مضامین و مقالات

اپنی مخلوق کو صحت یاب رکھنے والا قدرت کا انمول خود مدافعتی ایمیون سسٹم

نقاش نائطی
۔ +966562677707

انسانی جسم میں قدرت کی طرف سے پیدا کیا گیا "خود مدافعتی مرض نظام” ہم انسانوں کے لئے قدرت کا ایک بہترین تحفہ ایک وردان۔ اسی لئے عموما نوزائیدہ بچے ٹھنڈ یا گرم موسم میں باہر کی ذرا کھلی ہوا میں جاتے ہی سردی زکام بلغمی مزاج کھانسی یا بخار کسی نہ کسی موسمی مرض کا شکار بنے بیمار پڑے رہتے ہیں۔ بچوں کا یہ بار بار بیمار پڑنا کوئی ڈرنے کی بات نہیں ہوتی ہے بالکہ جیسے ہی بچہ کسی بھی مرض کا شکار پوجاتا ہے تو اس کے جسم میں قدرت کی طرف سے پیدا کئے جانے والا خود مدافعتی ایمیون سسٹم حرکت میں آنا شروع ہوجاتا ہے اور یون ہر انسان میں پایا جانے والا خود مدافعتی ایمیون سسٹم, اپنے طور مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے اس لئے گھر کی نانی دادی آمائیں, ننھے بچوں کو سردی زکام بخار ہونے پر,ابتدائی دنوں آنگریزی ادویات ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے بجائے, گھر ہی میں بچوں کو گریپ واٹر پلائے یا دودھ پلاتی ماں کو سرد و گرم اغذیہ کھلائے یا جڑی بوٹی دوائیں ماں کو کھلائے, بچوں کا براہ راست علاج نہ کئے, بچوں میں قدرت کے پیدا کئے جانے والے خود مدافعتی ایمیون سسٹم کو پروان چڑھنے کا موقع دیا جانا بہتر سمجھتی ہیں۔ اور ویسے بھی معمولی بخار سردی زکام ایک دو دن میں از خود ختم بھی ہوجاتا ہے, اس لئے عقل و فہم ادراک والے عموما”چھوٹے بچوں کو انگرئزی ادویات کا عادی نہ بنا, انکے اندرون جسم پروان چڑھتے,خود مدافعتی ایمیون سسٹم کو تقویت پاتےدیکھنا چاہتے ہیں۔ویسے بھی موسمی امراض, سقم کے اعتبار نرم و سرد اغذیہ کھائے, ہمارے اندرونی جسم خودمدافعتی سسٹم ہی سے,صحت یاب ہوتے پائے جاتے ہیں البتہ چوبیس گھنٹوں میں, افاقہ نہ ہوتو کسی ماہر یونانی ہومیوپیتھی یا ایورویدک حکیم کو دکھائے انگرئزی ادویات کے مقابلے کم نقصان دہ علاج معالجہ کیا جانا بچوں کے لئے اچھا ہوتا ہے۔بچوں کے والدین اپنے بچوں سے محبت میں,انہیں اس بخار زکام جیسے امراض سے جلد صحت یاب کروانے کے چکر میں, انگریزی ادویات ڈاکٹر کے اینٹی بایونک مضر صحت ادویات سے بچوں کی ذہنی نشوونما کو ہی متاثر کئے جاتے جوانی تک پہنچنے سے قبل بچوں میں اسقام قلب, فشار دم یا خون و بول شکر کے مریض بنتے, دیکھتے پائے جاتے ہیں
https://www.facebook.com/share/v/1c7qXKLXfr/
خصوصا” انتہائی ہائجینک انداز بچوں کی پرورش فکر میں, بچوں میں قدرتی خود مدافعتی نظم کو مضبوط ہونے ہی نہیں دیتے ہیں, اسی لئے ہم دیکھتے ہیں,گاؤں دیہات غرباء کے مٹی ڈھول میں لپٹے پلے بچوں کےمقابلے,شہری ہائجینک ماحول میں پلے بڑھے بچے, انتہائی کمزور خود مدافعتی نظام کے مالک سن بلوغت تک پہنچتے, انیک اقسام مستقل اسقام کے شکار بنے پائے جاتے ہیں۔ بچوں میں بڑھتی عمر کے ساتھ انتہائی مضبوط ہوا خودمدافعتی سسٹم, جتنا مضبوط ہوتے,انسان پرورش پاتا ہے جوانی تک پہنچتے پہنچتے ہوئے بھی, انیک اقسام اسقام سے ماورا رہتے انتہائی صحت مند و تندرست پایا جاتا ہے۔ موروثی اسقام علاوہ قدرتی اغذیہ چھوڑ فی زمانہ فاسٹ فوڈ کھائے پلے بڑھے بچوں میں بھی, خطرناک بیماریوں کے خلیات انسانی جسم میں پیدا بھی ہوجائیں تو جس طرح سے کسی ملک کی پولیس وافواج نیز سراغ رساں اداروں پر مشتمل انتظامیہ بیرون ملکی مدد سے وطن میں پروان چڑھنے والے دہشت گرد تحریکوں کو جیسے, تحقیق و تدبر سے انکی پہچان کئے, ان کے گرد گھیرا تنگ کئے, ان پر مسلسل نظر رکھے, ایک نہ ایک دن, ان کو یرغمال کئے, جیل کی کال کوٹھری میں نظر بند محفوظ رکھے جیسا,کینسر جیسے خطرناک خلیات پر مشتمل موذی امراض جراثیم کو پورے جسم سے کسی ایک مخصوص جگہ منتقل کئے, مخصوص گھٹلیوں یا گلینڈس یا ٹیومر کی شکل محفوظ مقفل رکھنے انسانی جسم کا خود مدافعتی سسٹم کامیاب ہوتا ہے۔ اسی لئے بڑھتی عمر کے ساتھ انسانی جسم کے کسی نہ کسی حصہ یا انگ میں مخصوص گھٹلیوں یا گلینڈس یا ٹیومر کو خود رو انداز بڑھتے ہم پاتے ہیں۔ یہی سب خود مدافعتی عمل,جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ جنگلی محنت کش حیوانات درند پرند چرند ممائل کے مقابلے شہری بغیر محنت گھومنے یا ایک ہی جگہ کھڑے رہنے والے بکرے گائے بیل بھینسوں میں,انکے اجسام میں پائے جانے والا قدرت کا عطا کردہ خود مدافعتی سسٹم جہاں انہیں از خود موسمی امراض سے نجات دلاتا رہتا ہے وہیں انسانی جدت پسند کیمیکل زد کھانوں کے استعمال سے, ان میں بھی مہلک امراض جو خلیات پیدا ہوتے ہیں انکے جسم میں موجود خود مدافعتی نظم,ان مہلک اسقام کے خلیات کو بھی,جسم کے مختلف حصوں میں, قدرتی طور پیدا ہونے والی گھٹلیوں گانٹھوں یا ٹیومر میں مقید رکھے ہوتی ہیں ۔ ہم گوشت خور انسانون کو, بڑی عمر کے چوپائے کا گوشت کھاتے ہوئے, ہمارے کھائے جانے والے جانوروں کے گوشت میں پائی جانے والی گھٹلیوں گانٹھوں کو کھانے سے پرہیز لازمی ہے۔ قریش برادری کے قصائی پیشے سے منسلک افراد کو ان چیزوں کا نہ صرف بخوبی علم ہوتا ہے بالکہ وہ جانور کاٹتے وقت ان ٹیومر زد گانٹھوں گھٹلیوں کو نکال پھینک دیا کرتے ہیں یہاں تک کہ گھر گرہستن چلانے والے تجربہ کار ماں بہنیں بھی, گھر میں آئے بیل بھینس بکری کے گوشت کو پکانے سے قبل,صاف کرتے چھوٹے ٹکروں میں کانٹے ہوئے, گوشت کے بیچ پائی جانے والی ان گھٹیلوں, گانٹھوں پر مشتمل سقم زد ٹیومر کو کانٹ پھیکا کرتی ہیں۔ اسی نبست سے مسلمانوں کے قرآن مجید میں تک انکے عقل و فہم ادراک کی تعریف کئے گئے لقمان حکیم نے, انسانی اندرون جسم, کسی خاص اعضاء کمزوری یا سقم کی صورت, بھیڑ بکری ہرن بارہ سنگھے کی جوان نسل کے,اسی خاص حصہ کو مکرر کھائے, انسانی جسم اس مخصوص عضو کو تقویت دیتے شفایاب ہوتے پایا گیا ہے۔

امریکہ میں ایک ریسرچ پیپر چھپا ہےمیڈیکل مافیا نے کینسر کی تشخیص کے لئے جتنے بھی
