مضامین و مقالات

خواتین ریزرویشن،انتخابی حلقہ بندی: منظر،پس منظر

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

گزشتہ پارلیمانی اجلاس، مورخہ 16 تا 18 اپریل کو ملک نے پہلی بار حکومت کو 131ویں آئینی ترمیمی بل کو ناکام ہوتے دیکھا۔ اور ساتھ ہی حزبِ اختلاف کو بھی پہلی بار اتنا متحد پایا۔ حکمران اتحاد کے لیے یہ گزشتہ 11 برسوں میں سب سے بڑا جھٹکا تھا۔ ورنہ جس طرح طلاقِ ثلاثہ، کشمیر اور وقف بل کو راجیہ سبھا میں اقلیت میں ہونے کے باوجود حکومت نے منظور کروا لیا تھا، اسی طرح خواتین ریزرویشن بل کو بھی منظور کروانا کوئی مشکل امر نہیں تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اب تک جتنے بھی متنازع قوانین منظور کروانے میں کامیاب ہوئی، ان میں کانگریس سمیت حزبِ اختلاف کی متعدد جماعتوں کی ملی بھگت شامل تھی، ورنہ بی جے پی گزشتہ 11 برسوں میں ایک بھی بل منظور کروانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ خواتین ریزرویشن بل ستمبر 2023 میں ہی دونوں ایوانوں سے متفقہ طور پر منظور ہو چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منظور ہونے کے باوجود حکومت گزشتہ ڈھائی برس میں اس قانون کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری نہ کر سکی۔ جبکہ کشمیر، طلاقِ ثلاثہ اور وقف بل کو ایوانوں سے منظوری ملتے ہی راتوں رات گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کی منافقت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ بی جے پی متنازع قوانین پارلیمنٹ میں پیش کرتی ہے اور حزبِ اختلاف ایوان میں پہلے غیر مدلل تقاریر کرتا ہے، پھر ایک مخصوص طریقۂ کار کے تحت انہی قوانین کی منظوری میں بی جے پی کی معاونت بھی کرتا ہے۔
اس مضبوط اتحاد کی وجوہات مختلف تھیں۔خواتین ریزرویشن بل کے پردے میں دراصل حکومت دو مزید متنازع بل بھی منظور کروانا چاہتی تھی۔ ان میں سے ایک ملک میں نئے سرے سے حلقہ بندی سےمتعلق تھا، جبکہ دوسرا لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافے سے متعلق تھا۔ اس مجوزہ حلقہ بندی کے ذریعے ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کی جانی تھیں۔ اگرچہ اس میں راجیہ سبھا کی نشستوں میں اضافے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ حکومت کی خواہش تھی کہ 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر نیا حلقہ بندی قانون منظور کر لیا جائے۔ حزبِ اختلاف کا اصل اعتراض بھی یہی تھاکہ اب جبکہ 2026 میں نئی مردم شماری کا عمل جاری ہے، تو ایک سال مزید انتظار کر کے 2027 میں تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر حلقہ بندی کرنا زیادہ موزوں ہے۔ کیونکہ پندرہ سال پرانے اعداد و شمار اب اپنی عملی اہمیت کھو چکے ہیں۔ حکومت کی مجبوری یہ ہے کہ نئی مردم شماری میں پہلی بار ملک کے پسماندہ طبقات کے اعداد و شمار بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔ یوں پہلی مرتبہ یہ واضح ہو سکے گا کہ ملک میں پسماندہ برادریوں کی اصل تعداد کیا ہے۔ گزشتہ 75 برسوں میں قومی سطح پر اس نوعیت کے اعداد و شمار جمع نہیں کیے گئے تھے۔ البتہ ریاستی سطح پر بہار میں دو سال قبل اور بعد ازاں کرناٹک میں اس نوعیت کی ذات پر مبنی مردم شماری کی گئی۔
