مضامین و مقالات

وفا کیسی ، کہاں کا عشق

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

ان دنوں ایودھیا کے رام مندر میں زائرین اور عقیدت مندوں کی جانب سے چڑھائے گئے چڑھاووں کی چوری کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سماج کے مختلف طبقات کی جانب سے اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دی جا رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بعد تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوا، اور اس سلسلے میں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر ان تمام الزامات کی جانچ کا آغاز کیا گیا۔اپنی ابتدائی تحقیقات میں ہی کمیٹی نے بہت سے الزامات کو درست قرار دیا ہے، اور آٹھ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر تقریباً 200 کروڑ روپے مالیت کے نذرانوں اور قیمتی زیورات کی چوری کے الزامات ہیں۔ ساتھ ہی زمین کی خرید و فروخت میں خرد برد کے الزامات کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ اس دوران ملک بھر کے ہندو عقیدت مند اس واقعے سے صدمے میں ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس سلسلے میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہوں۔ اس سے قبل 2017 میں بھی نرموہی اکھاڑے کے ذمہ داران نے یہ الزام لگایا تھا کہ وشو ہندو پریشد نے 1990 کے بعد بیرونِ ملک سے ملنے والے چندوں میں تقریباً 1400 کروڑ روپے چوری کئے ہیں۔ لیکن اس وقت یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت تھا اور فیصلہ بھی قریب تھا، اس لیے ان الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، اور خود نرموہی اکھاڑا بھی خاموش ہو گیا۔بعد ازاں 2021 میں عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ اور مقامی ایم ایل اے پون پانڈے نے زمین کی خرید و فروخت میں بدعنوانی کے الزامات عائد کیے، لیکن رام جنم بھومی تیرتھ شیترا ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے اسے مندر کی تعمیر کے لیے ضروری اقدام قرار دے کر معاملے کو ٹال دیا۔لیکن اس بار یہ معاملہ سرخیوں میں آتے ہی مذہبی چندوں اور زمینی گھوٹالوں کی تحقیقات بھی اس میں شامل ہو گئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ رام جنم بھومی مندر کی تعمیر پر 22 جنوری ۲۰۲۴ میں اس کے مکمل ہو کر افتتاح ہونے تک مجموعی طور پر تقریباً 1900 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جبکہ عوامی چندے کے ذریعے تقریباً 3000 کروڑ روپے جمع کیے گئے تھے۔ مقدمات کی پیروی پر ہونے والے اخراجات کا کوئی حتمی تخمینہ موجود نہیں ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے معاملے میں بی جے پی کی قیادت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کی جانب سے زیادہ تر یہی کہا جا رہا ہے کہ جو بھی قصوروار ہوگا، اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ سب تحقیقات تو خود وزیر اعظم کے اشارے پر ہی کی جا رہی ہیں، لیکن عمومی مباحثوں سے بی جے پی کے ترجمان غائب ہیں۔ البتہ اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ کا لہجہ اس سلسلے میں کافی تیز و تند نظر آ رہا ہے اور وہ بار بار یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس سلسلے میں سیاست نہ کی جائے، جبکہ زمینی سچائی یہ ہے کہ سب کچھ ہی سیاسی پس منظر میں ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ 5 فروری 2020 کو رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کا قیام سرکاری طور پر خود وزیرِ اعظم کے دفتر سے کیا گیا تھا، اور اس وقت بھی رام جنم بھومی تحریک سے وابستہ بہت سے افراد اس کے ٹرسٹیوں کی نامزدگی سے خفا تھے۔ علاوہ ازیں، بابری مسجد۔رام جنم بھومی کی پوری تحریک ہی سیاسی تھی، جسے آستھا کا نام دے کر عوام کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
