مضامین و مقالات

مسلمان آج بھی نا گزیر ہیں

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی ​از:

ملک کے مسلمان پچھلی ایک دہائی سے خوف ،مایوسی اندیشوں اور مستقبل کے خطرات سے دوچار ہیں۔ مایوسی اور محرومی کے ان احساسات کی ایک وجہ ملک میں جاری روز افزوں فرقہ ورانہ جرائم نیز مسلمانوں کی سماجی، مذہبی ، اقتصادی وسیاسی تنہائی کی متشدد تحریک ہے ۔جس کی سرپرستی عموما صاحبان اقتدار ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کی رپورٹیں ملک اور بیرونی میڈیا میں اکثر و بیشتر شائع ہوتی رہتی ہیں اور مسلم آبادیوں میں اسے دیکھا بھی جا سکتا ہے۔ وہیں دوسری جانب اس احساس کو مہمیز دینے میں عالمی اداروں کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار اور پیشنگوئیاں بھی شامل ہیں ۔مثلا یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل فریڈم آف ریلیجن کی 2021 کی رپورٹ کہتی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ پی ای ڈبلیو 2022 اور 23 میں کہتا ہے کہ بھارت میں وسیع پیمانے پر نسل کشی کے امکانات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جینوسائیڈ واچ کےڈائریکٹر گریگری سٹینٹن 2022 سے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کی نسل کشی کے امکانات 10 میں سے نو تک پہونچ چکے ہیں۔ دیب آشیش رایے چودھری 2023 میں لکھ چکے ہیں کہ 168 ممالک کی فہرست میں مذہبی منافرت کے معاملے میں بھارت چاڈ۔سوڈان۔ برما اور پاکستان کے بعد پانچویں نمبر پر ہے ۔ایک اور رپورٹ کہتی ہے کہ 2009 سے 2019 کے درمیان مذہبی منافرت سے متعلق جرائم میں 90 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2014 کے بعد سے نفرت انگیز تقاریر میں 500 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔اسی سال ۲۵۔ ۲۰۲۴کے دوران مذہبی منافرت پر مبنی ایک ہزار جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔ اس قسم کے اعداد و شمار کاایک سیلاب ہے جو ملک اور بیرون ملک کےتجزیہ نگار لگاتار پیش کر رہے ہیں ۔حتی کہ نسل کشی کے امکانات کا تجزیہ کرنے والے ماہرین تو 2025 میں ہی ملک میں قتل عام کی پیشنگوئی کر چکے ہیں جس کا ملک میں کوئی امکان نہیں ہے۔

 

ان تمام اعداد و شمار اور رپورٹوں اور تجزیہ نگاروں کی پیشنگوئی کو اگر اکھٹا کیا جائے تو شاید ایک مضمون کی بجائے کہ کتاب لکھنا پڑے گی۔ لیکن اگر عالمی معیارات پر رکھ کر ان رپورٹوں کا معروضی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر رپورٹیں امریکہ اور اس کے حلیف ممالک اور اداروں سے متعلق ہیں اور انہی کے ذریعے پیش کی گئی ہیں؎(امریکہ اور اس کے حلیف مسلمانوں کے کتنے ہمدرد ہیں اس کا اندازہ سب کو ہے )۔ تسلیم شدہ عالمی اداروں مثلا اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کی جانب سے ان میں سے اکثر رپورٹس اور تجزیوں کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا ہے ہر چند کے خود ان اداروں نے اپنی تحقیق کے مطابق بھارت میں نفرت انگیز سیاست پر تشویش کا اظہار ضرور کیا ہے ۔لیکن اس کی سنگینی اتنی نہیں بتائی گئی جتنا کہ امریکی ادارے بیان کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مابین یہ تفاوت اس بات کا متقاضی ہے کہ تمام رپورٹوں کو من وعن مان لینے کی بجائے زمینی اور معروضی تجزیے کے ذریعے اس تفاوت کا جائزہ لیا جائے ۔بدقسمتی سے ملک میں کام کرنے والے غیر جانبدار تحقیقی ادارے ایسا مطالعہ کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھاتے ۔ اس لئےیا تو ان تجزیوں کو حکمران جماعت سے متعلق ادارے سرے سے خارج کر دیتے ہیں یا پھر حزب اختلاف کے

اداروں کی جانب سے انہیں من انہیں قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہ دونوں ہی وطیرے اصلا غلط ہیں۔

 