ڈایوگنیسٹک طریقے ایجاد کئے ہیں وہ دراصل کینسر کی تشخیص کے نام پر قدرت کے انسانی جسم ایمیون سسٹم کی طرف سے کینسر جیسی بڑی بیماریوں والے خلیات کو جسم کے کسی ایک حصے میں مخصوص گھٹلیوں یا گلینڈس یا ٹیومر کی شکل جو محفوظ رکھے ہوئے ہوتے ہیں ان گلینڈس یا ٹیومر کے اندرونی مادے کی تشخیص کے بہانے انہیں چھیڑ کر, یا اس میں آنجیکٹ کئے, بایوپسی ٹیسٹ, یا جینیٹک یا جینومک ٹیسٹ کے لئے,شہر کی,یا ملکی مرکزی لیبارٹری میں بھیج تو دیا جاتا ہے نیز سی ٹی اسکین, ایم آر آئی, ایمیجنگ اسکین, پیڈ اسکین یا فیبرو اسکین کے لئے ان گلینڈس کو مسلسل چھیڑتے ہوئے, اس کے اندر ہمارے جسمانی خود مدافعتی ایمیون سسٹم کی طرف سے گلینڈس کے اندر محفوظ رکھے گئے کینسر کے خلیات کو غیر ضروری طور چھیڑتے ہوئے,ان کینسر سیلز کو پورے جسم کے اندر دوڑنے آزاد کیا جاتا ہے۔ لیبارٹری سے پندرہ بیس دن بعد رپورٹ آنے سے پہلے, انجیکٹ کئے سوراخ سے, کینسر سیلز کو پورے جسم میں پھیلائے میڈیکل مافیا کے لئے وہ مریض ایک پوٹینشل گراھک کے طور سامنے لانا مقصود ہوتا ہے ۔ یہ بات کینسر مریضوں کے رشتہ داروں کے علم میں بخوبی آگئی ہوگی کہ مریض اچھا بھلا چل پھر رہا ہوتا ہے کہ کینسر ہے یا نہیں تشخیص کے لئے مختلف ٹیسٹ کئے جانے کے بعد ہی, رپورٹ انے پر پتہ چلتا ہے کہ کینسر آخری اسٹیج پہنچ چکا ہوتا ہے۔ بعض دفع تو مریض کو کینسر سقم ہے بھی کہ نہیں لیبارٹری رپورٹ آنے سے پہلے کینسر کے خلئے پورے جسم میں تیزی سے پھیلنے ہوئے مریض انتقال بھی پاچکا ہوتا ہے۔
ہمارے آس پاس اپنے رشتہ داروں کی بڑی بوڑھی نساء کی گردن پر جھولتا گلینڈ ہم میں سے اکثر لوگوں نے دیکھا ہوگا یا گاؤں کے باہر غرباء کی بستیوں میں, بڑی بوڑھی عورتوں کی گردنوں پر جھولنے والا یہ گلینڈ یا مرد آہن کی ہتھیلیوں پاؤں کے پٹھوں پر یا کمر پر پائے جانے والا گلینڈ دراصل اس انسان کے اندرونی قدرتی ایمیون سسٹم کے اس کے جسم میں موجود کینسر جیسے مہلک اسقام کے خلیات کو قید کئے رکھے وہ گلینڈس ہوتے ہیں جو عموما” انسانی زندگی کے لئے نقصان دہ تو نہیں ہوتے لیکن بیرونی دکھائی دینے والی جگہوں پر نکل آئے گلینڈس انسانی شبیہ کے لئے اچھے نہیں لگتے ہیں۔اسی لئے ان سے نجات کے لئے, انگرئزی ادویات ڈاکٹر کو بتانے پر, اسے آپریشن کئے نکالے جاتے, ڈاکٹروں کی لغزش سے اس کے اندرونی خلیات, جسم میں دوڑتے خون میں شامل ہوجاتے ہیں تو پھر کچھ دنوں بعد کینسر سقم کھل کر سامنے آجانا ہے اور اگر ان گلینڈس کو یونہی چھوڑ بھی دیا جائے تو انسان دنیوی زندگی تکمیل بعد اپنے ساتھ اسے قبر میں لئے چلا جاتا ہے۔اس لئے بڑھاپے میں ایسے گلینڈس یا ٹیومر سے نجات کی کوشش انسانی جسم میں دبی یا دبائے رکھے گئے کینسر خلیات کو آزاد کئے, کینسر جیسے موذی سقم کا شکار بن تڑپ تڑپ دم توڑنا پڑتا ہے۔
عالمی دواساز مافیا جن قدرتی اغذیہ پروُکٹ کو ایکسٹرا ورجن صاف ستھرا کئے,صحت یابی کے نام پر, حد سے زیادہ اشتہار بازی کثیر رقم خرچ کئے ہم انسانون کو کھانے مجبور کرتے ہیں دراصل وہ تمام ایکسٹرا ورجن مصفی اغذیہ جیسے انسانی قلب کے انتہائی محفوظ بتائے گئے پالمولیں تیل ہی دراصل انسانی صحت بگاڑ کی اصل وجہ بتائے جاتے ہیں۔