2001اور 2002 کے درمیان بابری مسجد کی شہادت کی سازش کی تحقیق کے لیے قائم کردہ لبرہان کمیشن کے سامنے متعدد بار پیش ہو کر گواہی دینے والے اس وقت کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ لال کرشن اڈوانی نے کمیشن کو بہت واضح الفاظ میں بتایا تھا کہ یہ تحریک سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہی شروع کی گئی تھی، اور غالباً اسی بنیاد پر لبرہان کمیشن کی رپورٹ میں بھی یہ بات واضح کر دی گئی تھی کہ بابری مسجد کی شہادت کے پس پردہ سیاسی عزائم کارفرما تھے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی اسی پس پردہ سیاسی دباو کا نتیجہ ثابت ہوا جو تا قیامت ریکارڈ سے مٹایا نہ جا سکے گا۔
اس بات کی تصدیق اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ 1984 میں دہلی میں ایک دھرم سنسد منعقد کر کے وشو ہندو پریشد نے رام جنم بھومی مندر کے قیام کی تحریک کا آغاز کیا تھا، اور اس غرض سے شری رام جنم بھومی مکتی یوجنا سمیتی کا قیام بھی اسی دھرم سنسد میں عمل میں آیا تھا۔ نیز بجرنگ دل کا قیام بھی وشو ہندو پریشد نے اسی تحریک کو عوامی تحریک بنانے کی غرض سے، اس میں نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے کیا تھا۔اس تحریک کے زیرِ اثر فیض آباد کی ضلعی عدالت نے 1986 میں مسجد کا تالا کھول کر وہاں پوجا کی اجازت دے دی تھی، جس کے خلاف احتجاج کے طور پر 1987 میں مسلمانوں نے دہلی کے بوٹ کلب پر پانچ لاکھ مسلمانوں کا احتجاجی جلسہ منعقد کیا تھا۔ مسلمانوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہی 1988 میں بی جے پی نے اپنے پالن پور اجلاس میں رام مندر تحریک کو اپنے ترجیحی ایجنڈے میں شامل کیا تھا۔اس کی تین صفحات پر مشتمل ایک بہت مفصل تجویز خود اڈوانی جی نے ہی تحریر کی تھی، جسے اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔ اس کے فوراً بعد 1990 میں انہی اڈوانی جی نے ملک بھر میں رتھ یاترا نکال کر ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اس تحریک کو زمینی سطح پر عوام سے جوڑ دیا تھا۔ ملک کی انتخابی تاریخ بتاتی ہے کہ تب سے لے کر آج تک بی جے پی اقتدار کی راہ پر مسلسل کامیابی حاصل کرتی رہی ہے، آج یہ حال ہے کہ ملک کی تمام تر سیاست کا اصل محور ہی بی جے پی بن چکی ہے۔ جبکہ عدالت میں بی جے پی اس مقدمے میں خود کبھی فریق نہیں بنی، چنانچہ آج اس مرحلے پر یہ کہنا کہ اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے، اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ آستھا کے نام پر بدعنوانی کا معاملہ اگر سیاسی رخ اختیار کر گیا تو اس کا سراسر نقصان بی جے پی کو ہوگا۔یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جن آٹھ لوگوں کے خلاف مقدمے قائم کر کے گرفتار کیا گیا ہے، ان میں سے کوئی بھی براہِ راست ٹرسٹ سے وابستہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس گزشتہ دنوں ہری دوار میں وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کی ایک مشترکہ میٹنگ میں ٹرسٹ کے جنرل سیکرٹری چمپت رائے اور ایک دیگر ٹرسٹی انیل مشرا نے استعفیٰ دے دیا۔ گو کہ یہ استعفے ابھی قبول نہیں ہوئے ہیں اور 4 جولائی کو ٹرسٹ کے عمومی اجلاس میں زیرِ غور لائے جائیں گے، لیکن حزبِ اختلاف، خصوصاً اکھلیش یادو اور سنجے سنگھ کا کہنا ہے کہ بڑی مچھلیوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خود سنگھ پریوار کے کچھ عہدے دار بھی اشاروں کنایوں میں انہی عہدے داروں کی جانب انگلی اٹھا رہے ہیں۔