اس حقیقت سے انکار کسی بھی طرح ممکن نہیں کہ ملک کی موجودہ سیاست فرقہ وارانہ منافرت کی بنیاد پر فروغ حاصل کر رہی ہے ۔لیکن یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ اس منافرت کا آغاز ۲۰۱۴ میں بی جے پی کی قطعی اکثریت کے بعد شروع ہوا ہے ۔ملک کی سیاسی تاریخ کا عمیق مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہندو مسلم کے مابین نفرت کی داغ بیل تو جدوجہد آزادی کے دوران ہی ڈال دی گئی تھی جو ملک کے آزاد ہونے کے بعد بتدریج بڑھتی ہی چلی گئی ۔نہ صرف یہ کہ اسے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ اس کو فروغ دینے میں ملک کی حکمران جماعتوں کا کردار بہت واضح اور مسلم الثبوت ہے۔ پھر چاہے وہ لمبے عرصے تک چلنے والی کانگریسی حکومتیں ہوں یہ درمیانی عرصے میں جنتاپارٹی ، جنتا دل اور اس قسم کی دیگر مخلوط سرکاریں رہیں ہوں۔ اس کے ثبوت میں لا تعداد کتابوں کے انبار سے لائبریریاں بھری پڑی ہیں ۔ قارئین خود بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ 2014 کے بعد سےفرق صرف اتنا آیا ہے کہ پچھلی سرکاریں جو گناہ سیکولرزم اور سوشلزم کے پردوں میں چھپ کر کیا کرتی تھیں وہی موجودہ سرکاروں کے دائرہ کار میں ہندوتوا کے نام پر کھلے عام بلکہ اعلان کر کے کیے جاتے ہیں ۔بڑے پیمانے پر ان کی تشہیر بھی دانستہ طور پر کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں خوف و مایوسی کی نفسیات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ تجزیوں میں یہ کہا جاتا ہے کہ جہاں 2014 سے پہلے ’’ملک کی شناخت سیکولرزم ہے ‘‘کہنے والوں کی تعداد 70 فیصد تھی تو اب ’’ملک کی شناخت کو ہندوتوا ہے ‘‘کہنے والوں کی تعداد 60 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ قومی میڈیا اور اس سے متاثر سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے نتیجے میں ہی یہ ذہن سازی ہوئی ہے۔

 

جہاں تک بحیثیت امت مسلمانوں کا تعلق ہے تو ان تمام تجزیوں اور اعداد و شمار سے قطع نظر ملک کی سیاست کے قلب میں آج بھی مسلمان ہی ہیں ۔ملک میں انتخابی نتائج کےتجزیہ کار ہوں یا خود کو سیکولرزم کا علمبردار کہنے والی سیاسی جماعتیں ، سیاسی این ۔جی ۔او۔ ہوں یا خود قومی میڈیا ،سب کی نظر مسلم ووٹوں کے رجحان اور ان کو متاثر کر کے ان کے ووٹ لینے پر ہی رہتی ہے۔ خود آر ایس ایس اور بی جے پی کے حکمت عملی سازوں کی بھی للچائی نظریں مسلم ووٹ سے کبھی اوجھل نہیں ہوتیں ، وہ مسلم ووٹ لینے کی کوشش کریں یا نہ کریں لیکن مسلم حلقوں میں اس ووٹ کو بے اثر کرنے کی پالیسی تو بناتے ہی ہیں۔ یہ مسئلہ بہرحال ہے کہ ملک کی تقریبا543 لوک سبھا سیٹوں میں سے 90 سیٹوں پر اور صوبائی اسمبلیوں کے4170 حلقوں میں سے تقریبا ساڑھے سات سو اسمبلی حلقوں میں اپنا موثر ووٹ ہونے کے باوجود، مسلمان ایسی کوئی سیاسی حکمت عملی یا کوئی ایسا سیاسی الحاق بنانے میں بری طرح ناکام ہیں جو آبادی کے تناسب سے ان کی سیاسی نمائندگی کو یقینی بنا سکیں۔ اس کے دیگر بہت سے عوامل بھی موجود ہیں جن کا ذکر پھر کبھی کیا جائے گا۔

 

