
اپوزیشن کا وجود: جمہوریت کی بقا پر موقوف
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
جمہوریت کی اصل روح صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ اقتدار اور احتساب کے درمیان قائم توازن میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ توازن حکومت اور اپوزیشن کے باہمی وجود سے برقرار رہتا ہے۔ اگر حکومت ریاستی امور چلاتی ہے تو اپوزیشن اس کے اقدامات کی نگرانی کرتی، عوامی مسائل کو اجاگر کرتی اور اقتدار کو جواب دہ بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام مستحکم جمہوری نظاموں میں اپوزیشن کو "متبادل حکومت” (Alternative Government) کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ جب اپوزیشن کمزور، منتشر یا بے اثر ہو جائے تو جمہوریت رفتہ رفتہ انتخابی آمریت (Electoral Authoritarianism) کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے۔
انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے، لیکن گزشتہ ایک دہائی میں ایسے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے جمہوری اداروں کی خودمختاری، انتخابی عمل کی شفافیت اور اپوزیشن کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 2014 کے بعد انتخابی مقابلے کی جگہ سیاسی غلبے کی سیاست نے لے لی ہے، جس میں اپوزیشن کو شکست دینے کے بجائے اسے توڑنے، کمزور کرنے اور غیر مؤثر بنانے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد عوامی مینڈیٹ پر قائم ہوتی ہے۔ عوام کسی جماعت کے منشور اور قیادت پر اعتماد کرکے ووٹ دیتے ہیں، لیکن اگر منتخب نمائندے بعد میں اپنی جماعت چھوڑ کر اقتدار کی جماعت میں شامل ہو جائیں تو ووٹروں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (ADR) کی مختلف رپورٹس کے مطابق 2014 کے بعد بڑی تعداد میں جماعتیں تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی اور پارلیمنٹ میں سے 80 فیصد سے زائد بالآخر بھارتیہ جنتا پارٹی یا اس کے اتحادیوں میں شامل ہوئے۔ کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اروناچل پردیش، گوا، منی پور اور دیگر ریاستوں میں منتخب حکومتوں کا گرنا یا کمزور ہونا اسی رجحان کی نمایاں مثالیں ہیں۔
مہاراشٹر میں پہلے شیو سینا اور بعد ازاں این سی پی کی تقسیم نے انتہائی سنگین صورتحال پیدا کی ۔ لیکن مغربی بنگال میں حکومت کی شے پر ترنمول کانگریس کی بغاوت نے اپوزیشن جماعتوں کے وجود پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو انتخابات محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائیں گے ۔
جمہوریت کی بنیاد آزاد اور منصفانہ انتخابات ہیں۔ عوام ووٹ کے ذریعہ حکومت کا انتخاب کر تے ہیں لیکن حکومت ووٹروں کا خود انتخاب (ووٹر لسٹوں کے خصوصی گہری نظرثانی پروگرام کے تحت) کر رہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں اور بعض شہری تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں ووٹروں کے نام فہرستوں سے حذف کیے گئے، جن میں غریب، دلت، قبائلی اور اقلیتی طبقوں کے افراد نمایاں ہیں۔اس کی وجہ سے انتخابی نظام اعتماد کے بحران کا شکار ہو رہا ہے۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ مغربی بنگال، تمل ناڈو، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں ووٹر لسٹوں سے بڑی تعداد میں نام خارج کیے گئے، جس سے انتخابی نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرتا ہے، لیکن پولنگ کے بعد ووٹوں میں اضافہ، ڈالے اور گنے گئے ووٹوں میں فرق انتخابی عمل پر شکوک پیدا کرتا ہے جو جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہیں۔