انسانی صحت کے مفید بعض آم و امرود انناس پپیتے جیسے فروٹ یا اصلی گھی حد سے زیادہ پروٹینیٹیڈ بتائے اور بکرے کا گوشت انگرئزی ادویات ڈاکٹروں کی طرف فربہ مائل نقصان دہ بتائے اور اسکے بدل کے طور وھائیٹ میٹ فارمی مرغی کا گوشت کھانے, اور ہائیلی مصفی انسانی قلب دوست بتائے, ترغیب دیئے گئے ایکسٹرا ورجن پالمولین تیل دراصل یہی انگرئزی ادویات مافیہ کی طرف سے ہم صحت مند انسانوں کو سازشتا” سقم زد کئے ان انگرئزی ادویات ڈاکٹروں کے لئے ایک اچھا پروفیٹیبل پروڈکٹ بنائے ہمیں مستقل لوٹا جاتا ہے۔
عالمی معیار کے اعلی تعلیم یافتہ ڈائیٹیشین ڈاکٹر عموما” سب اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی صحت کو متوازن رکھنے کے لئے, ہر اعتبار کے پالمولیں تیل,سفید چمکتی ذراتی شکر اور تمام اقسام کے بیکری پروڈکٹ اور سوپر مارکیٹ شیلف لائف بڑھاتے تیار کئے گئے پیکڈ یا ڈبہ بند کھان پان انسانی صحت فربہ مائیلی کے لئے نقصان دہ ہوا کرتے ہیں ہاں البتہ تازہ قدرتی اُغذیہ تمام اقسام کی سبزیاں ترکاری پھل فروٹ یہاں تک کے خالص گھی بھی معقول مقدار انسانی صحت عامہ نقصان کا باعث نہیں بنا کرتے ہیں۔بنگلہ دیشی ڈائیٹیشین جہانگیر تو یہاں تک کہتا ہے کہ پیسے اور وقت بچانے کے چکر میں,انتہائی پرفریب فاسٹ فوڈ آسانی سے دستیاب صنعتی اغذیہ کھانے اور بعد میں طبیعت بگڑنے پر ڈاکٹروں شفاخانون کے چکر کاٹنے خرچ کی جانے والی رقوم سے, ذرا مہنگے تازہ سبزی ترکاری پھل فروٹ یہاں تک کہ مہنگے ترین اصلی گھی کو بلا جھجک کھایا جائے اور اپنی صحت کو بگڑنے سے آمان میں رکھا جائے
یہاں ہم قدرت کے ہمیں عطا سائینسی اعتبار پرپیچ مشینوں سے بھی پرپیج ہمارےانسانی جسم کو تندرست و توانائی سے بھرپور رکھنا گر ہم چاہتے ہیں تو ایک مومن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اپنے خاتم الانبیاء رحمت العالمین محمد مصطفی ﷺ کے عمل کر دکھائے سنت عمل ایک تہائی پیٹ ثقیل اغذیہ ایک تہائی پیٹ مشروب اغذیہ اور ایک تہائی پیٹ کو کھائی گئی اغذیہ کو پیٹ کی آنتوں میں انتہائی اطمینان ا سے گھوم گھوم صحیح ہضم ہونے دینے کے لئے خلیجی رکھنا چاہئیے۔ دوسرے اہم وقت کھان پان چونکہ صبح نماز بعد مومن مسلمان کے لئے دن کی شروعات ہوجاتی ہے اس لئے سورج نیزہ دو نیزہ اوپر چڑھتے وقت اشراق وچاست درمیان خوب سیر ہو ناشتہ کرنا انسانی جسم کے ساتھ دماغی کیفیات بہتری کے لئے اچھا ہوتا ہے دوپہر کا کھانا صلاة ظہر سے پہلے یا فورا” بعد کھانے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔یونانی و ایورویدک اطباء کے یہاں دوپہر کا کھانا زوال شمس سے پہلے صحت افضاء ہوتا ہے چونکہ اسلامی اقدار میں غروب شمس کے بعد ڈب کی شروعات ہوتی ہے اس لئے کم و بیش شام چھ سے صبح چھ تک بارہ گھنٹہ دورانیے کو چار حصوں میں تقسیم کئے پہلے حصہ کے اختتام سے پہلے صلاةعشاء تک تمام دنیوی ضروریات سے فراغت بعد بستر کی کروٹوں کے درمیان مائل آغوش نیند خود کو پانا بہترین عمل بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار غروب آفتاب سے پہلے ہلکے کھان پان والے عشائیے سے فراغت ضروری ہوتا ہے یہی کچھ نصف صد سال قبل ہمارے آباء و اجداد کو ہم نے عمل پیرا پایا ہے۔ دوسرے اور تیسرے پہر والی شب کو تو ہمیں دنیا و مافیہا سے بے خبر آغوش نیند ہونا چاہئیے اور پھر آخری شب نیند سے بیدار ہوئے خدا کی بندگی حمد وثناء و صلاة تہجد کو مومن مسلمانوں کے لئے اپنے پروردگار سے قربت کا ذریعہ بتایا گیا ہے, جیسے ہر اشیاء کے ماپ تول پیمانے وضع کئے گئے ہیں اسی اعتبار سائینسی اعتبار نے نیند کا جو پیمانہ وضع کیا ہے اس اعتبار سے شب کے پہلے پہر والے تین گھنٹہ نیند کو تین گھنٹہ نیند ہی جہاں قرار دیا گیا ہے وہیں دوسرے اور تیسرے پہر والی شب نو سے علی الصبح تین بجے تک والے چھ گھنٹہ گہری نیند کو دوگنا یعنی بارہ گھنٹہ نیند برابر بتایا گیا ہے اور آخری پہر شب علی الصبح تین سے چھ گھنٹے والی نیند بھی تین گھنٹہ ہی شمار کی جاتی ہے ۔ہاں البتہ طلوع سورج بعد سے غروب سورج درمیان والے بارہ گھنٹہ میں نیند میں گزارے وقت کو نصف وقت نیند شمار کیا جاتا ہے مطلب اگر ہم میں سے کوئی پوری رات شب گزاری توضیع وقت کئے طلوع سورج سے غروب سورج تک پورا دن بارہ گھنٹے سوتے گزارتا ہے تو گویا اس نے سائینسی اعتبار بارہ گھنٹہ کا نصف وقت ہی نیند کے اثرات خیر و فیوض کو پاتا ہے جبکہ مومن مسلمان کا شب کی دوسری پہر تیسری پہر آخر تک چھ گھنٹہ گہری نیند سونے والے پورے بارہ گھنٹے نیند کے مزے لوٹنے کے فیوض و برکات لوٹ رہے ہوتے ہیں ویسے عام طور دکھنے میں تو یہ
معمولی عام سا عمل نظر آتا ہے لیکن سائینس تجزیات ہمیں بتاتے ہیں
رات کی نیند میں دماغ کو جو بحالی اور آرام ملتا ہے، وہ دن کی روشنی میں آرام کرنے سے نہیں ملتا۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے دماغ کا قدرتی حیاتیاتی نظام (Circadian Rhythm) اور گہری نیند کے دوران ہونے والے مخصوص عمل ہیں۔
رات کی نیند کیوں ضروری ہے؟
سائنسی حقائق زہریلے مادوں کی صفائی (Glymphatic System):- تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ رات کو گہری نیند کے دوران دماغ کے خلیات سکڑ جاتے ہیں، جس سے دماغ کا قدرتی نکاسی نظام فعال ہو جاتا ہے۔ یہ نظام دن بھر کے جمع شدہ زہریلے مادوں (جیسے بیٹا-امائلائیڈ، جو ڈیمنشیا کا باعث بن سکتے ہیں) کو دھو کر باہر نکال دیتا ہے، جو دن کی روشنی میں ممکن نہیں ہوتا۔
مالیکیولر مرمت اور نشوونما:- رات کے وقت دماغ میں خلیات کی مرمت ہوتی ہے اور یادوں کی تشکیل (Memory Consolidation) ہوتی ہے۔ دن کی روشنی اور جاگنے کی حالت میں دماغ مسلسل معلومات کو پروسیس کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اسے بحالی کے لئے وہ مخصوص کیمیائی ماحول نہیں مل پاتا۔
روشنی کا اثر (Circadian Rhythm):-دن کی روشنی ہمارے جسم کو بیدار رکھنے والے ہارمونز جیسے کورٹیسول خارج کرنے کا اشارہ دیتی ہے، جبکہ اندھیرا قدرتی طور پر نیند کے ہارمون (میلاٹونن) کی پیداوار بڑھاتا ہے۔ اس حیاتیاتی توازن کے بغیر دماغ کو مکمل آرام نہیں ملتا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button