مضامین و مقالات

امریکی احکام پر صدا مائل عمل یہ عرب حکمران

 

۔ نقاش نائطی
۔ +966562677707

"نہ نگلے بنے نہ اگلے بنیں” ایسا ہی کچھ معاملہ ان سنی عرب شیوخ کے ساتھ ہورہا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں وہ جو کررہے ہیں خوش دلی سے کررہے ہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہے کہ آج جو ایران کے ساتھ ہورہا ہے,کل انکے سر بمہر لب, جب پھڑپھڑائیں گے تو, انکے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اسدالعرب مشہور صدام حسین اور کرنل قذافی بھی انہی کے خونی بھائی عرب تھے۔ انکا حشر ایسا صرف اس لئے ہوا کہ وہ, صاحب امریکہ کے عربوں کو نکیل ڈالے رکھنے متعین, پالتو غنڈے اسرائیل کے لئے خطرہ بن گئے تھے۔ اسی لئے تو فی زمانہ یہ عرب حکمران امریکی انبساط سے آزاد ہونے کی چاہ و حسرت باوجود امریکی ترچھی نظروں کی تاب نہ لائے, اپنے ازلی دشمن اسرائیل سے بادل ناخواستہ دوستی کا دم بھرنے مجبور ہوئے لگتے تھے۔ ولی عہد سعودی عربیہ امریکی طوق غلامی سے آزاد ہونے کی کئی مرتبہ کوشش کرچکے ہیں۔ طاقتور ترین امریکی صدر جوبائیڈن,جس نے اپنا انتخاب ہی, ترکیہ کے سعودی سفارت خانے میں,بےدردی سے ماردئیے گئے امریکہ جریدے واشنگٹن پوسٹ کے کالمسٹ نامہ نگار امریکی نیشنل سعودی پیدایشی عدنان خشوگی کے قاتل, محمد بن سلمان کو سزا دینے دلوانے کے وعدے سے انتخاب جیتا تھا لیکن کراؤں پرنس محمد بن سلمان کے سیاسی کھیل کا مہرہ بنے, سعودیہ میں میڈیا کرمیوں کے سوال و جواب دیتے ہوئے, اپنے اپ کو بے بس محسوس کرنے مجبور کئے گئے تھے۔ 8 جون 1974 عرب ممالک اور امریکہ کے مابین عقد بند 50 سالہ پیٹروڈالر دستاویز 8 جون 2024 جو حقیقتا” ختم ہوگیا ہے, داد دینی پڑتی ہے محمد سلمان کو, جو باوجود امریکی دباؤ کے, ابھی تک عقد تجدید نؤ سے احتراز کرتے پائے گئے ہیں۔ ایسے قابل تجدید شق والے عقود عموما” منسوخی عقد اعلان ماورائیت کے; جاری ہی رہتے ہیں لیکن محمد بن سلمان کی تعریف کرنی پڑٹی ہے کہ باوجود امریکی دباؤکے انہوں نے,تجدید عقد ابھی تک نہیں کئے ہیں۔ثانیا”امریکی اسپورنسر یہود و نصاری مسلم ابراہیمی سمجھوتہ شیخ یواے ای, شیخ بحرین و سوڈان کے عقد بند ہونے کے باوجود, مکرر امریکی دباؤ باوجود محمد بن سلمان نے فلسطین و اسرائیل دو آزاد ملکی عملی اعلان قبل,ابراھیمی سمجھوتہ دستخط کرنے سے صاف انکار کرتےآئے ہیں۔ اس کے لئے بھی محمد بن سلمان کی جرات کو سلام کرنے کو دل کرتا ہے۔
دراصل امریکہ نے ان عرب ممالک کو جن خطرناک شرائط کے ساتھ پیٹرو ڈالر عقد بند پابند سلاسل کیا ہے, اس سے نکلنا ناممکن نہ صحیح, دشوار گزار ضرور ہے۔ دراصل پیٹرول ڈالر عقد جو ان عرب ممالک کو امریکہ کے اسکے اپنے غنڈے اسرائیلی جارحیت آمان کی ضمانت کے ساتھ مشروط تھے پیٹرول ڈالر کےبدل بیچے جانے کی شرط سے جڑا تھا عرب ممالک جو بھی خدائی من و سلوی نعمت بیچتا اس کی کل قیمت امریکہ بنکوں میں جمع ہوتی تھی اور عقد میں لکھے مطابق کل قیمت کا ایک حصہ ہی یہ عرب شاہان کے تصرف میں ہوتا تھا ۔ نصف سے زائد بیچے ہوئے پیٹرول کی قیمت کے بدل امریکی حکومتی بانڈ, ان حکومتوں کے ہاتھ تھماتے ہوئے, پیٹرول کی قیمت اصلا” امریکہ کے زیر استعمال رہتی تھی۔ گویا رزاق دوجہاں کی ان عربوں کو عطا نعمت پیٹرول کی نصف سے زائد رقم پر امریکی معشیت چلتی آرہی ہے ۔ گویا ان عرب شاہان کے پیٹرول قیمت کے امریکی حکومتی بانڈ ان عرب شاہوں کی تجوریوں کی زینت بنتے پیٹرول قیمتوں سے امریکی معشیت چلتے ہوئے, وہ مزے اڑایا کرتے ہیں۔ عرب شاہان کے ساتھ چین جیسے معشیتی سربراہ کو دئیے ایسے حکومتی بانڈ ,کم و بیش 32 تریلین ڈالر کی امریکی حکومت قرض دار رہتے ہوئے, ان عربوں کی مرہوں منت رہنے کے بجائے, خود ان عرب ملکوں کو بلیک میل کئے, ڈرائے دھمکانے,ان کو اسیر بنائے جینے مجبور کئے ہوئے ہے۔ عموما” ایسے حکومتی بانڈ مقروض حکومت پر واجب الادا ہوتے ہیں ۔چین تو طاقت کے بل پر امریکہ سے سود سمیت پائی پائی وصول کرلیگا۔ جو اسنے امریکہ سے محو معشیتی حرب و جنگ, مناسب وقت بہترین استعمال کے لئے خرید رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن کیا یہ عرب شاہان کبھی اپنے قرض کو, صاحب امریکہ سے وصول بھی کرپائیں گے؟ یہ ایک اہم موضوع ہے۔ ایسے مواقع پر معشیتی دنیا میں یہ اوصول معروف ہے کہ دیا قرض اوصول کرنے کے چکر میں اور قرض دئیے جاتے رہنے سےاچھا ہے, پرانے قرض کو بیڈ ڈیپتھ تصور کئے, اسے نظر انداز کئے, اس قرض خواہ ہی سے ناطہ ٹوڑ, نئی راہیں, نئی منڈیاں تلاشنا شروع کی جائیں۔ عرب ممالک کے لئے یہ بہترین موقع تھا ایران باوجود ابتدائی تین خلفاء راشدین اسکی تضحیک آمیز عادات کے, وہ اپنے جہادی جذبات سرشار اینے ایمان کامل کے ساتھ,مسلم امہ کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اور جب تک جمہور علماء حق, مدلل دلائل کے ساتھ, جیسا کے انہوں نے ماضی میں قادیانی احمدیہ فرقے کو خارج الاسلام کافر قرار دیا تھا, شیعہ برادری کو کافر قرار نہیں دیتے ہیں۔ ہم میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہم شیعہ فرقے کوخارج الاسلام کافر قرار دیں۔ خصوصا اس ایمان و یقین کے بعد جب ظہور امام مہدی علیہ السلام, یہ شیعہ طبقہ ابتدائی تین خلفاء راشدین اپنی تضحیک آمیز اعمال سے رجوع کرلیگا اور امام مہدی کی اتباع میں اسلامی اخوت کا مکمل پاسدار پایا جائیگا۔
