مضامین و مقالات

معاہدے کے بعد نتن یاہو کی مشکلات میں اضافہ

نے حزب اللہ کی مدد اور لبنان میں حزب اللہ کے ایک بڑے سیاسی کردار کو یقینی بنا دیا ہے۔ اس معاہدے سے نہ تو اسرائیل کے سیکورٹی ادارے خوش ہیں اور نہ ہی سیاسی رہنما۔ ان تنقیدوں سے گھبرا کر نتن یاہو کو کہنا پڑا کہ ’میں نے اپنی پوری بالغ زندگی صرف ایک مقصد کے لیے صرف کر دی اور وہ مقصد ہے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا۔ اس ہدف کے حصول کے لیے جو بھی ضروری ہوگا میں کروں گا۔‘ اس معاہدے کے بعد ٹرمپ اور نتن یاہو کے مابین کشیدگی میں اضافے کی بھی خبریں ہیں۔ ٹرمپ جہاں معاہدے کو جیت قرار دے رہے ہیں وہیں اسے اسرائیل کی شکست سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ہفتے کو ایک بیان میں نتن یاہو پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کی وجہ سے اس معاہدے کا حصہ بننے سے محروم رہ گیا۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ نتن یاہو کے پاس قوت فیصلہ نہیں ہے۔ بہرحال اگر یہ معاہدہ اپنے حتمی نتیجے تک پہنچ گیا جس کا قوی امکان ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا ایک نیا دروازہ کھولنے کے مترادف ہوگا۔ اور اسی کے ساتھ ایران کے استحکام اور اسرائیل کی کمزوری کا ایک ثبوت بھی ہوگا۔
موبائل: 9818195929

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button