اگرچہ اس ذات شماری کی مرکزی حکومت نے سخت مخالفت کی اور معاملہ عدالتوں تک بھی پہنچا، لیکن بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار جو خود ایک پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ بھی اڑ گئے ، اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ اس صورتحال میں مرکزی حکومت کے لیے مخالفت جاری رکھنا مشکل ہو گیا، کیونکہ اس سے سیاسی نقصان کا اندیشہ تھا۔ ذات شماری کے اعداد و شمار نے ریزرویشن کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ریاست میں تقریباً 70 فیصد سرکاری ملازمتیں اور تعلیمی اداروں کی نشستیں ریزرو ہو سکتی ہیں۔ امکان ہے کہ یہ مطالبات مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرکےپارلیمنٹ و ریاستی اسمبلیوں میں بھی ریزرویشن کی مانگ کریں گے۔ اس صورت میں ملک کے وہ اعلیٰ ذات طبقات جوکم تعداد کے باوجود طویل عرصے سے انتظامی اور پارلیمانی اداروں پر غالب رہے ہیں، ان کی بالادستی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ یہ دراصل وہ بڑا خدشہ ہے جو ذات پر مبنی اعداد و شمار کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ بنا رہا ہے۔ اسی لیے حکومت کی کوشش تھی کہ خواتین ریزرویشن کے پردے میں حلقہ بندی ایسے اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جائے جو موجودہ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے، اور آئندہ کئی دہائیوں تک اس قصے کو ہی ختم کر دیا جائے۔
اس مجوزہ حکمتِ عملی کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھا کر تقریباً 850 کرکے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن دینے کی بات شامل تھی۔ اس کے کئی فوائد ممکن تھے: ایک طرف خواتین ووٹرز کا ایک بڑا حصہ طویل مدت کے لیے حکمراں جماعت کی طرف مائل ہو جاتا۔ دوسری جانب ہندی بیلٹ کی ریاستوں جیسے اتر پردیش، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات میں سیاسی فائدہ حاصل ہونے کا امکان تھا۔ تیسری جانب جنوبی ہند ، جہاں بی جے پی اور آر ایس ایس گزشتہ سو سال میں بھی سیندھ لگانے میں ناکام رہی ہے وہ نشستوں کے تناسب میں کمی کے باعث مرکزی سیاست میں نسبتاً کم موثر ہو جاتیں۔ چوتھی اہم بات یہ کہ پسماندہ طبقات کے ریزرویشن سے متعلق ابھرتی ہوئی بحث بھی طویل عرصے کے لیے ٹھنڈے بستے میں پڑ جاتی ۔یعنی آم کے آم گٹھلیوں کے دام ۔ مگر حزبِ اختلاف کی متعدد جماعتیں، جو بڑی حد تک پسماندہ اور درج فہرست طبقات کی نمائندگی کرتی ہیں یا انہی کے ووٹ بینک پر منحصر ہیں ۔ انہوں نے اس حکمتِ عملی کو بخوبی سمجھ لیا۔ مزید برآں یہ ایک آئینی ترمیمی بل تھا، اس لیے اس کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار تھی، جو اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی۔ اگر یہ بل سادہ اکثریت سے منظور ہو سکتا، تو غالب امکان تھا کہ حکومت اسے باآسانی منظور کروا لیتی۔
واضح رہے کہ خواتین ریزرویشن بل کےسلسلے میں سماجوادی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کا مستقل مؤقف رہا ہے کہ اس میں پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کے لیے بھی ریزرویشن کے اندر ریزرویشن فراہم کیا جائے۔ اس مطالبے کو نہ کانگریس نے کبھی تسلیم کیا اور نہ ہی بی جے پی نے اسے قبول کیا۔ حالیہ مباحث کے دوران لوک سبھا میں سماجوادی پارٹی نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا، ملک کے وزیرِ داخلہ نے پسماندہ طبقات کی خواتین کا تو ذکر نہیں کیا، تاہم مسلم خواتین کے ریزرویشن کی تجویز کو خاصی شدت کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئینِ ہند میں مذہب کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے ریزرویشن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس معاملے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو حقیقت اس سے کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ آئینی طور پر ریزرویشن کی موجودہ ساخت میں مذہب ہی اہم عنصرہے ۔ دستور کے آرٹیکل 341 کی شق (3) واضح کرتی ہے کہ اس میں صرف ہندوؤں کو ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔ 1950 کے صدارتی حکم نامے کے تحت یہ اصول طے کر دیا گیا تھا، بعد ازاں 1956 میں اس میں سکھوں اور 1976 میں بودھوں کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یہ تمام اضافے مذہبی بنیادوں پر ہی کیے گئے، جبکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو اس زمرے میں شامل نہیں کیا گیا۔