اسی طرح اقتصادی سطح پر بھی مسلمانوں کی اہمیت کچھ کم نہیں ہے ۔ملک میں دستکاری سے متعلق بہت سی صنعتیں ایسی ہیں جن سے ملکی و غیر ملکی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے جو مسلمانوں کی ہی رہین منت ہیں مثلا بنارس کی ساڑی ،بھدوہی کے قالین خورجہ کی پوٹری، مراد اباد کاپیتل مدراس اور کانپور کا چمڑا ،مالی گاؤں کی کھڈی، ملک بھر کا گوشت کا کاروبار اور زراعت وغیرہ میں سےاگر مسلمانوں کو باہر نکال دیا جائے تو ساری صنعتیں تقریبا بند ہو جائیں گی۔ حالانکہ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ان تمام کاروباروں کے مالک جہاں ایک زمانے میں مسلمان ہوا کرتے تھے وہیں وہ اب مزدور بن چکے ہیں ۔مالک سے مزدور بننے کا یہ سفر محض پچھلے 10 سال میں طے نہیں ہوا ہے بلکہ گزشتہ 80 سال کی تاریخ پر مبنی ہے ،جس کا بغور مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ حالیہ دنوں نوح اور گڑگاؤں کی فسادات کے بعد بہت سی صنعتوں کے مالکان کو مسلمان مزدوروں کی جھگیوں کا طواف کرتے ہوئے بخوبی دیکھا گیا ہے ،مظفر نگر فسادات کے بعد کیمپوں میں ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی خوشامد کرنے والے لوگ مجبور تھے کہ مسلمانوں کو اپنے گاووں میں واپس لے جائیں۔ اسی طرح غیر ماہرانہ اور غیر منظم مزدوری کے زمرے میں بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو تعمیراتی اور اس قسم کے دیگر شعبوں میں انتہائی غیر انسانی حالات میں کام کرتے ہیں۔ اس سطح پر بھی ابھی تک کوئی تسلیم شدہ مطالعہ موجود نہیں ہے ۔

 

سماجی سطح پر بھی مسلمانوں کے کھانے ،لباس ، طرز معاشرت ، مشاعرے ،قوالی، اردو زبان جیسی روز مرہ کی ضروریات کافی حد تک مسلمانوں پر ہی منحصر ہیں، یہ بات الگ ہے کہ ان میں سے کچھ کے اب نام بدلے جا رہے ہیں اور اسے سماجی تغیر کا نام دیا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے مسلمان خود بھی اپنے تہذیبی ورثے سے ناواقف ہیں تو اسے سنبھالنے کی کوشش بھی کیسے کریں گے ۔مگر ہر اچھی چیز ہر ایک کو پسند ہوتی ہے ، چنانچہ اپنی پسندیدہ چیزوں کو اپنے قالب میں ڈھال کر استعمال کرنے کی کوشش ہر طبقہ کرتا ہے۔ ورثے کے امین ہی اگر بے پرواہ ہیں تو سرقہ لگانے والوں کو روک بھی نہیں سکتے ۔

 

روزمرہ کا یہ سیاسی ،اقتصادی اور سماجی منظرنامہ بتاتا ہے کہ ملک کو مسلمانوں کی ضرورت آج بھی اتنی ہی ہے جتنا کہ مسلمانوں کے دور اقتدار میں تھی ۔محض اظہار ضرورت کے انداز بدلے ہیں، مسلمانوں کو بھی اپنی اہمیت جتانے کے انداز بدلنے ہوں گے۔ احتجاجی نفسیات سے باہر آنا ہوگا اور تعمیری فکر اختیار کرنا ہوگا مایوسی کے غار سے باہر ا ٓکر مثبت جدوجہد کی شاہ راہوں پر قدم رکھنا ہوگا۔

 

افسوس کا مقام ہے کہ مسلمانوں کی بہت سی نمائندہ تنظیمیں اور قائدین آج بھی اپنے اہداف میں احتجاج کو سر فہرست رکھتے ہیں۔ ان کی تحریک ،نعرے، تحریریں، تقریریں اور تجویزیں محض احتجاج اور رد عمل پر مبنی ہوتی ہیں۔مسلمانوں سے متعلق کچھ سیاسی جماعتوں اور ملی تنظیموں سے احقر بھی کبھی نہ کبھی وابستہ رہا ہے، لیکن اس انداز کار سے اس وقت بھی کبھی اتفاق نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے ۔ہمارے پاس ملک و ملت کی تعمیر کا کوئی طویل المدتی منصوبہ آج بھی نہیں ہے ۔ملک کے دیگر محروم و مقہور طبقات سے ہمارا تعلق آج بھی نمائشی ہے ،حقیقی نہیں ہے۔ ملک کے عمومی معاملات میں ہماری دخل اندازی یا ہماری رائے تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے، کیونکہ ہم ہمیشہ صرف اپنے ہی مسائل پر احتجاج کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ۔کسی بھی خیر امت کو یہ انداز فکر اور طرز عمل زیب نہیں دیتا ۔یاد رکھیں کہ ملک میں اجتماعی قتل عام کی عنقریب کوئی توقع نہیں ہے۔ لیکن سیاسی اور سماجی تبدیلی یقینی ہے آپ کو غور کرنا ہوگا کہ اس میں آپ کیا حصہ ادا کر سکتے ہیں اور آپ کو اس سے کیا حاصل کرنا ہے۔ ملک کا سواد اعظم آپ کے اس فیصلے کا منتظر ہے رااہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button