
نو سال کی بچی ماں، گیارہ سال کا بھائی باپ، ہماری غفلتوں کا انجام …
احساس نایاب شیموگہ ۔۔۔
نو سال کی بچی کا ماں بن جانا اور اس بچے کا باپ اس کا گیارہ سالہ بھائی ہونا کوئی معمولی خبر نہیں، بلکہ یہ اس معاشرتی نظام پر فردِ جرم ہے جو بچوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔
یہ واقعہ کسی ایک خاندان کا ذاتی سانحہ نہیں، بلکہ ریاست، سماج اور والدین، تینوں کی اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے۔۔۔
نو سال کی عمر میں گڑیوں سے کھیلتی بچی ماں بن گئی، اور ہم نے اسے صرف ایک خبر سمجھ کر پڑھ لیا ۔۔۔
دین اسلام کی نظر میں بچہ محض ایک فرد نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے۔ قرآن واضح حکم دیتا ہے
“اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔” (سورۃ التحریم)
یہ حکم صرف آخرت تک محدود نہیں، بلکہ دنیا میں ہر اُس آگ سے بچانے کا اعلان ہے جو بچے کے جسم، ذہن اور روح کو جلا دے۔
یہاں نہ کوئی بالغ مجرم ہے اور نہ ہی کسی شعوری منصوبے کا ثبوت۔ اس سانحے کے مرکز میں دو معصوم بچے ہیں، جنہیں یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، کیوں ہوا اور اس کا انجام کیا ہوگا۔۔۔ یہی پہلو اس واقعے کو مزید ہولناک بنا دیتا ہے، کیونکہ جب لاعلمی جرم کی صورت اختیار کر لے تو اصل ذمہ داری ان افراد اور اداروں پر عائد ہوتی ہے جو بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔۔۔ ایسے میں
یہ جرم بچوں نے نہیں کیا،
یہ جرم ہماری خاموشی نے کیا۔
اسلام اسی لاعلمی کے دروازے بند کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے۔
“اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بُرا راستہ ہے۔”
یعنی صرف گناہ نہیں، بلکہ گناہ تک لے جانے والے تمام راستے بند کرنا بھی والدین اور سماج کی ذمہ داری ہے۔
قانونی طور پر اٹھارہ سال سے کم عمر ہر فرد بچہ کہلاتا ہے۔
ہندوستانی قانونِ تحفظِ اطفال (POCSO Act) واضح طور پر کہتا ہے کہ بچے کی جسمانی اور ذہنی سلامتی کی ذمہ داری ریاست اور سماج دونوں پر ہے۔ اسی طرح اقوامِ متحدہ کا کنونشن برائے حقوقِ اطفال ہر بچے کو محفوظ ماحول، عزت اور تحفظ کا حق دیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ قوانین اس نو سالہ بچی تک کیوں نہیں پہنچ سکے ؟؟
دو معصوم جسم تھے، کوئی درندہ نہ تھا، بلکہ درندہ ہمارا نظام نکلا۔
یہی سوال اسلام بھی کرتا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
“تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے، اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ والد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے۔”
حقیقت یہ ہے کہ یہ بچی ماں نہیں بنی، اسے سماج، قانون اور والدین کی غفلت نے ماں بنا دیا۔۔۔
اور یہ لڑکا باپ نہیں بنا، اسے بھی اجتماعی لاپروائی نے اس کردار میں دھکیل دیا۔۔۔
ہم اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ بچوں کو اسکول بھیج دینا، کھانا کپڑا فراہم کرنا ہی والدین کی ذمہ داری کی تکمیل ہے۔ ہم انہیں جسم تو دیتے ہیں، مگر تحفظ نہیں۔
ہم انہیں شرم کا احساس تو دیتے ہیں، مگر حدود اور لمس کی تمیز نہیں سکھاتے۔ ہم انہیں ڈراتے ہیں، مگر سمجھاتے نہیں۔۔۔
ہم نے جسم تو دے دیے بچوں کو،
مگر حفاظت دینا بھول گئے۔
حالانکہ اسلام نے حدود کی تعلیم بچپن ہی سے لازم قرار دی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان ہے
“جب بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں الگ بستروں میں سلاؤ۔”
یہ حکم سختی نہیں بلکہ فتنوں سے پہلے حفاظت کا بندوبست ہے۔۔
یہ محض اخلاقی ناکامی نہیں بلکہ ایک خاموش قانونی جرم بھی ہے، کیونکہ بچے کو ایسے ماحول میں چھوڑ دینا جہاں وہ خود کو محفوظ نہ رکھ سکے، خود ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ قانون خاموشی کو قبول نہیں کرتا، مگر ہمارا سماج اکثر اسے نظرانداز کر دیتا ہے۔۔۔
اسلام بھی خاموشی کو جرم ہی سمجھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں۔۔
“جو برائی کو دیکھے، وہ اسے ہاتھ سے روکے، اگر نہ کر سکے تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔”
نو سال کی بچی کے جسم نے ماں بننے کا بوجھ تو اٹھا لیا، مگر اس کی روح ہمیشہ کے لئے زخمی ہو چکی ہے۔ گیارہ سال کے لڑکے کی زندگی پر بھی ایسا داغ لگ چکا ہے جو مرتے دم تک اس کے مستقبل کا تعاقب کرتا رہے گا۔۔۔
دونوں بچوں کو ہم نے تحفظ نہیں دیا، ہم نے انہیں صدمہ دے دیا۔
اسلام ان دونوں کو مجرم نہیں ٹھہراتا، کیونکہ شریعت میں نابالغ گناہ کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ ذمہ داری ہمیشہ بالغوں پر عائد ہوتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ بچوں نے کیا کیا،
بلکہ سوال یہ ہے کہ بڑوں نے کیا نہیں کیا۔
اگر بچوں کو جسمانی حدود کا شعور نہ دیا گیا،
اگر انہیں غیر ضروری تنہائی میں چھوڑ دیا گیا،
اگر نگرانی کو غیر اہم سمجھا گیا،
تو پھر یہ واقعہ حادثہ نہیں بلکہ ایک متوقع انجام ہے۔۔۔
یہ زخم کسی ایک گھر کا نہیں،
یہ پورے سماج کے چہرے پر ہے۔
اگر اس واقعے کو محض ایک خبر سمجھ کر فراموش کر دیا گیا، تو یاد رکھئیے کہ کل یہی المیہ کسی اور دروازے پر دستک دے گا۔۔۔
صرف افسوس کرنے سے بچے محفوظ نہیں ہوتے، فقط خاموشی سے جرم ختم نہیں ہوتے۔
اگر اب بھی ضمیر نہ جاگا ہمارا،
تو ہم زندہ ہو کر بھی مر چکے ہیں۔
جو معاشرہ اپنے بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا، وہ نہ مہذب کہلا سکتا ہے، نہ انسانی، اور دینِ اسلام کی نظر میں ایسا معاشرہ یقینا جواب دہ ہے۔۔۔