جمہوریت صرف انتخابات کے ذریعے نہیں بلکہ آزاد اداروں کے ذریعے زندہ رہتی ہے۔ الیکشن کمیشن، عدلیہ، پارلیمنٹ، تحقیقاتی ایجنسیاں اور میڈیا ایسے ستون ہیں جن پر جمہوری نظام قائم ہوتا ہے۔لیکن گزشتہ برسوں میں اپوزیشن جماعتوں نے بار بار یہ الزام عائد کیا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED)، سی بی آئی (CBI) اور انکم ٹیکس محکمہ کا استعمال سیاسی مخالفین کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اور الیکشن کمیشن حکومت کی منشا ء کے مطابق کام کر رہا ہے ۔ مختلف مطالعات کے مطابق ای ڈی کی کارروائی ، سیاسی نوعیت کے مقدمات میں اکثریت اپوزیشن رہنماؤں سے متعلق رہی ہے۔ جن سیاست دانوں کے خلاف کارروائی ہوئی ، ان میں سے بعض کے برسراقتدار جماعت میں شامل ہونے کے بعد تحقیقات کی رفتار نمایاں طور پر سست پڑ گئی۔ اگرچہ حکومت اسے بدعنوانی کے خلاف مہم قرار دیتی ہے، لیکن اس تاثر نے اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔عدلیہ کے بعض فیصلوں پر بھی انگلی اٹھی ہے ، خاص طور پر انتخابی عمل اور ووٹر لسٹوں سے متعلق معاملات میں۔ اگر آئینی ادارے عوامی خدشات کا مؤثر جواب نہ دیں تو جمہوریت کا حفاظتی حصار کمزور پڑ جاتا ہے۔
آزاد میڈیا جمہوریت کی آنکھ اور کان ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام حکومت سے سوال کرنا، عوامی مسائل اجاگر کرنا اور طاقتور حلقوں کا احتساب کرنا ہے۔ لیکن متعدد قومی اور بین الاقوامی اداروں نے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا کا بڑا حصہ حکومت کے بیانیے کو فروغ دیتا ہے جبکہ بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل، تعلیم اور صحت جیسے موضوعات کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ ٹیلی ویژن مباحثوں میں اکثر ہندو مسلم تنازعات، مذہبی شناخت اور قوم پرستی کے موضوعات غالب رہتے ہیں۔نتیجتاً عوامی توجہ حقیقی معاشی اور سماجی مسائل سے ہٹ جاتی ہے، جس سے جمہوری احتساب کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
بھارت ایک کثیر مذہبی اور کثیر الثقافتی معاشرہ ہے۔ اس کی جمہوری کامیابی کا راز اسی تنوع میں پوشیدہ ہے۔ لیکن گزشتہ چند انتخابات میں مذہبی شناخت پر مبنی سیاست نے غیر معمولی اہمیت حاصل کی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہندو مسلم بیانیے نے انتخابی سیاست میں ایسا مقام حاصل کر لیا ہے کہ حقیقی عوامی مسائل اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ملک میں نوجوانوں کی بے روزگاری، معاشی عدم مساوات اور مہنگائی جیسے مسائل مسلسل موجود ہیں، لیکن انتخابی مباحث میں ان کے مقابلے میں مذہبی جذبات کو زیادہ جگہ ملتی ہے۔
کسی ملک کی جمہوریت کا اصل امتحان وہاں موجود اقلیتوں کے تحفظ اور حقوق کی ادائیگی سے ہوتا ہے ۔ کمزور، محروم اور اقلیتی طبقات کے ساتھ کیا سلوک روا ہے۔ اگر ریاست یا سیاسی نظام کسی مخصوص طبقے کو مستقل طور پر شک و شبہ، عدم تحفظ یا سیاسی بے دخلی کا شکار بنا دے تو جمہوریت اپنی اخلاقی بنیادیں کھونے لگتی ہے۔