اسی تناظر میں 2005 میں بعض عیسائی تنظیموں نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ آرٹیکل 341 کی شق (3) کو ختم کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو ایک اہم آئینی سوال کے طور پر اُس وقت کی کانگریس حکومت کے سامنے رکھا۔ حکومت نے یہ معاملہ 2004 میں تشکیل شدہ رنگناتھ مشرا کمیشن کے سپرد کیا۔ کمیشن نے 2007 میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کرتے ہوئے یہ رائے دی کہ مذکورہ شق امتیازی اور غیر منصفانہ ہے، لہٰذا اسے ختم کیا جانا چاہیے۔ مزید برآں، کمیشن نے سفارش کی کہ اقلیتی طبقات کو سرکاری ملازمتوں، تعلیمی اداروں اور حتیٰ کہ پارلیمنٹ میں بھی کم از کم 15 فیصد ریزرویشن دیا جائے، جس میں مسلمانوں کے لیے خصوصی طور پر 10 فیصد حصہ مختص کیا جائے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ کانگریس اور نہ ہی بی جے پی کی حکومت نے اسے کبھی قبول نہیں کیا۔ اس کے برعکس، حال ہی میں موجودہ بی جے پی حکومت نے سپریم کورٹ کو اس سوال کے جواب میں منفی مؤقف پیش کیا۔ نتیجتاً مارچ 2026 میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہاکہ اگر کوئی دلت ہندو عیسائیت اختیار کر لے تو اس کا ریزرویشن فوری طور پر ختم ہو جائے گا، البتہ اگر وہ دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرے تو اس کی یہ سہولت بحال کی جا سکتی ہے۔ واضح ہے کہ ملک میں ریزرویشن کی اصل بنیاد ہی مذہب ہے ۔ حیرت انگیز ہےکہ جب وزیرِ داخلہ نے پارلیمنٹ میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کو غیر آئینی قرار دیا، تو حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں سے کسی نے بھی اس پہلو کی نشاندہی نہیں کی جو ان کے رویے کو مشکوک بناتی ہے۔
بہرحال، موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہی توقع کی جا سکتی ہے کہ 2027 میں مردم شماری مکمل ہونے کے بعد ہی نئی حلقہ بندی کا عمل شروع ہوگا۔ اسی کے ساتھ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافے کا قانون بھی بنے گا، اور تبھی ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کے لیے نشستوں کا ریزرویشن بھی ہوگا، جو غالباً آئندہ 25 سے 30 برسوں تک نافذ العمل رہے گا۔
بہت ممکن ہے کہ اس دوران پسماندہ طبقات کی جانب سے ایک مضبوط عوامی تحریک ابھرے، جو مقننہ میں بھی ریزرویشن کے نفاذ کا مطالبہ کرے۔ تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں اس نوعیت کا ریزرویشن وی پی سنگھ حکومت پہلے ہی نافذ کر چکی ہے۔نئی ذات شماری کے اعداد و شمار اس مطالبے کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ یہی پہلو موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑی تشویش کا باعث ہے۔ اس پورے منظرنامے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ مسلمان کہاں کھڑے ہیں۔ دو برس بعد جب نئی حلقہ بندی کا عمل شروع ہوگا، تو ماضی کی طرح مسلم اکثریتی آبادی والی نشستوں کو کسی نہ کسی بنیاد پر محفوظ کر دیا جائےگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلم تنظیمیں، ادارے، سیاسی رہنما اور ابھی سے خود کو تیار کریں، تاکہ وہ منصفانہ حلقہ بندی کے عمل میں ایک سنجیدہ اور تکنیکی کردار ادا کر سکیں۔ بصورتِ دیگر، بعد میں صرف شکایات باقی رہ جائیں گی، جن کا کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہیں )
[email protected]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button