ان تمام اشکال باوجود اگر ان عرب شاہان کو, شیعہ ایران پر مکمل بھروسہ نہیں بھی ہے تو, عالمی حربی و معشیتی سربراہ چین و روس کو درمیان میں ڈالے, مکمل شرائط عقدبند کئے, سنی شیعہ یکجہتی کے ساتھ حربی طاقت ایران و پاکستان, ترکیہ, یمن, شام, و لبنان, فلسطین, مسلم امہ, نیٹو طرز حربی اتحاد معرض وجود لائے, روس و چائینا کے ساتھ مل کر, پہلی فرصت, سابقہ پچھتر سالوں سے, ہتھیار بنداسرائیل کو عرب ممالک درمیان زبردستی غیر قانونی لابسائے, سابقہ پچاس باؤن سالہ پیٹرو ڈالر عقد بند ان عرب ممالک کو لوٹنے اور انہیں ہراساں بلیک میل کرنے والے اور خصوصا” نہتے فلسطینیوں کو سابقہ پچاس سال سے عالم انسانیت کی سب سے بڑی کھلی جیل غازہ میں مقید رکھے, وقت وقت سے ان پر فائٹر جیٹ طیاروں سے بمباری کئے,انہیں ہلاک کرتے رہنے والے, غاصبانہ یہود و نصاری کے ظلم و انبساط سے اولا” مسلم امہ کو نجات دلانے کی سعی کی جائے۔
تعجب لگتا ہے سابقہ دیڑھ سالہ اسرائیلی جارحیت رفاح کراسنگ غیر قانونی بند رکھے جاتے, ہزاروں فلسطینی بچوں, مرد و نساء بڑے بوڑھوں کی دوا خوراک بند ہوتے دم توڑتے وقفے وقفے سے عالمی میڈیا پر دیکھنے کےباجود,عالم انسانیت کے آنکھوں کی پلکیں تک کھلی کی کھلی نہ رہ پائی ہیں۔ لیکن یہود و نصاری بمبار طیاروں سے تباہ و برباد ہوتے ایران کی طرف سے, بدلے کی کاروائی کے طور, سمندری راہگزر ہرمز کو ہفتہ بھر سے بند رکھنے پر, پوری عالم انسانیت پریشان و سراسیمہ لگتی ہے۔ ہرمز راہ گزر بند رہنے سے, تیل و گیس برآمدات مشکل تر ہوتے مہنگائی در کچھ حد تک یقینا” بڑھ جائے گی لیکن پیٹرول و گیس نہ ملنے سے انسانیت مرتو نہیں جائیگی؟بلکہ سالوں پرانے لکڑی چولہوں والے پرانے دور کو یاد کر جینا پڑیگا۔ جبکہ اسرائیل نازی انبساط رفاع بارڈر غیر انسانی غیر قانونی طور بند رہنے سے دوائی خوراک نہ ملنے سے پہلےسےآدھ مرے فلسطینی روزانہ کی بنیاد پر بیسیوں دم توڑتے مرتے پائے جاتے ہیں۔ اسلئے جب تک اسرائیل بلا شرط مستقلا” رفاع کراسنگ بالکیہ طور خود نہیں کھولتا ہے, ہرمز سمندری راہ گزر کسی بھی صورت تجارتی نوعیت نہیں کھولی جانی چاہئیے۔ تعجب ہوتا ہے یہود و نصاری کے اشآروں پر, سوڈان سومالیہ میں ایک دوسرے سے نبزد آزماء یو آے ای اور سعودی عرب کو, ایران کے خلاف اپنا متحدہ حلیف بنانے, دشمن مسلم امہ یہود ونصاری کیسے کامیاب ہوجاتے ہیں؟ عالم انسانیت کی سب سے بڑی جمہوریت کے لاشرکت غیرے, اب تک کے سب سے طاقتور ترین سنگھی رام راجیہ کے مہاویر 56″ چوڑے سینے والے, خود ساختہ وشو گرو اور ایشورکےاوتار,ایپسٹین فائل کی وجہ, امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے کیسے بھیگی بلی بن, اس کے اشاروں پر ہندستانی معشیت کو امریکی انبساط کے گھٹنوں پر چھوڑ چلے آتے ہیں اور اسرائیلی پرائم منسٹر کے سامنے ٹھمکے لگانے مجبور ہوئے جیسا, کہیں ان عرب سنی شاہوں کی عیاشیوں والی فائیلیں تو، ان یہود ونصاری حکمرانوں کے پاس نہیں ہیں نا؟ جو یہ عام انسانوں کی سمجھ سے پرے, اسلام دشمن یہود و نصاری حکمرانوں کے اشاروں پر اپنے برادر اسلامی ایران کے خلاف جاتے پائے جاتے ہیں؟ اسباب کچھ بھی ہوں جو کچھ یہ حالیہ دنوں اسرائیل ایران جنگ دوران یہ عرب شاہان اپنے برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ کرتے پائے جارہے ہیں, وہ کسی طور عقل سلیم رکھنے والے باہوش انسانوں کا کام نہیں لگتا ہے۔ یہ تو دشمن اسلام طاقتوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوئے مجبور انسانون کا عمل لگتا ہے۔ ایسے موقع پر ہم فقط اپنے خالق و مالک دوجہاں کے حضور گڑگڑاکر دعا مانگ سکتے ہیں کہ وہ پاک پروردگار, ان سنی عرب شاہان کو عقل سلیم عطا کرے انہئں مسلم دشمن یہود و نصاری طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنے, مسلم امہ کے خلاف کوئی غلط فیصلہ کرنے سے باز رکھے۔ اور شیعہ سنی مسلم امہ میں محبت اخوت یکجہتی عطا فرمادے اور سکوت خلافت عثمانیہ سو سال بعد تو, ان ظالم و جابر اسلام دشمن یہود و نصاری طاغوتی قوتوں کی اسیری سے نکال,ہم امت مسلمہ عالم کو عزت و وقار والے ایمانی جہادی جذبات سرشار آزادانہ جینے کی سکت عطا فرمادے۔ وما التوفیق الا باللہ
یوں جبر بھی دیکھا تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ہے۔مظفر بزمی