آئین ہند مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع کو قومی طاقت قرار دیتا ہے۔ یہی تنوع یہاں جمہوریت کی سب سے بڑی خصوصیت رہا ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں یہ تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے کہ مسلمانوں سمیت بعض اقلیتی طبقات کو سیاسی اور سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ ملک میں مسلم آبادی تقریباً 14 فیصد ہے ، لیکن پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں ان کی نمائندگی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ مسلمان وزراء اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز افراد کی تعداد بھی ان کی آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔ انتخابی مہمات، میڈیا مباحثوں اور سوشل میڈیا کی سیاسی مہمات میں اکثر مسلمانوں کو ایک "دوسرے” (Other) یا "مسئلے” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ سیاست کا مقصد وقتی انتخابی فائدہ حاصل کرنا ہو سکتا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی نتائج جمہوریت کے لیے نہایت خطرناک ہیں۔
جمہوریت اختلافِ رائے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ لیکن جب صحافی، دانشور، طلبہ، سماجی کارکن اور اپوزیشن رہنما اپنی رائے کے اظہار میں خوف محسوس کرنے لگیں تو جمہوری ماحول متاثر ہوتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں حکومت سے سوال پوچھنے والے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائیوں، گرفتاریوں اور تحقیقات کے واقعات نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ کیا اختلافِ رائے کے لیے دستیاب جمہوری جگہ سکڑ رہی ہے؟ خوف کا ماحول صرف اپوزیشن کو کمزور نہیں کرتا بلکہ عام شہری کو بھی خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ جمہوریت میں خاموش شہری اور کمزور اپوزیشن دونوں اقتدار کے غیر معمولی ارتکاز کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔
ان تمام چیلنجوں کے باوجود اپوزیشن کی ذمہ داری کم نہیں بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسے صرف عدالتوں اور پارلیمنٹ میں ہی نہیں بلکہ عوام کے درمیان بھی سرگرم ہونا ہوگا۔ اپوزیشن جماعتوں کو اپنے باہمی اختلافات کم کرکے آئین، وفاقیت، انتخابی شفافیت،تعلیم ،روزگار اور شہری حقوق جیسے مشترکہ نکات پر متحد ہونا ہوگا۔ملک کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اپوزیشن متحد ہوئی، جمہوریت مضبوط ہوئی۔ اپوزیشن کی مختلف عوامی تحریکوں نے جمہوری اقدار کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔آج بھی اگر اپوزیشن عوامی حقوق، ایس آئی آر، اداروں کی خودمختاری اور سماجی ہم آہنگی کے سوالات پر متحد ہو جائے تو جمہوریت کے سامنے کھڑے بہت سے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
اپوزیشن کو توڑنے، میڈیا کو قابو کرنے، آئینی اداروں کو کمزور کرنے، مذہبی تقسیم کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے اور خوف کے ماحول کو فروغ دینے جیسے رجحانات کے بڑھنے سے جمہوریت کی بنیادیں متزلزل ہورہی ہیں۔ایسے میں اپوزیشن کو آگے آکر جمہوریت کے تحفظ ، عوام کے حقِ رائے دہی، آئینی اداروں کی آزادی اور سیاسی مساوات کے لئے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا ۔ موجودہ حالات میں جمہوریت کی بقا کا سوال براہ راست اپوزیشن کے وجود، اس کی آزادی، یکجہتی اور اس کی مؤثر جدوجہد سے وابستہ ہو چکا ہے۔آج شیو سینا ، این سی پی ، عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس مشکل دور سے گزر رہی ہے کل دوسری جماعتیں بھی اس بحران سے نہیں بچ دکیں گی ۔
اگر اس وقت اپوزیشن کمزور پڑ گئی تو صرف کوئی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ پورا جمہوری نظام کمزور ہو جائے گا۔ لیکن اگر اپوزیشن مضبوط، بیدار اور منظم رہی تو ملک کی جمہوریت اپنے تمام چیلنجوں کے باوجود زندہ، متحرک اور مستحکم رہ سکتی ہے۔
Dr. M H Ghazali
Sr. Journalist & Columnist
9810371907


