مضامین و مقالات

(بھٹکل کا مثالی اتحاد, مسلکی انا ملی مفاد (کچھ اپنے نظرئیے کے ساتھ

 

نقاش نائطی
. +966562677707

اتحاد اتحاد کی خوبصورت لن ترانیاں سننے کو اچھی لگتی ہیں جہاں کے مکینوں کا اتحاد دشمنوں کے لئے رشک اور اپنوں کے لئے باعث فخر رہا تھا, کیا اس کے جماعت المسلمین حیثیت حمیئت و متحدہ محکمہ شرعیہ کے وقار کو بھی دولخت کرنے والے, کیا ہم فی زمانہ اہل سلف وصالحین کے متوالے ہی تھے؟ اپنے پیدا کرنے والے رب کے نام سے پڑھنے کا حکم دیتی اولین آیت قرآنی بعد, اصلی حصول علم سائینس پڑھنے کا حکم دیتی دوسری آیت "خون کے لوتھڑے سے انسان کو پیدا کیا” حکم قرآنی اولی, علم سائینس سیکھنے والے حکم, علم قرآنی کی روشنی میں بحر و بر, ریگزار و غابات, ارض و سماوات, شمس و قمر پر زندہ رہنے والی کل مخلوقات والے علم سائینس سیکھنے کو,ہم مسلمانوں پر جو فرض کیا گیا تھا اور بعد غزوہ بدر اسیران بدر 70 کے قریب کفار و مشرکین کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ ان ایام بشمول حضرت عمر رضی اللہ کے, جو اس وقت کے روایات حرب عموما” تمام اسیران حرب کو قتل کیا کرتے تھے, انہیں قتل کرنے کے موقف میں تھے, جبکہ حضرت عباس رضی اللہ فقط اس لئے کہ ان اسیران میں,انکے اپنے بہت سارے رشتہ دار بھی تھے,اسوقت کے اوصول حرب مطابق جزیہ دیئے,آزاد بھی کئے جاتے تھے, انہیں جزیہ دئے آزاد کرنے کرانے کے حق میں تھے۔ اس لمحہ کرب و ازمائش, آپ ﷺ نے کیا حکم عملی صادر کیا تھا؟ کہ "جو کوئی اسیران بدر علم و آگہی سے بہرور تھا وہ اپنا علم, مسلم افواج میں منتقل کردے اور اسیری سے رہائی کا پروانہ پالے اور جو لاعلم ہیں وہ جزیہ دئیے رہائی پالے”۔اس وقت آپ ﷺ نے کونسا علم, ہم مسلمانوں کو سکھانے, کفار مکہ سے کہا تھا؟ وہ علم قرآن وحدیٹ یا عربی لغت, صرف و نحو کا علم تھا؟یا عربی نثر و شاعری کا علم؟ نہیں, بالکہ صدیوں سے عرب اقوام میں, تلوار و تیغ زنی سمیت جو علم حرب تھا, اسے منتقل کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس وقت عرب قبائلی ریگستانی مٹی اور ہوا کو سونگھ کر کتنی دور کونسا قافلہ محو سفر ہے کتنے گھوڑے کتنے اونٹ ہیں اور کتنے انسان ہی۔ وہ بھی کتنی دوری پر ہیں یہ اندازے لگانے والے علم واگہی قیافہ شناس ماہر تھے, جو عموما” حرب و جنگ دوران, دشمن کی طاقت کے اندازے لگانے کام آتے تھے, وہ علم حرب ہی ہم مسلمانوں کو سیکھنے کا حکم آپ ﷺ نے دیا۔ حکم قال اللہ اور قال الرسول ﷺ پر عمل آوری کے لئے, ہمارے سرپرستوں نے جو حصول علم مرکزی ادارہ انجمن حامی المسلمین سو سال قبل قائم کیا گیا تھا, اسے دو لخت کئے, جامعہ کے قیام کی ضرورت کو بھی, اتحاد قوم ملت کے خلاف, فرقہ بندی,کیا تصور کیا جائیگا؟ یا انجمن کے اور متعدد ٹکڑے بخرے کئے, شمس و نونہال, قائم اداروں کو, قوم ملت کے خلاف گردانا جائیگا؟ کالیکیٹ ویناڈ قومی کانفرنس میں, انجمن پر سیشن بحث دوران, انجمن کو مثالی ادارہ قائم کر دکھانے کا چیلنج کئے, بعد کے دنوں قائم کئے اے پی ایس ادارہ کو, انجمن کے خلاف, قوم کے اتحاد کو پاش پاش کرتا,قوم و ملت کو توڑتا, کمزور کرتا, منافقانہ قدم کہا جائیگا؟ یا انجمن کے خلاف چیلنج کئے, کھڑاکئے گئے اے پی ایس ادارہ کو, قومی خدمت کے زمرے میں لیا جائیگا؟ اور نیک نیتی سے قائم کئے گئے ادارہ خیر العلوم کو, منافقت منافرت پر محمول کئے اس کے سماجی مقاطعے کی کوششیں کی جائیں, یہ کہاں کی دانائی کہ مخاصمت ہوگی جناب عثمان غنی خومی صاحب؟ خود کرین تو ھپ ھپ دوسرے کرین تو تھو تھو، یہ کیسی منافقت اور منافرت کا معیار ہے؟ صد سال قبل پانچ چھ مساجد والی نائطہ برادری کی بنائی گئی تمام دیڑھ سو مساجد میں اکلوتی, سلف و صالحین کے اصولوں پر قائم مسجد امام بخاری کو, مسجد ضرار کہنے کہلوانے والوں کا محاسبہ تو کل روز محشر ہی ہوگا, قیام مسجد امام بخاری کے اٹھارہ برسوں میں, قیام جمعہ سے قبل، ابتداء ہی سے عیدین کے خطبے مسجد بخاری سے گونجتے رہا کرتے تھے۔جہاں چار سو کے قریب مستورات کو حکم رسول خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ, خطبہ عیدین سننے اور باجماعت عیدین کی نماز ادا کرنے کی, قوم و ملت میں ایک حد تک متروک سنت رسولﷺ کو, سابقہ 18 سالوں سے قوم اہل نائطہ میں "زندہ و تابندہ” کئے رکھنے پر, ہماری تعریف و ستائش کی, کسی عالم غیر عالم کو توفیق نہ ہوئی, ہمارے خلاف رطب اللسان ہونے کا موقع, ہر ایراء غیرا نتھو خیرا اٹھائے, اپنوں میں شادمانی پانے کے فراق میں پایا جاتا ہے۔ گھنٹہ بھر پہلے آئے بیٹھے اردو سمجھنے والے مجمع کثیر کے سامنے سنت کے بہانے اکثریت کی نہ سمجھی جانے والی زبان عربی میں, لن ترانیاں کی جاتی ہیں اور بعد نماز مسجد سے باہر لپکتے مجمع کو اردو تقریر سنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں ۔20 مارچ عیدالفطر کے خطبتین عربی کو ایک حدتک خاموشی سے سننے کے بعد, ایک دوسرے سے بغلگیر و مصافحہ کرتے خیریت پوچھتے مجمع کو,اردو زبان پند و نصائح کی گئی اردو تقریر کو, دس بیس فیصد لوگوں نے بھی دھیان سے سنا نہ ہوگا؟ کاش کہ خطبہ عید سے پہلے,نصف گھنٹہ قبل سے محو سماعت دست بستہ خاموش بیٹھے مجمع میں, کی گئی ولولہ انگیز اردو تقریر, کتنی بامراد باثر ہوئی؟ کوئی اندازہ بھی نہیں کرسکتا ہے؟ لیکن نہیں جدت پسندی پر, زمانے سے چلے آرہے اعمال کو فوقیت دئیے جانے وصف ہم کیوں کر چھوڑ سکتے ہیں؟ بھٹکل میں ادارہ ابن حجر العسقلانی شروع ہوئے 28 سال دوران اور مسجد امام بخاری قیام پر 18 لمبے سال گزرنے کے بعد بھی,قومی اخوت, محبت, بھائی چارگی کو پاش پاش کرتی, ہماری کونسی لغزش, کوئی آئے ہمارے سامنے رکھے۔ جب سے قومی مرکزی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم نے ہمارے ادارے کی حیثیت کو تسلیم کیا ہے ہم ہر اعتبار قومی دھارے سے منسلک رہنے کی تگ ودو میں رہتے ہیں, چونکہ سابقہ روایات کے مطابق چار سو کے قریب نساء مصلئین جامع امام بخاری خطبہ عید سننے اور نماز عید باجماعت ادا کرنے ہر سال آیا کرتے ہیں اس لئے محلے کے عجوز بوڑھے بچوں و نساء کو مرکزی جامعہ مسجد امام بخاری میں چھوڑ تقریبا” تمام ذمہ داران مکتبہ اب حجر العسقلانی والوں نے, قومی اتحاد کو ملحوظ رکھے عیدگاہ ہی میں نماز عید ادا کی تھیں اور خطبہ مسنون سننے کا شرف حاصل کیا تھا۔ ہر مکتب فکر میں موجود کچھ فیصد سخت مزاج لوگ ہوتے ہی ہیں, ہم نے قومی حمیت کے پیش نظر اور انکے غاصبانہ نظرئیے کو ملحوظ رکھتے ہوئے, ان سخت مزاج اہل حدیٹ کہ اہل سلف لوگوں ہی سے دوری بنائے رکھی ہوئی ہے, اس پر ہماری ہمت افزائی کے بجائے, منافرت والے نظرئیے سے ہی, ہمیں کیوں دیکھا اور سلوک کیا جاتا ہے؟ اور دوسروں کے منافرتی کھیکڑے کو, ہمارے سر ہی پر کیوں پھوڑا جاتا ہے؟ کڑوڑہا کروڑ کی عمارتین تعمیر کرنے کرانے والے تونگران قوم ملت کے تفکر و دست ہمارے لئے تنگ دست کیوں کر ہوجاتے ہیں؟ 13 سالہ مکی اور دوسالہ مدنی زندگی میں, حرب بدر تک, بچے بوڑھوں پر مشتمل اسلام کے متوالوں کی تعداد صرف 313 تک محدود آخر کیوں کر رہ گئی تھی؟ یہ اسلئے کہ من وسلوی نہ برستے,کم مائیگی والے دور میں, حق پر مضبوطی سے قائم گروہ, صدا کم اور مختصر ہی ہوا کرتے ہیں۔
قوم و ملت کو یکجا رکھنے کی دہائی دینے والے, دو جمآعتوں میں بٹے گروہ بندی کو پہلے پاٹ دیا جائے,ایک محکمہ شرعیہ میں اپنے من مرضی فیصلہ نہ پائے, ڈولتے ڈول کی طرح دوسرے محکمہ شرعیہ میں آمان پانے والے, مفاد پرستوں کو, منافرت کا موقع دیئےجانا بند کرنے ہی کے لئے, قوم و ملت کی ایک آواز پر ایک محکمہ شرعیہ ہی کے قیام کو حتمی شکل دی جائے,انجمن کو چیلنج کر وجود میں لائے گئے ادارے کو,پہلے انجمن میں ضم کرا دیا جائے, تفکراتی تضاد سے قائم شمش و نونہال کو, انجمن کا اٹوٹ انگ بنادیا جائے, پھر اجتماعیت کے پند و نصائح, دوسروں کو دینا شروع کریں۔ رہی بات خود کو حق پر اور باقی تمام امت مسلمہ کو لکیر کا فقیر بتانے والے گروہ اور خود کو راہ راست پر بتانے والے تکفیری نظریہ والوں سے برآت کئے, ان سے دوری بنائے, ہم پر دس لمبے سال گزرنے کے بعد بھی, آپ عثمان غنی خومی صاحب, آپ نے بغیر تحقیق, اپنے میں اتنی ہمت و جسارت کہاں سے جمع کرلی؟ کہ بھٹکل عیدگاہ رہتے شیرور عیدگاہ نماز پڑھنے والوں کی کارستانیوں کو, ہم پر منطبق کئے, ہمیں آپ بدنام و رسوا کررہے ہیں۔ یاد رہے آپ نے عوام الناس تک ترسیل کئے, اپنے مقالے یا رائیٹ آپ میں, ہم پر جو جو بہتان عظیم لگائے ہیں اور ہمارے ادارے کو داغدار عوام میں مجروح کرنے کی جو کوشش کی ہے, اس پر دنیا میں رہتے معافی تلافی نہ ہوئی تو, کل روز محشر, ہمارے دست ہونگے اور آپ کا گریبان اور منصف خدا جو بھی فیصل کریگا انشاءاللہ ہمیں منظور ہوگا اور یقینا” اس دن کون گھاٹے میں رہیگا؟ کون فائدے میں, اس دن ہی معلوم ہوجائے گا؟
رہی بات فرقہ ناجیہ میں سے ہونے والے تفکر کی, یہ ہمارا مضبوط عقیدہ ہے کہ من حیثیت القوم کوئی بھی گروہ و فرقہ جمہور علماء حق کے, قادیانی احمدیہ فرقہ کی طرح خارج الاسلام جب تک قرار نہیں دیا جاتا, ہم سنیوں شیعیوں میں ہر فرقہ بشمول قبرپرست بدعات و خرافات کا منبع بریلوی فرقہ اھل سنہ والجماعہ, جماعت اسلامی, سلفی, اہلحدیث, تبلیغی, مقلد, غیر مقلد,شافعی,حنفی,مالکی, حنبلی, دیوبندی,ندوی,رفاعی, اشعری, ماتیردی, نقشبندی, سمیت سبھی فرقے, فرقہ ناجیہ کا آٹوٹ حصہ ہیں ان میں کوئی بھی فرقہ, صرف فرقہ کی بنیاد پر داخل جنت و جہنم نہ ہوگا البتہ ان فرقوں کے ماننے والے, اپنے ذاتی اعمال مالک الملک, کوتاہی کے سبب, اور کثرت گناہ نیز کثرت حقوق العباد پامالی کی وجہ سے ہی, جنت و دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ اللہ ہی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے خاتمے بالخیر ہوتے, اپنے نیک بندوں کے ساتھ روز محشر اسکے سامنے حاضر ہونے والے خوش نصیبوں میں سے بنائے۔ وما التوفیق الا باللہ