جہاں تک چمپت رائے کا سوال ہے، وہ 80 سالہ بزرگ کیمیکل انجینئر ہیں، جو ابتدا سے ہی آر ایس ایس اور پھر وشو ہندو پریشد سے وابستہ رہے ہیں۔ اپنی اسی وابستگی کی وجہ سے وہ ہمیشہ غیر شادی شدہ رہے اور ان کا کوئی خاندان نہیں ہے۔ 1984 سے ہی وشو ہندو پریشد کی جانب سے وہ اس تحریک سے وابستہ رہے ہیں۔ چاہے مقدمات لڑنا ہو، یا پھر مندر کی تعمیر کے لیے عمارت سازی، یا ملک اور بیرونِ ملک سے مالیات کی فراہمی؛ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس پوری تحریک کے سرخیل اور اس کا بنیادی محور ہمیشہ ہی چمپت رائے رہے ہیں۔وہ اپنی تنظیم کے وفادار اور جانثار کیڈر ہیں، نظریاتی تنظیموں کے جانثار کیڈر کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ اس کی تنظیم ہی اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے ۔ اس کا ہر سانس تنظیم ہی کے لیے چلتا ہے۔ نہ اسے دولت سے مطلب ہوتا ہے، نہ اقتدار سے، اور نہ ہی عیش و آسائش سے۔ ایسے میں ہزاروں کروڑ روپے اکٹھا کر کے خرچ کرنے والی شخصیت محض چند سو کروڑ روپے کی خرد برد کا ارتکاب بنا تنظیمی مفاد کےنہیں کر سکتی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ چمپت رائے پر اگر الزامات لگے تو وہ ہر قسم کی سزا تو بھگت لیں گے، لیکن اصل حقائق پر ایک لفظ بھی نہیں بولیں گے۔ ان حالات میں ایک عمومی مطالبہ سر اٹھا رہا ہے کہ اس پورے ٹرسٹ کو ہی کالعدم قرار دے کر ٹرسٹ کی ازسرِنو تشکیل کی جائے، اور اس مرتبہ کوئی سیاسی یا سرکاری شخصیت اس ٹرسٹ میں شریک نہ کی جائے۔
یہ مطالبہ عموماً نرموہی اکھاڑے کی جانب سے اٹھایا جا رہا ہے۔ اکھاڑا پہلے بھی اس ٹرسٹ کے قیام کا مخالف اس لیے تھا کہ اس کو اس ٹرسٹ میں قرار واقعی نمائندگی نہیں ملی تھی، جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ مقدمے کے اصل ابتدائی فریق تو وہی تھے، وشو ہندو پریشد تو بعد میں سامنے آئی۔ عدالت نے بھی کئی مقامات پر ان کے دعوے کو تسلیم کیا ہے، لیکن محض سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے انہیں نمائندگی نہیں ملی۔ ان سے کم از کم 13 اکھاڑے وابستہ ہیں، جن کے عقیدت مندوں کی تعداد ملک بھر میں تقریباً 20 کروڑ ہے۔ان بدعنوانیوں کے بعد یہ سارے اکھاڑے ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں۔ معاملہ صرف رام جنم بھومی تک محدود نہیں رہا، بلکہ متھرا اور دوسرے اہم مندروں سے بھی شکایات اب سامنے آ رہی ہیں۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ہزاروں سال سے ملک کی اصل دولت مندروں میں ہی رہی ہے۔ آج بھی ملک کے دس بڑے مندروں کی دولت کا ہی اگر شمار کر لیا جائے تو غالباً ملک کی پوری معیشت اس سے چلائی جا سکتی ہے۔ظاہر ہے، جہاں اتنی عظیم دولت موجود ہو، وہاں بدعنوانی ہونا تو ایک عام سی بات ہے۔ ایسے میں لگتا تو یہی ہے کہ یہ معاملات طول پکڑیں گے اور اس کے سیاسی نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔ بہرحال، آستھا کے احترام کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے مذہب اور عقیدے کا احترام تو ہر ایک پر ہی واجب ہے، لیکن کیا اس احترام اور عقیدت کے نام پر بدعنوانی، چوری اور قانونی ہیرا پھیری کا بھی احترام کرنا پڑے گا؟
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کاونسل کے صدر ہین )
[email protected]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button