدت کے ساتھ کھڑا ہے۔
کیا ہم واقعی امت کو سکون دینا چاہتے ہیں، یا آنے والے فتنوں کی بنیاد رکھ رہے ہیں ؟؟؟
اگر انتخاب شور و ہنگاموں سے ہوگا تو قیادت سکون کیسے دے گی ؟؟؟
اگر فیصلے انا کی بنیاد پر ہوں گے تو رہنمائی میں خلوص کہاں سے آئے گا ؟؟؟
اور اگر مجلسوں میں ہاتھ اٹھیں گے تو دعا میں وہی ہاتھ کس منہ سے اٹھیں گے ؟؟؟
یہ وقت ناموں پر بحث کرنے کا نہیں، بلکہ معیار کو زندہ کرنے کا ہے۔ نگاہ اس پر ہونی چاہیے جس کے علم میں وزن ہو، جس کے کردار میں نور ہو، جس کے دل میں امت کا درد ہو، جس کی زبان سچ کی عادی ہو، اور جس کے ہاتھ دنیا کی لالچ سے خالی ہوں۔۔۔
تاریخ گواہ ہے کہ
امام احمد بن حنبلؒ نے کوڑے کھا لئے مگر اقتدار کے سامنے نہیں جھکے،
امام مالکؒ نے دربار کی قربت کو علم کی توہین سمجھا،
اور صلاح الدین ایوبیؒ نے تخت سے پہلے مسجد کو مضبوط کیا۔
آج ہمیں بھی یہی دیکھنا ہوگا کہ ہم مسجد کو مضبوط کر رہے ہیں یا مسجد کے نام پر تخت۔۔۔
کل جب اللہ سبحان وتعالیٰ ہم سے سوال کریں گے کہ اس کی شریعت کی قیادت کس کے حوالے کی گئی، تو جواب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہمارا قریبی آدمی تھا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ صرف تیرا بندہ تھا۔۔۔
یہ نہ بھولئیے کہ ہم امیر تو بنا سکتے ہیں، مگر اگر نیت میں کھوٹ ہوا تو قیادت کھو بیٹھیں گے۔ قومیں وہیں ہار جاتی ہیں جہاں قیادت انا کے ہاتھوں فروخت ہو جائے۔۔۔
اب بھی وقت ہے کہ آوازیں نیچی کی جائیں، دل صاف کئیے جائیں، نیتوں کو درست کیا جائے، اور فیصلہ اللہ کے حضور رکھ کر کیا جائے۔
یہ انتخاب صرف ایک شخص کا نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے اعتماد کا ہے۔
یہ فیصلہ صرف آج کے لئے نہیں، بلکہ کل کے ایمان کے لئے ہے۔۔۔
قومیں دشمنوں سے کم، اور اپنے غلط فیصلوں سے زیادہ مرتی ہیں۔
اور تاریخ نہ معذرت سنتی ہے، نہ تاویل مانتی ہے۔
وہ صرف فیصلہ لکھتی ہے۔۔۔
یہ منصب نہ صلہ ہے، نہ کسی کی جاگیر ۔۔۔
یہ بوجھ ہے، جو فقط اہلِ امانت اٹھائیں ۔۔۔