جناب خومی عثمان غنی کے منافرت آمیز بہتان زد تحریر کا غیر جانبدارانہ مدلل جواب

بھٹکل کااتحاد:- حقیقت، توازن اور انصاف کی ضروری

جوابی تحریر:- عبدالقادر دلال

بھٹکل کا اتحاد یقیناً قابلِ قدر ہے، اور ہر صاحبِ ایمان اس کی قدر کرتا ہے۔ لیکن اتحاد کی بنیاد حق اور سنت پر ہو، نہ کہ محض ظاہری یکسانیت پر — یہی اصل نکتہ ہے جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہ کہنا کہ کسی ایک مکتبِ فکر (اہلِ حدیث/سلفی) کا علیحدہ نماز ادا کرنا "اتحاد شکنی” ہے، ایک یکطرفہ اور غیر منصفانہ تجزیہ ہے۔ تاریخِ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ فقہی اختلافات کے باوجود امت میں وسعت رہی ہے۔
اختلاف:-انتشار نہیں بلکہ وسعت ہے
صحابۂ کرامؓ کے دور میں بھی مسائل میں اختلاف پایا جاتا تھا، لیکن اسے کبھی "انتشار” نہیں کہا گیا۔ چاروں ائمہ (امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ) کے درمیان بھی کئی مسائل میں اختلاف تھے، مگر وہ سب ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔
اگر کوئی گروہ اپنے فہم کے مطابق قرآن و حدیث پر عمل کرتا ہے، تو اسے "ٹولی” کہتے ہتک کرنا یا اس کی نیت پر حملہ کرنا انصاف کے خلاف ہے۔
اصل سوال:- اتحاد کی تعریف کیا ہے؟
کیا اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ:-
سب لوگ ایک ہی رائے اختیار کریں؟
یا یہ کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کریں؟
قرآن ہمیں حکم دیتا ہے:-
"واعتصموا بحبل الله جميعا ولاتفرقوہ”
یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور اپس میں فرقے مت کرو—
(اللّٰہ کی رسی کا مطلب قرآن اور حدیث ہے ) نہ کہ کسی خاص فقہی تعبیر کو۔
علیحدہ نماز: ضد یا اجتہاد؟
اہلِ حدیث حضرات کا موقف یہ ہوتا ہے کہ وہ نماز کو اپنے فہمِ حدیث کے مطابق ادا کریں۔ اگر وہ کسی مسئلے میں مختلف رائے رکھتے ہیں، تو یہ ان کا اجتہادی حق ہے، نہ کہ دانستہ "اتحاد توڑنے” کی سازش۔
اسی طرح، کیا دوسرے مکاتب فکر نے کبھی اپنے طریقے کو چھوڑ کر ان کے مطابق نماز ادا کی؟ اگر نہیں، تو یکطرفہ الزام کیوں؟
اصلی خطرہ:- تعصب
تحریر میں جس انداز سے ایک مخصوص گروہ کو نشانہ بنایا گیا ہے، وہ خود اس اتحاد کے خلاف ہے جس کی بات کی جا رہی ہے۔
"ٹولی” کہنا
"ہٹ دھرمی” کہنا
یہ الفاظ اصلاح نہیں بلکہ مزید فاصلے پیدا کرتے ہیں۔
حل کیا ہے؟
بھٹکل کے اتحاد کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ:-
اختلاف کو برداشت کیا جائے
ایک دوسرے کی نیت پر حملہ نہ کیا جائے
مکالمہ (Dialogue) کو فروغ دیا جائے
آخری بات:-
اتحاد زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا، بلکہ:-اتحاد دلوں کو جوڑنے سے آتا ہے، نہ کہ دوسروں کو غلط ثابت کرنے سے
اگر واقعی بھٹکل کے اتحاد کی فکر ہے، تو سب سے پہلے ہمیں اپنی زبان اور رویے کو درست کرنا ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button