خلیجی ممالک میں مصروف معاش عالم انسانیت کے لاکھوں انسانوں کے معشیتی دروازے بھی بند ہونے کے کگار ہر ہیں اور مسلم امہ پر فرض حج عالمی برادری کے لئے دروازے بند رکھے جانے کا گمان بھی لگایا جارہا ہے

یہود و نصاری اسرائیل و امریکہ یکطرفہ ایران پر لادی گئی حرب و جنگ میں, پیٹرو ڈالر سے مالامال عرب ممالک کو بھی اس حرب و جنگ میں سازشتا” شامل جنگ کیا جارہا ہے
https://www.facebook.com/share/r/1Ap2SNbNdP/
یہود ونصاری سازشا” ایران پر لادی گئی جنگ کے بارے میں 1400سو سال پہلے خاتم الانبیاء نے کیا کیا پیشین گوئی کی تھی اس پر ایک نظر
https://www.facebook.com/share/v/188m5hsj3W/
*ان درندہ صفت بھیڑیوں والی اخوت محبت برادرانہ جذبہ اور اپنا امیر جنگ و حرب مقرر کئے اس کی پوری اطاعت و تابع داری کا جذبہ ہم امت مسلمہ میں کب جاگزیں ہوگا؟

https://www.facebook.com/share/v/188m5hsj3W/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button